Bismillah

586

۲۴تا۳۰جمادی الثانی۱۴۳۸ھ       بمطابق  ۲۴تا۳۰مارچ۲۰۱۷ء

زادِ طلبہ کا سیرت نمبر (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 571 - Mudassir Jamal Taunsavi - Zaad e talba ka Seerat No

زادِ طلبہ کا سیرت نمبر

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 571)

خوش قسمت ہیں وہ سعادت مند اَفراد جو نبی کریمﷺ کی سیرت طیبہ کی خوشبو پھیلانے میں کوشاں رہتے ہیں، نیک نصیب ہیں وہ قلم جو آفتاب عالَم تاب سراج منیرﷺ کی تعلیمات واحسانات سے روشناس کرانے کے لیے شب وروز تگ و دو کرتے رہے، قابل رشک ہیں وہ نوجوان جن کے ذہنوں میں جمال محمدﷺ کی پُرنور کرنیں جگمگاتی رہیں اور وہ ایک لگن کے ساتھ سیرت النبیﷺ کے عنوان پر خون جگر جلا کر ایک ہدیہ تیار کرتے رہے، جسے دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں، پڑھنے والے کے دل میں محبت نبوی کی شمع روشن ہونے لگے، ایک ایک ورق پر سیرت النبیﷺکے مختلف گوشوں کی رعنائیاں دیکھ کر زبان پر درود و سلام کے نغمے رواں کردیتی ہیں

ﷺ…ﷺ…ﷺ

 سرورق پر مہر نبوت کا خوبصورت عکس اور اس کے چاروں اطراف سے پھیلنے والی نورانی کرنیں ایک پیغام دے رہی ہیں کہ کائنات میں روشنی ہوئی تو اسی مبارک ہستی ہے مبارک وجود سے ، جسے ربّ کائنات نے ’’سراجامنیرا‘‘ قرار دیا، اور پھر اسی ایک لفظ ’’سراجا منیرا‘‘ کی شرح لکھنے کے لیے مہتمم دار العلوم دیوبند مولانا قاری محمد طیب قاسمی نوراللہ مرقدہ نے قلم اٹھایا تو ’’آفتاب نبوت‘‘ کے نام سے ایک جامع کتاب وجود میں آگئی، اور ایک شاعر نے اس مضمون کو سوچا تو یہ قلم بند کرلیا :

قدم قدم پہ برکتیں ، نفس نفس پہ رحمتیں

جہاں جہاں سے وہ شفیعِ عاصیاں گذر گیا

جہاں نظر نہیں پڑی ، وہاں ہے رات آج تک

وہیں وہیں سحر ہوئی، جہاں جہاں گزر گیا

مہر نبوت کے سائے تلے چار تصویریں ہیں: خانہ کعبہ، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ ، تلوار اور ڈھال۔ اس میں یہ پیغام ہے کہ نبوت محمدی کے بعد اب دنیا بھر میں رہنے والے تمام افراد کے لیے اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا اور اسی رضاء حاصل کرنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ سیدنا محمدﷺ کے دامن سے وابستگی اختیار کی جائے، اب اُن کی نبوت ورسالت کا سورج طلوع ہوچکا، اب کی حکومت کا سکہ جاری ہوچکا، جو اس سکے کو لے کر آئے گااُسی کو جنت اور اللہ تعالیٰ کی محبت و رضاء کا سودا ملے گا، اب ان کے دَر کے علاوہ کہیں اور کامیابی تلاش کرنا فضول ہے۔ وہ ایک محدود سے نبی بن کر نہیں آئے ، وہ رحمۃ للعالمین بن کر آئے ہیں، اب رحمت تک رسائی انہی کے توسط سے ہوگی۔

وہ ایسے نبی جن کی دعوت اور جن کا پیغام دُنیا سے ختم ہونے کے لیے نہیں، بلکہ بڑھنے کے لیے آٰیا۔ ان کا دین سمٹنے کے لیے نہیں بلکہ پھلنے پھولنے کے لیے آیا، ان کی امت ختم ہونے کے لیے نہیں، بلکہ چھا جانے کے لیے آئی، اُن کی امت پہلوں کی دست نگر نہیں، بلکہ رہنما بن کر آئی ، ان کے نام لیوا ایک ہاتھ میں ایمان کا جھنڈا اُٹھا رکھتے ہیں تو دوسرے ہاتھ میں تلوار عشق کی تیز دھار لے کر چلتے ہیں تاکہ اس دنیاسے جھوٹے خداؤں کی خدائی کا تخت الٹ دیں اور اگر کبھی کچھ لوگ اس پیغام سے دور ہونا چاہتے ہیں تو کچھ دوسرے انہیں یاددھانی کرانے کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ اسی لیے زاد طلبہ کے کارکنان نے سیرت النبیﷺ کی خاص اشاعت کے سرورق پر یہ پیغام تحریر کردیا ہے:

عشق اور ایمان کو اب پھر سے ہم آغوش کر

کیوں نہیں طوفان ٹپکتے اب تیرے جذبات سے

آشنائے لذتِ ایجاد ہے فطرت تیری

نئے جہاں آباد کر سکتی ہے امکانات سے

’’زاد طلبہ‘‘ ایک سہ ماہی رسالہ ہے جو امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کے زیر قیادت و امارت ’’المرابطون‘‘ عصری تعلیمی اداروں کے طلبہ کرام اپنے حلقے کے لیے شائع کرتے ہیں۔ اس بار ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی اس رسالے کی خصوصی اشاعت ’’سیرت النبیﷺ‘‘ کے مُشکبار اور پُرنور عنوان سے شائع ہو کر منظر عام پر آچکی ہے۔ یہ خصوصی اشاعت محض معلوماتی مقاصد کے لیے وجود میں نہیں آئی بلکہ اس کا مقصد اس سے بھی اعلیٰ و اَرفع ہے۔ لیجئے وہ مقصد خود انہی کی زبانی سُن لیجئے

’’اس شمارے کا مقصد یہ ہے کہ محبت رسول اللہﷺ کا چراغ نوجوانوں کے دلوں میں ایسا روشن کیا جائے کہ ہمارا نوجوان لندن و اشگٹن کی رنگینیوں کی بجائے مدینہ کی خوشبودار مٹی کا اسیر ہوجائے۔

ہر مسلمان خواہ وہ کتنا ہی گیا گزرا کیوں نہ ہو، اسکے دل کے اندر عشق مصطفیﷺ کی چنگاری موجود ہوتی ہے۔

 یہ ایک کاوش ہے کہ اس چنگاری کو ایسا روشن کیا جائے جو ہر نوجوان کو سنتِ رسول اللہﷺ کے سانچے میں ڈھال دے۔ دل عشق رسول کی دہکتی بھٹی بن جائے اور مدینہ کے دیوانے نواجونوں کو کندن بنائے ،جذبہ محبت کی تپش کو اتنا تیز کردیا جائے کہ سنتِ حبیبﷺ سے دوری کا زنگ اترجائے اور دل ایسا آئینہ بن جائے جو نورِ نبوت کے عکس سے جگمگارہا ہو۔

دل عشق کا چھلکتا ساغر،محبت کا مہکتا گلشن، جذبات کا مچلتا سمندر اور حسن کا نورانی پیکر بن جائے اور ان سب کا محور و مرکز ہو

محمدﷺ…محمدﷺ…محمدﷺ

قدم خاک مدینہ کو بوسہ دینے کے لئے آبلہ پائی پر مجبور ہوجائیں، آنکھیں گنبد خضراء کے دیدار میں ایسے تڑپ اٹھیں کہ آنسو بھی ان کی آتش شوق کو بجھا نہ پارہے ہوں، زبان وہ تلوار بن جائے جو ہر موقع و محل پر اغیار کے بچھے سازشی جال کا تاروپود، برملایہ اعلان کر کے بکھیردے

