Bismillah

599

۲۷رمضان المبارک تا۳شوال المکرم ۱۴۳۸ھ        بمطابق      ۲۳تا۲۹جون۲۰۱۷ء

آپ کس کے ساتھ؟ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 590 - Mudassir Jamal Taunsavi - Aap Kis k Sath

آپ کس کے ساتھ؟

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 590)

اللہ تعالیٰ نے کیا ہمت اور کیا جذبہ دیا ہے ، اُن لوگوں کو جو مسلسل عالَم کفر سے برسرپیکار رہنے کے باوجود نہ سست ہوئے ہیں، نہ کمزور پڑے ہیں، اور نہ ہی ان کافروں کے سامنے دَبے ہیں۔ در حقیقت یہی لوگ انبیائے کرام کے جانشین اور صحیح ورثاء ہیں۔

قرآن کریم سے بڑھ کر ہدایت اور کہاں مل سکتی ہے؟ وہی بتا رہا ہے کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو غزوہ احد کے موقع پر مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا ، اور کچھ پریشان کن لمحات کے بعد وہ دوبارہ سنبھل گئے اور ان کے قدم میدان میں جم گئے، تو رب کائنات نے انہیں بتایا کہ یہی وہ طرز عمل ہے جو تم سے پہلے کے بہت سے نبیوں اور ان کے پیروکاروںکا رہا ہے ۔ فرمایا:

’’کتنے ہی نبی ہیں جن کے ساتھ مل کر اللہ والوں کے قتال کیا ہے، پھر انہیں اللہ کی راہ میں جو کچھ (تکلیف اوررتنگی)پہنچی تو وہ اس کی وجہ سے نہ ہمت ہارے، نہ سست ہوئے اور نہ ہی دَبے اور اللہ (ایسے ہی ثابت قدم رہنے والے)صابرین سے محبت فرماتا ہے۔‘‘ (آل عمران)

یہ بڑی اہم حقیقت ہے جو ہم مسلمانوں کو سمجھائی گئی ہے مگر یہ اسی کو سمجھ آتی ہے جو جہاد میں فتح اور خصوصا شکست کے موقع پر اپنے لیے نمونہ اور آئیڈیل حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت اوران کے طرز عمل کو بنائے گا

اسی وجہ سے بعض اہل علم نے یہ بات لکھی ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر مسلمانوں کو نبی کریمﷺ کی موجودگی کے باوجود جو عارضی شکست ہوئی تھی وہ بڑی حکمتوں پر مشتمل تھی اور یہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ آنے والوں مسلمانوں میں بہت کوتاہیاں اور کمزوریاں ہوں گی اوران کا کچھ نہ کچھ اثر بھی مسلمانوں پر ظاہر ہوگا ، ایسے میں کیا مسلمان ان کوتاہیوں اور کمزوریوں کی وجہ سے جہاد ہی کو چھوڑ دیں؟ اور کیا اگر وہ جہاد کو چھوڑ دیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں کامیاب کردے گا؟ کیا اس حالت میں جہاد چھوڑنے کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے مستحق بن جائیں گے؟ کیا اس موقع پر کافروں کے سامنے دَب جانا مسئلے کا حل ہوگا؟ کیا اس وقت جہاد سے ہمت ہاردینااور جہاد میں کمزوری دکھادینے سے کافر راضی ہوجائیں گے؟ اور بات ختم ہوجائے گی؟

نہیں،ہرگز نہیں! ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا۔

جو ہمت ہارے گا وہ خود ہدایت سے دور جاپڑے گا

جو کمزور بنے گا وہ خود کافروں کی گود میں جا گرے گا

جو ان کے سامنے دَب جائے گا وہ اللہ تعالیٰ کی محبت سے محروم ہوجائے گا

شکر ہے اس رب ذوالجلال کا جس نے ہمیں اس دور میں ایسے باہمت افراد دِکھائے جو قرآنی بیان کے مطابق کسی فتنے میں نہیں پڑے اور جس طرح وہ کل اپنے دین اور اپنے نظریے پر مستحکم تھے اور کل جس طرح وہ کفر کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے تھے آج بھی اسی عزم و ہمت پر قائم ہیں ۔ ان کے کچھ ساتھی اس عہد کو نبھاتے ہوئے جان قربان کرگئے اور کچھ اس راہ پر چل رہے ہیں،وہ فتح یا شہادت میں سے ایک کے منتظر ہیں، اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔

دوسری جانب آپ معاشرے میں نظر دوڑائیے تو جہاد سے روگردانی کرنے والے دو طبقے ملیں گے:

ایک وہ جو اللہ تعالی کی مدد ونصرت اور اپنے دین پر پختہ ایمان و یقین کے بجائے کامادی قوت و طاقت اور عددپر بھروسہ کیے ہوتے ہیں۔ ایسے میں جب انہیں مسلمانوں کی طرف سے کافروں کے برابر کی قوت و طاقت اور عددی برتری نظر نہیں آتی تو ان کے حوصلے جواب دے جاتے ہیں، سستی اورکمزوری ان کے سرسے لے کر پاوں تک میں گھس جاتی ہے اور بسا اوقات تو وہ یہ بھی فخریہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم سے مرغی بھی ذبح ہوتی ہوئی نہیں دیکھی جاتی۔

دوسرے وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت اس کے دین کی حقانیت و سچائی اور برتری پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنی نیکی اور دین داری پر بھروسہ کر بیٹھتے ہیں، پھر جب وہ دیکھتے ہیں کہ ہم تو کامل دین داری کے درجے سے بہت نیچے ہیں اور ظاہر سی بات ہے کہ ہر طرح سے کامل دین داری کسی بھی عام مسلمان کے بس میں نہیں ہوتی، معصوم تو صرف اللہ تعالیٰ کے نبی ہوتے ہیں اور محفوظ نبی کے صحابہ ہوتے ہیں۔ ایسے میں یہ لوگ جو دین داری پر بھروسہ کر بیٹھتے ہیں تو وہ خود بھی جہاد سے دور رہتے ہیں اور جہاد سے وابستہ افراد میں بھی اسی بنیاد پر کیڑے نکال کر ساری ذمہ داری انہی پر ڈال دیتے ہیں۔

ایسے لوگ جو ہدایت کے لیے اپنی دین داری پر بھروسہ کرتے ہیں ان کے ہاں دین داری کا معیار بھی بہت جلدبدل جاتا ہے، وہ لوگوں کے ہاں مقبول ہونے کے لیے صبح و شام دین داری کا لبادہ بدلتے رہتے ہیں۔

یہ فتنے کی علامت ہے انسان کل ایک چیز کو پورے شرح صدر کے ساتھ گمراہی کا اڈا قرار دے اور پھر صبح و شام اس میں لت پت ہوتا پھر رہا ہو!اور اس فتنے میں انسان تب پڑتا ہے جب اس میں دو بیماریاں سرایت کر جائیں:

ایک مایوسی، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی ۔ یہ تب ہوتا ہے جب انسان کی نظر کائنات کے نظام میں فقط ظاہر پر اٹک جائے اور سینکڑوں شرور میں چھپی ہوئی اللہ تعالیٰ کی ہزاروں نعمتوں سے نظر اوجھل ہوجائے۔

دور نبوت کو دیکھئے کہ نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام ایک صحراء میں ایک درخت کے نیچے موت کی بیعت کررہے ہیں ، نہ کوئی ہال نہ کوئی سیمینار، نہ کوئی چمک دمک والی کرسیاں، نہ خوبصورت ٹیبلز اور ان پر رکھی خوبصورت پانی کی بوتلیں، نہ نرم ونازک صوفے، اورنہ ہی عالی شان عسکری ہیڈ کوارٹر، ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ ایک صحراء ہے صحراء، بیٹھنے کی جگہ ایک درخت کا سایہ ہے، سب فرش زمین پر بیٹھے ہیں، جب ان کے دشمن مکہ مکرمہ کے سردار ہیں، پورے عرب کے نمائندے ہیں، دنیاوی عزت و وجاہت کا ہر سامان پاس رکھتے ہیں۔ اب دیکھئے کہ جن کی نظر اللہ تعالیٰ کے لطف پر ہے، جو اللہ تعالیٰ کی چھپی نعمتوں کو دیکھتے ہیں وہ اس صحراء میں درخت کے نیچے فرش زمین پر بیٹھ کر بھی پوری طرح ایمانی جذبات اور روحانی نیک امیدوں اور اچھی تمناوں سے لبریز ہیں، انہیں کوئی احساس کمتری نہیں،انہیں کافروں کی منت سماجت کرنے اور ان کے سامنے خود کو ذلیل سمجھنے کا تصور تک نہیں مگر جس کی نظر ان ظاہری حالات پر ٹک کی گئی تھی وہ ان مسلمانوں کو ناکام سمجھ رہے تھے، وہ انہیں طعنے دے رہے تھے، وہ ان سے بدگمان ہورہے تھے، وہ انہیں زمانے سے ناآشنائی کا درس دے رہے تھے۔ کیا آج بھی ایسا نہیں ہورہا؟

دوسرے اللہ تعالیٰ سے زیادہ خود کو رحم والا سمجھ لینا،اور اپنی نرم دلی اور کمزوری کو ہدایت کی کنجی سمجھ لینا۔ چنانچہ وہ ہر ایک سامنے جھکے گا، وہ ہر ایک سے سامنے ہاتھ جوڑے گا، وہ ہر ایک کے سامنے آہیں بھرے گا، وہ ہر ایک کے سامنے صفائیاں دے گا۔ وہ بھوک اور پیاس کو تو اللہ تعالیٰ کی آزمائش سمجھے گا مگر یہ نہیں سمجھ پائے گا کہ جہاد اور قتال کا حکم بھی مسلمانوں اور کافروں ومنافقوں کی آزمائش کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہی دیا ہے۔

قارئین کرام! مختصر اتنی بات ہے کہ وہ تمام لوگ جو کل تک عزیمت کے علم بردار تھے اور آج رخصتوں سے بھی آگے کی رخصتیں نکال رہے ہیں اور جو کل تک گمراہی کے اڈوں سے توبہ کراتے تھے اور آج اسی میں گھس رہے ہیں تو اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ان پر مایوسی غالب آچکی ہے، وہ اللہ تعالی سے بدگمان ہوچکے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی اس مدد و نصرت کو دیکھ نہیں پارہے جواللہ تعالیٰ کے لطف اورمہربانی کی شکل میں مسلمانوں کے ساتھ ہے ۔

یقین نہ آئے تو صرف ایک بار اخلاص کے ساتھ ایسے کسی بھی شخص کی ایک مجلس میں شریک ہونے کے بعد دورہ تفسیر آیات جہاد کی کسی ایک دن کی نشست میں بھی شرکت کر دیکھئے ،فرق خودبخود محسوس ہوگا اور آپ کو اپنے دل کی حالت میں جو تغیر محسوس ہوگا وہ یہی آواز دے گا کہ ایک جگہ سے مایوسی دل میں آئی ہے اور دوسری جگہ دل اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن اور اچھی امید کے ساتھ بھر گیا ہے۔

اب فیصلہ آپ کیجئے کہ آپ نے ہمت ہارنے ، کمزوری دکھانے اور دب جانے والوں کے ساتھ ہونا ہے یا ان کے ساتھ جو کل کی طرح آج بھی ثابت قدم ہیںاور انہی کے دم قدم سے میدان کل بھی آباد تھے اور آج بھی آباد ہیں!!

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online