Bismillah

606

۲۵ذیقعدہ تا۱ذی الحجہ۱۴۳۸ھ  بمطابق    ۱۸تا۲۴ اگست ۲۰۱۷ء

حماس کیا چاہتی ہے؟ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 598 - Mudassir Jamal Taunsavi - Hamas kia chahti hay

حماس کیا چاہتی ہے؟

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 598)

دنیا میں ایک بار پھر امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ سعودیہ عرب اور دورہ اسرائیل کے بعد فلسطین اور خاص کر وہاں کی بااثرمزاحمتی جہادی تحریک ’’حماس‘‘ کا وجود اور مستقبل زیر بحث ہے ۔ بہت سے لوگ تو یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ حماس ہے کیا اور وہ چاہتی کیا ہے؟ اس بارے میں خود حماس کو ہی حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی پوزیشن کے بارے میں جو وضاحت کرے وہی قابل قبول ہونی چاہئے۔ چنانچہ حماس کی طرف سے جاری کردہ عمومی منشور اور دستاویزات کا کچھ منتخب حصہ پیش خدمت ہے جس سے بہت سی معلومات بھی سامنے آتی ہیں ، فلسطین کے مسئلے کا پس منظر اور اہمیت بھی آشکارا ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ حماس کا منشور اور کاز بھی سامنے آجاتا ہے۔

’’فلسطین عرب فلسطینی عوام کی سرزمین ہے۔ انھوں نے اسی کی کوکھ سے جنم لیا  ہے، وہ اسی سے تعلق رکھتے اور اسی سے جڑے ہوئے ہیں۔ انھیں اس سے متعلق ابلاغ کا حق حاصل ہے۔سرزمین فلسطین کو اسلام نے وقار عطا کیا تھا اور اس کا درجہ بلند کر دیا تھا۔ اسلام کی روح اور اقدار اس میں رچی بسی ہیں اور وہی اس کے دفاع اور تحفظ  کے نظریے کی اساس مہیا کرتا ہے۔فلسطین ان لوگوں کا نصب العین (کاز) ہے جنھیں دنیا نے بے یارو مدگار چھوڑ دیا ہے۔ دنیا انھیں ان کے حقوق دلانے اور ان سے جو کچھ چھین لیا گیا تھا،اس کو لوٹانے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔فلسطینی عوام اپنی سرزمین پر دنیا کے بدترین قبضے کی شکل سے جنم لینے والے مسائل  ومصائب کو جھیل رہے ہیں۔فلسطین ایک ایسی سرزمین ہے جس پر ایک نسل پرست،انسانیت دشمن اور کالونیل صہیونی منصوبے نے غاصبانہ قبضہ کر لیا تھا۔اس کی بنیاد ایک جھوٹے وعدے (اعلان بالفور) پر طاقت اور جبرو استبداد پر رکھی گئی تھی۔فلسطین مزاحمت کی علامت ہے اور اس کو آزادی کی تکمیل تک جاری رکھا جائے گا۔ جب تک (فلسطینی مہاجرین کی) واپسی کا مقصد حاصل نہیں کر لیا جاتا، دارالحکومت بیت المقدس کے ساتھ ایک مکمل طور پر خود مختار ریاست قائم نہیں کر لی جاتی،اس وقت تک یہ مزاحمت جاری رہے گی۔

 اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) فلسطین کی قومی اسلامی آزادی اور مزاحمتی تحریک ہے۔ اس کا مقصد فلسطین کو آزاد کرانا اور صہیونی منصوبے کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس کی پہچان اسلام ہے،اسی سے اس کے اصول،مقاصد اور ذرائع اخذ کیے جاتے ہیں۔ 

فلسطین کی سرزمین مشرق میں دریائے اردن سے مغرب میں بحر متوسط اور شمال میں راس الناقورہ سے جنوب میں ام الرشراش تک ہے۔ یہ ایک باہم مربوط علاقائی یونٹ ہے۔ یہ فلسطینی عوام کی سرزمین اور ان کا گھر ہے۔

فلسطینی عوام کی اپنی ہی آبائی سرزمین سے جبری بے دخلی اور وہاں ایک صہیونی علاقے کا قیام ،فلسطینیوں کے اپنی تمام سرزمین پر حق کو کالعدم نہیں کر دیتا ہے اور نہ اس طرح صہیونیوں کو اس پر غاصبانہ قبضہ جمانے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔فلسطین ایک عرب اسلامی سرزمین ہے۔ یہ ایک مقدس سرزمین ہے اور اس کی ہر عرب اور مسلمان کے دل میں خصوصی جگہ ہے۔ 

اسلام اور فلسطین

فلسطین عرب اورا سلامی اُمہ کے قلب میں واقع ہے اور اس کو خصوصی درجہ حاصل ہے۔ فلسطین میں بیت المقدس (یروشلم) آباد ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی متبرک مقام عطا کر رکھا ہے۔فلسطین ایک مقدس سرزمین ہے۔اللہ نے اس کو انسانیت کی نعمت سے نوازا ہے۔ یہ مسلمانوں کا قبلہ اوّل ہے اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام معراج ہے۔ یہیں سے آپ کو آسمانوں پر لے جایا گیا تھا۔یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش ہے۔ یہاں ہزاروں انبیاء علیہم السلام  ،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور مجاہدین آسودہ خاک ہیں۔ یہ ان لوگوں کی سرزمین ہے جنھوں نے بیت المقدس اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے دفاع اور تحفظ کا عزم کر رکھا ہے۔ان کے اس عزم کو  متزلزل نہیں کیا جا سکا  اور نہ کیا جا سکتا ہے۔  ان کے کٹرمخالفین بھی انھیں ڈرا دھمکا نہیں سکے ہیں۔ وہ اس وقت تک اپنے مشن کو جاری رکھیں گے جب تک اللہ کا موعودہ وعدہ پورا نہیں ہو جاتا۔

 اسلام اپنے متوازن صراط مستقیم اور جامعیت پسندانہ روح کی بدولت حماس کے لیے ایک جامع طرز ِحیات مہیا کرتا ہے اور یہ تمام  ادوار اور ہر طرح کی جگہوں اور ہر طرح کے مقاصد کے لیے ایک بہترین لائحہ عمل ہے۔ اسلام امن اور رواداری کا دین ہے۔ یہ دوسرے مذاہب اور عقیدوں کے پیروکاروں کے لیے ایک چھتری مہیا کرتا ہے۔ اس کے تحت وہ مکمل سلامتی اور تحفظ  کے ساتھ اپنے عقائد پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں۔ حماس اس بات میں یقین رکھتی ہے کہ فلسطین بقائے باہمی،رواداری اور تہذیبی جدت کا ہمیشہ سے نمونہ رہا ہے اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔ 

 حماس یہ یقین رکھتی ہے کہ اسلام کا آفاقی پیغام سچ،انصاف،آزادی  اور وقار کی اقدار کا پاسدار ہے۔ وہ ناانصافی کی تمام شکلوں کی ممانعت کرتا ہے۔ وہ جابروں اور ظالموں کو مجرم ٹھہراتا ہے،خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب،نسل،صنف یا قومیت سے ہو۔ اسلام مذہبی،نسلی یا فرقہ وار انتہا پسندی اور تعصب کی تمام شکلوں کے خلاف ہے۔ یہ دین اپنے پیروکاروں کو جارحیت کے مقابلے اور مقہوروں کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہونے کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ اپنے پیروکاروں کو اپنی شناخت، اپنی سرزمین،اپنے لوگوں اور مقدس مقامات کے دفاع کے لیے قربانیاں دینے کا درس دیتا ہے۔ 

 القدس فلسطین کا دارالحکومت ہے۔ اس کا مذہبی، تاریخی اور تہذیبی مقام عربوں،مسلمانوں اور پوری دنیا کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔اس کے اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات فلسطینی عوام،عرب اور اسلامی اُمہ کا خاص ورثہ ہیں۔ القدس کی ایک اینٹ سے بھی دستبردار ہوا جا سکتا ہے اور نہ اس کو چھوڑا جا سکتا ہے۔القدس میں قابضین کی جانب سے شہر کو یہودیانے، برسرزمین اس کی ہیئت کو تبدیل کرنے اور آباد کاروں کے لیے تعمیرات ایسے اقدامات کی بنیادی طور پر کوئی حیثیت نہیں ہے اور وہ کالعدم ہے۔ 

 متبرک ومحترم مسجد الاقصیٰ پر خاص ہمارے عوام اور اُمہ کا حق ہے اور (صہیونی) قبضے کو اس پر کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ قبضے کی الاقصیٰ کو یہودیانے اور اس کو تقسیم کرنے کے لیے تمام سازشیں اور اقدامات غیر قانونی اور کالعدم ہیں۔

صہیونی منصوبہ 

 صہیونی منصوبہ نسلی،جارحانہ،نو آبادیاتی اور توسیع پسندانہ ہے۔ یہ دوسروں کی املاک پر قبضے پر مبنی ہے۔یہ فلسطینی عوام کے خلاف اور ان کی آزادی،واپسی اور حق خود ارادی  کے لیے امنگوں  کے منافی ہے۔ اسرائیلی ریاست صہیونی منصوبے کی آلہ کار اور اس کی جارحیت کی بنیاد ہے۔ 

صہیونی منصوبہ صرف فلسطینی عوام ہی کو ہدف نہیں بناتا ہے…

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online