Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

برکت اور جہاد (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 444 - Mudassir Jamal Taunsavi - barkat aur jihad

برکت اور جہاد

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 444)

کیا جہاد بھی ’’برکت‘‘ کا سبب ہے؟ بعض حضرات کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوا ہے اورجب ہم نے گزشتہ مضمون میں جہاد کو برکت کے اسباب میں شمار کیا توا نہوں نے اس کا اظہار کیا۔ اس لیے مناسب معلوم ہوا کہ اس حوالے سے مزید کچھ تفصیل سامنے رکھ دی جائے۔ اس لیے بات کو دوبارہ دھراتے ہیں کہ ’’برکت‘‘ کے اسباب میں سے ایک اہم سبب جہاد فی سبیل اللہ ہے، اور اس مبارک عمل کی بدولت انسان کے مال کے علاوہ اُس کی عزت اور اس کی جان میں بھی بے پناہ برکت رکھ دی جاتی ہے۔جس کی کچھ تفصیل اوراشارات درج ذیل ہیں:

جہاد سے عزت میں حاصل ہونے والی برکت کا اثر دیکھنا ہو تو اُس حدیث کا مضمون ذہن نشین کر لیں جس میں فرمایا گیا ہے کہ:’’ جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کے حق میں مجاہدین کی بیویوں کی ویسا ہی عزت اوراحترام ہے جیساان پیچھے رہ جانے والوں کی ماؤں کی عزت اوراحترام ہے‘‘۔ (مسلم وابوداؤد)

اور مجاہد کی جان میں ’’برکت‘‘ میں تو ایسی برکت رکھ دی جاتی ہے کہ اگر وہ دوران جہاد قتل ہوجائے تو اسے ’’شہادت‘‘ کی صورت میں حیات ابدی اور حیات خصوصی حاصل ہوجاتی ہے، جسے قرآن کریم اوراحادیث نبویہ میں بڑی تفصیل اوروضاحت کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے اور اگر مجاہد زندہ رہے اوردشمن پر غالب رہے تو اس جہاد کی برکت سے جس طرح کفار سے حاصل ہونے والے مال غنیمت کی شکل میں مسلمانوں کے مال میں اضافہ ہوجاتا ہے تو اسی طرح بہت سے کفار کے مسلمان ہوجانے کی صورت میں مسلم برادری میں بھی برکت ہوجاتی ہے اور ان کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ اب وہ خاص واقعہ ملاحظہ کیجیے جو دورصحابہ میں پیش آیا اوراسے امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی نقل فرمایا اوراس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ایک مجاہد کی وفات یا شہادت کے بعد بھی کس طرح اس کے مال میں برکت پیدا کی جاتی ہے۔ یہ واقعہ نہایت تفصیل کے ساتھ بخاری شریف میں موجود ہے۔ یہاں فضائل جہاد میں ذکر کردہ مختصر واقعہ نقل کیا جاتا ہے۔ ملاحظہ کریں:

حضرت عبداللہ بن زبیرؓ  فرماتے ہیں کہ جب [میرے والد]حضرت زبیرؓ جنگِ جمل کے دن [میدان میں] کھڑے ہو گئے ،تو اُنہوں نے مجھے بلایا ،میں ان کے پہلومیںکھڑا ہو گیا، انہوں نے فرمایا: اے میرے پیارے بیٹے! آج[کی لڑائی ]کے دن یا تو ظالم قتل ہوگا یا مظلوم اور میرا خیال ہے کہ میں آج مظلوم قتل کیا جاؤں گا اور مجھے زیادہ فکر اپنے قرضے کی ہے ،کیا تم سمجھتے ہو کہ قرضہ اداء کرنے کے بعد ہمارے مال میں سے کچھ باقی بچے گا ؟ اے بیٹے !میرا مال بیچ کر قرضہ اداء کر نا، پھر اگرقرضہ اداء کرنے کے بعد مال میں سے کچھ بچ جائے تو اسکا تیسرا حصہ تمہار ے بیٹوںکے لئے ہوگا۔

