Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

بھارتی وبشاری دہشت گردی (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 569 - Mudassir Jamal Taunsavi - Bharti wa Bishari Dehshat Gardi

بھارتی وبشاری دہشت گردی

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 569)

پاکستانی حکومت اور اداروں کو اگر فورتھ شیڈول اور پولیس مقابلوں سے فرصت ملے تو اُدھر لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کے خلاف بھی کچھ زبان کو حرکت دی جائے اور جس فولادی عزم کا اظہار نام نہاد دہشت گردی کے خلاف کیا جاتا ہے ، ویسا ہی کچھ بھارتی دہشت گردی کے خلاف بھی دکھایاجائے۔ بھارتی دہشت گردی کا عفریت اب پھنکار رہا ہے اور آئے روز ہمارے کشمیر بھائی اور فوجی نوجوان اس دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ۔ لائن آف کنٹرول کے باشندے نہایت خوف و ہراس کی کیفیت میں ہیں ۔ حتیٰ کہ ایک نوجوان نے فیس بک پر ایک سطر میں اپنے دُکھ درد کا اظہار کرتے ہوئے کچھ یوں لکھا ہے کہ :

’’ میرے شہر کا نام نیلم ہے اور وہاں کی مشہور سوغات میں "بارود" اور "دھواں" نمایاں ہیں..‘‘

اس ایک سطر میں جو درد و کرب پنہاں ہے اور وہاں کے لوگ جس اذیت ناک صورت حال سے دوچار ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے گویا وہ لوگ خوابوں کی حسین وادی نیلم کے باسی نہ ہوں بلکہ انہیں موت کی وادی میں چھوڑ دیا گیا ہو ۔

بھارتی دہشت گردی کی واردات مسلسل جاری ہے اور شاید بھارت اپنے نام نہاد سرجیکل سٹرائک کی بے عزتی اُتارنے کے لیے اب لائن آف کنٹرول پر آباد نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی فوجیوں کی آزاد کشمیر میں حد متارکہ جنگ ( لائن آف کنٹرول ) کے ساتھ واقع دیہات پر بلااشتعال فائرنگ سے تین کم سن بچیاں اور ایک لڑکا شہید اور چار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔بھارتی فوجیوں نے آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی کی تحصیل چڑھوئی کے کیری سیکٹر میں ہفتے کے روز فائرنگ اور گولہ باری کی ہے۔اسسٹینٹ کمشنر چڑھوئی راجا عارف محمود نے بتایا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے صبح پونے دس بجے گولہ باری شروع کی تھی۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ''ایک گولہ گاؤں سبز کوٹ میں ایک مکان پر گرا تھا جس سے اٹھارہ سالہ لڑکا شہزاد اور اس کی دو بہنیں دس سالہ فائزہ ،بارہ سالہ شانزا اور ان کی ایک پانچ سالہ کزن اریبہ شہید ہوگئی ہے''۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ شہزاد کے بھائی محمود اور اریبہ کی بڑی بہن اقرا کو تشویش ناک حالت کے پیش نظر کمبائنڈ ملٹری اسپتال منگلا منتقل کر دیا گیا ہے۔آزاد کشمیر کے جنوبی ضلع بھمبر کی دو تحصیلوں سماہنی اور برنالہ میں لائن آف کنٹرول پر واقع دیہات پر بھی گولہ باری کی گئی ہے۔سماہنی کے ایک گاؤں بروح پر بھی علی الصباح تین بجے سے شدید گولہ باری کی گئی ہے جس سے ایک خاتون زخمی ہوگئی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق پاکستانی فوجیوں نے بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا مسکت جواب دیا ہے۔یاد رہے کہ اسی ہفتے کے دوران لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی گولہ باری سے سات پاکستانی فوجی شہید ہوگئے تھے۔اس واقعے پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنر گوتم بمبے والے کو طلب کیا تھا اور ان سے فوجیوں کی شہادت پر احتجاج کیا تھا۔

