Bismillah

614

۲۹محرم الحرام تا۵صفر۱۴۳۸ھ   بمطابق ۲۰تا۲۶اکتوبر۲۰۱۷ء

ایک فکر (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 593 - Mudassir Jamal Taunsavi - Aik Fikr

 ایک فکر

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 593)

اللہ تعالی ہمیں آخرت کی حسرت اور پشیمانی سے بچائے!

قیامت ایک بہت ہی خطرناک، خوفناک، ہیبت ناک اور مشکل ترین دن کا نام ہے۔ اس دن کے جتنے بھی نام ہیں ان سب میں ایک یہ بات قدرمشترک ہے کہ ان الفاظ کے معانی میں ’’خوف اورخطرے کاالارم‘‘ موجود ہے۔ قرآن کریم نے اس دن کے جو نام بتائے ہیں انہی میں سے ایک نام ’’یوم الحسرۃ‘‘ یعنی ’’حسرت کا دن‘‘ بھی ہے۔

ہاں! وہ حسرت اورافسوس کا دن ہوگا، اس دن تمام انسان اپنے رب تعالی کی بارگاہ میں پیش ہوں گے اوراللہ تعالی ہرایک سے اس کی دنیاوی زندگی کاحساب لیں گے، چنانچہ جس نے دنیا میں اچھائی کی ہوگی اسے اس کا نفع ملے گا اورجس نے برائی کی ہوگی اس کاوبال بھی سامنے ہوگا، اس دین ایمان والے بھی خوف سے کانپ رہے ہوں گے اور کافر بھی حسرت کی اتھاہ گہرائیوں میں ہلاک ہورہے ہوں گے۔ دیکھئے! قرآن پاک میں کس طرح اللہ تعالی اپنے نبی کے واسطے سے دنیائے انسانیت کو ’’حسرت کے دن‘‘ سے ڈرا رہے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ کا ترجمہ ہے:

’’اور (اے نبی! آپ) انہیں حسرت کے دن سے ڈرائیے، جس دن سارے معاملہ کا فیصلہ ہوجائے گا اور وہ غفلت میں ہیں او رایمان نہیں لاتے (مریم:۹۳)

حسرت سخت ندامت اورشرمندگی کانام ہے جس میں انسان پشیمان ہوتا ہے، پریشانی کی وجہ سے پسینہ سے شرابور ہوجاتا ہے، اپنی ناکامی پر حسرت کی وجہ سے اپنی انگلیوں کاٹ کھاتا ہے،اورجب انسان اس دنیا سے گزر جائے گا تو سخت ترین مراحل شروع ہوجائیں گے۔ کافر اورمنافق لوگوں کو قیامت کے دن بہت سی حسرتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سب سے پہلے تو موت کی شدت اورسختی کے وقت جب وہ عذاب والے فرشتوں کو دیکھے گااور سختی کے ساتھ اس کی روح قبض کی جائے گی تو اسی وقت سے وہ ایک نامٹنے والی پریشانی اورحسرت میں مبتلا ہوجائے گا اس وقت وہ چاہے گا کہ اب مجھے ’’ایمان اور عمل صالح‘‘ کی مہلت مل جائے مگر اس وقت کوئی مہلت نہ ملے گی۔ حسرت کا دوسرا اہم مرحلہ وہ ہوگا جب اس کافر کوجنت کا ایک خوبصورت ترین محل اورٹھکانہ دکھایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ دیکھ! اگر تو ایمان لاتا تو یہ عیش وعشرت اور لذتوں ونعمتوں سے بھرا ہوا محل تیرا ہوتا مگر اب یہ تیرا نہیں اور دوسری جانب ساتھ ہی اسے جہنم کا ایک خوفناک دھکتا ہوا ٹھکانہ دکھایا جائے گا اورکہاجائے گا کہ اب تیرا یہی ٹھکانہ ہے، یہ وہ لمحہ ہوگا جب وہ کافر حسرت اور افسوس سے مرنا چاہے گا مگر کچھ نہ ہوسکے گا(معاذ اللہ)

قیامت کے دن حسرت کے مختلف مراحل پیش آئیں گے مگر حسرت کا سب سے بڑا اورانتہاء درجہ کا مرحلہ وہ ہوگا جب تمام جنتیوں اور جہنمیوں کے سامنے موت کو لا کرذبح کردیا جائے گا۔ اس پورے واقعہ کو ایک حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ حضرت ابوسعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

قیامت کے دن موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گااورپھر ایک فرشتہ اعلان کرے گا: اے جنت والو! چنانچہ جنتی لوگ اس کی طرف متوجہ ہوجائیں گے، پھر وہ پوچھے گا: کیا تم اسے جانتے ہو؟ وہ جنتی جواب دیں گے: ہاں! یہ تو موت ہے کیوں کہ سب پہلے اسے دیکھ چکے ہوں گے۔ پھر وہ فرشتہ اعلان کرے گا: اے جہنم والو! یہ سن کر وہ جہنمی لوگ اس کی طرف متوجہ ہوجائیں گے، پھر وہ ان سے پوچھے گا: کیا تم اسے جانتے ہو؟ وہ جواب دیں گے: ہاں! یہ تو موت ہے کیوں کہ یہ سب بھی اسے پہلے دیکھ چکے ہوں گے، چنانچہ پھر اس موت کو ذبح کردیاجائے گااور وہ فرشتہ اعلان کرے گا: اے جنت والو! اب ہمیشہ زندہ رہوکبھی موت نہ آئے گی اوراے جہنم والو! اب ہمیشہ اسی طرح رہوکبھی موت نہ آئے گی۔ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد پھر نبی کریم ﷺ سورہ مریم کی آیت ۹۳ تلاوت فرمائی جس کا ترجمہ ہے:

‘‘اور انہیں حسرت کے دن سے ڈرائیے، جس دن سارے معاملہ کا فیصلہ ہوگا (مگر) وہ غفلت میں ہیں او رایمان نہیں لاتے‘‘۔ (بخاری ومسلم)

قیامت کا ہرلمحہ کافروں اور منافقوں کو حسرت میں مبتلا کرتا رہے گا

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہی تنبیہ فرمادی ہے اور واضح کردیا ہے کہ اس دنیا میں رہتے ہوئے اللہ تعالی کے احکامات میں کوتاہی مت کرواوراس کی حرمتوں کو پامال مت کرو، تاکہ قیامت کے دن کی حسرتوں سے بچ جاو? اوراس کا ایک آسان راستہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھو، اس سے توبہ کرتے رہو اوراللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوکر اس کی عبادت اوراس سے دعا کرنا چھوڑ نہ دو

دیکھو! کتنا واضح تنبیہ کی جارہی ہے:

’’(اے نبی!)کہہ دو: اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے! اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاو?(بلکہ اس کی رحمت پربھروسہ کر کے اس سے توبہ کرو) بے شک اللہ تعالیٰ سب گناہ بخش دے گا، بے شک وہ بخشنے والا رحم والا ہے۔ اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس کا حکم مانو اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آئے پھر تمہیں مدد بھی نہ مل سکے گی۔ اور ان اچھی باتوں کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آ جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ پھرکوئی انسان یوںکہنے لگے کہ: ہائے افسوس اُس کوتاہی پر جو میں نے اللہ تعالیٰ کے حق کے بارے میں کی اور میں تو ہنسی مذاق ہی کرتا رہ گیا۔ (سورہ الزمر:۳۵تا۶۵)

اس آیت مبارکہ سے واضح طور پر معلوم ہوگیا کہ جو انسان اس دنیا میں اللہ تعالیٰ سے غافل رہتا ہے، اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کو نہیں مانتا تو ایسے لوگوں پر اچانک عذاب آتا ہے، انہیں کوئی مدد نہیں ملتی اور یہی لوگ قیامت کے دن حسرت اورافسوس کا اظہار کریں گے مگر اُس وقت کی حسرت کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔

ایک مسلمان کو یہ لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات پر یقین رکھتا ہو، اس ملاقات کا شوق رکھتا ہو اور اس ملاقات کے لیے تیاری بھی رکھتا ہوکیوں کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو جھٹلاتے ہیں اور اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کرتے وہ لوگ قیامت والے دن سخت حسرت اٹھائیں گے۔ قرآن کریم نے بتلایا ہے:

’’وہ لوگ تباہ ہوگئے جنہوں نے اپنے ربّ کی ملاقات کو جھٹلایا یہاں تک کہ جب اُن پر قیامت اچانک آ پہنچے گی تو کہیں گے: اے افسوس! ہم نے اس میں کیسی کوتاہی کی اور وہ اپنے بوجھ اپنی پشتوںپر اُٹھائیں گے۔خبرداروہ بہت بُرا بوجھ ہے جسے وہ اٹھائیں گے‘‘ (سورہ الانعام: ۱۳)

انسان اس دنیا میں رہتے ہوئے یقینا مال خرچ کرتا رہتا ہے مگر یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ وہ مال کہاں خرچ ہورہا ہے؟ اس کے مال کے خرچ ہونے سے اللہ تعالی کے دین کا فائدہ ہورہا ہے یا وہ مال اللہ تعالی کے دین کے راستے میں رکاوٹ بن رہا ہے؟ کیوں کہ قرآن کریم نے یہ بھی واضح طور پر بتلادیا ہے کہ جو لوگ اپنامال اس لیے خرچ کرتے ہیں کہ تاکہ اس سے اللہ تعالی کی نافرمانیوں کو فروغ ملے تو یہ مال بھی ان کے لیے سخت حسرت اور افسوس کا سبب بنے گا۔ دیکھئے! قرآن کہہ رہا ہے:

’’بے شک جو لوگ کافر ہیں وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکیں،پس ابھی تو یہ لوگ اور بھی خرچ کریں گے، (مگرانجام کار) وہ ان کے لیے حسرت ہو گا، پھر مغلوب کیے جائیں گے اور جو کافر ہیں وہ دوزخ کی طرف جمع کیے جائیں گے‘‘ (سورہ الانفال:۶۳)

قیامت کے دن کی حسرت سے بچنے کے لیے ایک یہ بات بھی ضروری ہے کہ انسان اس دنیا میں رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں خاص کر کافروں اوراسلام دشمنوں سے براء ت کا اظہار کرے اورخود کو ان سے الگ کرلے وگرنہ کل قیامت کے دن جب وہ اسلام دشمن طاقتیں ان سے لاتعلقی کا اعلان کریں گی

 تو یہ اس وقت سوائے حسرت اورافسوس کے کچھ نہ کرسکیں گے۔ قرآن کریم متنبہ کرتے ہوئے کہتا ہے:

’’اور کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے (کفار اور اسلام دشمنوں کی) پیروی کی تھی: کاش! ہمیں دوبارہ (دنیا میں)جانے دیا ہوتا تو ہم بھی ان سے بیزار ہوجاتے جیسے یہ ہم سے بیزارہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ انہیں ان کے (برے)اَعمال حسرت دِلانے کے لیے دکھائے گا اور وہ دوزخ سے نکلنے والے نہیںہوں گے‘‘ (سورہ البقرہ:۷۶۱)

قرآن کریم کی ان آیات سے جو متعدد اورمتفرق فوائد اور ارشادات وتنبیہات معلوم ہوتی ہیں ان کاخلاصہ درج ذیل نکات میں بیان ہوسکتا ہے اوریوں کہاجاسکتا ہے کہ: اگر قیامت کے دن کی حسرتوں سے بچنا ہے تو درج ذیل کاموں کا اہتمام کرنے چاہئے:

اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوا جائے

اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا جائے، جب تک زندگی ہے تب تک توبہ واستغفار میں مشغول رہا جائے

اللہ تعالی کے تمام احکامات کو مانا جائے

اللہ تعالی کے نازل کردہ احکامات کی اتباع اورپیروی کی جائے

اللہ تعالیٰ کے احکامات اوردین کا مذاق اڑانے یا اسے مذاق سمجھنے سے بہت زیادہ احتیاط کی جائے

اپنا مال اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی اوردین کی خدمت کے لیے خرچ کرنے کا اہتمام کیا جائے

اپنے مال کو کفرونفاق یا بے دینی کے فروغ میں استعمال کرنے سے بہت احتیاط کے ساتھ بچنا چاہئے

اللہ تعالی سے ملاقات کایقین دل میں ہو، اس ملاقات کا شوق ہو اوراس ملاقات کے لیے تیاری بھی کی جائے

اللہ تعالی کے ساتھ کفر کرنے والوں اوراسلام دشمنوں سے لاتعلقی اوربراء ت کا اظہار کیا جائے اوران کی دوستی یا ان کی پیروی سے بالکلیہ بچاجائے!

اللہ تعالی ہمیں قرآن کریم کی ان ہدایات پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آخر میں پھر ایک بار قرآن کریم کی ایک آیت کا ترجمہ دیکھ لیں:

’’وہ دن(یعنی قیامت کا دن) بالکل برحق ہے، پس جو شخص (اس دن کی حسرتوں اور عذاب سے نجات) چاہتا ہے(تواسے چاہئے کہ اللہ تعالی کی اطاعت اورفرماں برداری کر کے) اپنے رب کے پاس اپنا ٹھکانہ بنا لے‘‘۔ (سورہ النباء: ۹۳)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online