حضرت عبداللہ بن زبیرؓ  فرماتے ہیں کہ میرے والد مجھے قرضے کی ادائیگی کی تاکید کر تے رہے اور فرمایا کہ اے بیٹے !اگر تم قرضے کی ادائیگی میں کہیں عاجز آجاؤ[اور مشکل میں پڑ جاؤ] تو میرے مولیٰ سے مدد طلب کرنا۔حضرت عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا تھا کہ مولیٰ سے ان کی مراد کیا ہے، [کیو نکہ عربی زبان میں مولیٰ کئی معانی میں استعمال ہوتا ہے ] یہاں تک کہ میں نے پوچھا :اے ابا جان! آپ کا مولیٰ کون ہے ؟فرمایا: اللہ تعالیٰ میرا مولیٰ ہے ۔حضرت ابن زبیر کہتے کہ اللہ کی قسم! ان کے قرضے کے بارے میں جب بھی مجھے کوئی پریشانی لاحق ہوئی، تو میں پکار اٹھا کہ اے زبیر کے مولیٰ !زبیر کا قرضہ اداء فرما دے، تو اللہ تعالیٰ ضرور کوئی صورت پیدا فرمادیتے۔ چنانچہ پھر ایسا ہی ہوا کہ حضرت زبیر اس جنگ میں شہید ہوگئے، انہوں نے نہ کوئی درہم چھوڑ ا نہ دینار، البتہ دو زمینیں چھوڑیں جن میں سے ایک غابہ کی زمین تھی اور گیارہ مکان مدینہ میں، دو بصرہ میں، ایک مکان کوفہ میں اور ایک مصر میں تھا۔

حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر کا یہ قرضہ [کسی فضول خرچی کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ ]اس لئے تھا کہ جب کوئی آدمی ان کے پاس کوئی مال امانت رکھتا تھا تو حضرت زبیر  فرمادیتے یہ امانت نہیں ہے ،بلکہ میرے ذمہ قرضہ ہے، تاکہ ضائع ہونے کی صورت میں تمہیں اس کا ضمان اداء کر سکوں ۔ ابن زبیر  فرماتے ہیں کہ میرے والد نے نہ کبھی حکومت کا کوئی عہدہ قبول کیا اور نہ کبھی خراجی زمین گروی رکھی اور نہ ہی کوئی اور ذریعۂ آمدنی تھا مگر یہ کہ وہ حضور ﷺ ، حضرت ابو بکرصدیق ،حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ہمراہ جہاد میں حصہ لیتے رہے، [بس اسی جہادکا مال غنیمت ان کے پاس تھا ]۔ حضرت عبداﷲ فرماتے ہیں کہ میں نے ان کے قرضے کا حساب لگایا تو وہ بائیس لاکھ روپے بنتا تھا ۔

[اسی دوران]حضرت عبداﷲ بن زبیر سے حضرت حکیم بن حزام ملے اور فرمانے لگے :اے بھتیجے !میرے بھائی پر کتنا قرضہ ہے ؟ حضرت عبداﷲ بن زبیر  فرماتے ہیںکہ میں نے قرضے کی صحیح رقم ان سے چھپا لی، [کیو نکہ کچھ قرضہ اداء ہو چکا تھا ]۔میں نے کہا :ایک لاکھ روپے قرضہ ہے ۔ حضرت حکیم بن حزام نے فرمایا کہ اﷲ کی قسم! میرے خیال میں تو تمہاری ساری جائیدادبھی اتنے قرضہ کی ادائیگی کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔ اس پر حضرت عبداﷲنے کہا :اگر وہ قرضہ بائیس لاکھ روپے ہو تو پھر کیا خیال ہے ؟انہوں نے فرمایا: میرے خیال میں تم لوگ اسکی ادائیگی کی طاقت نہیں رکھتے … حضرت زبیر نے غابہ کی زمین ایک لاکھ ستر ہزار میں خریدی تھی،حضرت ابن زبیر نے اسے سولہ لاکھ میں بیچ دیا اور اعلان فرمادیا کہ جس شخص کاحضرت زبیر پر قرضہ ہو وہ غابہ کی زمین پر آکر ہم سے وصول کرے۔

