Bismillah

599

۲۷رمضان المبارک تا۳شوال المکرم ۱۴۳۸ھ        بمطابق      ۲۳تا۲۹جون۲۰۱۷ء

خوب خرچ کیجئے! (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 595 - Mudassir Jamal Taunsavi - Khoob Kharch Kijiye

خوب خرچ کیجئے!

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 595)

سنیے!مبارک ماہِ رمضان میں نبی کریمﷺکا مال خرچ کرنے کے لحاظ سے کیا معمول تھا؟

صحابہ کرامؓ نے رہنمائی فرمادی:

رمضان میں نبی کریمﷺ کی سخاوت سب دنوں سے بڑھ کر ہوتی تھی جو گویا تیز آندھی کی مانندہوتی تھی

 تیزآندھی سے تشبیہ دینے کا کیا مقصد؟حضرات محدثین آگے بڑھے اوراس کی وضاحت فرمائی :

(۱)جس طرح تیز آندھی سب کچھ اُڑا کرلے جاتی ہے ، اسی طرح نبی کریمﷺبھی اپنے پاس موجود سب مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں لُٹا دیا کرتے تھے

(۲)جس طرح تیز آندھی ہر چھوٹے بڑے اور دورونزدیک والے کو متاثر کرتی ہے، اسی طرح نبی کریمﷺکی سخاوت سے ہر چھوٹا بڑا اور ہر دور و نزدیک والا فائدہ اٹھاتا تھا

(۳)جس طرح عام ہوا، اُس وقت تیز آندھی کی شکل اختیار کرتی ہے جب اسے اللہ تعالی کا حکم ہوتا ہے، اسی طرح گویانبی کریمﷺ بھی اللہ تعالی کے احکام کی تعمیل میں خوب سخاوت کیا کرتے تھے

(۴)جس طرح تیز آندھی عام طور سے بارانِ رحمت کا پیش خیمہ ہوتی ہے، اسی طرح رمضان میں خوب سخاوت کرنا اللہ تعالی کی رحمت کو حاصل کرنے کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔

یہی مبارک مہینہ مجھے اورآپ کو بھی نصیب ہوچکا ہے اور اس مہینے کا مل جانا محض اللہ تبارک وتعالیٰ کا فضل واحسان ہے، تو کیا اللہ تعالی کی رحمتوں کو حاصل کرنے کے لیے ہم خوش دلی کے ساتھ اپنا مال خرچ اورخوب خرچ کرنے پر آمادہ ہیں؟

رمضان المبارک میں مال خرچ کرنے کی زیادہ ترغیب کیوں؟

اس سوال کا بہت مفصل جواب دیا ہے حافظ ابن رجب  نے، جو آٹھویں صدی ہجری کے ایک نامور صاحبِ علم ہیں۔ مختلف علمی ودینی موضوعات پر ان کی کتابیں ہیں اورسب ہی مقبول ومعروف ہیں۔ آپ نے اپنی مقبول کتاب لطائف المعارف میں یہ بتایا ہے کہ سات ایسی وجوہات اور فوائدہیں جن کا تقاضا یہ ہے کہ رمضان المبارک میںخصوصیت کے ساتھ مال خرچ کرنا چاہئے۔

پہلافائدہ: زمانے کی فضیلت: یعنی ر مضان المبارک تمام مہینوں میں سب سے زیادہ برکت وفضیلت والا مہینہ ہے، اوراس کی فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ اس میں نیک اعمال زیادہ سے زیادہ کیے جائیں تاکہ اس افضل ترین مہینے کی برکت سے ہمارے وہ نیک اعمال بھی افضل ترین بن جائیں اوریہ بات ظاہر ہے کہ مال خرچ کرنا خود ایک بڑی عبادت ہے اور فضیلت کی چیز ہے تو افضل ترین مہینے میں اس کے اہتمام کو مزید بڑھا دینا چاہئے۔ اس حقیقت کو نبی کریمﷺ کی تائید بھی حاصل ہے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: افضل صدقہرمضان میں کیا جانے والا صدقہ ہے۔ (ترمذی)

