Bismillah

599

۲۷رمضان المبارک تا۳شوال المکرم ۱۴۳۸ھ        بمطابق      ۲۳تا۲۹جون۲۰۱۷ء

’’عشر‘‘کی اَدائیگی (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 591 - Mudassir Jamal Taunsavi - Ushar ki adaigi

’’عشر‘‘کی اَدائیگی

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 591)

مسلمان اپنی جان میں بھی اللہ تعالیٰ کے حق کو مقدم رکھتا ہے اور اپنے مال میں اللہ تعالیٰ کے حق کو مدنظر رکھتا ہے، کیوں کہ ایک سچے مسلمان کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ ہماری جان کامالک بھی اللہ ہے اور ہمارے مال کا بھی۔ اس لیے نہ تو اپنی جانی عبادت میں کسی اور شریک کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی مالی عبادت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرتے ہیں۔ اس توحید پر علامت کے طور پر جو حقوق ہم پر لازم کیے گئے ہیں ان میں سے ایک حق وہ ہے جو مسلمانوں کے اموال میں واجب ہوتا ہے اور اسے’’ عشر‘‘کہا جاتا ہے اور مسلمان یہ عشر فقط اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لیے اوراسی کے حکم کو پیش نظر رکھ کر اداء کرتے ہیں۔

رسول اللہﷺ کے زمانے میں مشرکین کی یہ عادت تھی کہ وہ اپنی کھیتیوں کی پیداوار میں ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے نکالا کرتے تھے اور دوسرا حصہ اپنے بتوں کے لیے نکالا کرتے تھے کیوں کہ شرک ان کی جڑوں میں اترا ہوا تھا اس لیے وہ عبادت سے ہٹ کر ان چیزوں میں بھی اللہ تعالی کے شریک بنائے ہوئے تھے جو چیزیں ظاہری نظر سے بھی خالص اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہی محسوس ہوتی ہیں۔

آخر کوئی بھی تو سوچے کہ زمین سے جو بھی پیداوار اگتی ہے :پھل ہوں، پھول ہوں، گندم ہو، جواورباجرہ ہو، گنے اور مالٹے ہوں، سبزیاں اور ترکاریاں ہوں ، الغرض یہ سب چیزیں زمین سے اگتی ہیں تو آخر وہ کون سی طاقت ہے جو زمین سے انہیں اگاتی ہے؟ انسان کو تو بس دانے ڈال دیتا ہے ، پانی سے سیراب کردیتا ہے مگر اس دانے میں اتنی قوت کون ڈالتا ہے کہ ایک کمزور ساپودا بھی زمین کی پشت پھاڑ کر اگ آتا ہے؟ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کے حیرت انگیز کرشمے ہی تو ہیں مگر مشرکین تھے کہ انہوں نے اس میں بھی بتوں کے حصے مقرر کر رکھے تھے اور دوسری خرابی ان مشرکین میں یہ بھی تھی کہ کھیتی کے بعض حصوں کو عام انسانوں کے لیے ممنوع قرار دیدیتے تھے یہ کہہ کر یہ حصہ بتوں کے لیے خاص ہے۔

اس پورے مشرکانہ ماحول کا نقشہ دکھانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا نقشہ دکھایا اور ساتھ ہی عشر کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے باغات پیدا کئے، جن میں سے کچھ (بیل دار ہیں جو) سہاروں سے اوپر چڑھائے جاتے ہیں، اور کچھ سہاروں کے بغیر بلند ہوتے ہیں(اوراسی نے پیدا کئے ہیں) نخلستان اورکھیتیاں جن کے ذائقے الگ الگ ہیں، اور زیتون اور انار (بھی اسی نے پیدا کئے ہیں) جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور ایک دوسرے سے مختلف بھی۔جب یہ درخت پھل دیں توان کے پھلوں کوکھانے میں استعمال کرو، اورجب ان کی کٹائی کا دن آئے تو اللہ کا حق اداء کرو، اور فضول خرچی نہ کرو۔ یادرکھو! وہ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔(سورۃ الانعام:141)

اس آیت میں واضح بتادیا گیا کہ اے مسلمانو! مشرکین کا جو طرز تھا وہ تو بالکل ہی غلط تھا ۔ اب تمہیں ایک ایسا راستہ بتایاجارہا ہے جس میں تمہارے کسی حق کو مارا بھی نہیں جائے گااور اللہ تعالی بھی راضی ہوں گے اور یہ ہے کہ جو پھل اور کھیتی اگے اس میں سے خود بھی کھاوکیوں کہ آخر تمہاری بھی ضروریات اس سے وابستہ ہیں، ہاں فضول خرچی بالکل نہ کرنا کہ یہ بات اللہ تعالی کو ناپسند ہے اور ساتھ ہی خالص اللہ تعالی کے نام پر اورخالص اسی کی رضاء کے لیے اورخالص اسی کا حق سمجھ کر ان پھلوں اور کھیتیوں میں سے کچھ حصہ

ْْٰؓؓبقیہ صفحہ ۵ پر

 اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیدینا اور اسی اللہ تعالی کے حق کو شریعت کی زبان میں عشر کہتے ہیں۔

عشر کے بارے میں چند اہم مسائل درج کیے جاتے ہیں تاکہ دین کے ایک باب کا علم بھی حاصل ہوجائے جو اپنی ذات میں خود ایک نیک ترین فضیلت ہے اور ساتھ میں اس پر عمل کرنے کی راہ بھی ہموار ہوجائے۔

ایسی زمین جس کو سیراب کرنے والے پانی پرمحنت یا خرچہ نہیں ہوتا جیسے :بارش کا پانی، قدرتی چشمہ یا مفت نہر سے ملنے والا پانی تو اس زمین کی پیداوار میں کل پیداوار کا دسواں حصہ واجب ہے۔

اور ایسی زمین جس کو سیراب کرنے میں محنت یا خرچہ آتا ہے مثلا اسے کنویں سے ڈول نکال کر سیراب کیاجاتا ہے یا ٹیوب ویل کا پانی یا آبیانہ اداء کی جانے والے نہر سے سیراب کیاجاتا ہے تو اس کی پیداوار میں بیسواں حصہ واجب ہے۔

ایسی زمین جو کو کچھ مفت والے پانی سے اور کچھ پیسوں والے پانی سے سیراب کیاجاتا ہے تو اس میں غالب کا اعتبار ہوگا ۔ اگر مفت والا پانی زیادہ دیا ہے تو دسواں حصہ واجب ہوگا اور اگر پیسوں والا پانی زیادہ لگا ہے تو بیسواں حصہ واجب ہوگا۔

پیداوار میں عشر واجب ہونے کے لیے کوئی مقدار متعین نہیں ہے بلکہ تھوڑی یا زیادہ جتنی بھی پیداوار ہواس میں اوپر ذکر کردہ ترتیب کے موافق شرعی حصہ نکالنا ضروری ہوگا۔

زمین میں اگائی جانے والی ہرقسم کی پیداوار میں عشر واجب ہے مثلا گندم، جو، چاول، مکئی، جوار، باجرہ،کپاس، ہر قسم کی سبزیاں،پھل، کھجوریں، گنا، کھیرے، بینگن، اخروٹ، بادام، دھنیا، پالک ، جانوروں کے لیے کاشت کیا گیا چارہ وغیرہ

ایسی سبزیاں جو ایک بار بونے کے بعد باربار اگتی رہتی ہیں تو ان کی ہر، ہر پیداوار میں پہلے اور دوسرے نمبر میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق عشر اداء کرنا واجب ہوگا۔

اگر کسی آفت کی وجہ سے ساری فصل یا کچھ فصل تباہ ہو جائے تو تباہ شدہ فصل کے بقدر عشر معاف ہوگا اور باقی کے حساب سے عشر واجب رہے گا۔

اگر کئی سالوں کا عشر اداء نہیں کیا تب بھی ہر سال کی فصل کا اندازہ لگا کر عشر اداء کرنا چاہئے اور عشر نکالنے کے لیے موجودہ قیمت کا اعتبار کرکے گزشتہ سالوں کا عشر اداء کیا جائے۔

اگر زمین ٹھیکے والی ہے تو اس صورت میں عشر اس شخص پر لازم ہوگا جس نے وہ زمین ٹھیکے پر لی ہے کیوں کہ عشر پیدوار پر واجب ہوتا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ پیداوار ٹھیکہ پر لینے والے کی ہوتی ہے۔

ان دنوں جب کہ ملک بھر میں گندم اور بعض دیگر اہم اجناس کی کٹائی کا موسم قریب ہے اور کئی علاقوں میں یہ کٹائی شروع بھی ہوچکی ہے تو ’’الرحمت‘‘ کی طرف سے عشر مہم چلائی جاتی ہے۔

یہ ’’عشرمہم‘‘ کیا ہے ؟ تو مختصرا اتنا سمجھ لیجئے کہ :الرحمت عشر مہم مسلمانوں میں اسی فرض کی ادائیگی کا شعور بیدار کرنے اور انہیں اس کی ادائیگی کی راہیں دِکھانے کا نام ہے۔ اہل علم کی حتی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ مسلمانوں کو شرعی مسائل سے آگاہ بھی کیاجائے اوراس کی ادائیگی کا طریقہ اور مصرف بھی ان کے سامنے رکھا جائے۔ اسی لیے الرحمت کے کارکنان عشر کی اہمیت سے بھی آگاہ کرتے ہیں اور عشر وصول کرکے اسے شرعی مصارف میں خرچ کرنے کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔

یہ ادارہ مستند علمائے کرام کی نگرانی میں یہ پورا نظام وضع کرتا ہے تاکہ مسلمانوں کے اس اہم فرض کی ادائیگی صحیح طریقے سے ہوسکے۔ وصولی کے نظام سے لے کر خرچ کرنے کے تمام مراحل تک شرعی ہدایات کو مدنظر رکھاجاتا ہے۔

اجمال اور اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم آپ کو اس کے کچھ مصارف بتائے دیتے ہیں۔

ادارہ الرحمت آپ کے دیئے ہوئے عشر کو درج ذیل مصارف میں شرعی طریقوں کے مطابق خرچ کرنے کا مکمل اہتمام کرتا ہے:

شہدائے کرام کے اہلخانہ ، اسیرانِ اسلام ،غازیانِ عظام اوراُن کے گھرانے ،ینی مدارس کے مستحق طلبہ و اساتذہ، دینی مراکز کے مقیمین اور دیگر مستحق اَفراد

چنانچہ الرحمت  آپ کے دیئے ہوئے عشر کو ہر سال :

900سے زائد شہدائے کرام کے اہل خانہ، 2000سے زائداسیران اسلام اور غازیان عظام کے مستحق اہل خانہ، جماعت کے زیر انتظام چلنے والے دو درجن سے زائد دینی مدارس کے مستحق طلبہ و اساتذہ کے علاوہ دیگر متعدد دینی مراکز اور سینکڑوں مستحق افراد  میں تقسیم کرنے کا پورا اہتمام کرتا چلا آرہا ہے۔

اس سال بھی یہ مہم شروع ہوچکی ہے۔ الرحمت کے کارکنان آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے، آپ اپنا عشر انہیں جمع کرائیے،بلکہ اس بارے میں اپنے ارد گرد کے دیگر متعلقہ زمین دار افراد کو جمع کرکے انہیں ان مسائل سے بھی روشناس کرائیے تاکہ وہ بھی اس فرض کی صحیح ادائیگی کرسکیں۔ یہ ایک فرض کی ادائیگی بھی ہے اور خدمت خلق کا عظیم کام بھی!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online