Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

کشمیر کا سوال (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 602 - Mudassir Jamal Taunsavi -Kashmir ka sawal

کشمیر کا سوال

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 602)

یہ ایک شہید کے نماز جنازہ کی تصویر دیکھیں۔

دوست نے اخبار میں چھپنے والی ایک تصویر آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔

کافی دیر تک تو میں اسے دیکھتا ہی رہا بلکہ دنگ سا رہ گیا،

کچھ سمجھ نہ آئے کہ اس پر کیاکہوں؟ اور کون سے تاثرات کا اظہار کروں؟

یہ کشمیر کا ایک چھوٹا قصبہ تھا مگر عوام ایسے امڈآئی ہے کہ بلا مبالغہ پورے کا پورا قصبہ گھروں سے باہر نکل چکا ہے۔

یوں محسوس ہوتا کہ یہ شہید کوئی مہمان نہیں بلکہ اس قبیلے کا کوئی نہایت ہی محترم اور سلسلہ در سلسلہ چلاآنے والا کوئی روحانی و مذہبی پیر اور بزرگ تھا جس کی جدائی پر یہ سب اس طرح جمع ہوگئے ہیں۔

ایک طرف مردوں کا ہجوم تھا تو دوسری جانب عورتیں بھی اس شہید سے اپنی محبت اور بھارتی سامراج سے آزادی کے جذبات کا اظہار کرنے میں نہ کسی سے پیچھے تھیں اور نہ ہی انہیں بھارتی سورماوں سے کوئی خوف تھا۔

یہ منظر اگر انوکھا ہوسکتا ہے تھا تو میرے لیے اور میرے جیسے ان سب کے لیے جو ان مظلوموں کا درد سمجھنے اور ماننے سے بہت دور ہیں ۔

ورنہ خود کشمیر کا ایک ایک شہر اور ایک ایک قصبہ اس جیسے مناظر کا شاہد ہے اور ہزاروں بار وہ ایسے مناظر اپنے دامن میں محفوظ کیے ہوئے ہیں۔

نڈر، بے باک، جرات و ہمت کے پیکر، اپنے مقصد سے لگاؤ، اپنے مقصد پر کامل توجہ اور اس راہ کی ہر رکاوٹ کو ٹھکرا دینا …یہ کشمیری قوم کا وہ مزاج ہے جس نے آج بھی اس تحریک کو زندہ رکھا ہے بلکہ خود کشمیر اور کشمیری قوم کو بھی زندہ رکھا ہوا ہے۔

ورنہ ایک نظر اُدھر بھارت میں ڈال لیجئے جہاں ایک وقت ریاست ٹونک، ریاست حیدر آباد، ریاست میسور اور دیگر بھی کئی بڑی بڑی اور نہایت مضبوط و خوش حال اسلامی ریاستیں ہواکرتی تھیں مگر اب وہ سب ماضی کا ایک قصہ پارینہ بن چکیں، وہاں سلاطین بھی تھے اور ان کی سپاہ بھی مگر جب ایک وقت میں مزاحمت ترک ہوئی تو بس پھر نہ وہ ریاست باقی رہی اورنہ اس ریاست کے باشندوں کا اپنا کوئی تشخص اور پہچان باقی رہے۔

اس کے برخلاف کشمیری قوم کے پاس نہ تو سلاطین ہیں اور نہ ہی سپاہ، مگر جذبہ حریت وہ طاقت ہے جس نے مدمقابل فریق کی ہرطاقت کو زیر کر دیکھایا ہے اور ہندو مشرک ہر دن اور ہر رات مرغ بسمل کی طرح تڑپتے ہیں مگر اس جذبہ حریت کو اس قوم سے کھرچ دینا تو دور کی بات ماند بھی نہیں کرسکے۔

کشمیر کی تحریک اور وہاں کے جانبازوں کے بارے میں مختلف تبصرے کرنے والے اوران کی قربانیوں کو دوچار گھسے پٹے سوالوں سے بے وقعت بنانے اوران کے ساتھ تذلیل کا مزاج اپنانے والے کاش کہ ایک بار اخلاص سے ان قربانیوں اور کشمیری قوم کے اپنے ان محسن مجاہدین اور شہداء کے ساتھ والہانہ محبت اور عقیدت کو دیکھ لیتے تو کتنی ہی الجھنوں اور سوالوں کا انہیں خود ہی جواب مل جاتا۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہماری قوم اور خاص کر موجودہ نسل نے آزادی کے لیے دی جانے والی قربانیوں میں نہ تو کوئی حصہ لیا ہے اور نہ ہی کوئی براہ راست مشاہدہ انہیں میسر آسکا ہے۔ ادھر مغربی عیش پسند سیلاب نے اخلاقی قدروں اور اعلی انسانی اخلاقیات کا مزاج بگاڑ دیا ہے ۔ اس لیے کوئی سمجھ ہی نہیں پا رہا کہ یہ تحریک کشمیر کیاہے؟ اور کیوں کر ہے؟ اور اس تحریک کو زندہ رکھنے والے کیوں اپنی جانیں گنوا رہے ہیں؟