ایک منچلے نے تو اس احتجاج پر یوں تبصرہ کیا کہ بھارتی سفیر اب یہ چاہتا ہوگاکہ سرکار! بار بار مجھے بلاکر تکلیف نہ دیا کریں، ایسا کریں کہ اپنے دفتر خارجہ میں ایک کمرہ میرے لیے مختص کر دیں تاکہ جب بھی احتجاج کرنا ہو تو وہیں کر لیا کریں ۔ بار بار مجھے بلاکر مفت میں مجھے تکلیف دیتے ہو۔

یہ وہ کرب ہے جو پاکستانیوں کے دلوں کی نمائندگی کررہا ہے۔ یہ قوم بھارتی ہٹ دھرمی کا چہرہ کشمیر میں مسلسل دیکھ رہی ہے اور یہ توقع رکھتی ہے کہ پاکستان اس بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے جو بھارت کے سرجیکل سٹرائک کی طرح نہ ہوجو دور بین لگانے سے بھی نہیں دِکھ رہا۔

٭…٭…٭

حلب شہر کے باشندوں نے سوال کیا ہے کہ : کیا ہم روسی طیاروں سے گرنے والے گوشت کو کھا سکتے ہیں؟

آہ! وہ کس بھوک اور کس تنگی کا شکار ہیں جس کا ہم ادراک بھی نہیں کر سکتے۔ حد یہ ہو چکی ہے کہ وہ اپنی زندگی بچانے اور بھوک مٹانے کے لیے مُردار کھانے کے لیے فتویٰ پوچھ رہے ہیں اور عالم اسلام اپنی دنیا میں مگن ہے اور اسے ان دکھ کے مارے ہووں کی کوئی فکر نہیں۔

 شام کے شمالی شہر حلب کے مشرقی حصے پر فضائی بمباری اور گولہ باری سے فقط چوبیس گھنٹے کے دوران ایک ماں اور اس کے بچے سمیت اکیس افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ مشرقی حلب کے ایک علاقے مساکن حانانو میں ایک مکان پر بم گرا ہے جس سے ایک خاتون اور اس کا بچہ جاں بحق ہو گیا ہے۔قبل ازیں اسی علاقے میں رات سے شدید گولہ باری اور فضائی حملوں میں انیس افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔مشرقی حلب کے ارد گرد فتح الشام کے حمایت یافتہ گروپوں اور شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے درمیان خونریز جھڑپیں جاری ہیں اور وہ ایک دوسرے پر گولہ باری کررہے ہیں۔شامی کارکنان کے مطابق شامی فوج یا روس کے لڑاکا طیارے حلب کے علاقوں فردوس اور دیر حفیر پر فضائی بمباری کررہے ہیں۔

مشرقی حلب میں روس کے فضائی حملوں کے بعد صورت حال انتہائی ناگفتہ بہ ہوچکی ہے،اسپتالوں کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہوچکا ہے اور اس وقت کوئی بھی اسپتال مریضوں کو علاج معالجے کی سہولتیں مہیا کرنے کے قابل نہیں رہا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق مشرقی حلب میں مقیم قریباً ڈھائی لاکھ افراد کو علاج معالجے کی خدمات مہیا کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

بشار الاسد اور اس کے حامی ظالموں کی طرف سے اہل حلب پر ستم بالائے ستم یہ بھی ہے کہ عالمی ادارہ صحت سمیت اقوام متحدہ کے تحت امدادی اداروں کو جولائی کے بعد سے مشرقی حلب میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔شامی فوج اور اس کے اتحادیوں نے اُسی مہینے میں مشرقی حلب کی جانب جانے والی اہم شاہراہ کاستیلو روڈ پر قبضہ کرلیا تھا اور شہر کے اس حصے کی مکمل ناکا بندی کردی تھی۔اس وجہ سے گذشتہ چار ماہ سے مجاہدین اور وہاں کے عوام کے زیر قبضہ مشرقی حلب میں محصور شامیوں کو ادویہ ،خوراک اور دوسرا امدادی سامان نہیں پہنچایا جاسکا ہے۔درایں اثناء امریکی صدر براک اوباما نے اعتراف کیا ہے کہ ''شام میں جاری بحران کچھ وقت کے لیے برقرار رہ سکتا ہے''۔ انھوں نے لیما میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ '' میں شام میں مختصر مدت کے امکانات کے حوالے سے کوئی زیادہ پُر امید نہیں ہوں''۔اوباما کا یہ بیان محض ایک طفل تسلی ہے ورنہ اس کے اقتدار میں اہل شام پر کوئی پھول نہیں بَرسائے جاتے رہے بلکہ اس کے دور میں بھی ان پر بم و بارود ہی پھٹتے رہے ہیں ۔

ایک دوسری رپورٹ کے مطابق ’’اقوامِ متحدہ کے ہنگامی امداد کے رابطہ کار سٹیفن او برائن کا کہنا ہے کہ چھ ماہ میں خانہ جنگی کا شکار شام میں محصور افراد کی تعداد چار لاکھ 86 ہزار 700 سے بڑھ کر نو لاکھ 74ہزار 80 ہو گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ شامی شہریوں کو محصور اور بھوکا رکھا جا رہا ہے انھیں طبی امداد اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر مدد سے محروم رکھا جا رہا ہے تاکہ انھیں ہتھیار ڈالنے یا پھر فرار کی راہ اختیار پر مجبور کیا جائے۔مسٹر او برائن کا کہنا ہے کہ یہ'جان بوجھ کر کیے جانے والی ظالمانہ' اقدامات ہیں اور زیادہ تر صدر بشارالاسد کی فوج کی جانب سے کیے جا رہے ہیں۔انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ 'جنھوں نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے وہ جانتے ہیں یہ کونسل بظاہر اہلیت نہیں رکھتی یا پھر اپنی مرضی کو لاگو نہیں کرنا چاہتی یا پھر اب ان اقدامات پر راضی ہو گئی ہے جو انھیں روک سکتے ہیں۔'

یاد رہے کہ شام میں حال ہی میں محصور یا زیرِ قبضہ علاقوں میں باغیوں کے زیرِ قبضہ دمشق کے نواحی علاقے جوبر، حجر الاسود اور الشیح سمیت مشرق میں دارالحکومت سے باہر زرعی پٹی بھی شامل ہے۔گذشتہ دنوں میں آنے والی اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ سینکڑوں شہری مارے جا چکے ہیں، زخمی ہیں یا مشرقی حلب میں ہونے والے شدید حملوں سے متاثر ہوئے ہیں۔'سٹیفن اوبرائن نے بتایا کہ مجاہدین کے زیرِ قبضہ علاقوں میں شاید ہی کوئی ایسا ہسپتال باقی بچا ہو جہاں طبی امداد دی جا سکتی ہو کیونکہ تمام طبّی مراکز کو بمباری کے نتیجے میں تباہ ہو چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ رواں ماہ میں 350سے زیادہ مارٹر گولوں اور راکٹوں کے ذریعے حلب شہر کو نشانہ بنایا گیا جس میں سینکڑوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور 350 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ اتوار کو ہی ایک سکول میں ہونے والے حملے میں 18 بچے جاں بحق ہوئے۔سٹیفن اوبرائن نے سلامتی کونسل کو خبردار کرتے ہوئے بتایا کہ مشرقی حلب میں صورتحال تباہ کن سے ہولناک ہو چکی ہے اور وہاں اب زندگی قائم رہنا مشکل ہو چکا ہے۔یاد رہے کہ جولائی میں محصور ہونے والے شہریوں تک اقوامِ متحدہ کی جانب سے خوراک اور راشن کی سپلائی بند کر دی گئی تھی ۔ ‘‘

یہ وہ حالات ہیں جو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔ ایک طرف امریکہ ہے وہ بھی مجاہدین اور مسلمانوں کے خلاف بمباری کررہا ہے اور دوسری طرف روس ہے جو اپنا بدلہ اتارنے کے چکر میں مجاہدین پر حملہ آور ہوچکا ہے اور اتفاق سے امریکہ وروس اور ان دونوں کے پروردہ ایران کی قیادت خالص مذہبی متعصب لوگوں کے ہاتھ میں ہے ۔ اب نہ جانے کب مسلمانوں کو مذہبی و جہادی غیرت رکھنے والی قیادت نصیب ہوتی ہے !!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online