Bismillah

614

۲۹محرم الحرام تا۵صفر۱۴۳۸ھ   بمطابق ۲۰تا۲۶اکتوبر۲۰۱۷ء

شہرت پسندی (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 594 - Mudassir Jamal Taunsavi - Shohrat Pasandi

شہرت پسندی

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 594)

انٹر نیٹ اور پھر خصوصاً سوشل میڈیا مثلا فیس بک، ٹوئیٹر، واٹس اپ اور دوسری جانب کیمرہ، موبائل اور یوٹیوب وغیرہ جیسی چیزیں جہاں اپنے اندر فوائد رکھتی ہیں، وہیں بے پناہ فتنہ سامانی سے بھی لبریز ہیں۔

خاص کر شہرت پسندی اور ریاء کاری جیسے خطرناک فتنے کی آبیاری میں ان کا جو کردار ہے، وہ بہت قابل تشویش اور قابل علاج ہے۔

ہندوستان کے ایک عالم دین نے اس فتنہ سامانی پر فکر انگیز انداز میں جھنجھوڑا ہے۔ آپ بھی ان کا درد ملاحظہ کیجیے!

شہرت کا فتنہ اس دور کے خطرناک ترین فتنوں میں سے ایک ہے۔ بالخصوص یہ فتنہ علماء اور دینی کارکنان کو بہت تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ بسا اوقات ہمارے نہ چاہنے کے باوجود شہرت کا یہ فتنہ اپنے ساتھ بہت ساری برائیوں کو کھینچ لاتا  ہے۔ اسی لیے ہمارے سلف صالحین عموماً اپنے علمی کارناموں اور صلاحیتوں کے باوجود خمول اور گمنامی کے پردے میں رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔ ہمارے زمانے میں سوشل میڈیا وغیرہ نے تعلیم و تعلم کے میدان میں جہاں غیر معمولی انقلابات برپا کیے ہیں وہیں کسی چیز کی نشر و اشاعت کے معانی و مفاہیم بھی بدل ڈالے ہیں۔ اب وہ زمانہ گیا کہ کسی با صلاحیت خطیب اور اچھے قلم کار کی صلاحیتیں پردہ خفا میں رہ جاتی تھیں، اب سوشل میڈیا کے توسط سے کوئی بھی اپنی تحریر و تقریر کو لمحوں میں ہزاروں لاکھوں افراد تک پہنچا سکتا ہے۔ یہ ایسا میڈیا ہے جس کا دائرہ غیر محدود ہے، جس کی حدود ملکوں اور صوبوں سے ماورا ہے۔ اب دنیا کے کسی چھوٹے سے قریے میں کی جانے والی تقریر یا کسی دور افتادہ مقام میں بیٹھ کر لکھی جانے والی تحریر چشم زدن میں پوری دنیا میں سنی اور پڑھی جا سکتی ہے۔

ٹیکنالوجی کی ترقیات نے شہرت کے حصول کو انتہائی آسان کر دیا ہے۔ اب کتنے ایسے مقررین ہیں جو بولنے کا ہنر ضرور جانتے ہیں مگر علمی اعتبار سے یتیم ہیں، سوشل میڈیا کی وجہ سے آج انہیں غیرمعمولی شہرت حاصل ہے اور جب شہرت ملتی ہے تو ساتھ میں خود ستائی، کبر وغرور، تعلی اور خوشامد پسندی جیسی برائیاں بھی اپنے آپ پنپنے لگتی ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ برتن کے بالکل خالی ہونے کے باوجود صرف اس وجہ سے اسے غیر معمولی شہرت مل جاتی ہے کیونکہ اس کی آواز بہت خوبصورت ہوتی ہے۔

ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ دعوت و ابلاغ کے سلسلے میں ان وسائل کا استعمال نہ کیا جائے کیونکہ ان کی افادیت بہرحال مسلم ہے۔ لیکن کم وقت میں ڈھیر ساری شہرت کا حصول اچھے اچھے ذہنوں کو خراب کر دیتا ہے، انسان کی سوچ بدلتے دیر نہیں لگتی۔ آپ اندازہ لگائیے جب کسی کی تقریری صلاحیت کا اندازہ یوٹیوب پر اس کے زائرین ((viewers کی تعداد سے لگایا جانے لگے، جب تحریروں کا وزن انہیں شیئر ((share کرنے والوں کی تعداد کے اعتبار سے طے ہونے لگے، جب صلاحیتوں کا معیار سوشل میڈیا میں آپ کی ایکٹیوٹی کی بدولت متعین کیا جانے لگے تو پھر بھلا علم اور صلاحیت کو کون پوچھے؟ کون جاننے کی کوشش کرے کہ سامنے گرجنے والا شیر حقیقی ہے یا کاغذی؟ حقیقت یہ ہے کہ علمی اعتبار سے یہ بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے، یہ علم کے زوال کی علامت ہے۔

شہرت کی بھوک بھی بڑی عجیب چیز ہوتی ہے۔ انسان طبعاً شہرت کو پسند کرتا ہے اور اپنی تعریف سب کو اچھی لگتی ہے۔ سوشل میڈیا نے انسان کی اس فطری خواہش کو نیا روپ دے دیا ہے۔ انسان جیسے جیسے مشہور ہوتا چلا جاتا ہے خوش فہمیوں کا شکار ہونے لگتا ہے۔ لوگوں کے تعریفی تبصرے اسے خوش گمانی کے اس اوج ثریا پر پہنچا دیتے ہیں جہاں سے انسان جلدی اترنا نہیں چاہتا۔ پھر انسان ’’من ترا حاجی بگویم تو مرا ملا بگو‘‘ کا مصداق بن جاتا ہے۔ پھر وہ دوسروں کی جھوٹی تعریفیں صرف اس لیے کرنے لگتا ہے تاکہ اپنے حق میں ڈھیر سارے ستائشی کلمات بٹور سکے۔ پھر اسے جائز تنقیدیں بھی بری لگنے لگتی ہے۔ احتساب کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے اور ہر وہ شخص جو اس کے عیوب کی نشاندہی کرے اپنا شدید دشمن اور مخالف نظر آنے لگتا ہے۔

شہرت کے اس فتنے کا ایک اور روپ ہے اور بالخصوص خطباء اس کے شکار بہت آسانی سے ہو سکتے ہیں۔ جب ایک شخص خطابت کی دنیا میں شہرت حاصل کرتا ہے تو مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے مابین بھی مقبول و محبوب ہو جاتا ہے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ خواتین اپنے پسندیدہ مقررین سے رابطے کی کوشش کرتی ہیں۔ شروعات فون وغیرہ پر مسئلے مسائل اور سوال و جواب سے ہوتی ہے اور پھر مرد و عورت کے بیچ پائی جانے والی فطری کشش کی وجہ سے دونوں بآسانی شیطان کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں اور شہرت کا یہ فتنہ انسان کو بے حیائی اور بد کاری کے دہانے تک پہنچا دیتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم سوشل میڈیا کے اس پلیٹ فارم کا استعمال اپنی صلاحیتوں کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے استعمال کریں نہ کہ صلاحیتوں کو زنگ لگانے کے لیے۔ اس میدان میں ملنے والی شہرت سے دھوکہ نہ کھائیں، اپنا احتساب کرتے رہیں، اپنے ناقدین کو اپنا دشمن نہ سمجھیں، جو تنقید ہماری اصلاح کے لیے کی جائے اس کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور فوراً اپنی خامیوں پر قابو پائیں۔ خواتین کے سلسلے میں انتہائی محتاط رہیں، یہ کائنات کے شدید ترین فتنوں میں سے ایک ہے جس سے بچ پانا انتہائی مشکل کام ہے۔ ہم اگر ذرا سی دانشمندی کا ثبوت دیں تو ٹیکنالوجی کے یہ وسائل نہ صرف ہماری صلاحیتوں کو مناسب رخ عطا کریں گے بلکہ انہیں دن بدن نکھارنے کا کام بھی کریں گے۔ تعریف و ستائش کے خول سے نکلیے، شہرت کے پیچھے بھاگنے کی کوشش بالکل نہ کیجیے کہ علم اور صلاحیت کو برباد کرنے میں اس سے خطرناک کوئی فتنہ نہیں البتہ اگر خود سے مل رہی ہے تو اپنے آپ کو سنبھالیے اور اللہ کا شکر ادا کیجیے کہ آپ میں جو بھی کمال ہے اسی کی عطا ہے۔ بعض حکماء کا قول ہے کہ اس سے بڑی جہالت کوئی نہیں کہ آدمی اپنے آپ کو عالم سمجھنے لگے۔ علم کا میدان بہت وسیع ہے، کبھی بھی اپنی علمیت کا رعب جمانے کی کوشش نہ کیجیے۔ بڑے بڑے اساطین علم و فضل کی زندگیوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ علم کی طلب اور تڑپ کا جذبہ آخری سانس تک انسان کے اندر رہنا چاہیے۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں شہرت کے فتنے سے بچا کر رکھے، دعوت کی راہ میں کام کرنے والوں کی مدد فرمائے اور ہر شر سے ان کی حفاظت فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online