Bismillah

586

۲۴تا۳۰جمادی الثانی۱۴۳۸ھ       بمطابق  ۲۴تا۳۰مارچ۲۰۱۷ء

مبارک محنت (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 576 - Mudassir Jamal Taunsavi - Mubarak Mehnat

مبارک محنت

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 576)

روڈ سے گزرتے ہوئے سامنے ایک جگہ سائیڈ پر ایک گاڑی کھڑی دکھائی دی

ساتھ میں روڈ کے دائیں بائیں کچھ نوجوان ہاتھ لہرا لہرا کر گزرنے والوں کو روک رہے ہیں

قریب پہنچا تو اندازہ ہوا کہ گاڑی کسی موبائل کمپنی کی ہے

وہ نوجوان سواریوں کو روک کر اپنی کمپنی کی نئی سمیں ارزاں قیمت پر اور کئی فوائد ساتھ بتلا کر خریدنے پر آمادہ کرتے ہیں

اکثر لوگ تو اس منظر پر محض ایک نظر ڈال کر آگے گزر رہے ہیں مگر کوئی کوئی نوجوان یا بڑی عمر کا فرد بھی کچھ دیر کے لیے ان کے پاس رُک جاتے ہیں

یہ نوجوان صبح سے شام تک اسی طرح ایک ایک کے سامنے ہاتھ لہرا کراسے اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں

پھر ہمیشہ ایک ہی جگہ پر نہیں رہتے

کبھی کسی روڈ کے کنارے تو کبھی کسی چوک کے پاس

مگر ہر جگہ پوری طرح چاک وچوبند نظر آئیں گے ، کوئی ان کی طرف توجہ کرے یا انہیں نظر انداز کرے وہ اسے بالکل بھی محسوس نہیں کرتے ، بلکہ اپنی ہی دھن میں اپنے کام میں لگے رہتے ہیں،کیونکہ یہ ان کا کام ہے، یہی ان کی جاب ہے، اسی کام پر انہیں پے، تنخواہ ملے گی ۔ بس اسی پے، تنخواہ کی امید پر وہ یہ سب صورت حال بخوشی گوارا کر لیتے ہیں

میں نے بھی جب یہ منظر دیکھا تو میرے ذہن میں ایک اور منظر تازہ ہوگیا

اس دوسرے منظرمیں مجھے وہ باہمت نوجوان اور معمر بزرگ نظر آئے جو ہر قسم کے فتنوں ، سازشوں، طعن و تشنیع اور الزامات و دھمکیوں سے بے پرواہ ہو کر دعوت دین لے کر گھروں سے نکلتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فرائض کی طرف مسلمانوں کو بلاتے ہیں، کلمہ طیبہ کا سبق دل میں اتارنے کا درس دیتے ہیں، نماز کی اہمیت درد دل سے سمجھاتے ہیں اور دین کی سربلند چوٹی جہاد فی سبیل اللہ کے لیے اپنے خون جگر کو جلا کر ، امت مسلمہ کی مظلومیت کی دہائیاں دے دے کر اس فرض کو زندہ کرنے کی صدا لگاتے ہیں۔

بے شک یہ اپنے ان بھائیوں کے حقیقی مددگار اور خیر خواہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے دین کے دشمنوں اور مسلمانوں پر جارحیت کرنے والوں کے کافروں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے ڈٹے ہوئے ہیں۔

دعوت دین و دعوت جہاد دیتے یہ دیوانے بظاہر بہت معمولی انسان اور معمولی لباس زیب تن کیے نظر آتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی محنت بڑی مقبول محنت ہے، ان کی محنت کے اثرات سے دین کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں، قتال فی سبیل اللہ کافریضہ چمکتا دمکتا رہتا ہے۔ نہ انہیں کوئی اور حقیر سمجھے اور نہ یہ خود اپنی محنت کو حقیر سمجھیں، ہاں اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھیں کہ اس نے اس محنت اور خدمت کے لیے قبول کیا ہے ۔ بقول شاعر:

منت منہ کہ خدمت سلطاں مے کنی

منت شناس او کہ بخدمت بداشتند

یہ احسان مت جتلاؤ کہ تم بادشاہ کے خادم اور مقرب ہو، بلکہ اپنے اوپر بادشاہ کا یہ احسان مانو کہ اس نے تمہیں اپنی خدمت کے لیے چن لیا ہے۔

اس محنت کے حقیقی ثمرات آخرت میں ملنے ہیں اور وہ سب یقینی ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سچے رسولﷺ اور اس کے سچے جانشین اہل علم نے بیان فرمائے ہیں اگر ایک نظر ان پر ڈال لی جائے تو مشکلات آسان اور رکاوٹیں دور ہوتی نظر آئیں گی ۔ اسی جذبے سے یہ چند فضائل پیش خدمت ہیں تاکہ اس مقبول محنت میں شریک افراد اس نعمت کی ناقدری کرنے کے بجائے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اداء کرنے والے بن جائیں اور یہ شکر ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہونے کے بجائے مزید ترقی کرتا جائے۔

حضرت سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے اﷲ(تعالیٰ) کے راستے میں نکلنے والے کسی مجاہد کی اعانت کی، یا کسی تنگدست مجاہد کی مدد کی، یا کسی مکاتب [غلام ] کو آزاد کرانے میں تعاون کیا تو اﷲ(تعالیٰ) اسے قیامت کے دن، جس دن اور کوئی سایہ نہیں ہوگا،اپنا سایہ عطاء فرمائے گا ۔

حضرت عبداﷲ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اﷲ (تعالیٰ) کے راستے میں ایک کوڑا دینا مجھے اس حج سے زیادہ محبوب ہے جس کے بعد دوسرا حج ہو۔ ( کتاب الجہاد لابن مبارکؒ )

 حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا :جو شخص کسی مجاہد کو سایہ فراہم کرے گا ، اﷲ(تعالیٰ) قیامت کے دن اسے سایہ عطاء فرمائے گا اور جو شخص اﷲ (تعالیٰ)کے راستے کے مجاہد کو سامان فراہم کرے گا، اسے بھی مرتے دم تک یا مجاہد کے لوٹنے تک مجاہد جیسا اجر ملتا رہے گا اور جو شخص مسجد بنائے گا جس میں اﷲ(تعالیٰ) کا ذکر کیا جائے تواﷲ (تعالیٰ)اس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ،ابن ماجہ، ابن حبان )

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :سب سے افضل صدقہ اﷲ(تعالیٰ) کے راستے میں کسی خیمے کا سایہ دینا یا اﷲ (تعالیٰ) کے راستے میں (کسی مجاہد کو )خادم دینا یا اﷲ (تعالیٰ) کے راستے میں جوان اونٹنی دینا ہے ۔ (ترمذی شریف )

حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے کسی مجاہد کو خیمہ دیا ،یا کوئی خادم دے دیا، یا کوئی جوان اونٹنی دے دی تو یہ صدقات میں سے سب سے افضل ہے ۔

حضور اکرمﷺسفر کے دوران اپنے صحابہؓ کی چھوٹی چھوٹی جماعتیں بنادیا کرتے تھے، ایک بار [اسی طرح جماعتیں بنائیں، تو ] ایک جماعت کے رفقاء نے اپنے ایک ساتھی کی بہت تعریف کی اور کہنے لگے: اے اﷲ کے رسول! ہم نے اس جیسا کوئی نہیں دیکھا ،ہم کہیں پڑائو ڈالتے ہیں تو وہ نماز میں لگ جا تا ہے، جب ہم چلتے ہیں تو وہ قرآن پڑھتا رہتا ہے اور مسلسل روزے رکھتا ہے ۔حضور اکرم ﷺ نے دوبارہ پوچھا: کہ اس کے فلاں فلاں کام کون کرتا ہے (یعنی کہ اس کی خدمت کون کرتا ہے )؟رفقاء نے جواب دیا: ہم (اس کا کام سر انجام دیتے ہیں) آپ ﷺنے ارشاد فرمایا : توپھر تم سارے اس سے بہتر ہو(کیونکہ خدمت کا اجر بہت زیادہ ہے)(کتاب الجہاد لابن مبارکؒ مرسلاًصحیح الاسناد )

 حضرت ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجاہدین میں سے سب سے افضل وہ ہیں جو ان کی خدمت کرتے ہیں ، پھر وہ ہیں جو ان کے پاس خبریں لے کر آتے ہیں اور ان میں سے اﷲ (تعالیٰ)کے ہاں زیادہ خصوصی مقام والے روزہ دار ہیں اور جس نے جہاد میں اپنے ساتھیوں کو ایک مشکیزہ پانی لاکر پلایا،وہ ان سے جنت میں ستر درجے یا ستر سال کی سبقت لے جائے گا ۔ (ابن عساکر غریب )

حضرت عبداﷲ بن عباس سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے [ایک بار]لشکر تیار فرمایا ، پھر آپ بقیع غرقد [نامی جگہ]تک ان کے ساتھ [رخصت کرنے کے لئے ]چلتے رہے، پھر آپﷺ نے انہیں فرمایا :اﷲ(تعالیٰ) کے نام کے ساتھ چلو، اے میرے پرودگار! ان کی مدد فرما ۔ (المستدرک صحیح الاسناد )

حضرت عبداﷲ بن یزیدالخطمی فرماتے ہیں کہ حضورا کرم ﷺ جب کسی لشکر کو رخصت فرماتے تو عقبۃالوداع تک ان کے ساتھ چلتے اور (وہاں پہنچ کر )فرماتے کہ میں تمہارے دین ، تمہاری قابل حفاظت چیزوں اور تمہارے اعمال کے انجام کو  اﷲ(تعالیٰ) کے سپرد کرتا ہوں۔(المستدرک)

حضرت ابو بکر صدیق کے بارے میںروایت ہے کہ وہ ایک لشکر کو رخصت کرنے کے لئے ان کے ساتھ پیدل چلے، پھر فرمایا: اﷲ تعالیٰ کاشکر ہے جس کے راستے میں ہمارے پائوں غبار آلود ہوئے ۔ ایک شخص نے کہا:ہم نے تو صرف مجاہدین کو رخصت کیا ہے (یعنی ہم تو خود اﷲتعالیٰ کے راستے میں نہیں نکلے ) اس پر حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے ان (مجاہدین )کا سامان تیار کیا ، ہم انہیں رخصت کرنے کیلئے ان کے ساتھ چلے اور ہم نے ان کے لئے دعائیں کیں ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، بیہقی)

حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ ایک بار ابوالحارث الصائغ کو جہاد میں رخصت کرنے کے لئے گئے، اس وقت انہوں نے اپنے جوتے اپنے ہاتھوں میں اٹھارکھے تھے کیونکہ وہ حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق اﷲ تعالیٰ کے راستے میں اپنے پائوں غبار آلود کرنا چاہتے تھے ۔ (المغنی )

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online