Bismillah

577

۲۱ تا۲۷ربیع الثانی۱۴۳۸ھ  ۲۰تا۲۶جنوری۲۰۱۷ء

مطالعۂ سیرت: کیوں اور کیسے؟ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 572 - Mudassir Jamal Taunsavi - Mutala Seerat

مطالعۂ سیرت: کیوں اور کیسے؟

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 572)

تاریخ ِ عالَم ہزاروں، لاکھوں بلکہ کروڑوں شخصیات اور اقوام کے حالات واوصاف اور کردار وسیرت سے بھری ہوئی ہے، لیکن جو مقام اورمرتبہ ’’اِنسانِ کاملﷺ‘‘ کا حاصل ہے اس کی بدیہی تقاضاتھاکہ اُن کی ’’سیرت‘‘ بھی تمام سیرتوں سے ’’کامل‘‘ اور نمایاں ترین ہو۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جس طرح جب ’’سیرت ‘‘ لفاظ بولاجائے تو ذہن سب سے پہلے اسی ذات گرامی قدر کی طرف جاتا ہے جن کی سیرت ’’اسوہ حسنہ‘‘ کے لقب سے متصف ہے۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ نبی کریمﷺ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ صرف مسلمان قوم کی ہی ضرورت نہیں، بلکہ دنیا کے ہر انسان کی ضرورت اس سے جُڑی ہوئی ہے، کوئی بھی انسان آپ کی سیرت سے بے نیاز نہیں ہوسکتا، اور جو اس سیرت طیبہ سے بے نیاز ہوا وہ پھر کہیں کا بھی نہیں رہتا۔ بقول فارسی شاعر:

محمد عربی کہ آبروئے ہر دوسرا ست

کسے کہ خاک درش نیست خاک بر سرِ او

ترجمہ: محمدﷺ دونوں جہاں کی عزت ہیں، جو ان کے در کی خاک نہیں اُس کے سر پر خاک ہے۔ (یعنی جو آپ کا پیروکار نہیں وہ ذلیل ہے)

یہ بات طے ہے کہ نبی کریمﷺ کی بعثت تمام انسانوں کے طرف ہے اور آپ کی بعثت کے بعد اب ہر انسان کی کامیابی کا دارومدارآپ کی نبوت ورسالت پر ایمان لانے سے وابستہ ہے۔ اس لیے جس طرح ایک مسلمان رہنمائی لینے میں آپ کا محتاج ہے اسی طرح ایک کافر بھی رہنمائی لینے اوردین سمجھنے میں آپ کا محتاج ہے۔ نبی کریمﷺ اللہ کے رسول ہیں، اللہ کے نبی ہیں، رحمۃ للعالمین ہیں، شاہد اورمبشر ونذیر ہیں، آپ کی ذات گرامی سے’’اسوۃ حسنہ‘‘وابستہ ہے، بھلاآپ کے در کو چھوڑ کر کیسے ’’ربّ‘‘ کے در کو پایا جاسکتا ہے؟

نبی کریمﷺ کی ذات گرامی کے ’’رسول‘‘ ہونے کا یہ مطلب (معاذ اللہ) ہرگز نہیں کہ آپ کی حیثیت محض ایک ’’ڈاکیے‘‘ کی سی ہے، جس کا کام فقط پیغام پہنچادینا ہو، اسی طرح آپ کے ’’معلم‘‘ ہونے کا فقط یہ مطلب نہیں کہ آپ صرف علم وفکر کی گتھیان سلجھانے والے کتابی اورقلمی معلم ہیں جس کا لوگوں کی عملی زندگی سے کوئی تعلق اور رابطہ نہ ہو… نہیں! بلکہ آپ ﷺ اللہ کے پیغام کو لانے والے بھی ہیں اور اس پیغام پر عمل کرکے دکھانے والے بھی ہیں، آپ کی سیرت کا یہ گوشہ بہت اہم ہے کہ آپ صرف زبانی معلم یا مبلغ نہیں تھے بلکہ اپنے عمل اور پاکیزہ کردار سے اپنی دعوت اورتعلیم کی سچائی اورحقانیت پرمہرِ تصدیق ثبت کرنے والے تھے، آپ علم کے بادشاہ تھے تو آپ کا کردار بھی بے داغ تھا ۔ اس لیے آپ نے دعوے نبوت کے بعد اپنی صداقت کے اثبات اوراظہار میں اپنے پاکیزہ کردار کو بھی پیش کیا، جسے قرآن کریم کے الفاظ نے یوں بیان کیا ہے:

فقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ افلا تعقلون (سورۃ یونس:۱۶)

ترجمہ: اس سے پہلے میں تم میں ایک عمر گزار چکا ہوں، کیا پھر بھی تم سمجھنے پر آمادہ نہیں ہو؟

’’سیرت طیبہ‘‘ ایک پاکیزہ اورشرف وفضیلت والا علم ہے، اورکیوں نہ ہو؟ جبکہ ہر علم کی قدر وقیمت اس کی معلومات اور مشمولات کی وجہ سے ہوتی ہے تو وہ علم جس میں اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر رحمۃ للعالمینﷺ کی ذات گرامی اوران کے کردار واوصاف، اخلاق وشمائل اور سیرت وصورت سے بحث ہوتی ہو اور اس علم کی بدولت ان قیمتی باتوں سے آگاہی ملتی ہو، تو وہ علم کتنی فضیلت اور شرف ومرتبہ رکھتا ہوگا؟؟ 

الغرض نبی کریمﷺ کی سیرت کئی اعتبار سے یہ حق رکھتی ہے کہ اس کا گہرا مشاہداتی اور محبت سے لبریز مطالعہ کیا جائے کیوں کہ :

(۱) نبی کریمﷺ اللہ تعالی کے آخری رسول ہیں

(۲) آپ ہی پر اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہدایت نازل ہوئی

(۳) آپ ہی کی نبوت ورسالت پر ایمان قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے لازمی قراردیدیا گیا ہے

(۴) آپ ہی کی ذات گرامی میںایک کامل انسان کا نمونہ رکھا گیا ہے جس سے ہر شخص رہنمائی لے سکتا ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ سیرت طیبہ کے مطالعے کو اپنی زندگی کا ایک اہم مقصد بنایا جائے اور اس سیرت کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے میں اپنی کوششیں صرف کی جائیں۔ حضرات سلف صالحین کا طرز عمل ہمارے سامنے ہے انہوں نے کس طرح روز وشب کی محنتیں کیں اور دوردراز کے مشکل سفر طے کرکے اس سیرت طیبہ کواپنے سینوں اور سفینوں میں محفوظ بھی کی اہے اور نسل درنسل منتقل بھی کرتے آئے ہیں۔

یہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ سیرت کا مطالعہ محض تفریح ، تسکین وتسلی، وقت گزاری یا محض معلومات میں اضافے کے لیے نہیں ہونا چاہئے بلکہ یہ مطالعہ اس سیرت کا ہے جہاں علم وعمل اور ایمان وامتحان ساتھ کندھے سے کندھاملاکر چلتے ہیں اس لیے اس کے مطالعے میں اسی پہلو کو مدِ نظر رکھاجائے اور جب ایسا کیا جائے گا تو قلب وروح کا ایک نورانی سکون بھی میسر آئے گا، ایمان اور یقین میں قوت بھی پید اہوگی، عمل کا جذبہ بھی قوت سے ابھرے گا، ہدایت کے راستے روشن ہوں گے، تاریکی اور گمراہی کے پردے چاک ہوں گے، اللہ تعالی سے تعلق کی راہ ملے گی اور اس طرح یہ انسان محض گفتار کا غازی نہیں بنے گا بلکہ بلند اور پاکیزہ کردار اسے نصیب ہوگا۔ ان شاء اللہ

٭…٭…٭

اب دوسرا سوال یہ ہے کہ ’’سیرت‘‘ کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟

تو یاد رہے کہ اس حوالے سے چندباتیں بالکل بنیادی ہیں اور اس موضوع پر مطالعہ شروع کرنے سے انہیں ذہن میں رکھنا نہایت ضروری بھی ہے اورمفید بھی، اس حوالے سب سے پہلے یہ بات جاننا ضروری ہے کہ سیرت کے مصاد اورمآخذ کون سے ہیں؟ تو یہ مصادر درج ذیل ہیں:

(۱) قرآن کریم… (۲)احادیث نبویہ پر مشتمل کتابیں… (۳) غزوات اور سرایا پر لکھی گئی کتابیں… (۴)خاص سیرت پر لکھی گئی کتابیں

جو کتابیں مستقل سیرت طیبہ کو موضوع بنا کر لکھی گئی ہیں ان کی تین قسمیں ہیں:

(۱) مختصر کتب سیرت… (۲) متوسط کتبِ سیرت… (۳) مطول کتبِ سیرت

اب جو طالب علم سیرت طیبہ کا مضبوط مطالعہ کرنا چاہتا ہے اور یہ خواہش رکھتا ہے کہ اسے علم سیرت پر عبور حاصل ہو تو اس کے لیے سلف صالحین کا طالب علمانہ طرز عمل ہی سب سے موزوں اور مفید ہے اور وہ یہ ہے کہ علم کی طلب کا آغاز مختصر کتابوں سے کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ اس علم و فن کی کوئی بھی مختصر اور جامع کتاب کی معلومات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیاجائے ، پھر اس علم کی متوسط کتابوں کا مطالعہ کیا جائے اوراس مطالعے میں جو نئی باتیں سامنے آئیں انہیں پہلی معلومات کے جوڑ کر ذہن نشین کرلیاجائے اور اپنے پاس ضروری نگہداشتوں کو لکھ کر بھی محفوظ کرلیاجائے، بعد ازاں اس علم کی مطول کتابوں کا مطالعہ کیا جائے اور اس مرحلے کا مطالعہ مکمل گہرائی اور سوچ وبچار کے ساتھ کیا جائے اور اس مرحلے پر پہنچ کر اس علم کے نشیب وفراز کو سمجھاجائے ، اشکالات کو حل کیا جائے، اعتراضات کو دور کیاجائے، الغرض اس یہ مرحلہ اُس علم کے ’’تخصص‘‘ کامرحلہ ہوتا ہے جس میں پوری جانفشانی سے کام لیا جاتا ہے اور ہر مرحلے پر یہ نکتہ ذہن میں رکھ کر آگے بڑھنا ہوتا ہے:

العلم لایعطیک بعضہ حتی تعطیہ کلک

علم اپنا کچھ حصہ بھی اس وقت تمہارے حوالے کرتا ہے جب تم پوری طرح خود کو اس کے حوالے کردو!

مختصر کتابوں میں سے مثال کے طور پر بعض کتابوں کے نام درج ذیل ہیں:

(۱) رحمت عالمﷺ: سید سلمان ندوی صاحبؒ

(۲) سیرت رسولﷺ: شاہ ولی اللہ دہلوی صاحبؒ

(۳) سیرت خاتم الانبیاءﷺ: مفتی محمد شفیع صاحبؒ

متوسط کتابوں میں درج ذیل بعض کتابیں مناسب ہیں:

نشر الطیب : مولانا محمد اشرف علی تھانوی صاحبؒ

نبی رحمتﷺ: مولانا ابو الحسن علی ندوی صاحبؒ

ہادی عالمﷺ(غیرمنقوط): جناب محمد ولی رازی صاحب

مطول کتابوں میں سے تین کے نام بطور مثال درج ذیل ہیں:

رحمۃ للعالمینﷺ: مولانا سلمان منصور پوری صاحبؒ

سیرت المصطفیٰﷺ: مولانا محمد ادریس کاندھلوی صاحبؒ

سیرت حلبیہ(مترجم اردو): ترجمہ نگار مولانا محمد اسلم قاسمی صاحبؒ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online