Bismillah

591

۳۰رجب تا۶شعبان ۱۴۳۸ھ        بمطابق       ۲۸اپریل تا۴مئی۲۰۱۷ء

نیت اَچھی…نتیجہ اَچھا (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 575 - Mudassir Jamal Taunsavi - Niyat achi Nateeja Acha

نیت اَچھی…نتیجہ اَچھا

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 575)

یہ اندلس کے ایک طالب علم کی کہانی ہے

ان کے والد ایک صاحب علم کی خدمت میں جاتے اوران کے بے حد معتقد ہو گئے

ایک دن ان سے عرض کرنے لگے

میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی آپ جیسا باکمال عالم دین بیٹا عطا فرمائے

انہیں اپنے خادم کی یہ بات بہت پسند آئی تو انہوں نے بھی اچھی رہنمائی ضروری سمجھ کر مشورہ دیا

تم ایسا کرو کہ قرطبہ کے فلاں فقیہ کی خدمت میں چلے جاؤ

ان سے اپنا مخلصانہ تعلق قائم کرواور جب تعلق اچھی طرح جڑ جائے تو ان سے رشتے کی درخواست کرنا

اگر انہوں نے تمہیں اپنی بیٹی کا رشتہ دیدیا تو تمہیں میرے جیسا بلکہ مجھ سے بھی بڑھ کر عالم دین بیٹا مل جائے گا

وہ اپنی پوری تیاری کر کے اوراپنا گھر بار چھوڑ کر اس فقیہ کی خدمت میں جا پہنچے

پورا ایک سال دل لگا کر اور اللہ تعالیٰ سے اچھی امید لگا کر ان کی خدمت کرتے رہے

جب دیکھا کہ اب استاذ کافی شفقت کرنے لگے ہیں

تو ایک دن نہایت ادب کے ساتھ ان سے رشتے کی درخواست بھی کردی

سادہ اوربے تکلف لوگ تھے…

آج کے زمانے کی طرح تو تھا نہیں

آج نیکی کرنا اور نیکی کی بات کرنا مشکل جبکہ برائی کرنا اور برائی کی باتیں کرنا نہایت آسان

الغرض وہ سادہ اور بے تکلف لوگ تھے ، اس لیے استاذ نے بھی کسی غصے کا اظہار نہیں کیا

اور اپنی بیٹی کا نکاح اس نوجوان سے کر دیا

تب وہی ہوا جو اس نوجوان کی خواہش تھی

اللہ تعالیٰ نے انہیں باکمال بیٹے دیئے

ایک بیٹا نامور عالم دین بنا اور آج تک فقہ مالکی کے مستند ترین علماء میں ان کا شمار ہوتا ہے

اہل علم انہیں امام ابو الولید سلیمان بن خلف بن سعدالقرطبی ،الباجی کے نام سے جانتے ہیں

جن کے بارے میں امام ابن حزم ظاہری جیسے صاحب علم نے کہ دیا کہ

فقہائے مالکیہ میں اگر فقط امام ابو الولید الباجی اور امام عبدالوہاب القاضی جیسے دو فرد ہی ہوتے تو بھی ان کے فخر کے لیے یہی دونام کافی تھے

 انہوں نے طلب علم کی ابتداء میں ہی جب ہجرت کی تو سیدھے حرمین شریفین پہنچے

حرمین شریفین پہنچ کر کامل تین سال وہاں قیام پذیر رہ کر علم حاصل کرتے رہے

پھر مصر، عراق، بصرہ وکوفہ اور شام وغیرہ ممالک میں کم و بیش تیرہ سال تک علم حاصل کرتے رہے اور پھر جب واپس وطن پہنچے تو اندلس کے نامور ترین فقیہ قرار پائے

اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کو دوسرا بیٹا ایسا مجاہد عطا کیا کہ وہ دشمنان اسلام کی سرزمین پر جاسوسی کرنے میں اپنی مثال آپ تھا

دشمن کے علاقوں کو کوئی راستہ ایسا نہیں تھا جس سے وہ واقف نہ ہو

حتی کہ رات کے وقت میں محض مٹی کی خوشبو سونگھ کر بتا دیا کرتے تھے کہ یہ دشمن کا علاقہ ہے

غور فرمائیے کہ اُس والد کی حسن نیت اور حسن خدمت کا یہ صلہ ملا ایک بیٹا باکمال عالم دین کی شکل میں ملا اور ایک بیٹا باکمال مجاہد کی شکل میں نصیب ہوا۔

اس میں سبق یہ ہے کہ خوش نصیب اور باسعادت مسلمان ایسے ہی ہوتے ہیں جو اولاد حاصل کرنے میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل کرنے اور عالم ومجاہد اولاد حاصل کرنے کی نیت رکھتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ بھی انہیں ان کی اچھی نیت کی بدولت یہ انعام عطاء فرما دیتے ہیں۔

نبی کریمﷺ کا یہ فرمان بالکل حق اور سچ ہے :

’’اعمال کا دارو مدار نیتوں پر اور ہر شخص کو نتیجہ ویسا ہی ملتا ہے جیسی اُس نے نیت رکھی ہوتی ہے‘‘

اور اسی وجہ سے نبی کریمﷺ نے یہ بھی بتایا ہے کہ:

’’مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہوتی ہے ‘‘

کیوں کہ اچھی نیت سے ہی ایک سادہ اور ظاہر نظر میں دنیاوی فعل نظر آنے والا کام نتیجے اور اَنجام کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی رضاء کا سبب اور ایک اعلیٰ مثال بن جاتا ہے۔

٭…٭…٭

مسلمان جن خطوں میں نہایت کسمپرسی اور مظلومیت کی زندگی برسوں سے جی رہے ہیں ان میں فلطین سب سے نمایاں ہے۔ قبلہ اول کے تحفظ اور اپنی جان ومال اور عزت و آبرو کی حفاظت و بقاء کے لیے وہاں کے مسلمان ایک طویل عرصے سے یہودیوں کا ظلم و ستم سہہ رہے ہیں مگر آفریں ہے ان پر کہ وہ سب مظالم سہہ کر پربھی استقامت کی چٹان بنے ہوئے ہیں۔ ذیل کی رپورٹ سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ کس قدر دردناک حالات کا شکار ہیںاور امت مسلمہ پر ان کے حوالے سے کس قدر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں! رپورٹ کے مطابق ’’غاصب اسرائیلی حکومت جہاں ایک طرف مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی برادری کی شدید مخالفت کے باوجود غیرقانونی یہودی بستیوں کی دھڑا دھڑ تعمیر جاری رکھے ہوئے ہیں تو دوسری جانب فلسطینی شہریوں کے مکانات مسمار کرنے کی ظالمانہ مہم بھی زوروں پر ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے سال(2016ء ) میں قابض صہیونی فورسز نے مقبوضہ غرب اردن اور مشرقی بیت المقدس میں فلسطینی شہریوں کے 1089 مکانات منہدم کیے جس کے نتیجے میں 1600 فلسطینی چھت سے محروم ہوئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق اوچا کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی ریاست فلسطینی شہریوں کے مکانات مسماری کی انتقامی پالیسی نہ صرف جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ حالیہ برسوں کے دوران اس میں غیرمعمولی تیزی آئی ہے۔ سال 2016ء کے دوران 1100 کے قریب مکانات مسمار کیے گئے جس کے نتیجے میں 1600 فلسطینی بے گھر ہوئے۔ بے گھر ہونے والوں میں بیشتر بچے اور عورتیں شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے بے گھر کیے گئے فلسطینیوں کی بحالی کے لیے عالمی برادری سے 547 ملین ڈالر کی مدد طلب کی ہے اور کہا ہے کہ اس رقم کا 70 فی صد غزہ کی پٹی میں جنگ سے متاثرہ شہریوں کی بحالی پر صرف کیا جائے گا جب کہ بقیہ رقم میں سے 52 فی صد اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسیاونرا کو دی جائے گی۔

اقوام متحدہ کے اعدود شمار کے مطابق48 لاکھ فلسطینیوں میں سے18 لاکھ افراد کو فوری قانونی اور مادی معاونت کی ضرورت ہے۔ سولہ لاکھ فلسطینی ناکافی اور غیر صحت مند خوراک استعمال کرتے ہیں۔ سنہ 2014ء میں غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے 50 ہزار فلسطینی اب بھی مکان سے محروم ہیں۔ غرب اردن میں 8000 فلسطینیوں کو گھروں سے محرومی کے خطرے کا سامنا ہے  ہزاروں افراد صحت، تعلیم اور پانی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔‘‘

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online