یہ سوال ان لوگوں کے ذہنوں میں بھی ابھرتا ہے جو خود ذہنی غلامی میں مبتلا ہیں یا پھر اسی کو اپنی ترقی سمجھتے ہیں ، اب بھلا ایسے لوگ ان حریت پسندوں کے قافلے کے مزاج کو کیسے سمجھ سکتے ہیں؟

یہ عیش پسندی کبھی کبھار نیکی کی شکل میں بھی دھوکہ دیتی ہے۔ حضرت سید احمد شہید رحمہ اللہ کے قافلے میں جب جہادی پرمشقت زندگی شروع ہوئی، دن رات کام ، اور کام بھی ایسے کہ کبھی لکڑیاں کاٹی جارہی ہیں، کبھی جہادی سواریوں کے لیے گھاس کاٹا جارہا ہے، ان جانوروں کی خدمت کی جارہی ہے، مجاہدین کے لیے کھانا پکانا، صبح و شام آگ اور دھوئیں کا سامنے ، الغرض کچھ ہی دنوں میں چہروں کی رنگ بدل گئی، نرم و نازک ہاتھ کھردرے ہونے لگے تو ایک دن کچھ احباب نے سوال کرہی دیا کہ حضرت! جب ہم وہاں ہندوستان میں تھے اور ذکر و فکر ہی بس مشغول رہا کرتے تھے تو چہروں پر بڑا نور محسوس ہوتا تھا مگر اب جب کہ افضل ترین عمل جہاد میں نکلے تو وہ نور محسوس نہیں ہوتا؟ اس کا کیا سبب ہوگا؟ حضرت سید صاحب نور اللہ مرقدہ نے جواب میں جو فرمایا اس کا مفہوم یہ تھا کہ : میاں! وہ نور سہل پسندی اور آرام پسندی کا تھا، وہ کوئی روحانی نور نہیں تھا، ہاں اب جو نور حاصل ہورہا ہے وہ اصل روحانی اور ایمانی نور ہے اور اس کا اصل ادراک آخرت میں ہوگا۔

بات دور نہ نکل جائے تو کہنا یہ ہے کہ جس قوم پر جبر و قہر اور ظلم و ستم سے غلامی کو مسلط کیا جائے تو وہ قوم اگر خوددار ہو تو تب تک چین سے بیٹھ ہی نہیں سکتی جب تک کہ اسے منزل مقصود مل نہ جائے۔ اگر ہوسکے تو اسی برصغیر کو انگریزوں سے آزاد کرانے کی تحریکات اور جد وجہد پر ایک نظر ڈال لی جائے کہ کس طرح نسل در نسل یہ سلسلہ چلا، حالانکہ شاید یہ بات غلط نہ ہوگی کہ ہندومشرک حکمرانوں کے مقابلے میں انگریز حکمران کچھ بہتر ہی ہوں گے مگر پھر بھی آزادی کے متوالے ان سے نبرد آزما رہے اور ہر اس راہ کو اپنایا جو ان کی منزل کی قریب سے قریب تر کر سکتی تھی ۔ اورانہوں نے یہ سب کچھ اس لیے کیا کہ یہی ہر زندہ قوم کا مزاج ہوتا ہے۔

ہاں جب کسی قوم میں طاؤس و رباب کی کثرت ہوجائے، حکمران اور مالدار طبقہ عیش و عشرت میں ڈوب جائے اور اسی عیش و عشرت کا سامان زیادہ سے زیادہ مہیا کرنے کو اپنا مقصد بنالے تو پھر اس قوم کی حالت بگڑ جاتی ہے اور اس میں بلند ہمتی ناپید ہونے لگتی ہے۔

اقبال مرحوم نے بالکل درست تعبیر کی ہے کہ:

آ تجھ کا بتاؤں تقدیر اُمم کیا ہے

شمشیر و سناں اول ، طاؤس و رباب آخر

آج ایک بار پھر کشمیری مسلمان ہم سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ : کیا تم اس جدوجہد میں ہمارے ساتھ رہو گے؟ اور نہیں تو کم ازکم اتنی مہربانی ضرور کروکہ ہماری اس جدوجہد کے اخلاقی وشرعی جواز کوسچے دل سے تسلیم کر لو!!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor