Bismillah

606

۲۵ذیقعدہ تا۱ذی الحجہ۱۴۳۸ھ  بمطابق    ۱۸تا۲۴ اگست ۲۰۱۷ء

تصویر کشی کا اَلمیہ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 589 - Mudassir Jamal Taunsavi - Tasveer Kashi ka Almia

تصویر کشی کا اَلمیہ

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 589)

جب کوئی گناہ عام ہو جائے تو اس کی نفرت دلوں سے نکل جاتی ہے اور جب کسی گناہ کی نفرت دل سے نکل جائے تو کسی کو اس گناہ میں مبتلا کرنے کے لئے شیطان کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی اور جب اس گناہ کی نفرت بھی دل میں نہیں ہوتی تو توبہ کی توفیق مشکل ہو جاتی ہے۔ تصویر کشی کا بھی یہی معاملہ ہے کہ جاندار کی تصویر بنانا چاہے کسی بھی آلہ (چھنی ہتوڑی، قلم، کیمرہ) سے ہو حرام ہے لیکن آج کل دیندار لوگ بھی کئی حیلہ سازیوں سے قابل نکیر حد تک اس گناہ میں مبتلا ہو رہے ہیں جو نہایت ہی افسوس ناک ہے اور علمی منصب وشان کے خلاف ہے۔ آئیے احادیث کی روشنی میں تصویر کشی کا جائزہ لیتے ہیں۔

’’ إن الذین یصنعون ھذہ الصور یعذبون یوم القیامۃ یقال لھم: أحیوا ما خلقتم ‘‘(متفق علیہ)

ترجمہ: بیشک جو لوگ یہ تصویریں بناتے ہیں انہیں قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، ان سے کہا جائے گا جو تصویر تم نے بنائی ہے اس میں روح ڈالو۔

’’ کل مصور فی النار یجعل لہ بکل صورۃ صورھا نفس فیعذبہ فی جھنم . قال ابن عباس: فان کنت لا بد فاعلاً فاصنع الشجر وما لا روح فیہ‘‘ (متفق علیہ)

ترجمہ: ہر تصویر بنانے والا آگ میں ہو گا اسکی بنائی ہوئی ہر تصویر کے بدلے ایک جاندار بنایا جائے گا جو اسے جہنم میں عذاب دے گا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تصویر بنانا ضروری ہو تو بے جان چیزوں کی بناؤ۔ (بخاری و مسلم) یعنی مصور آخرت میں اپنے عذاب کے لئے دنیا میں خود ہی سامان تیار کرتا ہے۔

اس حدیث میں سیدناابن عباس کے فرمان سے بالکل واضح ہے کہ اس حدیث میں جس تصویر کی ممانعت کی گئی ہے وہ ہرذی روح کی ہے چاہے اس تصویرکوعبادت کی نیت سے بنایا گیاہو یا عبادت کی نیت سے نہ بنایا گیاہو۔

’’ إن أشد الناس عذاباً یوم القیامۃ المصورون ‘‘ (متفق علیہ)

ترجمہ: بیشک قیامت کے دن سب سے سخت عذاب میں تصویر بنانے والے ہوں گے۔

اللہ تعالی کا شکر ہے کہ اس گناہ دن بدن پھیلتی دلدل کے باوجود عرب و عجم اور ہند وپاک کے متعدد اہل علم وقتا فوقتا اس حساس اور اہم موضوع پر جھنجوڑتے رہتے ہیں۔ ایسی ہی ایک تحریر جامعہ امام انور شاہ کشمیری دیوبند کے استاذنے قلم بند کی ہے جو در حقیقت دینی مدارس میں ان کے چند افسوسناک مشاہدات کا نتیجہ اور درددل ہے ۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

’’امتِ مسلمہ آج جن حرام اعمال میں مبتلا ہے، ان میں سے ایک "تصویر کشی "بھی ہے، اس بدترین شوق نے امتِ مسلمہ کی روحانیت پر زبردست بم باریاں کی ہیں، آں قدر ایں قدر کو چھوڑیے، عظیم ترین علمی ہستیاں بھی اس "عملِ قبیح "میں بری طرح ملوث ہیں-بلکہ سچ کہیے تو علما کی وجہ سے تصویر کشی کا گناہ عوام کی نظر میں اب گناہ بھی نہیں رہا-لوگ دھڑلے سے فوٹو کھنچوا رہے ہیں، تصویریں کھنچواتے وقت وہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ کس مقام پر یہ عمل انجام پا رہا ہے؟ خانقاہیں تک محفوظ نہیں، بڑے بڑے "شیوخِ حرم "فوٹو اتروا رہے ہیں، سیلفی لے رہے ہیں، مدرسے بھی پاک نہیں، حتیٰ کہ مسجدوں کو بھی بندگانِ خدا نے نہیں چھوڑا-

رات میں دستار بندی کے ایک جلسے میں تھا، جلسہ گاہ مسجد تھی، اس موقع پر دارالعلوم اور وقف کے معتبر اساتذہ بھی تھے-اجلاس صحیح سلامت اختتام پذیر ہو گیا، جب علما کی بڑی تعداد رخصت ہوگئی تو اچانک دیکھا کہ محرابِ مسجد کے پاس ہی عمامہ پوش طلبہ صف بستہ ہوگئے اور دھڑا دھڑ تصویریں اترنے لگیں، میں نے صاحبِ کیمرہ سے کہا کہ بھائی! کم از کم مسجد کا تو احترام کرلو! اس نے اَن سنی کردی اور مشغول رہا، میں نے پھر تنبیہ کی تو وہ چلا گیا اور مسجد خالی ہوگئی، اجلاس کے بعد کھانے کا بھی نظم تھا، خورد و نوش کے لیے مسجد کے دوسرے منزلے کے بغلی کمرے میں کھانے کے لیے پہونچا تو دیکھتا کیا ہوں کہ مسجد کے بالائی حصے کی صفِ اول میں وہی "اصحابِ جبہ و دستار "کھڑے ہیں اور تصویر بازی جاری ہے-میں حیران رہ گیا کہ یہ لوگ اللہ کے گھر کو بھی "گناہ کا مرکز "بنا رہے ہیں اور انہیں اللہ کا ڈر بھی نہیں لگتا……

عوام کی اصلاح کیوں کر ہوگی، جب دینی جلسے جلوس بھی اس کے بغیر مکمل نہیں ہوتے-مجھے یہ سب دیکھ کر بڑی کڑھن ہوتی ہے، ایک طرف مسلمان ظالم حکمرانوں کی مار جھیل رہے ہیں اور دوسری طرف رجوع الی اللہ کی بجاے معاصی کا سیلاب ہے-نمایاں ہونے کے شوق اور شہرت کی طلب نے دینِ اسلام کو زبردست نقصان پہونچایا ہے اور ہم ہیں کہ فلم ایکٹروں، کھلاڑیوں اور سیاست دانوں کے نقالی میں ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں:

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟‘‘

اس عالم رنگ وبو میں مسلمانوں کے لئے حرمین شریفین کا جو مقام و مرتبہ ہے کسی سے مخفی نہیں ،ان کی شوکت و جلالت ،رفعت و عظمت مشرق سے لے کر مغرب تک بسنے والے اہل ایمان کے دل میں جاں گزیں ہے ، ان کی زیارت کی سعادت جنہیں حاصل ہوتی ہے وہ خوش نصیب کہلاتے ہیں اور جو اس سعادت عظمیٰ سے محروم رہ جاتے ہیں ان کا بھی قلب و جگر اس کے لئے تڑپتا اور دھڑکتا ہے ،کسی کا سفر حرمین شریفین دیکھ کر ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑتے ہیں ۔ اور دل سے دعائیں کرتے ہیں کہ اللہ بے کس پر بھی نظر کرم فرما۔ محبت و عقیدت کا کا تقاضا ہے یہ کہ محب جب محبوب حقیقی کے دربار میں جائے تو عجز و انکساری سیجائے،دلوں میں موجزن اپنے جذبات عشق کا کھل کر مظاہرہ کرے ،یکلخت دیکھنے والے سمجھ جائیں کہ یہ سچا عاشق ہے ۔لیکن حالیہ برسوں میں زائرین حرمین شریفین خواہ وہ عمرہ کرنے والے ہوں یا حج کرنے والے ان کیتقدس و حرمت کا کوئی پاس و لخاظ نہیں رکھ رہے ہیں ،نہ جانے کیوں ان کے دل و دماغ میں یہ بات نہیں آتی ہے کہ ہم سب سے متبرک اور مقدس مقام میں کھڑے ہیں ؟۔حرم مکی جس کا ذکر قرآن میں ہے ،جس کا گوشہ گوشہ لائق احترام ہے ،بیت اللہ جس کو اللہ نے اپنا پہلا گھر بتایا اس کے سامنے کھڑے ہو کر مختلف زاویے سے پوز دے کر تصویریں بناتے ہیں ،کمال تعجب یہ ہے کہ عوا م و خواص ،مرد و عورت ،جوان بوڑھے سب ہی اس وبا میں میں مبتلا نظرآتے ہیں ،بیت اللہ کے طواف کے ہر چکر میں سیلفی لیتے ہیں ،صفا مروہ کے سعی کے درمیان ویڈیو گرافی کرتے پھرتے ہیں پھر ان تصاویر اور ویڈیوز کو فیس بک ، واٹس اپ ،ٹویٹر ،انسٹگرام اور دیگر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں ،کیا یہی بیت اللہ اور مسجد حرام کی حرمت و عظمت ہے ؟کیا اللہ کو ایسی ہی عبادت پسند ہے ؟کیا تصویر کسی اور ویڈیو گرافی بھی عمرہ یا حج کا ایک رکن ہے ؟بیت اللہ کو تاکتے رہنا بھی ثواب ہے لیکن لباس احرام میں بھی لوگ بیت اللہ کے سامنے بیٹھ کر بیت اللہ کو دیکھنے کے بجائے فیس بک ، واٹس اپ چلانے میں ، گپ شپ کرنے میں یا گیمز کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں ،کیا یہ حرم شریف اور کعبہ کے تقدس کو مجروح کرنے والا اور عند اللہ قابل گرفت عمل نہیں ہے ؟ہے اور یقیناہے اس لئے اے زائرین کرام !یاد رکھیں!اللہ نے اعلان فرمادیا ہے : اے یمان والو !اللہ تعالیٰ کے نشانوں کی بے حرمتی نہ کرواور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے(المائدہ)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے :مکہ مکرمہ کے علاوہ کسی مقام پر مجھ سے ستر غلطیاں سرزدہو جائیں میں تو یہ گوارا کر سکتا ہوں لیکن یہ گوارا نہیں کرسکتا کہ مکہ مکرمہ میں ایک بھی غلطی سرزد ہو جا ئے ،،۔

 حضرت عیاش بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سید نا محمدﷺنے فرمایا:جب تک یہ امت حرمت کعبہ اس طرح کرے گی جیسا کہ اس کا حق ہے تو خیر وبرکت سے بہرہ ور ہوگی اور جب اس کی تعظیم چھوڑ دے گی تو تباہ و برباد ہو جائی گی ۔(ابن ماجہ )

چنانچہ واقعہ ہے کہ صحابہ کرام حج کے بعدعجلت کے ساتھ اپنے شہروں کو لوٹ جاتے تھے تاکہ کوئی ایسی غلطی سرزد نہ ہو جائے جو حرمت کعبہ اور حرم کے منافی ہو ۔

حرم مدنی یعنی مسجد نبوی میں جب زائرین جاتے ہیں تو حکم ہے کہ انتہائی ادب احترام کے ساتھ سر جھکائے درود و دعا ئے دخول مسجد پڑھتے ہوئے داخل ہوں ،دو رکعت تحیہ المسجد پڑھیں ،اگر ریاص الجنہ میں بآسانی جگہ مل جائے تو زہے نصیب ورنہ کہیں بھی پڑھ لیں ،پھر جب زیارت مزار اقدس ﷺ کے لئے حاضر ہوں تو حضور قلب کے ساتھ عقیدت و محبت بھرا سلام پیش کریں ،یوم قیامت میں شفاعت کی درخواست کریں پھر قبلہ رو ہو کر دعا مانگیں ،اس کے بعد جنت البقیع میں جائیں جہاں لاکھو ں صحابہ عظام مدفون ہیں ،اولیاء ، اصفیاء ، اتقیاء کی مرقد ہیں ان کے لئے دعا فرمائیں لیکن حیف صد حیف یہاں بھی زائرین قبر نبی ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر، محبت و عقیدت کو پس پشت پھینک کر جیب سے موبائل نکالتے ہیں اور درود وسلام چھوڑ کر تصویر کشی اور ویڈیو گرافی میں منہمک ہو جاتے ہیں ، زیارت کے آداب کیا ہیں ؟انہیں کچھ یاد نہیں رہتا،بس اتنا یاد رہتا ہے کہ تصویر بنانی ہے ،ویڈیو بنانی ہے اور سوشل میڈیا پر اپنی خوش نصیبی کا ڈھنڈورا پیٹنا ہے ۔لوگو !یاد رکھو ! کوئی بھی عمل صالح جس میں ریا اور سمعہ داخل ہو جا ئے کل قیامت کے دن منھ پر مار دیا جائے گا اور یہی عبادت وبال جان بن جائے گی ۔یہ نہیں فراموش کرنا چاہئے کہ محمد مصطفیٰ ﷺنے شہر مدینہ کو ہی پاک، لائق احترام اور ریاض الجنہ کو جنت کا ایک ٹکڑا کہا ہے ۔

اتنی حرمت و فضیلت اور اتنے فضائل و مناقب کے بعد بھی اگر حرمین شریفین کی زیارت کرنے والے ، حج و عمرہ کرنے والے مقصد اصلی یعنی عبادت کو چھوڑ کر تصویر کشی اور ویڈیو گرافی میں مصروف رہیں گے تو اس سے بڑی حرماں نصیبی کیا ہوگی ۔

تصویر کی حرمت پر بہت سے علماء نے اب تک بہت کچھ لکھا ہے اور پاک و ہند کے دارالافتاؤں سے بھی اس کے بارے میں حرمت کے فتاوی باربار جاری ہوتے رہے ہیں۔ اور تقریباً اس کا حرام و ناجائز ہونا عوام و خواص کے نزدیک ایک مسلمہ امر ہے ،مگر اس کے باوجو د اس میں عوام تو عوام خواصِ امت کا بھی ابتلاء عام ہے ، اور اسی صورتِ حال کو دیکھ کر بعض ناواقف لوگوں کو اس کے جائز ہونے کا شبہ ہوجاتا ہے ،بالخصوص جب علماء و مدارس اسلامیہ کے ذمہ دار حضرات کی جانب سے تصاویر کے سلسلہ میں نرم رویہ برتا جاتا ہے اور ان کی تصاویر اخبارات و رسائل وجرائد میں بلا کسی روک ٹوک کے شائع ہوتی ہیں، تو ایک عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ یہ حلال ہونے کی وجہ سے لی جا رہی ہے یا یہ کہ ان کے تساہل کا نتیجہ ہے؟ پھر جب وہ علماء کی جانب رجوع کرتا ہے اور اس کے حلال یا حرام ہونے کے بارے میں سوال کرتا ہے تو اس کو کہا جاتا ہے کہ یہ تو حرام ہے ۔اس سے اس کی پریشانی اور بڑھ جاتی ہے اور وہ علماء کے بارے میں کسی منفی رائے کے قائم کرنے میں حق بجانب معلوم ہوتا ہے۔ علماء کی تصاویر کے سلسلہ نے جہاں عوام الناس کو بے چینی و پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، وہیں اس سے ایک حرام کے حلال سمجھنے کا رجحان بھی پیدا ہو رہا ہے ، جو اور بھی زیادہ خطرناک و انتہائی تشویش ناک صورت حال ہے ؛ کیونکہ حرام کو حرام اورحلال کو حلال سمجھنا ایمان کا لازمہ ہے ،اگر کوئی حرام کو حلال سمجھنے لگے تو اس سے ایمان بھی متأثر ہو تا ہے ۔

کسی عربی شاعر نے اسی صورت پر دلگیر ہو کر یہ مرثیہ لکھا ہے

کَفٰی حُزْنًا لِلدِّینِ أَنّ حَمَاتَہُ

اِذَا خَذَلُوْہُ قُلْ لَنَا کَیْفَ یُْنصَر

مَتٰی یَسْلَمُ الْاِسْلَامُ مِمَّا أَصَابَہ

اِذَا کَانَ مَنْ یُرْجٰی یُخَافُ وَ یُحْذَر

(دین پر غم کے لیے یہ کافی ہے کہ دین کے محافظ ہی جب اس کو ذلیل کریں تو مجھے بتاؤ دین کی کیسے نصرت ہو گی ؟ اسلام کب ان باتوں سے محفوظ رہ سکتا ہے جو اس کو پیش آرہی ہیں جبکہ جن لوگوں سے اسلام کی حفاظت کے لیے امید لگی ہوئی تھی انھیں سے اس کو خوف وخطرہ لاحق ہو گیا ہے)

اگر اس میں اختلاف بھی مان لیا جائے تو رہبرانِ قوم کا کیا فرض بنتا ہے ؟ اگر وقت میسر ہو تو اس پر غور کیجیے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online