Bismillah

614

۲۹محرم الحرام تا۵صفر۱۴۳۸ھ   بمطابق ۲۰تا۲۶اکتوبر۲۰۱۷ء

خطرناک جرم (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 592 - Mudassir Jamal Taunsavi - Khatarnak Mujrim

خطرناک جرم

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 592)

اللہ تعالیٰ ہمیں علم نافع عطاء فرمائے… علم نافع اُسے ملتا ہے جو دین کا علم اخلاص سے حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو پورا کرے۔ اگر علم دین اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت اورنصرت کے لیے حاصل نہ کیا جائے تو ایسا علم تحریفات کا سبب بن جاتا ہے۔

تحریف کا مطلب ہے: کسی چیز کو کنارے پر کردینا، کسی بات کو اس کے اصل مقام سے ہٹادینا۔ اگر کسی بات کے الفاظ تبدیل کردیئے جائیں تو یہ تحریف لفظی ہے اور اگر الفاظ برقرار رکھ کر اس کے اصل معنیٰ کو دور کردیا جائے تو یہ تحریف معنوی کہلاتی ہے۔

 اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میرے احکامات میں تحریف نہ کیا کرو مگر جن لوگوں کے مزاج میں کج روی ہوتی ہے وہ اس جرم سے باز نہیں آتے اور بسا اوقات کسی گناہ کی نحوست کی وجہ سے انسان تحریف کے گناہ کا شکار ہوجاتا ہے۔

قرآن کریم بتلاتا ہے کہ بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ نے جہاد کا جو عہد لیا تھا، اس عہد کو توڑنے اور جہاد سے روگردانی کرنے کی وجہ سے ان میں یہ بیماری پیدا ہوگئی تھی کہ وہ احکام الٰہیہ میں تحریف اور ردوبدل کیا کرتے تھے۔

سورۃ المائدۃ میں یہ بیان ہوا ہے کہ:

ان (بنی اسرائیل) کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت بنادیا۔ وہ بات کو اپنے اصل مقام سے ہٹادیتے ہیں اور انہیں جو نصیحت کی گئی تھی وہ اس سے نفع اُٹھانا بھول گئے۔ (المائدہ:۱۳)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد ونصرت کے عہد سے روگردانی کرنا اور جہاد سے اعراض کرنا بہت ہی بڑا جرم ہے اور اس جرم کی سزا میں درج ذیل چار چیزیں شامل ہیں:

(۱) لعنت ملتی ہے۔

(۲) دل سخت ہوجاتے ہیں۔

(۳) عقل ماؤف ہوجاتی ہے اور انسان اللہ تعالیٰ کے احکامات میں تحریف کرنے لگتا ہے۔

(۴) دل کی سختی کی وجہ سے نصیحت آموز باتیں بھی بے کار جاتی ہیں۔

 بقول شاعر      ؎

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر

مردِ ناداں پر مگر کلامِ نرم و نازک بے اثر

اللہ تعالیٰ نے یہ باتیں اس امت کی تعلیم اور رہنمائی کے لیے بیان فرمائی ہیں تاکہ یہ اُمت بنی اسرائیل کے پیچھے چل کر ان تباہیوں میں جانے سے بچ سکے۔

اس آیت میں جو حقیقت بیان ہوئی ہے وہ بہت اہم اور قابل توجہ ہے۔جہاد سے رو گردانی کرنا تحریف کا سبب ہے۔

آپ عصر حاضر میں غور کریں جتنے بھی لوگ جہاد سے روگردانی کرتے ہیں پھر وہ قرآن سنت میں تحریف کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔

مرزاغلام قادیانی نے بھی جہاد کے خاتمے کا اعلان کیا اور پھر قرآن کی جہادی آیتوں کو بگاڑا۔

آج غامدی جیسے فتنوں کو دیکھ لیں۔ وہ بھی جہاد سے کنارہ کش ہیں اور اب آیات واحادیث میں تحریف وتاویلات باطلہ کا ایک بازارگرم کئے ہوئے ہیں۔

ہم اس کی ایک مثال بیان کرتے ہیں کہ جہاد سے دور ہوجانے والا انسان کس طرح تحریف کا شکار ہوتا ہے۔

سورۃ الصف میں ایک آیت مبارکہ ہے،آیت نمبر ۱۰ اور ۱۱ پہلے ان دوآیات کا ترجمہ دیکھیں:

اے ایمان والو! میں تم کو ایسی تجارت نہ بتادوں جو تم کو درد ناک عذاب سے بچالے (وہ تجارت یہ ہے کہ) تم اللہ اور اس کے رسول پرایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنی جان اور اپنے  مال سے لڑو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔ (الصف: ۱۰،۱۱)

اس آیت میں لفظ آیا ہے: ’’وتجاھدون فی سبیل اللّٰہ باموالکم وانفسکم‘‘ اس میں جہاد سے مراد قتال ہے چنانچہ حضرت شاہ عبدالقادر اور حضرت شیخ الہند وٖٖغیرہ اہل علم نے اس کاترجمہ کیا ہے: ’’لڑو!‘‘  اب کوئی شخص اس جگہ ترجمہ کرتے وقت یا بیان کرتے وقت لڑنے کا ترجمہ کرنے کی بجائے محنت اور کوشش والا ترجمہ کرے گا تو اس طرح اصل مطلب یعنی قتال والا ترجمہ دور جا پڑے گا اور اس کو معنوی تحریف کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو اس گناہ سے بچائے۔

جن مسلمانوں نے دورہ تفسیر آیات جہاد میں شرکت کی ہے وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اداء کریں اور جہاد سے اپنے تعلق کو مضبوط بنائیں اور جو مسلمان ابھی تک شریک نہیں ہوسکے ان تک یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کریں تاکہ جہاد کے خلاف فتنوں اور جہالتوں کا توڑ ہوسکے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online