Bismillah

599

۲۷رمضان المبارک تا۳شوال المکرم ۱۴۳۸ھ        بمطابق      ۲۳تا۲۹جون۲۰۱۷ء

سُلگتے حالات (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 568 - Mudassir Jamal Taunsavi - Sulagte Halaat

سُلگتے حالات

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 568)

پاکستان کے تعلیمی نظام کو خالص سیکولر اور بددین بنانے کے لیے کتنی کوششیں ہو رہی ہیں اور کس انداز سے ہورہی ہیں؟ یہ ایک اہم موضوع ہے۔ اس پر بات اگلی نشست میں کریں گے ۔ ان شاء اللہ

فی الحال عالمی سطح پر رونما ہونے والے چند سلگتے حالات و واقعات کی کچھ نشاندھی کرنی ہے تاکہ ہمیں اندازہ ہو کہ امت مسلمہ کو کس طرح معاشی خوش حالی کے نعرے کے پیچھے لگا کر ان کے خون کے ساتھ ہولی کھیلی جارہی ہے۔

برما (میانمار) مسلمانوں کے سینکڑوں گاؤں خالی کرانے کے بعد وہاں کی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کے ایک گاؤں میں25 لوگوں کو گولی مار کر قتل کر دیا ہے ۔ میانمار کی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ اس کی فوج نے ریاست رخائن میں ان دیہات پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ کی جہاں روہنگیا مسلم اقلیت آباد ہے۔میانمار کی فوج نے بہانہ یہ گھڑا ہے کہ مارے جانے والے لوگ خنجروں اور لاٹھیوں سے لیس تھے، حالانکہ سوشل میڈیا پر آنے والی تصاویر اور ویڈیوز سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ مرنے والوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔اس کارروائی کے باعث ایک بار پھر سینکڑوں مسلمانوں کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ برما کی ریاست رخائن میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ تعداد آباد ہے اور وہیں برما کی فوج مسلسل یہ ظلم و ستم ڈھا رہی ہے اور حد یہ ہے کہ برما حکومت اور فوج کی طرف سے اس ریاست میں کسی آزاد میڈیا کو رسائی حاصل نہیں ہے اور یہ سب کچھ وہ اپنے مظالم کو چھپانے کا ایک حربہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق رخائن کے علاقے میں کچھ دیہات کو جلایا بھی گیا ہے۔انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے جاری کی گئی تصاویر میں جلے ہوئے گاؤں دِکھائے گئے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں 430 عمارتوں کو جلایا گیا۔گذشتہ ماہ جھڑپوں اور عام شہریوں کے علاقے سے چلے جانے کی اطلاعات کے بعد مواصلاتی سیارے کے ذریعے یہ تصاویر 22 اکتوبر اور 10 نومبر کے درمیان لی گئی ہیں۔

روہنگیا کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومت ایک منصوبے کے تحت مسلمان اقلیت کو اپنے دیہات سے نکلنے پر مجبور کر رہی ہے۔بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں پر حملے کرنا فوج کا ایک مقبول کام ہے۔نامہ نگار کا کہنا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو برمی آبادی کی طرف سے بڑے پیمانے پر ناپسند کیا جاتا ہے جو انھیں بنگلہ دیش سے آئے ہوئے تارکین وطن سمجھتے ہیں۔جھڑپوں کا تازہ ترین سلسلہ تقریباً ایک ماہ پہلے تین پولیس چوکیوں پر حملوں کے بعد شروع ہوا۔برما کی حکومت آزاد میڈیا کو رخائن میں جانے کی اجازت نہیں دے رہی جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہونے والی لڑائی کے ان دعوؤں کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔

برما کے حکام یہ سب کچھ مذہبی بنیادوں پر کر رہے ہیں اور وہ کسی بھی صورت ان مسلمانوں کا وجود وہاں برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ اس لیے اب انہوں نے ان کی رجسٹریشن میں بھی مسائل کھڑے کرنا شروع کر دیئے ہیں ۔ چنانچہ برما حکام کا کہنا ہے کہ روہنگیا مسلمان اپنے آپ کو بنگالی مسلمان کے طور پر رجسٹر کروائیں ورنہ ان کا اندراج نہیں کیا جائے گا۔میانمار (برما)کی حکومت روہنگیا کو تارکین وطن کے طور پر دیکھتے ہیں اور انھیں شہریت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔دوسری جانب روہنگیا قبائل کا کہنا ہے کہ وہ میانمار کا حصہ ہیں اور حکومت ان کے خلاف ظلم و ستم کرتی ہے ملک میں بدھ مت کے ماننے والوں اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات آتی رہتی ہیں۔سنہ2012 ء میں ملک کے رخائن صوبے میں وسیع پیمانے پر روہنگیا کے خلاف تشدد کے واقعات رونما ہوئے اور ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا تھا اور افسوس یہ ہے کہ یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور بہت سے مسلم ممالک عالمی طاقتوں کے غلام بن کر ان کے مفادات کے لیے تو کوئی جنگوں میں ان کے ہم نوا بنے ہوئے ہیں مگر اپنے ان بے کس برمی مسلمانوں کو بے یار و مددگار چھوڑ رکھا ہے !

٭…٭…٭

بھارت سرکار کی دہشت گردی کا جن سر چڑھ کر بول رہا ہے مگر ہمارے حکمران ابھی تک انہیں اپنا دشمن باور کرنے کوتیار نہیں بلکہ انہیں ان کے آقاؤں نے جو سبق پڑھایا ہے کہ جہاد اور مجاہدین ہی تمہارے دشمن ہیں بس یہ اسی ایک ایجنڈے پر یکسوئی سے عمل پیرا ہیں اور دشمن اپنی فوج کے ساتھ براہ راست ہمارے ملک کے فوجیوں کو خاک و خون میں تڑپا رہا ہے ۔ پاکستانی فوج کے مطابق کشمیر کے متنازع علاقے میں لائن آف کنٹرول کے بھمبر سیکٹر میں انڈیا کی بلااشتعال فائرنگ میں سات پاکستانی فوجی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے لائن آف کنٹرول پر انڈین فوج کی فائرنگ سے سات پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر انڈین ہائی کمشنر سے احتجاج کیا ہے جبکہ جنرل راحیل نے کہا ہے کہ انڈیا کی جارحیت کا بھرپور جواب دیتے رہیں گے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے بی بی سی کے ذیشان ظفر سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سیکریٹری خارجہ نے انڈین ہائی کمشنر گوتم بمباوالا سے فوجیوں کی ہلاکت پر احتجاج کیا اور اس واقعے سے متعلق ان کو احتجاجی مراسلہ بھی دیا۔ہلاک ہونے والے فوجیوں کی نماز جنازہ جہلم میں ادا کر دی گئی ہے جس میں بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور دیگر اعلیٰ فوجی قیادت نے شرکت کی اور بعد میں جنرل راحیل کو لائن آف کنٹرول کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ بھی دی گئی۔فوج کے بیان کے مطابق اس موقع پر جنرل راحیل شریف نے کہا کہ انڈیا کی جارحیت کا بھرپور جواب دیتے رہیں گے۔اس سے پہلے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈین فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر رات گئے فائرنگ کی گئی۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج نے انڈین فوج کی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے ٹویٹ میں انڈیا کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی مذمت کی۔ دفتر خارجہ نے انڈین فوج کی طرف سے کی گئی کارروائی کا جواب دینے کی تصدیق کی۔ وزیر اعظم نواز شریف نے لائن آف کنٹرول پر جانی نقصان پر شدید دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کے دفاع کی تمام صلاحیت رکھتے ہیں۔سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ انڈین فورسز لائن آف کنٹرول پر بھاری اسلحہ استعمال کر رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سات لاکھ سے زیادہ انڈین سکیورٹی فورسز کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے میں ناکام رہا ہے اور اس سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے وہ ایل او سی پر فائرنگ کرتا ہے ۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس سال اب تک انڈیا کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی 178 خلاف ورزیوں میں 19 شہری ہلاک اور 180 زخمی ہو چکے ہیں۔

پاکستان کے حکمران کتنے باصلاحیت ہیں؟ اس کا اندازہ اس سے لگالیجئے کہ ان کے پاس ہر بیرونی جارحیت کا حل بس دو ہی لفظوں میں پوشیدہ ہے :’’ ہم مذمت کرتے ہیں اور ہم دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں‘‘۔ مگر انہیں کوئی بتائے کہ جناب والا! مذمت کے بعد کچھ مرمت کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور صلاحیت موجود ہو تو اس کو ظاہر بھی کرنا چاہئے ورنہ وہی معاملہ چلتا رہتا ہے کہ ایک شخص نے دوسرے سے کہا تو مجھے تھپڑ مار کر تو دکھا، اس نے لگا دیا ، اس نے پھر کہا دوبارہ مار کردکھا ، اس نے دوبارہ بھی ماردیا۔ بس اب پہلا کہتا جا رہا ہے اور دوسرا مارتا جا رہا ہے تاآنکہ اس کا کچومر نکال کر رکھ دیا ۔

 ٭…٭…٭

اب آئیے ہم آپ کو کشمیر کے حالات کی ایک جھلک دِکھاتے ہیں، یہ تاثرات ایک کشمیری خاتون کے ہیں جس کی ڈائری کے کچھ اوراق بی بی سی پر نشر کیے گئے ہیں۔اس میں اس کشمیری خاتون نے بتایا ہے کہ: ’’ کشمیر میں سنہ 2016 کی مزاحمت پانچویں مہینے میں داخل ہو گئی ہے۔ آج اس کا 128 واں دن ہے۔ اس دوران ہماری ثابت قدمی اور ہمارے ارادوں کی مضبوطی کے کئی امتحان ہوئے۔ ہم تو امتحانوں کے عادی ہو گئے ہیں۔ اس دوران ہندوستان نے بھی بربریت کے نئے مقام سر کر لیے جس کے شکار چار سالہ بچے سے لے کر 80 سالہ بوڑھے بھی ہو گئے۔

جہاں ہندوستانی فوجیوں نے لوہے کی سلاخوں، چاقو اور ڈنڈے لے کر رات کے اندھیرے میں گھروں میں گھں کر بچوں اور بڑوں کی شدید پٹائی کی، عورتوں کی بے عزتی کی اور سامان تہس نہس کیا، وہاں ہمارے رضاکاروں نے زخمیوں اور ان کے تیماداروں کے لیے ہسپتالوں میں مہینوں کھانا نہ کھایا۔

جہاں ہندوستانی فوجیوں نے ایک مہینے کے اندر 13 لاکھ چھرے نہتے لوگوں پر داغے اور سینکڑوں لوگوں کو اندھا بنایا، وہاں ہمارے ڈاکٹروں نے آنسو گیس سے بھرے ہسپتالوں میں دن رات ان چھروں اور گولیوں سے زخمی لوگوں کے علاج کیے۔جہاں ایک طرف سے زخمیوں سے بھری ایمبولینس کے ڈرائیور پر گولی چلائی گئی وہاں اسی ڈرائیور نے اپنے زخموں کا خیال نہ کرتے ہوئے پہلے ایمبولینس میں پڑے زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا پھر اپنے زخموں کا علاج کروایا۔

جہاں حکومت نے لگاتار کرفیو لگا کر چھوٹے بچوں کو دودھ سے اور بیماروں کو ان کی دوا سے محروم کیا وہاں ہم نے ایکسیڈنٹ میں زخمی ہندوستانی یاتریوں کے زخموں پر مرہم لگائی۔

ہماری آزادی کی یہ جنگ برابری کی جنگ نہیں ہے۔ جہاں ہم اپنے جائز حق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں وہاں انڈیا کی سرکار کشمیر پر اپنے ناجائز قبضے کو قائم رکھنے کے لیے وحشیانہ طرز عمل کے سبب حدیں پار کر رہی ہے۔

کچھ دن پہلے ایک کتاب پڑھنے کے دوران اس میں ایک فقرہ نظر سے گزرا جسے پڑھ کر غصہ بھی آیا اور دکھ بھی ہوا۔ کشمیر کے سابقہ گورنر جگموہن نے سنہ 1990 میں کہا تھا 'کشمیر کا حل صرف گولی ہے۔'یہ وہی جگموہن ہیں جن کی بطور گورنر حلف اٹھانے کے ایک دن بعد سرینگر میں 'گو کدل' کا قتل عام ہوا جس میں 52 نہتے شہریوں کو ہندوستانی فوجیوں نے گولیاں برسا کر مار ڈالا۔جگموہن کا دور کشمیر کا ایک سیاہ دور تھا۔ یہی جگموہن جو سابقہ افسر شاہی کا فرد تھا اب بی جے پی کے ممبر بن گئے ہیں۔ انہی کو سنہ 2016 کے شروع میں بی جے پی سرکار نے ہندوستان کے دوسرے بڑے اعزاز پدما وی بھوشن سے بھی نوازا۔جس ملک کی سرکار اور اس کے حرکاروں کی ایسی سوچ ہو اس ملک سے جمہوریت یا انسانیت کی آپ کیا امید کر سکتے ہیں؟ جیسا کہ میں نے کہا یہ برابری کی جنگ نہیں ہے۔ ‘‘

بلکہ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں ایک طرف محض ظالم ہے اور وہ بھارتی سرکار اوراس کی فوج ہے جبکہ دوسری طرف مظلوم ہیں اور وہ کشمیری عوام ہے۔ افسوس اس کا نہیں کہ دنیا ان مظلوموں کی مدد نہیں کررہی ، زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ خود ان کے اپنے مسلمان بھائی اور پڑوسی ملک ان کی مظلومیت کے درد کو نہیں سمجھ رہا۔

وائے افسوس متاع کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online