Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

اَفضل نعمت (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 597 - Mudassir Jamal Taunsavi - Afzal Naimat

اَفضل نعمت

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 597)

ایک صحابی جب نماز کی صف میں شریک ہوئے تو انہوں نے دعاء فرمائی: اے اللہ! مجھے وہ افضل چیز عطاء فرمائیے جو آپ اپنے نیک بندوں کو عطاء فرماتے ہیں! نماز کے بعد نبی کریمﷺ نے پوچھا کہ یہ دعاء کرنے والا کون تھا؟ اس صحابی نے عرض کیا کہ میں تھا۔ تو نبی کریمﷺ نے فرمایا: تب تو تمہارا اپنا خون بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں بہا دیا جائے گا اور تمہاری سواری کے پاؤں بھی کٹ جائیں گے یعنی سواری بھی ساتھ قتل ہو جائے گی۔

اس حدیث سے تین باتیں خاص طور سے معلوم ہوئیں:

شہادت وہ افضل ترین انعام ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو عطاء فرماتے ہیں

اس شہادت کی دعاء کرنا مرغوب و مستحسن ہے اور حضرات صحابہ کرام اس طرح کی دعائیں کیا کرتے تھے

نبی کریمﷺ نے اس دعاء پر ان صحابی کو شہادت کی بشارت دی اور اس دعاء سے منع نہیں فرمایا، اگر شہادت کی دعاء کرنا عافیت کے خلاف ہوتا تو رسول کریمﷺ اس صحابی کو اس دعاء سے منع فرمادیتے مگر آپﷺ نے منع نہیں فرمایا ۔

وہ مسلمان بہت خوش نصیب ہیں جو رمضان المبارک میں اس دنیا سے اچھی حالت میں جائیں اوراس سے اچھی حالت کیا ہوسکتی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان قربان کردے؟ شہادت خود ایک بڑا اعزاز ہے اور اگر یہ اعزاز رمضان المبارک میں نصیب ہوجائے تو خوش قسمتی کے کیا کہنے؟ سچ ہے کہ یہ سعادت زور بازوسے حاصل نہیں کی جاسکتی۔ بس اللہ تعالی اپنے فضل سے جسے چاہیں عطا فرمادیں۔

شہادت ایک عظیم رتبہ اور بہت بلند مقام ہے جو قسمت والوں کو ملتا ہے اور وہی خوش قسمت اسے پاتے ہیں جن کے مقدر میں ہمیشہ کی کامیابی لکھی ہوتی ہے، شہادت کا مقام نبوت کے مقام سے تیسرے درجے پر ہے، جیسا کہ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :تو ایسے اشخاص بھی ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اﷲ تعالیٰ نے انعام فرمایا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں۔(سورۃنساء :۶۹)

حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے کہ حضوراکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: جب بندے قیامت کے دن حساب کے لئے کھڑے ہوںگے توکچھ لوگ اپنی تلواریں گردنوں پر اٹھائے ہوئے آئیں گے ،ان سے خون بہہ رہا ہوگا، وہ جنت کے دروازوں پر چڑھ دوڑیں گے ،پوچھا جائے گا کہ یہ کون ہیں ؟ جواب ملے گا، یہ شہداء ہیں جو زندہ تھے اور انہیں روزی ملتی تھی ۔ (الطبرانی ،مجمع الزوائد)

شہداء کو اللہ تعالیٰ ایک ایسی اعلیٰ زندگی عطاء فرماتے ہیں کہ جس کا ہم شعور بھی نہیں کرسکتے۔ البتہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کسی شہید کی کرامت کے طور پر اس کی زندگی کے اثرات دنیا میں بھی دکھادیتے ہیں۔ حضرت ثابت بن قیس بن شماسؓ کا واقعہ مشہور ہے اور یہ واقعہ کئی صحابہ کرام اور مفسرین  نے ذکر فرمایا ہے ۔ حضرت ثابت کی بیٹی فرماتی ہیں کہ جب قرآن مجید میں یہ آیت نازل ہوئی :(ترجمہ )اے اہل ایمان! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو۔ (الحجرات:۲)

تو میرے والد گھر کے دروازے بند کرکے اندر بیٹھ گئے اور رونے لگے، جب  اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺنے انہیں نہ پایا تو بلاکر گھر بیٹھ رہنے کی وجہ پوچھی۔ تو انہوں نے عرض کیا :اے اﷲ کے رسول! میری آواز (طبعی طور پر) بلند ہے، میں ڈرتاہوں کہ میرے اعمال ضائع نہ ہو جائیں۔ حضور اکرمﷺنے فرمایا: آپ ان میں سے نہیں ہیں ،بلکہ آپ خیر والی زندگی جئیں گے اور خیر والی موت مریں گے، ان کی بیٹی کہتی ہیں کہ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی: ترجمہ: اﷲ تعالیٰ کسی اِترانے والے خود پسند کو پسند نہیں کرتا۔ (لقمان :۱۸)

تو میرے والد نے پھردروازہ بند کرلیا، گھر میں بیٹھ گئے اور روتے رہے، حضور اکرمﷺ نے جب انہیں نہ پایا تو انہیں بلوایا اور وجہ پوچھی۔ تو انہوں نے کہا: اے اﷲ کے نبی!میں تو خوبصورتی کو بھی پسند کرتاہوں اور اپنی قوم کی قیادت کو بھی۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا: آپ ان میں سے نہیں (جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے)بلکہ آپ تو بڑی پسندیدہ زندگی گزاریں گے اور شہادت کی موت پاکر جنت میں داخل ہوں گے۔

چنانچہ جنگ یمامہ کے دن جب خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں مسلمانوں نے مسیلمہ کذّاب پر حملہ کیا تو ابتداء میں مسلمانوں کو پیچھے ہٹنا پڑا،ا س وقت حضرت ثابت بن قیسؓ اور حضرت سالمؓ  نے فرمایا: ہم لوگ حضور اکرمﷺکے زمانے میں تو اس طرح نہیں لڑتے تھے ، پھر دونوں حضرات نے اپنے لئے ایک ایک گڑھا کھودا اور اس میں کھڑے ہوکر ڈٹ کر لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہوگئے ۔اس دن حضرت ثابتؓ  نے ایک قیمتی زرہ پہن رکھی تھی، ان کی شہادت کے بعد ایک مسلمان نے وہ زرہ اٹھالی ۔ اگلے دن ایک مسلمان نے خواب میں دیکھا کہ حضرت ثابتؓ اسے فرمارہے ہیں، میں تمہیں ایک وصیت کررہاہوں تم اسے خیال سمجھ کر ضائع نہ کردینا، میں کل جب شہید ہوا تو ایک مسلمان میرے پاس سے گزرااور اس نے میری زرہ اٹھالی، وہ شخص لوگوں میں سب سے دور جگہ رہتاہے اور اس کے خیمے کے پاس اس کا گھوڑا بندھا ہوا کود رہاہے اور اس نے میری زرہ کے اوپر ایک بڑی ہانڈی رکھ دی ہے اور اس ہانڈی کے اوپر اونٹ کا کجاوہ رکھاہوا ہے، تم خالد بن ولیدؓ کے پاس جائو اور انہیں کہو کہ وہ کسی کو بھجواکر میری زرہ اس شخص سے لے لیں،پھر جب تم مدینہ منورہ جانا تو حضور اکرمﷺ کے خلیفہ (حضرت ابوبکر صدیقؓ ) سے کہنا کہ میرے ذمے اتنا اتنا قرضہ ہے اور میرے فلاں فلاںفلاں غلام آزاد ہیں، (پھر خواب دیکھنے والے کو فرمایا:)اور تم اسے جھوٹاخواب سمجھ کر بھلامت دینا۔ چنانچہ(صبح ) وہ شخص حضرت خالد بن ولیدؓ  کے پاس آیا اور ان تک پیغام پہنچایا ،تو انہوں نے آدمی بھیج کر زرہ وصول فرمالی، پھر مدینہ پہنچ کر اس شخص نے حضرت ابوبکر صدیقؓ  کو پورا خواب سنایا توانہوں نے حضرت ثابتؓ کی وصیت کو جاری فرمادیا۔ ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے مرنے کے بعد وصیت کی ہو اور اس کی وصیت کو پورا کیا گیا ہو، سوائے حضرت ثابت بن قیسؓ  کے۔ (المستدرک )

شہادت ایسی لذیذ نعمت ہے کہ جسے مل جائے پھر اسے جنت کی نعمتوں میں بھی وہ لذت نہیں ملتی اسی لیے شہید دوبارہ زندہ کر شہادت پانے کی آرزو کرتا ہے اور یہ بات خود رسول کریمﷺ نے بتائی ہے۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: کوئی شخص جنت میں داخل ہونے کے بعد یہ تمنا نہیں کرے گا کہ اسے دنیا میں لوٹایا جائے یا دنیا کی کوئی چیز دی جائے…

 سوائے شہید کے کہ وہ تمنا کرے گا کہ وہ دنیا میں لوٹایا جائے اور دس بار شہید کیا جائے، یہ تمنا وہ اپنی (یعنی شہید کی) تعظیم دیکھنے کی وجہ سے کریگا۔ (بخاری، مسلم)

اس بارے میں ایک واقعہ جو فضائل جہاد کی کتابوں میںبکثرت موجود ہے قابل مطالعہ ہے :

شیخ عبدالواحد بن زید فرماتے ہیں کہ ایک دن جہاد کیلئے روانگی سے پہلے میں نے تلاوت قرآن پاک کا اعلان کیا اور ہم میں سے ایک نے یہ آیت پڑھیں : ان اﷲ اشتری من المومنین ۔(الی آخرہ)کہ اﷲ تعالیٰ نے ایمان والوں کی جان ومال کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے۔ یہ آیات سن کر ایک پندرہ سالہ نوجوان جس کا والداس کے لئے بے شمار مال چھوڑ کر انتقال کرچکا تھا، مجھے کہنے لگا :اے شیخ عبدالواحد! کیا اﷲ تعالیٰ نے ایمان والوں سے ان کی جان ومال کو جنت کے بدلے میں خرید لیا ہے ؟ میں نے کہا: ہاں بیٹا۔ اس نے کہا: میں آپ کو گواہ بناتاہوں کہ میں نے اپنی جان و مال کو جنت کے بدلے اﷲ تعالیٰ کو بیچ دیا ہے۔ میں نے کہا: بیٹا! تلوار اٹھانا آسان کام نہیں ہے، ایسا نہ ہو کہ تم پیچھے ہٹ جائو۔ اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ خرید وفروخت کا معاملہ کرکے پیچھے ہٹ جائوں، یہ کیسے ممکن ہے؟ اس نوجوان نے اپنا سارا مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں صدقہ کردیا اوراپنے پاس صرف گھوڑا ، اسلحہ اور جہاد کیلئے خرچہ رکھا اور کوچ کے دن ہمارے ساتھ شامل ہوگیا ۔میں نے اسے نفع مند سودے پر مبارک باد دی، وہ ہمارے ساتھ روانہ ہوگیا، دن کو وہ روزے سے ہوتا رات اس کی سجدوں میں گزرتی تھی، وہ ہماری اور ہمارے گھوڑوں کی خدمت میں لگا رہتاتھا اور بڑی چوکسی سے ہماری خدمت میں لگا رہتاتھا اور بڑی چوکسی سے ہماراپہرہ دیتاتھا ۔ جب ہم روم پہنچ گئے تو ایک دن وہ بے تابانہ آوازیں لگانے لگا: اے میر ی حور عینا! ساتھیوں نے کہا: شاید اس کی عقل میں کچھ فرق آگیا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا :اے بیٹے! کہا ں ہے تمہاری حورعینا؟ اس نے کہا: میں آج اونگھ رہا تھا کہ کوئی میرے پاس آیا اور مجھے ایسے باغات سے گزارتاہوا لے گیا جن میں صاف ستھرے پانی، سفید دودھ اور شراب کی نہریں تھیںان کے کنارے حسین وجمیل مثالی لڑکیا ں تھیں ،میں ان میں سے ہر ایک سے حور عینا کا پوچھتا،تو وہ کہتیں کہ وہ آگے رہتی ہے، ہم تو اس کی خادمائیں ہیں ،یہاں تک کہ میں شہد کی نہر تک پہنچا اور وہاں موتی کے محل میں میری ملاقات حور عینا سے ہوئی، گفتگو کے بعد جب میں نے اسے گلے لگانا چاہا تو اس نے کہا: ابھی نہیں، ہاں آج ہمارے ساتھ افطار کرنا ۔پھر میں بیدار ہوگیا اور اب مجھے شام تک صبر نہیں ہورہا۔ شیخ عبدالواحدؒ  فرماتے ہیں : ابھی ہماری یہ گفتگو ہورہی تھی کہ دشمن کا ایک گروہ آپہنچا، ہم میں سے سب سے پہلے اسی نوجوان نے حملہ کیا اور دشمنوں کو مار کر خود بھی شہید ہوگیا ۔ آخری بار میں نے اسے دیکھا کہ خون میں لت پت پڑا ہوا ہے بھرپور طریقے سے مسکرارہا ہے اور اسی حال میں اس نے دنیا فانی کوخیر باد کردیا۔ (فضائل جہاد)

الغرض دنیا سے جانا تو ہر ایک نے ہے، کسی نے بھی یہاں ہمیشہ نہیں رہنا مگر خوش قسمت ہیں وہ جو اللہ تعالی کی راہ میں اپنی جان وار جاتے ہیں، ان کے جانے پر پس ماندگان کو غم تو ضرور ہوتا ہے لیکن ان کا اچھا مستقبل یقینا ایک خوشی کی بات ہے اوراس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اداء کرنا چاہئے اوراپنے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے اچھی موت ہی مانگنی چاہئے!!

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online