دوسرا فائدہ:دوسروں کی عبادات کے ثواب میں شرکت:تفصیل اس کی کچھ یوں ہے کہ رمضان المبارک عبادات، شب بیداری، روزہ داری، اور دیگر بہت سی عبادات کا خاص مہینہ ہے، جس میں ہر عبادت کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اب بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کچھ عبادات تو کر سکتا ہے جبکہ بہت سی عبادات ایسی ہوتی ہیں جو دل چاہنے کے باوجود نہیں کرسکتا، تو کیا اس طرح انسان اُن عبادات سے محروم رہ جائے؟ ہرگز نہیں! بلکہ اس کا آسان اور عظیم اجر والا راستہ یہ ہے کہ ان عبادت گزاروں، شب بیداروں، روزہ داروں، اورجہاد کرنے والوں پر اپنا مال خرچ کرے، اس طرح انہیں اس مال کی وجہ سے اپنی عبادات پر مدد اور قوت حاصل ہوگی اوراِس مدد کرنے والے کو بھی ان عبادات کا ویسا اجر ملے گا جس طرح خود ان عبادت کرنے والوں کوملتا ہے۔اسی حوالے سے نبی کریمﷺ کے دومبارک فرمودات سن لیں:

(۱)نبی کریمﷺکا فرمان ہے: جس نے کسی مجاہد کو سامانِ جہاد فراہم کیاتوگویا اس نے بھی جہاد کیا اورجس نے مجاہد کی غیرموجودگی میں اس کے گھروالوں کی خبرگیری کی تو گویا اس نے بھی جہاد کیا

(۲) نبی کریمﷺ کا فرمان ہے: یہ (رمضان کا) مہینہ(دوسروں کے ساتھ) غم خواری کا مہینہ ہے، اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے، چنانچہ جو شخص اس مہینے میں کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرادے تو یہ اس کے گناہوں کی معافی اور دوزخ سے نجات کا سبب ہوگا اوراس کی روزہ دار کے مانند اجروثواب دیا جائے گااورخود روزہ دار کے اجروثواب میں بھی کوئی کمی نہیں کی جائے گی (صحیح ابن خزیمہ)

تیسرا فائدہ: اَخلاقِ الہٰی کا نمونہ: آپ حضرات نے یہ فرمان سنا ہوگا:  تخلقوا باخلاق اللّٰہ۔ یعنی اللہ تعالی کے اخلاق اپناو۔ اب سمجھئے کہ رمضان وہ مہینہ ہے…

 جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خاص اور ڈھیروں ڈھیر رحمت اور مغفرت فرماتے ہیں اور بہت سوں کو جہنم سے خلاصی دیتے ہیں یہ سب اللہ تعالیٰ کی سخاوت اوراحسان ہے، تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ جو مسلمان اللہ تعالی سے محبت رکھتا ہے اوراللہ تعالی کے پسندیدہ اخلاق اپنے اندر پیدا کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ بھی اس مہینے میں سخاوت کا مظاہرہ کرے اور اپنا مال خرچ کرکے دوسروں کو نفع پہنچائے، بے بس اور لاچار مسلمانوں کا سہارا بنے، بے گھر افراد کی اشک شوئی کرے، بھوکے پیاسے مسلمانوں کو پانی پلائے اور کھانا کھلائے ، جہاد کی گرمی وسختی برداشت کرنے والوں تک فرحت وشادامانی اور راحت کا سامان پہنچائے، ان کے گھروالوں کی خبر گیری کرے، یہ بات تو طے ہے کہ جو اللہ تعالی کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی کرتے ہیں اورخاص کر اللہ تعالی کے ایسے محبوب بندوں کے ساتھ ہمدردی کرنا جو اس کی راہ میں تن من دھن قربان کرنے والے ہوں تو اللہ تعالی بھی ان پر اپنا فضل واحسان فرماتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ھل جزاء ا لاحسان الاالاحسان۔ یعنی: احسان کا بدلہ احسان ہی کی شکل میں دیا جاتا ہے۔

چوتھا فائدہ: جنت میں داخلے کا سبب: صدقہ اور روزہ ایسی عبادات ہیں کہ اگر یہ دونوں جمع ہوجائیں تو جنت میں داخلے کا سبب بن جاتے ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جنت میں ایک بالا خانہ ہے، جس کا ظاہر اس کے باطن سے اوراس کا باطن اس کے ظاہر سے نظر آتا ہے۔ صحابہ کرامؓ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ کس کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: اس شخص کے لیے جو اچھی بات کرے، کھانا کھلائے، ہمیشہ روزہ رکھے(یعنی:بہت زیادہ روزے رکھے) اور رات کو نماز پڑھے جبکہ لوگ سو رہے ہوں۔

اب اگر دیکھا جائے تو اس حدیث میں جن چار اعمال کا تذکرہ ہے وہ سبھی رمضان المبارک میں جمع ہوجاتے ہیں کیوں کہ: (۱) مومن رمضان میں روزہ دار بھی ہوتا ہے (۲) رات کو نماز بھی پڑھتا ہے (۳) صدقہ بھی خوب کرتا ہے (۴)قرآن پاک کی تلاوت اورذکر اذکار کے ذریعے منہ سے اچھی باتیں ہی نکالتا ہے۔ اس لیے رمضان المبارک میں روزوں، تراویح وتہجداورتلاوت وذکر کے ساتھ مال بھی بڑھ چڑھ کر خرچ کرنا چاہئے!!

ایک بزرگ فرماتے ہیں: نماز بندے کو آدھے راستے تک لے جاتی ہے، روزہ بندے کو بادشاہ کے دروازے تک پہنچا دیتا ہے جبکہ صدقہ بندے کا ہاتھ پکڑ کر بادشاہ کے سامنے لے جاتا ہے۔

پانچواں فائدہ: جہنم کی آگ سے نجات: جس طرح روزہ انسان کی شہوات اورخواہشات کی آگ کو بجھا دیتا ہے اسی طرح روزوں کے ساتھ اگر صدقہ وانفاق بھی جمع ہوجائے تویہ دونوں مل کر گناہوں کی معافی اورجہنم کی آگ سے نجات کا بہت بڑا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ چند احادیث مبارکہ دیکھیں یہ بات بخوبی سمجھ جائیں گے۔ ان شاء اللہ

ارشادفرمایا: روزہ تمہارے لیے دوزخ سے بچنے کے لیے ایسی ہی ڈھال ہے جیسا کہ لڑائی میں (دشمن کے حملے سے بچنے کے لیے) ایک ڈھال ہوتی ہے

ارشادفرمایا: صدقہ گناہوں (کی آگ) کو اس طرح بجھا دیتا ہے جیسا کہ پانی آگ کو

ارشاد فرمایا: آگ سے بچو، اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو!

ارشادفرمایا: قبر کی تاریکی سے بچنے کے لے رات کی تاریکی میں دو رکعتیں پڑھ لیا کرو، قیامت کی گرمی سے بچنے کے لیے گرمی کے شدت والے دن روزہ رکھ لیا کرو اورمشکل دن کے شر سے بچنے کے لیے صدقہ دیا کرو۔

چھٹا فائدہ: روزوں میں ہونے والی کوتاہیوں کا کفارہ: روزے میں جس طرح مخصوص وقت کے اندر کھانے، پینے اور بیوی کے ساتھ صحبت کرنا ممنوع ہے، اسی طرح اپنے ظاہروباطن کو گناہوں سے بچانا بھی لازمی ہوتا ہے ۔ جیسا کہ نبی کریمﷺ نے متنبہ فرمادیا ہے کہ: جو شخص (روزے کی حالت میں) گناہ والی باتیں اور گناہ والے کام نہ چھوڑے تو اللہ تعالی کو اس بات کی کئی حاجت نہیں ہوتی کہ وہ شخص اپنے کھانے پینے کو چھوڑ دے (بخاری)۔ الغرض روزہ کی حالت میں بہت احتیاط کرنا پڑتی ہے لیکن پھر بھی انسان چونکہ خطاکا پتلا ہے اس لیے کوئی نہ کوئی خلل اورنقصان ہو ہی جاتا ہے تو اس خلل اور نقصان کا تدارک اس طرح کرنا چاہئے کہ انسان بکثرت صدقہ وخیرات کرتا رہے اورخاص کر صدقہ فطر کا اہتمام کرے تاکہ روزوں میں ہونے والی کوتاہیوں کا تدارک ہوجائے اورانسان کا روزہ پاکیزہ حالت میں اللہ تعالی کے پاس پہنچ جائے اوراس کے لیے ذخیرہ آخرت بن جائے۔

ساتواں فائدہ: ایثارو ہمدردی: رمضان المبارک میں روزوں کی وجہ سے انسان میں کھانے، پینے کی شدید خواہشات جنم لیتی ہیں، اور عام طور سے انسان کھانے پینے کے کئی منصوبے بناتا ہے مگر جو شخص صدقہ خیرات کرتا ہے تو وہ گویا اپنی خواہشات اور تمناوںکو چھوڑرہا ہے اور اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کے غم، پریشانی، تکلیف اور سختیوں کو دیکھ کر ان پر احسان کرتا ہے، اپنی حاجت دبا کر دوسروں کی حاجت کو پورا کرنے میں ایثارکرتا ہے اوریوں یہ شخص ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہوجاتا ہے جن کی تعریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ویوثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ۔ یہ لوگ اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود فقروفاقہ اورتنگی میں کیوں نہ ہوں!

حضرت حسن بصری کے بارے میں آتا ہے کہ وہ خود بکثرت نفل روزے رکھتے تھے جس کی وجہ سے دن کو کھانے کی نوبت نہیں آتی تھی لیکن اپنے دوستوں کو ان اوقات میں کھانا کھلاتے، ان کو راحت وآرام پہنچاتے اور خود بھی ان کے ساتھ بیٹھ جاتے۔

امام المجاہدین حضرت عبداللہ بن مبارک کے بارے میں بھی بالکل ایسا ہی منقول ہے کہ وہ عام طور سے حج یا جہاد کے سفر میں رہتے تھے تو اس سفر کے دروان خود تو روزے رکھتے مگر اپنے ساتھیوں کو قسماقسم کے کھانے اور حلوے کھلاتے تاکہ انہیں راحت ہو۔

تو یہ ہے کہ اپنی خواہشات کو دبا کر دوسروں کو ترجیح دینا، اگر عام دنوں میں ایسا کرنا مشکل ہو تورمضان المبارک ایک ایسا مہینہ ہے جس میں یہ اجر وثواب باآسانی حاصل کیا جاسکتا ہے، کیوں کہ اس میں روزہ تو رکھنا ہی ہوتا ہے ، البتہ اگر روزے کے ساتھ خوب مال خرچ کر کے صدقات کا بھی اہتمام کرلیا جائے تو اس خوش نصیبی کے کیا ہی کہنے!!

امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:میں اُس آدمی کو بہت پسند کرتا ہوں جو ماہِ رمضان میں رسول اللہﷺکی اِتباع کرتے ہوئے اپنی سخاوت میں اضافہ کردیتا ہے(اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خوب مال خرچ کرتا ہے۔

الرحمت کی انفاق مہم جاری ہے اور اس کے مصارف بھی دین کے تمام اہم شعبوں کا شامل ہیں تو پھر کیوں نہ اس میں ہر روز اپنی پوری کوشش خرچ کرکے اس میں حصہ لیتے رہیں تاکہ شایدرسول اللہﷺکی اتباع کاوافرحصہ ہمیں نصیب ہوجائے اور یہ سعادت ہماری قسمت کو جگمگا دے!!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online