Bismillah

577

۲۱ تا۲۷ربیع الثانی۱۴۳۸ھ  ۲۰تا۲۶جنوری۲۰۱۷ء

دعوت دین اور اس کی مشکلات (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 567 - Mudassir Jamal Taunsavi - dawat e deen aur iss ki mushkilat

دعوت دین اور اس کی مشکلات

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 567)

دعوت دین کے تین بنیادی اَرکان ہیں:

 دعوت دینے والا

 جسے دعوت دی جائے

 جس چیز کی دعوت دی جائے

دعوت دین میں جس چیز کی دعوت دی جاتی ہے وہ دینِ اسلام ہے اور دینِ اسلام میں دو امتیازی خصوصیات ہیں: وہ دائمی ہے یعنی اب قیامت تک کے لیے بس یہی دین ہے اور آفاقی ہے یعنی تمام انسانیت کے لیے ابھی یہی دین ہے ۔ ایسا نہیں کہ مشرق والوں سے کوئی اور دین قبول کر لیا جائے اور مغرب والوں سے کوئی اور ! نہیں اگر مشرق ومغرب کے رہنے والے اپنا دین مقبول بنانا چاہتے ہیں تو ایک ہی راستہ ہے کہ وہ دین اسلام کو قبول کر لیں

دعوت دین لے کر جو شخص کھڑا ہوتا ہے وہ مسلمان ہے اور اس ذمہ داری کو لیتے ہی اس پر مزید کئی ذمہ داریاں آن پڑتی ہیں ۔ ان ذمہ داریوں میں دو کو سرفہرست رکھ سکتے ہیں: ایک یہ کہ وہ اس مقصد کے لیے خود کو دائمی بنالے یعنی اس دعوت دین کو اپنا مشن بنالے کیوں کہ یہ دین دائمی ہے تو محنت بھی دائمی چاہتا ہے اور دوسرے یہ کہ وہ آفاقی بن جائے یعنی اس کی محنت کا ہدف تمام عالَم ہوجائے کیوں کہ یہ دین عالمی ہے ۔ اس لیے بخوبی سوچ لینا چاہئے کہ یہ کام جس قدر خوش نصیبی کا ہے اسی قدر بھاری ذمہ داری بھی ہے۔

یہ اس امت کی بڑی خوش نصیبی ہے کہ اسے دین کا داعی بنا کر بھیجا گیا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ :

ترجمہ: تم بہترین امت جو لوگوں کے نفع کے لیے بھیجے گئے ہو، نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہواور اللہ پر ایمان رکھتے ہو(آل عمران)

اس امت کی دعوت کا میدان پوری دنیا ہے ، تمام انسانیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریمﷺ کو تمام انسانیت کے لیے رحمت بنا کر بھیجا، آپ کی بعثت تمام انسانوں کے لیے ہے اور قیامت تک کے لیے ہے، آپ کو خاتم النبیین بنایاگیا اورآپ کے بعد نبوت کا دروازہ بند کردیا گیا ، دعوت دین کی ذمہ داری کا بوجھ آپ کے ماننے والوں پر رکھ دیا گیا، خصوصاً اہل علم کو انبیاء کرام علیہم السلام کا وارث ٹھہرایا گیا، کیوں کہ وہ اس علم اور نورِ نبوت کی تعلیم و ترویج اور تبلیغ واشاعت کرتے ہیں جس علم اور نور کو لے کر اللہ تعالیٰ کے نبی اس دنیا میں آئے تھے۔

پھر ہمارا دین اس حوالے سے ممتاز ہے کہ وہ دنیا کے تمام شعبوں میں صحیح اور غلط کی رہنمائی کرتا ہے اور ہر زمانے میں کرتا رہے گا، اور یہ بھی اہم بات کہ یہ دین کسی مخصوص طبقے کے ساتھ خاص نہیں ہے، اس کا مخاطب ہر شخص ہے ، چاہے وہ امیر ہو یا غریب، وہ امریکہ و برطانیہ کا رہنے والا ہو یا روس اور چین وجاپان کا، الغرض مشرق ومغرب جہاں کہیں کا بھی رہنے والا انسان ہے یہ اسلام اسے مخاطب کرتا ہے اور اسے اُس دین کی طرف بلاتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کے آخری رسول محمد ﷺ لے کر آئے اور جس کی پسندیدگی کا اعلان قرآن کریم میں کردیا گیا اور قیامت تک کے لیے کردیاگیابلکہ وہ لوگ جو پہلے سے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ دین سے کسی نہ کسی حد تک جڑے ہوئے تھے انہیں بھی غلط روی چھوڑ کر صحیح دین کی طرف بلایا گیا اور نہ ماننے کی صورت میں ان کے سامنے کلمہ حق کہنے کی تلقین کر دی گئی ۔ درج ذیل آیت کریمہ میں یہی چیز بیان ہوئی ہے:

ترجمہ:’’ اے اہل کتاب! آجاؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر(متفق علیہ)ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اور کسی کو اُس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم آپس میں اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں ، پھر بھی اگر وہ اعراض برتیں تو تم صاف صاف کہہ دو کہ ہم تو اس حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والے ہی ہیں!‘‘ (آل عمران)

داعی دین پر جس قدر بھاری بوجھ ہے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اعلی صفات سے پوری طرح آراستہ ہو اور مسلسل اپنی ظاہری و باطنی حالت کا جائزہ لیتا رہا اور دیکھتا رہے کہ کہیں میرے ظاہر یا باطن میں کوئی ایسا تغیر تو نہیں آ رہا جو دعوت دین کی راہ سے مجھے دور کر نے کا سبب بن جائے؟ ان صفات میں سے بعض اہم صفات درج ذیل ہیں:

ایمان اور ایسا ایمان جو مستحکم ہو، غیر متزلزل ہو۔

یقین اور ایسا یقین جو ہر رکاوٹ کو عبورکرنے اور توڑنے کی ہمت دلا سکے۔

اخلاص اور ایسا اخلاص کہ دنیا کا سب کچھ بھی لُٹ جائے تو اس کی نیت و جذبات سلامت رہیں۔ خصوصا اگر وہ کسی کی ماتحتی میں ہے تو اسے اپنے اخلاص کا بار بار جائزہ لیتے رہنا چاہئے ۔

علم اور ایسا علم جس سے وہ معروف اورمنکر کو الگ الگ پہچان سکے کیوں کہ اگر اسے معروف و منکر کی پہچان نہیں ہے تو عین ممکن ہے کہ وہ معروف کا حکم دینے کے بجائے معروف سے روکنے والا اور منکر سے روکنے کی بجائے خود منکرات میں مبتلا ہونے والا بن جائے۔ جیسا کہ بہت سی جگہوں پر اس کا مشاہد ہ بھی ہوچکا ہے مثلا یہی امر بالمعروف و نہی عن المنکر والی آیت مبارکہ کی تفسیر میں جب اس کا جہاد سے تعلق واضح کیا جائے تو اسے قبول کرنے کی بجائے اس کا انکار کیاجاتا ہے اور اس صحیح بات کو غلط کہہ دیا جاتا ہے اور یہ سب کچھ معروف و منکر اور امر و نہی کا صحیح علم نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔

اسی لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں باقاعدہ عنوان قائم کرکے یہ بات سمجھائی ہے کہ کوئی بات کہنے اور اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کا علم حاصل کرنا ضروری ہے ورنہ جو بات علم کے بغیر کہی جائے یااس پر عمل کیاجائے تو اس میں فلاح کے بجائے فساد کا امکان قوی ہوتا ہے ۔

ہمارے زمانے میں دعوت دین کے راستے میں کئی مشکلات ہیں۔ اس دور میں مادیت اور خود نمائشی کا اتنا غلبہ ہے جو شاید ماضی میں کبھی نہیں رہا، آج جس قدر سرمایہ داری کا زور ہے اس نے ہر چیز کو کمرشلائز کر دیا ہے اور غیر تو غیر اپنے بھی انہی کی رو میں بہہ کر مغالطے دینے میں لگے رہتے ہیں۔

آپ میں سے بھی کئی لوگوں نے یہ عام مغالطہ تو سنا ہی ہوگا کہ جب لوگ بھوک سے مررہے ہیںاور آپ مرد سے جا کر کہتے ہو کہ وہ داڑھی رکھ لے اور عورت سے جا کر کہتے ہو کہ وہ پردہ کر لے؟ بھوکے کو تو روٹی چاہئے اور بس ! مگر آپ خود بتائیں کیا یہ حقیقت ہے؟ کیا واقعی سب داڑھی کٹانے والے بھوک سے مررہے ہیں؟ اور کیا سب بے پردہ عورتیں بھی بھوک سے مری جارہی ہیں؟  یہ ایک مثال ہے ورنہ معاشرے میں ایسی اور بھی کئی مثالیں موجود ہیں جن کے ذریعے نفسیاتی طور پر بلیک میل کرکے دینی شعائر کی قدر و اہمیت گھٹانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

اس ماحول میں داعی دین کو بیدار مغز بھی ہونا چاہئے جو اس قسم کی چالاکیوں کا مسکت جواب دے سکے اور متحمل مزاج ہونا بھی ضروری ہے جو ایسی باتیں سن کر طیش میں نہ آئے بلکہ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچ کر موثر انداز میں اپنی بات پہنچا سکے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online