اَاَتْرُک سنۃ الحبیب لھذہ الحمقاء(میں ان احمقوں اور بے وقوفوں کی خاطر اپنے محبوبﷺ کی سنت چھوڑدوں؟)

چہرہ سنتِ رسول سے ایسا جگمگا اٹھے کہ ہر شخص پہلی ہی نظر میں جان لے کہ محمدﷺ کا غلام ہے۔

 میرے مرابط ساتھیو! یہ ایک ادنیٰ کاوش ہے کہ نوجوانوں کے دلوں میں محبت کی لَو ایسی تیز ہو جائے کہ سب سے پہلے ہم سب کو اس بات کا احساس ہوجائے کہ ہم کس قدر غافل اور لاعلم ہیں اور سیرت رسول اللہﷺ کا مطالعہ کتنا اہم اور ضروری ہے اور ہم اس میں کتنی کو تاہی برت رہے ہیں!!

سیرت نبویﷺ کے دلنوازتذکرے ہمارے دل میں محبتِ رسول اللہﷺ کے غنچے کھلاتے ہیں۔ زندگی کے ہرموڑ پر سنت رسول اللہﷺ کو جاننے اور اس پر عمل کاشوق پیدا کرتے ہیں۔ زندگی کے ہر پہلو خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی، معاشرتی و اخلاقی معاملات ہو یا کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے متعلق ہمیں بہترین رہنمائی لینے کا احساس بیدار کرتے ہیں……

اس لئے اسلام اور پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کا عزم رکھنے والے المرابطون کے نوجوانو!اپنے محبوبﷺکی سیرت سے آگاہی کے لئے انفرادی و اجتماعی ہر اعتبار سے کوشش کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔‘‘

یہ رسالہ اسی ذمہ داری کو یاددلانے کے لیے شب و روز کی بے شمار ساعتوں کی محنت سے تیار کیا گیا ہے۔ جس میں امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہرحفظہ اللہ تعالی کی محبت نبوی کے نور سے جگمگاتی یادگار تحریر بھی شامل ہے اور مولانا طلحہ السیف صاحب کے قلم سے شجاعت نبوی کے گوشوں سے روشناس کرانے والی ولولہ انگیز محبت پرور تحریر بھی۔ اس میں نبی الملاحمﷺ کی سیرت طیبہ سے جنگ و جہاد کے بہترین رہنما اصول بھی بیان کیے گئے ہیں اور نبی کریمﷺ کی سیرت طیبہ کا جامع خلاصہ بھی مذکور ہے۔ اس میں آقا مدنیﷺ کی محبت دلنواز تذکرہ بھی موجود ہے اور شاہ مدینہﷺ کی معاشی زندگی اور معاشی تدبیرات سے بھی آگاہ کیا گیا ہے ۔ اس میں کلام ربانی کی روشنی میں مقام محمدﷺ کی نشاندھی بھی موجود ہے اور غیر مسلم مفکرین کی طرف سے خدمت محمدی میں پیش کیا گیا خراج عقیدت بھی دکھایا گیا ہے ۔ بقول کسے:

الفضل ما شہدت بہ الاعداء

رب تعالیٰ نے ہمارے نبی حضرت محمدﷺ کو کیسے مقام و مرتبہ اور فضیلت عطاء فرمائی کہ دشمن بھی اعتراف پر مجبور ہورہے ہیں!!

زاد طلبہ رسالے کی انتظامیہ اور دیگر معاون کارکنان اور المرابطون کے تمام احباب کو اس قیمتی ہدیے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور تمام قارئین سے درخواست ہے کہ اس قیمتی سوغات کو حاصل کریں اور جس قدر ہو اس کی ترویج میں حصہ لیںیہ پیغام دیتے ہوئے کہ :

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online