Bismillah

595

۲۹شعبان تا۵رمضان المبارک ۱۴۳۸ھ        بمطابق       ۲۶مئیتا۱جون۲۰۱۷ء

قابل غور (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 570 - Mudassir Jamal Taunsavi - Qabl e Ghaur

قابل غور

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 570)

بہت سے نوجوان مسلمانوں سے یہ سوال سنا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اس طرح کے سوالات کا انہیں سامنا ہوتا رہتا ہے، کیوں کہ آج کل پرنٹ اور الیکٹرک میڈیا کے بعد سوشل میڈیا کی وجہ سے قلم کا سیلاب آیا ہوا ہے جس کی پیش گوئی احادیث مبارکہ میں بھی موجود ہے۔

فتنہ پرور لوگ مسلسل شکوک وشبہات پھیلانے والی باتیں پھیلاتے رہتے ہیں اور ادھر ہمارے نوجوان بسا اوقات نیا جاننے کی فکر میں بسا اوقات دینی حمیت میں وہاں ان کی تردید کرنے پہنچ جاتے ہیں مگر ظاہر سی بات ہے کہ اس میدان میں فقط جذبات سے کام نہیں چلتا بلکہ اس کے لیے دین کے اصولوں پر ماہرانہ عبور چاہئے ہوتا ہے ، اور عقلی داؤ بیچ میں مہارت بھی ضروری ہوتی ہے اور عام طور پر اس کا فقدان ہونے کی وجہ سے وہ نوجوان الٹا انہی سے کچھ نہ کچھ متاثر ہو جاتے ہیں ، جو ایک تشویشناک صورت حال ہے۔

اوپر جس سوال کا تذکرہ کیا ہے بعینہ وہی سوال آج سے صدیاں قبل علمائے اسلام سے کیا جاچکا ہے اور وہ اس کا مسکت جواب بھی دے چکے ہیں۔ یہ واقعہ پڑھیے جس میں آپ کو وہ سوال بھی مل جائے گا اور اس کا جواب بھی!

امام ابوبکر الباقلانی ایک مایہ ناز مناظر اسلام گزرے ہیں ۔ ایک بار عیسائیوں کے باشاہ نے مسلمانوں کے پاس پیغام بھیجا کہ اپنا ماہر ترین عالم ہمارے پاس بیھجو ۔ ہم اس سے مناظرہ کرنا چاہتے ہیں ۔ تب اس وقت کے علمائے اسلام میں سے انہی کو منتخب کر کے ان کے پاس بھیجا گیا تھا ۔

اللہ تعالی نے انہیں بے پناہ قوت استدلال سے نوازا تھا ۔ اسلام کی حقانیت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے اور الحمد للہ کہ وہاں مسلمانوں کو سرخرو کر کے بھی واپس لوٹے ۔

اب ان کا اور ایک عیسائی کے مابین ہونے والا دلچسپ مکالمہ سنیے :

عیسائی:تم لوگ جانبدار اور کم ظرف ہو

امام باقلانی:وہ کیسے ؟

عیسائی :تم یہ تو جائز سمجھتے ہو کہ کوئی مسلمان کسی عیسائی یا یہودی اہل کتاب عورت سے نکاح کر لے لیکن کوئی مسلمان عورت کسی یہودی یا عیسائی مرد سے نکاح کر لے تو اسے جائز نہیں کہتے ہو

امام باقلانی :اس میں جانبداری کی کوئی بات نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم اگر کسی عیسائی عورت سے نکاح کرتے ہیں تو اس کے نبی حضرت عیسی علیہ السلام پر بھی ایمان رکھتے ہیں ، اسی طرح اگر کسی یہودی عورت سے نکاح کرتے ہیں تو اس کے نبی حضرت موسی علیہ السلام پر بھی ایمان رکھتے ہیں

پس اسی طرح تم بھی جب ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لے آو گے تم ہم اپنی بیٹیوں کا تم سے نکاح کرا دیں گے !!

یہ سن کر وہ عیسائی دَم سادھے چپ ہوگیا اور کچھ بولنے کے قابل نہ رہا۔

٭…٭…٭

اللہ تعالیٰ نے اسرائیل کو جس طرح اپنی آگ کے عذاب میں پکڑا ہے ، دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح ملک شام کے مسلمان عوام پر زندگی تنگ کرنے والے ظالم بشار الاسد اور اس کے حمایتیوں پر بھی ایسا ہی عذاب مسلط فرمائے۔

ظلم اور سفاکی کی انتہاء ہے کہ وہاں کیا مجاہدین اور کیا عوام، کیا بچے اور کیا بوڑھے، کیا اسپتال اور کیا اسکول ، کیا مساجد اور کیا بازار سب پر ہی وحشیانہ بمباری کی جارہی ہے۔ ابھی گزشتہ جمعہ کے دن ’’شام کے اہم جنگی شہر حلب پر سرکاری فوج اور اس کی معاون روسی فوج کے جنگی طیاروں نے تازہ وحشیانہ بمباری کرکے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود نمازیوں پر بم گرادیے جس کے نتیجے میں کم سے کم 50 شہری شہید اور دسیوں زخمی ہوگئے۔ بمباری کے نتیجے میں تقاد قصبے میں واقع جامع مسجد ملبے کا ڈھیر بن گئی ہے۔

عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے فراہم کردہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ جمعہ کے روز حلب میں تقاد کے مقام پر روسی اور شامی فوج کے بمبار طیاروں نے ایک جامع مسجد پر اس وقت بم گرائے جب وہاں پر سیکڑوں شہری نماز جمعہ ادا کررہے تھے۔

ادھر شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمعرات کے روز چھن جانے والے تمام مقامات انقلابی فورسز نے سرکاری فوج سے دوبارہ واپس لے لیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جمعرات کو شامی فوج نے حلب میں مساکن ھنانون، پوسٹ آفیس کالونی، جامع مسجد عمر بن الخطاب اور کئی دوسری اہم عمارتوں پر قبضہ کرلیا تھا تاہم گذشتہ روز مجاہدین اور دیگر مزاحمت کاروں نے دوبارہ یہ جگہیں سرکاری فوج سے چھین لی ہیں۔‘‘

حلب کی یہ کیفیت وہاں کے رہائشیوں کے لیے اب موت کا کنواں ثابت ہورہی ہے کیونکہ اگر وہ وہاں سے دائیں بائیں جاتے ہیں تو وہاں زیادہ تر شیعوں اور حزب اللات کے غنڈوں کا راج ہے اور اگر حلب میں ہی رہتے ہیں تو فضاء سے ظالم بشار اور اس کے حمایتی روس کی بمباری جلا کر راکھ بنارہی ہے۔ آخر وہ جائیں تو کہاں جائیں؟

عرب لیگ نے اگرچہ زور لگا کر حزب اللات کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے مگر اس کا حقیقت میں کوئی اثر پڑا بھی ہے؟ جواب دیکھا جائے تو نفی میں ملے گا، وہ تو اب بھی شام میں قتل عام میں شریک ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر روس کے قربتیں بڑھ چکی ہیں ۔

چنانچہ ایک رپورٹ کے مطابق اگرچہ عرب لیگ کی جانب سے روں سال مارچ میں دہشت گرد قرار دی جانے والی لبنانی تنظیم حزب اللہ کی قیادت اور روسی فوجی افسران کے درمیان شام میں کوآرڈی نیشن پہلی مرتبہ نہیں ہے.. تاہم حلب شہر میں روسی فوج کے افسران اور حزب اللات کے رہ نماؤں کے درمیان ملاقات کو فریقین کی پہلی "سرکاری اور براہ راست" ملاقات شمار کیا گیا ہے۔ حزب اللات کے زیر انتظام روزنامے "الاخبار" کے مطابق تقریبا ایک ہفتہ قبل ہونے والی یہ ملاقات روسیوں کی درخواست پر ہوئی۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ملاقات کے نتیجے میں شام میں فریقین کے درمیان سکیورٹی کوآرڈی نیشن میں اضافہ ہوگا۔ خبر کے مطابق ملاقات میں سینئر روسی افسران موجود تھے تاہم "حزب اللات" کی قیادت کے ناموں اور عہدوں کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

رواں برس 26 فروری کو "کارنیگی" سینٹر فار مڈل ایسٹ کی جانب سے شائع کی جانے والی رپورٹ میں شام میں حزب اللات اور روس کے درمیان رابطوں کا انکشاف کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق لاذقیہ اور دمشق میں روس اور حزب اللات کے درمیان کم از کم دو آپریشنز روم ہیں۔رپورٹ میں حزب اللات کے عناصر اور روسی افواج کے درمیان مشترکہ عسکری کارروائیوں کی جانب بھی اشارہ کیا گیا تھا۔ادھر بشار الاسد کی فوج کے ترجمان نے دو روز قبل اعلان کیا تھا کہ شامی حکومت رضاکاروں پر مشتمل ایک عسکری فورس تشکیل دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ریاست کے ملازمین کو اپنے سرکاری عہدے برقرار رکھتے ہوئے اس فورس سے وابستہ ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ مذکورہ فورس سے وابستہ ہونے والے افراد کو250 سے 350 ڈالر کی ادائیگی کی جائے گی۔ شامی حکومت کے نزدیکی ذرائع نے بتایا ہے کہ اس "فورس" کو تربیت اور مالی رقوم کی فراہمی کے لیے حکومت کے "دوستوں" اور "دوستوں کے خزانے" یعنی بالخصوص ایران سے مدد لی جائے گی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online