Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

ہندو دہشت گردی (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 604 - Mudassir Jamal Taunsavi - Hindu Dehshat Gardi

ہندو دہشت گردی

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 604)

انتہا پسندی کسی بھی قسم کی ہو وہ انسانیت کے لئے زہر قاتل ہوتی ہے۔ انتہا پسند تحمل، رواداری، مساوات جیسے سنہری اصول وہ اپنے جوتے کی نوک پر رکھتا ہے۔ بھارت جو اپنے آپ کو سیکولر اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ اس کے سیکولرازم کا یہ حال ہے کہ بھارت میں ہندووں کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے کی جان و مال محفوظ ہی نہیں اور جمہورت کا پردہ اس وقت چاک ہو جاتا ہے جب دوسروں کی مذہبی آزادی اور رائے کا احترام نظر نہیں آتا۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد ہندو انتہاء پسندوں نے نفرتوں کے جو بیج بوئے تھے اس کی فصل اتنی تن آوار اور توانا ہو چکی ہے کہ بھارت ایک سیکولر جمہوری ملک کے بجائے نفرت، تشدد اور قتل وغارت کے ملک کے طور پر دنیا بھر میں جانا جا رہا ہے۔

بھارت کے اندر بسنے والے مسلمان تو انتہا پسند مذہبی جنونیوں کا خاص نشانہ ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جس دن بھارت میں مذہب کے نام پر قتل وغارت نہ ہوتی ہو، مسلمانوں کی مسجدیں،راہ چلتے مسافر اور بے سہارہ وتنہا مسلمان اور دیگر کمیونٹی کے افراد کا تو جینا محال کردیا گیا ہے۔ انتہا پسند براہمن ہندوں کے ہاتھوں خود ہندوکمیونٹی کم ذات جسے شودر کہا جاتا ہے، بھی محفوظ نہیں۔ جب سے نریندر مودی وزیر اعظم کے منصب پر فائر ہوئے ہیں ہندو دہشت گردی اور ہندو توا کے نام پر قتل وغارت گری اور بے کسوں پر ظلم و تشدد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، یہی موصوف جب گجرات کے وزیراعلی تھے تو اس وقت سانحہ گجرات ہوا، جس میں تقریباً ۷۰۰۰ مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے نے بھارت کے جمہوری ا ور سیکولر چہرے کو داغ دار کر دیا تھا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت آنے کے بعد بھارت میں مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی جاتی ہے اور تازہ ترین واقعے میں انتہا پسند ہندووں نے مسلمانوں کو زندہ جلاتے ہوئے درجنوں گھروں کو آگ لگا دی۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم کش فسادات کا یہ واقعہ بھارتی ریاست بہار میں پیش آیا جہاں پٹنہ شہر کے قریب ایک گاوں میں ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں کی بستی پر حملہ کر دیا اور ان کے  سے زائد گھروں کو نذر آتش کر دیا جس کے نتیجے میں  مسلمان جل کر شہید ہوگئے۔ ہندو بلوائیوں نے الزام لگایا کہ مسلمانوں نے ایک ہندو نوجوان کو قتل کیا تھا تاہم اس حوالے سے ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں کہ آیا لڑکے کا قتل مسلمانوں نے کیا بھی تھا یا نہیں جب کہ پولیس نے افراد کوگرفتار کرکے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے اسی طرح بھارتی ریاست آسام میں مقامی قبائل کی مسلح تنظیم نے حامی جماعت کو ووٹ نہ دینے پر مسلمانوں کو قتل کردیا تھا، جبکہ دو برس قبل بھی آسام میں مقامی قبائل اور وہاں مقیم مسلمانوں کے درمیان بڑے پیمانے پر فسادات ہوئے تھے جن میں درجنوں مسلمان جاں بحق ہوگئے تھے۔ مذہبی انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف مسلسل کارروائیوں کے بعد بھارت کے مسلمان نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ حالیہ واقعے جس میں چار مسلمانوں کو زندہ جلا دیا گیا ہے نے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے کہ کیا بھارت میں بنا تحقیق کے قتل و غارت جائز قرار دیدی گئی ہے؟ کیا بھارتی حکومت مذہبی انتہا پسند جنونیوں کے ہاتھوں اتنی بے بس ہو چکی ہے کہ مذہب کے نام پر کوئی بھی ہجوم کی شکل میں مسلمانوں کے گھروں کو جلا دے اور ریاست خاموش تماشائی بنی رہے؟

مسلمان صحافی اطہر الدین نے کہا 26 سال سے صحافت کر رہا ہوں، میں نے 28 جون 2017ء کو اپنے 91 سالہ والد، 85 سالہ والدہ، اپنی بیوی اور دو بچوں کے ہمراہ بہار کے ویشالی ضلع کے کاجی گاؤں سے اپنے ننھیال ضلع سمستی پور کے رحیم آباد گاؤں جانے کیلئے سفر کا آغاز کیا، راستے میں بجرنگ دل کے انتہا پسند ہندوؤں نے روک کر جے شرم رام کے نعرے لگوائے۔

 اسی طرح اخبارات میں یہ خبر بھی زینت بنی کہ نتیش حکومت کے اکلوتے منتازعہ مسلم وزیر خورشید عرف فیروز احمد نے بھی جے شری رام کا نعرہ لگایا اور ’’رام ‘‘ اور ’’رحیم‘‘ کو ایک قرار دیا اب یہ تو معلوم نہیں کہ انہوں نے اس کاارتکاب کسی مجبوری کی وجہ سے کیا یا محض سیاسی مقبولیت پانے کے لیے مگر بھلا بہار کے امیر شریعت کا کہ انہوں نے اس مسلم وزیر کے اس اقدام کو کفر قراردیا تب وہ مسلم وزیر سوچنے پر مجبور ہوئے اور انہوں نے امیر شریعت کی خدمت میں حاضر ہو کر توبہ کی اور معافی مانگی۔ جب ایک مسلم وزیر پر اس قدر دباؤ ہو کہ وہ بھی شرکیہ نعرے لگانے پر خود کو مجبور سمجھتا ہو تو اندازہ لگالیجئے کہ وہاں کے عام مسلمان کس دردناک صورت حال سے دوچار ہوں گے؟؟

قابل ذکر ہے کہ جے شری رام کا نعرہ لگانے کے بعد خورشید کے خلاف امارت شرعیہ کے ایک قاضی مفتی سہیل احمد قاسمی نے فتوی جاری کیا تھا۔ انہوں نے خورشید کو اسلام سے خارج اور مرتد قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جو شخص جے شری رام کا نعرہ لگائے اور کہے کہ میں رحیم کے ساتھ ساتھ رام کی بھی پوجا کرتا ہوں اور میں سبھی مذہبی مقامات پر اپنا سر جھکاتا ہوں، تو ایسا شخص اسلام سے خارج اور مرتد ہے۔

مسلمانوں کے خلاف پے در پے واقعات یہ بتاتے ہیں کہ بھارت کا سیکولرازم سوائے ڈھونگ کے کچھ نہیں، یہاں جمہورت کے لبادے میں ہندو دہشت گردی پروان چڑھائی جارہی ہے۔حتی کہ غیر جانبدار کہلائے جانے والے معروف انڈین صحافی کلدیپ نیر نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا:

ہندوستان کی موجودہ نسل تقسیم ہند کی صلیب اپنے کاندھوں پر اٹھائے جی رہی ہے۔ دیش بھگتی کے نام پر بھارت میں اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف جارحانہ روش اپنائی گئی ہے۔ مسلم دشمنی میں بھارت کے آگے بڑھتے قدم ایک دن اسے دنیا میں تنہا کردیں گے۔ بھارت میں مذہبی انتہا پسندوں کی کارروائیاں نفرت کو جنم دے رہی ہیں اور نفرت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا یہ ایک ایسی آگ ہے جو جب پھیلتی ہے تو اپنے پرائے سب کو جلا کر بھسم کر دیتی ہے، بھارتی حکمرانوں کو اکھنڈ بھارت اور مہا بھارت کی سوچ کو خیرباد کہہ کر حقیقی دنیا کا سامنا کرنا چاہیے جہاں دنیا باہم شیر و شکر ہوتی جارہی وہاں اپنے ہی ملک کی اکثریتی آبادی پر ظلم و ستم اور تشدد کہیں بھارت کو دنیا کی نظر میں نہ گرا دے اور شائننگ ہندوستان کہیں ڈارک ہندوستان نہ بن جائے جبکہ دنیا کو بھی بھارت کے اندر بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی پر نوٹس لینا چاہے۔

بھارتی دانشوروں اور پُراثرمیڈیا کو بناوٹی ترقی دکھانے کے ساتھ بھارت کے اندر حقیقی سرجری بھی دکھانی چاہیے جس میں انسانیت لہولہان اور پریشان ہے، غربت کے بھنگڑے جاری و ساری ہیں۔ بھارت کی اکثر آبادی کو نہ پینے کا صاف پانی میسر ہے اور نہ ہی مناسب غذا۔ صحت عامہ کی صورت حال یہ ہے بھارتی شہریوں کی ایک کثیر تعداد آج بھی باتھ روم کی سہولت سے محروم ہے جس کے نہ ہونے کی بنا پر خواتین بچوں اور بوڑھوں کے ساتھ کیا بیتتی ہے؟

اس وقت بہار کے وزیر کا بے جی پی کے ساتھ الحاق مودی کی بہت بڑی کامیابی سمجھی جارہی ہے کہ اس طرح بظاہر مودی کی راہ کا آخری کانٹا بھی نکل گیا ہے اور آنے والے وقتوں میں بے جی پی اور ہندو دہشت گری کا جن مزید بوتل سے باہر نکلے گا اور یہ بات جہاں ہندوستانی مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے وہیں اس کے پڑوسی پاکستان کے مسلمانوں اور ارباب اختیار کو بھی اس پر توجہ دینا ہوگی اور بھارتی دہشت گردی کے جن کوروکنے اور قابو کرنے کی راہ اپنانا ہوگی ورنہ کشمیر کے بعد وہ لوگ پورے بھارت کو مسلمانوں کے لیے کشمیر جیسا خونی خطہ بنانا چاہتے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online