[اسی طرح سارا قرضہ اداء ہوتا گیا ]جب حضرت ابن زبیر  قرضے کی ادائیگی سے فارغ ہو گئے تو حضرت زبیر کے دوسرے بیٹوں نے کہا کہ ہماری میراث ہمارے درمیان تقسیم کر دیجئے۔حضرت عبداﷲ بن زبیر نے کہا کہ اﷲ کی قسم! میں اس وقت تک میراث تقسیم نہیں کروں گا، جب تک حج کے موقع پر چار سال تک اعلان نہ کر دوں کہ جس کا حضرت زبیر پر قرضہ ہو، آکر ہم سے وصول کر لے، چنانچہ حضرت عبداﷲ ہر سال حج کے موقع پر اعلان کرتے رہے ،اور پھر چار سال گزرنے کے بعد آپ نے میراث تقسیم کر دی ۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت زبیر کی چار بیویاں تھیں،قرضے سے باقی بچے ہوئے مال کا ایک تہائی وصیت پوری کرنے کے لئے نکال لیا گیا، [پھر باقی مال کا آٹھواں حصہ چار بیویوںکو دیا گیا تو ]ان کی ہر بیوی کو بارہ لاکھ روپے ملے ،[یعنی ] ان کا کل متروکہ مال پانچ کروڑ دو لاکھ روپے بنا۔ واﷲاعلم۔ (بخاری مختصراً)

٭…٭…٭

گزشتہ چند دہائیوں میںمسلم دنیا کو دو جابر ترین قوتوں کے خطرات اور سازشوں کا سامنا کرنا پڑا اوراللہ تعالی کے فضل سے مجاہدین اورجہاد پسند مسلم حلقوں کی کاوشوں سے ان دونوں جابر طاقتوں کا تکبر وغرور خاک میں ملادیا گیا اور کل اگر روس کے جارحانہ عزائم بکھر جانے سے مسلم ممالک کو ایک ٹھنڈا سانس لینے کی نعمت حاصل ہوئی تھی تو اس وقت امریکہ جیسی جابر طاقت کی شکست کی صورت میں ایک اورٹھنڈا سانس نصیب ہورہا ہے۔ الحمد للہ علیٰ ذلک

ان دوعبرت انگیز تاریخی انقلابات کے باوجود مسلم دنیا ابھی تک ’’خودکفالت‘‘ والے راستے کی جانب کیوں گامزن نہیں ہورہی؟ آخر کب تک مسلم دنیا وقت کی جابرطاقتوں کا سہارا تلاش کرتی رہیں گی؟ جب روس اٹھاتھا تو بہت سے مسلم ممالک امریکہ کی گود میں پناہ لینے کو دوڑے تھے اور پھر جب امریکہ چڑھ آیا تو اس کا مقابلہ کرنے کی بجائے اس کے غلام بن گئے، آخر ایسا کیوں؟ اس وقت اکثر مسلم ممالک اپنے ملکی یا معاشی تحفظ کے پیش نظر عالَم کفر کی قائم کردہ تنظیموں کے رُکن بنے ہوئے ہیں اور سب مسلم ممالک مختلف بلاکوں میں تقسیم ہوکر اپنی قوت اور طاقت کھوے ہوئے ہیں مگر ان کو کچھ بھی احساس نہیں ہے۔

اس وقت جب کہ عالمی ریچھ امریکہ اور اس کے حواری افغانستان میں جہادی قوت سے ٹکرا کر پاش پاش ہوئے شکست خوردہ واپس جارہے ہیں تو یقینا اب ایک ایسا موقع ہے کہ عالَمِ اسلام اپنے اتحاد اوریگانگت کی راہیں تلاش کرے اور تمام مسلم ممالک اپنے اسلامی رشتۂ اِتحاد کو سامنے رکھ کر کافروں کی قائم کردہ تنظیموں کی رکنیت سے نکلنے اور آپس کے متحدہ نظام اورمتحدہ بلاک کے قیام کی طرف متوجہ ہوں۔ یہ ایک ایسا سنہری موقع ہے کہ اگر تمام مسلم ممالک اخلاص، نیک نیتی، مسلم عوام کی فلاح وبہبود اورمسلم ممالک کے مفادات کے تحفظ کے لیے قدم بڑھا ئیں تو یقینا عالَمِ اسلام کی تنزلی اور درماندگی کا دور ختم ہوکر ترقی اور امن وامان کا دور شروع ہوجائے گا… لیکن اگر اس موقع پر عالم اسلام نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور سب اسی طرح بکھرے ہوئے کفریہ بلاکوں کی رکنیت کو اپنے تحفظ اور دفاع کے لیے کافی سمجھتے رہے تو ایسا سوچنا انتہاء درجے کی غلط فہمی اور ناعاقبت اندیشی ہے اور اس کا وبال اس طرح ظاہر ہوگا کہ مسلم ممالک میں عالمی کفریہ طاقتوں کی عسکری یاسیاسی ومعاشی مداخلت کی وجہ سے جاری قتل وغارت میں اضافہ ہوگا اور انہی عالمی کفریہ طاقتوں کی مداخلت کی وجہ سے جو فکری انتشار معاشرے کو تقسیم درتقسیم حتیٰ کہ خانہ جنگی کی طرف لے کر جارہا ہے اس کا سدّباب بھی ناممکن ہوجائے گا۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ عالم اسلام کی سربرآوردہ شخصیات متحرک ہوں اور مسلم ممالک کے حکمران اس پیش منظر کے ہولناک منظر نامے کو سامنے رکھیں اور خاص کر کفریہ طاقتوں کی جارحیت کا شکار ممالک میں جو مسلم قوتیں اس جارحیت کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں اوران کافروں کی جارحیت کو پسپا کرچکے ہیں ان قوتوں کو اپنا بھائی سمجھیں اوران کے ساتھ اخلاص کے ساتھ اخوت کا ہاتھ بڑھائیں اور ان خطوں میں ان کی قوت کو تسلیم کرکے ان کے ساتھ معاملات طے کریں اور عالم اسلام کے دیگر مسائل میں ان کی رائے اور شرکت کو موثر درجہ دیں اور جس قدر ان مسلم طاقتوں کے ساتھ اخوت کا ہاتھ بڑھاتے جائیں اسی قدر بلکہ اس سے بھی تیز تر کفار کی قائم کردہ تنظیموں سے لاتعلق ہونا شروع ہوجائیں تو اس طرح ممکن ہے کہ عالم اسلام میں اتحاد کی راہ ہموار ہوجائے جو اس وقت تمام عالم اسلام کی اہم ترین ضرورت ہے اور اب اگر ان حقائق سے چشم پوشی کی گئی تو عالم اسلام اندرونی طور پر جس خلفشار کو شکار ہوگا وہ بیرونی حملوں سے بھی زیادہ خطرناک نظر آرہا ہے، جس کا سدباب کرنا ابھی سے ضروری ہے اوریہ کچھ مشکل بھی نہیں ۔بس ایک عزم تجدید اور عزم تبدیل کی ضرورت ہے جسے قرآن کریم نے یوں بیان کیا ہے:

ترجمہ:’’ بے شک اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتے جب تک کہ وہ خود اپنی حالت نہ بدل لے‘‘ (الرعد: ۱۱)

عالم اسلام نے پہلے اپنی حالت یوں بدلی کہ کفار کی تنظیموں کی رکنیت میں پناہ گزیں ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں انہی کافروں کے حوالے کردیا ، اب اگر اپنی حالت تبدیل کرکے مسلمان اتحاد کی طرف بڑھیں اور اخوت اسلامی کا شعار زندہ کریں تو اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت بھی ان کے ساتھ ہوجائے گی اور پھر مسلمان، کفار کی گرنیں ناپنے کے لیے آگے بڑھیں گے اور عالَم کفر ان سے سلامتی کی بھیک مانگے گا۔ ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor