Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

برکت کے اَسباب (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 443 - Mudassir Jamal Taunsavi - barkat-kay asbab

برکت کے اَسباب

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 443)

برکت کی حقیقت اور انسانی زندگی میں اس کے عمدہ ثمرات پر پہلے مختصر گفتگو ہوچکی ہے۔ اب یہ جاننا ضروری ہے کہ برکت حاصل کرنے کے بنیادی اسباب کون سے ہیں؟ کیوں کہ ہر انسان اپنی دینی اور دنیوی زندگی میں برکت حاصل کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے، اسی برکت سے زندگی قیمتی بنتی ہے اوربرکت کے چھن جانے سے زندگی اجیرن ہوجاتی ہے، مال ودولت کے انبار کے باوجود اطمینانِ قلب ناپید ہوتا ہے، دوست احباب کی کثرت کے باوجود اُنسیت اور ذہنی سکون مفقود ہوتا ہے، اگر برکت حاصل ہوتو کم وقت میں دین اوردنیا کے بہت سے کام اَحسن انداز سے پایہ تکمیل کو پہنچ جاتے ہیں اوراگر برکت سے محرومی ہوتو دین ودنیا کا کوئی بھی کام نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتا۔ اس لیے ایک مسلمان کی زندگی میں دنیاوی ضروریات سے قطع نظر ’’دینی‘‘ اعتبار سے بھی اُسے اس برکت کی شدید ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس کے دینی اعمال نتیجہ خیز ثابت ہوں اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں شرف قبول پائیں ۔

 برکت حاصل کرنے کے اسباب میں سے ایک سبب تو ہے ’’تقویٰ‘‘، جس کا تذکرہ پہلے ہوچکا۔ اب ہم دیگر اسباب کی نشاندہی کرتے ہیں:

استغفار:

انسان کی زندگی میں گناہ ایک ایسا وبال ہے جو اُسے بہت سی برکات سے محروم کردیتا ہے، یہ گناہ انسان کی صرف روحانی زندگی کو ہی برباد اوربے برکت نہیں بناتے، بلکہ دنیاوی ضروریات اوردنیاوی اسباب و وسائل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو برکت رکھی جاتی ہے تو یہ اس کے بھی چھن جانے کا سبب بنتے ہیں، چنانچہ گناہ کے ساتھ اگر بہت زیادہ کوششیں کی جائیں تب بھی وہ بے ثمر رہتی ہیں، اگر مال جمع ہوجائے تو وہ نفع مند نہیں رہتا ۔ اس کے برعکس اگر گناہ کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرکے ان کی مغفرت اورمعافی چاہے، تو یہ استغفار برکت کی راہ میں حائل تمام پردوں کو پھاڑ دیتا ہے اور تمام رکاوٹوں کو دور کردیتا ہے، اورجونہی استغفار کی بدولت رکاوٹیں دورہوتی اورپردے ہٹتے ہیں تو ہرطرف سے برکات نازل ہونا اوراپنا اثر دکھانا شروع کردیتی ہیں اورانسانی زندگی راحت محسوس کرنے لگتی ہے۔ قرآن کریم نے اس حقیقت کا نقشہ یوں دکھایا ہے:

ترجمہ:’’ (اے لوگو!) تم اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگو، بلاشبہ وہ مغفرت فرمانے والا ہے۔ (استغفار کی برکت سے) اللہ تعالیٰ تم پر موسلادھار بارش برسائے گا، اورمال واولاد سے تمہاری مدد کرے گا اورتمہارے لئے باغ بنادے گا اورتمہارے لئے نہریں بنادے گا‘‘ (سورۂ نوح)

اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ استغفار کی وجہ سے زندگی میں برکت ہی برکت پیدا ہوجاتی ہے اورخاص کر درج ذیل برکتیں تو ضرور حاصل ہوتی ہیں:

(۱) بارش: جس سے زمین ہریالی ہوجاتی ہے، تمام قسم کے اناج اورپھل وپھول پیدا ہونے لگتے ہیں، انسانوں اورجانوروں کی زندگی کی اہم ترین ضروریات اس سے پوری ہوتی ہیں

(۲) مال اوراولاد: معاشرے میں اچھی زندگی گزارنے اور پُرسکون رہنے کے لیے مال کی بھی ضرورت پڑتی ہے اور کاموں میں ہاتھ بٹانے کے لیے ، مرنے کے بعد نام زندہ رہنے کے لیے اولاد کی ضرورت پڑتی ہے ، اور عام طور سے انسان ان دو چیزوں میں برکت کا خواہش مند تو ضرور ہوتا ہی ہے۔ اب اس موقع پر بتادیا گیا کہ استغفار کی برکت سے مال واولاد میں بھی برکت ڈال دی جاتی ہے۔

(۳) باغات: سیروسیاحت کے لیے، انسان میں موجود’’ لذتی حس ‘‘کو اس کی لذت کا سامان فراہم کرنے کے لیے اور ایک خوش عیش زندگی میں’’ باغات ‘‘ کا بڑا کردار ہوتا ہے، تو اس کے بارے میں بھی بتلادیا گیا کہ یہ بھی تمہیں استغفار کی برکت سے حاصل ہوجائیں گے

(۴) نہریں: کھیتوں اورباغات کی سیرابی، علاقوں کی خوبصورتی، موسم کی خوشگواری اورزمین کے چپے چپے پر پھیلی آبادیوں کی بہت سی اہم ترین ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نہروں کا وجود اشدضروری ہے اور کوئی بھی قوم اس سے ناواقف یا جاہل نہیں ہے ، اورہم مسلمانوں کو بتادیا گیا کہ استغفار کرنے سے یہ نعمت بھی تمہیں میسر آئے گی۔

 برکت کیلئے دعاء:

دعاء کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والا ایک اہم تحفہ، اللہ تعالیٰ کو منانے کا راستہ، اور اللہ تعالیٰ کے خزانوں سے براہ راست مانگنے اورمستفید ہونے کا طریقہ ہے۔ جہاں ہمیں یہ حکم ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے ہی اپنی تمام ضروریات مانگیں تو یہ بھی لازم ہوا کہ ’’برکت‘‘ بھی اللہ تعالیٰ سے مانگی جائے، اورباربار مانگی جائے، رو رو کر مانگی جائے، اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا جائے کہ: اے اللہ! ہماری زندگی میں، جان میں،علم میں،مال میں، اولاد میں، نیک اعمال میں، رزق میں، اورموت میں اورموت کے بعد آنے والی زندگی میں برکت عطاء فرما۔ مسنون دعاؤں میں غور کیا جائے تو مختلف چیزوں میں برکت کی دعائیں ملتی ہیں: کہیں نبی کریمﷺ اپنی امت کے لئے صبح کے اوقات میں برکت کی دعاء فرمارہے ہیں، کہیں اپنے شہروں کے مال میں برکت کی دعاء فرمارہے ہیں، کہیں نکاح کے بعد میاں بیوی کے لیے برکت کی دعاء سکھلائی جارہی ہے، کہیں بعض مخصوص ایام مثلا رجب وشعبان میں برکت کے لیے دعاء کی تلقین کی جارہی ہے اور کہیں موت اورموت کے بعد آنے والی زندگی میں برکت مانگنے کی دعاء بتلائی جارہی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی میں جہاں اوردعائیں مانگتے ہیں وہیں ’’برکت‘‘ کی بھی مستقل دعاء مانگا کریں، دعاء سے اس کے راستے کھلتے ہیں۔

میانہ روی:

انسان کو اللہ تعالیٰ رزق عطاء فرماتے ہیں، صحت عطاء فرماتے ہیں اوراولاد جیسی نعمت عطاء فرماتے ہیں تو ضروری ہے کہ انسان ان نعمتوں کو میانہ روی کے ساتھ استعمال میں لائے، اگر مال میانہ روی سے حاصل کیا جائے اورمیانہ روی سے خرچ کیا جائے تو کتنی مصیبتوں سے جان چھوٹ جائے؟ کتنے لوگ ہیں جو مال کی حرص میں اندھا دھند حرام وحلال کی تمیز کئے بغیردن رات بھاگتے پھرتے ہیں اوراپنا سکون غارت کردیتے ہیں مگرسوائے بے چینی،بے سکونی، پریشانی اور گناہ کے انہیں اور کیا حاصل ہوتا ہے؟ اسی طرح کتنے لوگ ایسے ہیں جو مال کمانے کے بعد جب کچھ اچھی مقدار میں مال جمع کرلیتے ہیں تو اسے میانہ روی اور اعتدال کے ساتھ خرچ کرنے کے بجائے بے دھڑک فضول کاموں اوراپنی نام ونمود کے کارناموں میں اُڑانا شروع کردیتے ہیں اوریوں سالوں کی کمائی مہینوں میں اورمہینوں کی کمائی دنوں میں عیاشی اورنام ونمود کی خاطر اُڑا کر پھر نئے سرے سے مال کمانے کے لیے ایک محنت طلب پُرمشقت ملازمتوں اورمزدوریوں میں خود کو کھپادیتے ہیں۔ حالانکہ اگر میانہ روی سے مال کمایا جائے تو دن رات مال کا بھوت سرپر سوارنہ ہوگا اورجب میانہ روی سے مال خرچ کیا جائے تو دنوں کا کمایا ہوامال مہینوں اورمہینوں کا حاصل کیا ہوا مال سالوں کا کام چلاسکتا ہے۔

ایک موقع پر نبی کریمﷺ نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا:

اے حکیم! یہ مال بڑامیٹھا اور سرسبز وشاداب ہے، اب جو شخص اس مال کونفس کی سخاوت کے ساتھ لیتا ہے تو اس کے لیے اس میں برکت رکھ دی جاتی ہے اورجو اس مال کو نفس کی لالچ سے لیتا ہے تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں دی جاتی اوراس کا حال اُس شخص جیسا ہوتا ہے جو کھانے کے باوجود شکم سیر نہیں ہوتا۔ 

اسی طرح قرآن کریم کا یہ فرمان دیکھئے:

ترجمہ:’’ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتاہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے‘‘ (بقرہ:276)

الغرض: حلال اور جائز طریقے سے مال کمانا اور پھر جائز اورثواب والے کاموں میں خرچ کرنے سے اللہ تعالی مال میں برکت عطاء فرماتے ہیں!

صلہ رحمی، احسان

والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا، رشتہ داروں کے ساتھ کے صلہ رحمی کا برتاؤ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی دیگر مخلوق کے ساتھ احسان کرنا، یہ ایسے اعمال ہیں جن سے انسانی زندگی اورمال میں برکت پیدا ہوتی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

’’جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اس کے رزق میں کشادگی ہو اور اس کے مرنے کے بعد اس کا نام زندہ رہے تو اسے چاہئے کہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے‘‘ (بخاری ومسلم)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’صلہ رحمی، حسن اخلاق اور پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے سے دنیا آباد ہوتی ہے اور عمر میں اضافہ ہوتا ہے‘‘ (مسنداحمد)

دنیا آباد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر اللہ تعالی کی برکتیں نازل ہوتی ہے اور انسانی زندگی کی ضروریات باآسانی مہیا ہوتی ہیں جس سے شہر آباد رہتے ہیں، اور اگر اللہ تعالی کی برکتیں زمین پر نازل نہ ہوں تو کہیں پانی کا قحط اورکہیں بھوک کا قحط اورکہیں کوئی اور جان لیوا مرض پھیل کر شہروں کو ویران کردیتا ہے

عمر میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ اس متعینہ عمر میں ایسے نیک اعمال کی توفیق میسر آجاتی ہے کہ اگر عام حالات میں انسان اسکا جائزہ لے تو وہ ناممکن یا پھر انتہائی مشکل معلوم ہوں۔ مثلا ہمارے اکابر واسلاف میں بعض کی تالیفات اورتصنیفات اتنی ہیں کہ اب انہیں صرف پڑھنے کے لیے بھی پوری عمر ناکافی ہوگی مگر انہوں نے اپنے قلیل زندگی میں دیگر قابل رشک نیک اعمال کے ساتھ صرف علمی ذخیرہ اتنی کثیر مقدار میں چھوڑا ہے کہ اسے دیکھ کر ہی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

جہاد فی سبیل اللہ

جہاد فی سبیل اللہ جہاں ایک عظیم فرض ہے وہیں اس میں بہت سی برکتیں بھی پوشیدہ ہیں۔ جہاد سے ایمان پھیلتا ہے، خیر کی نشر واشاعت ہوتی ہے اور برائیوں کا خاتمہ ہوتا ہے تو گویاجہاد کے ذریعے زمین پر برکت والے اسباب قدم جماتے ہیں اورجب برکت والی چیزیں قدم جماتی ہیں توپھر یقینا برکتیں نازل ہوتی ہیں اور اس برکت سے مجاہدین بھی، ان کے معاونین بھی، عام مسلمان بھی، حتی کہ کافر بھی ان برکتوں سے نفع اٹھاتے ہیں۔

نبی کریمﷺ نے تو یہاں تک بتلادیا ہے کہ جہاد کے گھوڑے میں بھی قیامت تک کے لئے خیر رکھ دی گئی ہے اور یہ خیر کبھی اجر اورغنیمت دونوں شکلوں میں حاصل ہوتی ہے اورکبھی صرف اجر کی شکل میں! جب جہاد کے گھوڑے میں یہ خیر ہے تو خود مجاہدین کو کتنی خیر ملے گی؟ اورجہاد کی وجہ سے زمین جب شرک وکفر سے پاک ہوتی ہے توکس قدر برکتوں کا نزول ہوتا ہے؟ اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ ہاں! تاریخ میں دیکھ لیا جائے کہ جہاد کی بدولت فتح ہونے والے علاقوں اوروہاں سے کفر وشرک کے ختم ہونے کے بعد مسلمانوں کو کس قدر دینی اوردنیوی فوائد حاصل ہوئے تو پھر اس حقیقت کا اقرارکرنا کچھ مشکل نہیں رہتا کہ واقعی جہاد فی سبیل اللہ برکت کاایک بہت بڑا سبب ہے!

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ’’ برکت‘‘ ایک عظیم الشان نعمت ہے جو اللہ تعالی اپنے مخصوص بندوں کوعطاء فرماتے ہیں اوریہ برکت ان کے لئے دنیاوآخرت میں خیرکے بڑے بڑے دروازے کھول دیتی ہے تو سمجھدار انسان وہ ہوگا جو اس نعمت کی قدر کو پہچانے اور اللہ تعالی سے مانگے اوراس کو حاصل کرنے کی فکر کرے تاکہ دنیااورآخرت کی بھلائیاں حاصل ہوں اوریہی اصل کامیابی ہے!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor