Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

برکت مانگو! (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 442 - Mudassir Jamal Taunsavi - barkat mango

برکت مانگو!

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 442)

کچھ عرصہ قبل حضرت امیرمحترم حفظہ اللہ تعالیٰ نے فقیر مولانا عطاء اللہ شہید کے تذکرے میں یہ بھی تحریر فرمایا تھا کہ وہ یومیہ ایک ختمِ قرآن فرمالیا کرتے تھے، اورابھی ایک دودن قبل ایک نوجوان عالم دین کے بارے میں پڑھا کہ وہ قابل رشک دینی تصنیفی خدمات کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک میں ہر دن ایک قرآن کریم ختم فرماتے ہیں تو مجھ جیسے نااہل کو یہ چیز ناممکن تو محسوس نہ ہوئی کیوں کہ اپنے اکابر کے حالات میں اس قسم کے درجنوں حیرت انگیز واقعات پڑھ چکا تھا مگر اس پر ضرور حیرت ہوئی کہ ماشاء اللہ اس دور میں اور وہ بھی نوجوان اہل علم میں ایسا باتوفیق انسان موجود ہیں جن کے اوقات اور زندگی میں اللہ تعالیٰ نے اتنی برکت دے رکھی ہے!

 خود مولانا عطاء اللہ فقیر شہید بھی ایک نوجوان عالم دین تھے، مگر قرآن کریم سے ایسا تعلق اور شغف تھا کہ اسلاف امت کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ اگر امام شافعی جیسے مجتہد امت رمضان المبارک میں یومیہ دوختم قرآن فرمالیتے تھے تو آج کے دور کے نوجوان فضلاء میں یہ کمال کہ وہ یومیہ ایک ختم قرآن باآسانی فرمالیتے ہیں یقینا قابل رشک مقام ہے۔

دراصل یہ چیز’’برکت‘‘ سے پیدا ہوتی ہے اور کیا آپ جانتے ہیں کہ ’’برکت‘‘ کہتے کسے ہیں؟ برکت کا معنی ہے: خیر کی کثرت، خیر کا برقرار رہنا،خیر میں مسلسل بڑھوتری

اور یہ بھی جانئے کہ برکت کا سرچشمہ صرف ایک ذات ہے، جس کو برکت ملے گی اُسی سے ملے گی اورجس سے برکت چھنے گی تو وہی ذات اس سے چھینے گی ، اور اس ذات کا نام ہے: اللہ تبارک وتعالیٰ …اللہ تعالی کی ذات بابرکت ہے۔ قرآن کریم میں کئی مقامات پر اللہ تعالی نے اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے۔

سورہ الفرقان کاآغاز دیکھ لیں:

تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعالمین نذیرا

سورہ الملک کی ابتداء دیکھ لیں:

تبارک الذی بیدہ الملک و ھو علی کل شیء قدیر

اسی طرح دیگر بھی متعدد مقامات پر قرآن کریم نے اس طرف ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔

پھر یہی وجہ ہے کہ نبی کریمﷺ نے بھی ہمیں عملی طور پر یہ تعلیم دی ہے کہ ہم اللہ تعالی سے برکت مانگاکریں، برکت کی دعائیں کیا کریں۔ خود رسول اللہﷺ بھی اللہ تعالی ہی سے برکت کا سوال کیا کرتے تھے۔ مثلاً یہ حدیث مبارک ملاحظہ کیجئے جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمائی ہے کہ:

جب نبی کریمﷺ کے پاس (نیا) پھل لایا جاتا تو آپ یہ دعاء فرماتے:

اللہم بارک لنا فی مدینتنا و فی ثمارنا وفی مُدّنا و فی صاعنا برکۃ مع برکۃ (مسلم:1337)

اے اللہ! ہمارے مدینہ میں، ہمارے پھلوں میں، ہمارے مداور ہمارے صاع میں( یہ دونوں مختلف پیمانوں کے نام ہیں) برکت دربرکت عطاء فرمادیجئے!

الغرض برکت کا سرچشمہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات ہے اور وہ اپنے فضل وکرم اوربندے کی طلب پر جس کو جتنا چاہے اس برکت سے نواز دے اورجسے چاہے محروم کردے۔

دیکھئے! نبی کریمﷺ نے صرف تئیس سال کی قلیل مدت میں سالہا سال سے شرک وبت پرستی میں مبتلا قوم کو ہدایت اورعلم کے ایسے راستے پر کھڑا کردیا کہ انہیں پوری کائنات میں انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد افضل ترین انسان اورافضل ترین طبقات میں شامل فرمادیا، آخر یہ سب کچھ برکت نہ تھی تو اورکیا تھی؟ اورکیوں نہ ہو جب کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو اپنی اعلیٰ ترین نعمتوں سے وافر حصہ عطاء فرمایاتھا تو اسی طرح ’’برکت‘‘ سے بھی وافر ترین حصہ عطاء فرمایاتھا بلکہ یوں کہیے کہ مخلوق میں سب سے زیادہ ’’برکت‘‘آقامدنیﷺ کو ہی عطاء فرمائی ہے ، حتی کہ میرا اورآپ کا ایمان اور قیامت تک آنے والے ہر انسان کو ایمان اورنیک عمل اسی برکت کا اثر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آقامدنیﷺ کو عطاء فرمائی اور پھر آقا مدنیﷺ کی اتباع اورپیروی میں جو جس قدر کامل ہوتا چلاگیا اسے اس برکت میں سے اسی قدر وافر حصہ عطاء کیاجاتا رہا اور آئندہ بھی دیا جاتا رہے گا۔

دیکھئے! اللہ تعالی بھی بابرکت، اللہ تعالی کی نازل کردہ کتاب قرآن کریم بھی بابرکت اور اللہ تعالیٰ کے آخری رسول جناب محمدمصطفیﷺ بھی بابرکت… اب جو بھی ان کے ساتھ جڑ جائے گا اورجس قدر مضبوطی اور قربت کے ساتھ جڑے گا وہ اسی قدر اس برکت سے حصہ پائے گا۔

برکت کے حوالے سے یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے اس دنیا میں دو قسم کی برکات رکھی ہیں:

(۱) ظاہری ومادی برکات

یہ وہ برکات ہیں جو انسان کو کھانے، پینے، رہائش، آشائش وغیرہ کے طور پر آسمانی نعمتوں یا زمینی نعمتوں کی صورت میں ملتی ہیں۔ ان برکات کا تذکرہ بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔اللہ تعالی کفار کو اپنی نعمتوں کا احسان یاد دلاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

’’کہہ دو! کیا تم اس ذات کا انکار کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی اور تم اس ذات کے لیے شریک ٹھہراتے ہو؟(حالانکہ) وہی سب جہانوں کا پروردگار ہے ، اور اسی نے زمین میں اوپر سے پہاڑ رکھے اور اس میں برکت دی… ‘‘ (سورۂ فصلت:۹۔۱۰)

اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے خود انسان کو بنانے سے پہلے اس کے لیے اس زمین میں برکت رکھ دی تھی، تاکہ وہ ان برکات کا شکراداء کرے اور اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچان کر زندگی گزارے۔

(۲) باطنی وروحانی برکات

یہ وہ برکات ہیں جو قرآن کریم اورنبی کریم ﷺ کی تعلیمات واحکامات پر عمل پیرا ہونے کی صورت میں ملتی ہیں۔ اس برکت کا تذکرہ بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتے ہیں:

’’یہ برکت والی کتاب ہم نے اُتاری ہے، پس تم اس کا اتباع کرو اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے‘‘ (سورہ اَنعام: ۱۵۵)

اس کے علاوہ بھی متعدد قرآنی آیات میں اس مضمون کا تذکرہ موجود ہے۔

الغرض: برکت ایک ایسی نعمت ہے جہاں میسر آجائے وہاں اوقات میں وسعت ہوجاتی ہے، انسانی قوت وطاقت میں روحانی طور پر خاص اضافہ ہوجاتا ہے، بہت سے بڑے بڑے مقاصد انتہائی مختصر وقت میں پایہ تکمیل کو پہنچ جاتے ہیں، اسی برکت کی وجہ سے معجزہ نما حیرت انگیز کارنامے سرانجام پاتے ہیں، اوراس کے برعکس جہاں سے یہ برکت اٹھ جائے تو وہاں زندگی بے قیمت ہو کر رہ جاتی ہے اور انسان خوشحال زندگی ، بے پناہ مال واسباب اور طویل عمر کے باوجود خالی ہاتھ اس دنیا سے اٹھ جاتا ہے اورآخرت کے لیے اس کا دامن بالکل خالی اور اس کا نامۂ اعمال بالکل بے وزن ہوتا ہے۔ معاذ اللہ

آج ہم اس برکت کے بہت محتاج ہیں، ہماری دینی زندگی بھی بے برکتی کاشکار ہے، یومیہ ایک پارے کی تلاوت مشکل، یومیہ تین تسبیحات مشکل، یومیہ نوافل تو دور کی بات فرائض کی ادائیگی بھی مشکل، ہر وقت بس دنیا اورفضول قسم کی فکر نے گھیر رکھا ہے اورپھر خود دنیا بھی بے برکتی کا بری طرح شکار ہے، ہر طرف دنیاوی پریشانی کا رونا رویا جارہا ہے۔ ایسے میں ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم اللہ تعالی کی طرف صدقِ دل سے متوجہ ہوں اوران اسباب کی طرف متوجہ ہوں جو برکت کا سبب بنتے ہیں تاکہ ہماری زندگی برکت کے نور سے منور ہوجائے۔

اس حوالے سے خود قرآن وسنت میں رہنمائی موجود ہے کہ کن چیزوں کی وجہ سے برکت نازل ہوتی ہے اورکن گناہوں کی وجہ سے برکت روٹھ جاتی ہے۔ برکت کو لانے والے چند اسباب کا کچھ تذکرہ کیا جاتا ہے، اللہ تعالی ہمیں ان سے مستفید فرمائے اوربرکات عطاء فرمائے۔ آمین

(۱)ایمان اور تقویٰ

برکت کے نزول کا سبب سے بنیادی اوراہم سبب ایمان اور تقویٰ ہے۔ گزشتہ بعض کافر قوموں کے تذکرے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہوجاتے، تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات (کے دروازے) کھول دیتے مگر انہوں نے تو تکذیب کی۔ پس ان کے اعمال کی سزا میں ہم نے ان کو پکڑ لیا‘‘ (سورہ اَعراف: ۹۶)

ایک اورمقام پر خاص طور سے صرف تقویٰ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے ،تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے نجات کی صورت نکال دیتا ہے، اور اسے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو اور جو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے تووہ اللہ اس کو کافی ہے ‘‘

(سورہ طلاق: ۲۔۳)

دنیاوی طور پر اس سے بڑھ کر برکت اورکیا ہوسکتی ہے کہ انسان کا رزق اسے ایسی جگہ سے ملے جہاں اس کا گمان بھی نہ ہو؟ اور پھر خود اللہ تعالی اس کے لیے کافی ہوجائیں تو اس سے بڑھ کر اور کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ یہاں یہ غلط فہمی بھی دور کرلینی چاہئے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی تنگی نہیں آئے گی، کوئی پریشانی نہ ہوگی، کبھی فقرو فاقہ نہ آئے گا؟ نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ تنگی آئے گی مگر اللہ تعالی اپنے غیبی نظام کے ذریعے اس تنگی کو دور کردیں گے، پریشانی آئے گی مگر اللہ تعالی اپنے فضل سے اس پریشانی سے نکلنے کا راستہ نکال دیں گے، فقروفاقہ آئے گا اور انسان اگر تقوی پر قائم رہ کر حرام کی طرف نہ بھاگا تو اللہ تعالی غیب سے اس کے لیے حلال کا انتظام فرمادیں گے۔ یہ ہے برکت اور یہ ہے غیبی رزق اور یوں ہوگی ہر تنگی کے بعد راحت اور ہر پریشانی سے نکلنے کا راستہ… جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ’’کافی‘‘ ہونے کا اعلان ہوجائے تو پھر کسی اور کی کیاحاجت رہ جاتی ہے؟

اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان اور تقویٰ کی حقیقت اورنور عطاء فرمائیں اور دنیا وآخرت میں ان کی برکات سے ہمیں بہرہ مند فرمائیں۔ آمین

(بقیہ آئندہ۔ ان شاء اللہ)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor