Bismillah

582

 ۲۶جمادی الاولیٰ تا ۲جمادی الثانی۱۴۳۸ھ    ۲۴فروری تا ۲ مارچ۲۰۱۷ء

خلاصہ سیرت مصطفیﷺ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 573 - Mudassir Jamal Taunsavi - Khulasa Seerat Mustafa

خلاصہ سیرت مصطفیﷺ

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 573)

شکر اُس رب ذو الجلال کا جس نے ہمیں اس نبی کی اُمت میں سے بنایا جسے خود اُس رحمن، رحیم اور ارحم الراحمین ذات نے ’’رحمۃ للعالمین‘‘ کا عظیم لقب اور منصب عطاء فرماکر تمام مخلوقات سے ان کی فضیلت وبرتری کا اظہار کردیا اور پھر خصوصی طور پر انہیں ’’خاتم النبیین‘‘ کا لقب دے کر مخلوق کے افضل ترین طبقے انبیاء و رسل پر بھی ان کی برتری نمایاں کردی۔ اسی کو دیکھتے ہوئے امیر المؤمنین فی المدائح النبویۃ علامہ بوصیری رحمہ اللہ تعالیٰ نے کہا:

محمد سیدالکونین و الثقلین

والفریقین من عرب و من عجم

فاق النبیین فی خلق و فی خلق

و لم یدانوہ فی علم و لا کرم

ہمارے نبی محمدﷺ تو دونوں جہانوں کے سردار، انسانوں اور جنوں کے سردار اور عرب و عجم کے تمام انسانوں کے سردار ہیں۔

وہ اپنے اخلاق و اوصاف اور اپنے حسن و جمال میں تمام نبیوں سے فوقیت لیے ہوئے ہیں چنانچہ ان نبیوں میں سے کوئی بھی علم و فضیلت میں آپ کے قریب نہیں ہے۔

نبی کریمﷺ کی آمد پر خوش ہونا، اس پر جائز طریقے سے خوشی کا اظہار کرنا، فرط محبت سے آنسو بہانا، شوق وذوق کی فراوانی سے زبان پر بار بار درود شریف کا جاری ہوجانا یہ سب آپ کی محبت کی دلیل ہے اور یہ سب جائز ہے ۔ اگر نبی کریمﷺ کی آمد کے تصور اور یاد سے ہمیں خوشی محسوس نہیں ہوتی تو یہ بھی انتہاء درجے کی سخت دِلی اور خشک مزاجی کی دلیل ہے اور اگر آپ کے تذکرے کے نام پر آپ کی دینی و اخلاقی تعلیمات کو مذاق بنا دیا جاتا ہو تو یہ بھی محبت نبوی نہیں بلکہ شیطان کی اغواکاری ہے جس میں وہ سادہ مزاج بندوں کو پھنسا لیتا ہے اور یہ شیطان جنات میں سے بھی ہوتے ہیں اور انسانی شکل میں بھی۔ معاذ اللہ

آج کے کالم میں نبی کریمﷺ کی سیرت مبارکہ کا ایک جامع معلوماتی خلاصہ پیش کر رہا ہوںکیوں کہ ایک امتی کو اپنے نبی کے بارے میں کم ازکم اس قدر معلومات ضرور ہونی چاہئیں۔ اگر آپ قارئین خود اوراپنے بچوں کو یہ خلاصہ یاد کرادیں گے تو یقینا اس کی برکات ان کی زندگی میں ضرور ظاہر ہوکر رہیں گی۔ ان شاء اللہ

نام مبارک : محمد ( صلی اللہ علیہ و سلم )

کنیت مبارکہ : ابو القاسم

مختصر نسب پاک : محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ھاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب

قبیلہ : قریشی ہاشمی

والدہ محترمہ : آمنۃ بنت وہب بن عبدمناف بن زہرۃ بن کلاب

گویا کلاب پر جا کر آپ کے والد محترم اور والدہ محترمہ کا نسب ایک ہوجاتا ہے۔

والدہ کا قبیلہ : قریش میں سے بنو زھرۃ

مقامِ ولادت : مکہ مکرمہ ، اپنے چچا ابو طالب کے گھر

تاریخ ولادت : بروز پیر ، 12 ربیع الاول ، کعبہ شریف کی تباہ کرنے کے لیے آنے والے ہاتھیوں کے لشکر کی ہلاکت والے سال

اسماء مبارکہ :

 محمد، احمد، الحاشر، الماحی، العاقب، المقفِّی، نبیّْ التوبۃ، نبیّْ الرحمۃ اور دیگر بھی بے شمار مبارک ناموں سے متصف تھے اوریہ سب کے سب نام کمال اور عظمت کی نشانی ہیں۔

بیٹے : تین ہیں : قاسم ، عبد اللہ اور ابراہیم

بیٹیاں : چار ہیں : زینب ، رُقیہ ، ام کلثوم ، فاطمہ

چچا : آپﷺ کے کل نو چچا تھے : عباس ،حمزہ ،ابو طالب،زبیر،حارث ،حجل ،مقوم ،ضرار ، ابو لہب

ان میں سے صرف حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے اِسلام قبول کیا۔

پھوپھیاں :آپﷺ کی چھ پھوپھیاں تھیں : صفیہ، عاتکہ،اَرویٰ، امیمہ، برۃ، اُمّ حکیم

ان میں سے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا اسلام قبول کرنا یقینی ہے جبکہ عاتکہ اور اَروی کے بارے میں اختلاف ہے

دادی محترمہ : آپ کی دادی محترمہ کا نام اور نسب یوں ہے : فاطمۃ بنت عمرو بن عمران ابن مخزوم بن یقظہ بن مرۃ

غزوات :

 غزوہ اس جنگ کی کہتے ہیں جس کے لیے خود نبی کریمﷺ نے شرکت فرمائی ہو۔ مشہور قول کے مطابق ان غزوات کی تعداد 27ہے۔

حج و عمرہ :

 ایک حج اداء فرمایا جسے حجۃ الوداع بھی کہتے ہیں اور چار عمرے اداء فرمائے۔

وفات : اہل اسلام کے لیے بلکہ شاید کائنات میں پیش آنے والے حادثات میں سے سب سے سخت حادثہ نبی کریمﷺ کی وفات تھی جس کے بارے میں صحابہ کہتے ہیں کہ جس روز نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی اس دن مدینہ کی ہرچیز پر سیاہی پڑ گئی۔ یہ سخت حادثہ بروز پیر ، 12 ربیع الاول ، سنہ 11 ہجری کو پیش آیا ۔

کل عمر : 63 سال ، ان میں سے چالیس سال نبوت سے قبل کے اور 23 سال نبوت و رسالت کے، پھر ان 23 میں 13 سال مکی اور 10 سال مدنی زندگی پر مشتمل ہیں۔

ازواج مطہرات :

1…خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا

2… سودہ بنت زمعۃ رضی اللہ عنہا

3…عائشہ بنت ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہا

4…حفصہ بنت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہا

5… زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا

6…اُمّ سلمہ ہند بنت ابو امیہ رضی اللہ عنہا

7… اُم حبیبہ رملۃ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا

8…جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا

9…صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا

10…میمونہ بنت الحار ث رضی اللہ عنہا

11… زینب بنت خزیمۃ رضی اللہ عنہا

باندیاں :

1…ماریہ القبطیہ،نبی کریمﷺ کے بیٹے ابراہیم ان کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔

2… ریحانہ بنت زید القرظیہ

بعض اہل علم نے دو دیگر باندیوں کا بھی تذکرہ کیا ہے مگر راجح یہی ہے۔ واللہ اعلم

آپ ﷺ پردرود

بھیجنے کی فضیلت :

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے مجھ پر ایک بار درود بھیجا تو اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمتیں نازل فرماتے ہیں، اس کے دس گناہ معاف فرماتے ہیں اور اس کے دس درجات بلند فرماتے ہیں۔ (الحدیث )

یہ فضیلت وہ خاص نعمت ہے جو صرف نبی کریمﷺ کے زمانے کے مسلمانوں کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے اس فیض کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔

یَا رَبِّ صَلِّ  وَ سَلِّمْ دَائِماً اَبَداً

عَلٰی حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّہِمِ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online