Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حقیقت (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 605 - Mudassir Jamal Taunsavi - Haqeeqat

حقیقت

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 605)

اسلام کی شمع کو بجھانے اور مسلمانوں کو راہ ِ راست سے بھٹکانے کی کوششیں ، تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں لیکن یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ :

نورِ خدا ہے کفر کی حرکتوں پر خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

قرآن مجید نے یہ اعلان آج سے چودہ سو سال پہلے کر دیا تھا کہ :

یاایھا الذین امنوا من یرتد منکم عن دینہ فسوف یاتی اللّٰہ بقوم یحبھم ویحبونہ اذلۃً علی المومنین اعزۃ علی الکافرین یجاھدون فی سبیل اللّٰہ ولا یخافون لومۃ لائم ذلک فضل اللّٰہ یوتیہ من یشاء واللّٰہ واسع علیمٌ

(اے ایمان والو!جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھرے گا تو اللہ تعالیٰ عنقریب ایسے لوگوں کو لے آئیں گے جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور انہیں اللہ سے محبت ہو گی ، مسلمانوں پر وہ مہربان ہوں گے اور کفار کے لیے سخت ہوں گے ، وہ اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے اور وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہ جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ وسعتوں کا مالک اور سب کچھ جاننے والا ہے)( المائدہ)

قرآن مجید نے جن لوگوں کا تذکرہ اس آیت میں کیا ہے ، وہ کم و بیش ہر دور میں رہیں گے اور دین اسلام اُن کے ساتھ قائم و دائم رہے گا ۔ یہ لوگ استقامت کا ایسا عملی نمونہ ہوں گے کہ مصائب کی آندھیاں اُنہیں اپنے دین سے برگشتہ نہ کر سکیں گی اور نہ ہی طعنے و ملامت کے تیر ، انہیں اُن کے موقف سے ہٹا سکیں گے ۔

گزشتہ چند سالوں سے عالم کفر کے سازشی ذہنوں نے صوفی ازم کے نام پر پوری دنیا میں ایک فتنہ برپا کر رکھا ہے ۔ صوفی اسلام کے نام پر وہ ایسا معجون مرکب تیار کر رہے ہیں  جو یہودیوں ، عیسائیوں ، ہندوئوں، سکھوں اور تمام مذاہب ِ باطلہ کیلئے قابلِ قبول ہو ، حالانکہ ایک کم علم مسلمان بھی یہ بات جانتا ہے کہ اسلام کا اعلان جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے سر زمین ِ مکہ پر کیا تو اُسی وقت سے اس کی مخالفت کا سلسلہ شروع ہو گیا اور پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد پوری زندگی ہی باطل قوتوں کے ساتھ برسرِ پیکار رہے ۔ اگر اسلام کا کوئی ایسا ایڈیشن ممکن ہوتا جو سب کفار کیلئے قابلِ قبول ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اُسے پیش فرماتے لیکن آپ نے تو تمام تر دبائو اور دھمکیوں ہی نہیں بڑی بڑی پیشکشوں کو بھی مسترد فرمادیا اور کفار کی خواہش اور مطالبے پر دین اسلام کا کوئی معمولی سے معمولی حکم بھی تبدیل نہیں فرمایا ۔ اس لیے اب ہم پورے یقین سے کہہ سکتے ہیںکہ جو مذہب اور نظریہ، سب کیلئے قابل قبول ہو وہ خالص کفر تو ہو سکتا ہے اسلام ہرگز نہیں ۔

تصوف کے نام سے چند ضمیر فروشوں کو فائدہ اٹھانے کی کیوں سوجھی ؟ اس لیے کہ یہ لفظ پہلے ہی بہت مظلوم ہے ۔ کسی نے ناچ گانے اور دیگر خرافات تک کو تصوف کے نام پر جائز قرار دے دیا اور کسی نے خود تصوف کو ہی عجمی تصورات کی پیداوار اور شروع سے آخر تک غلط کہہ دیا ۔ عوام بے چارے ان دونوں انتہائوں کے درمیان حیران و سرگرداں رہے کہ اصل حقیقت کیا ہے؟

صحیح بات یہ ہے کہ صوفیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک تصوف شعبدہ بازیوںاور دین سے آزادی کا نام نہیں ۔ یہ توتزکیہ اور احسان کا ہم معنی اور اخلاقی و باطنی تربیت کا مترادف ہے ۔ رذائل کو دور کر کے حصولِ فضائل اور اوصاف ذمیمہ کا ازالہ کر کے اوصافِ حمیدہ اپنے باطن میں پیدا کرنا یہی اس کی غرض و غایت اور منتہی و مقصود ہے ۔

صوفیاء کرام کا یہ اسلوب رہا ہے کہ کوئی جاہل اگر پیر یا شیخ بن بیٹھتا تو کسی حال میں اسے برداشت نہ کرتے۔ بہتر ہو گا کہ یہاںدو واقعات آپ کے گو ش گذار کراؤں تاکہ بات سمجھنے میں آسانی رہے۔

چنانچہ ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص اوچ شریف میں آیا، وہ اپنے آپ کو ’’ولی اللہ‘‘ کہتا تھا، اس کے پاس عوام و خواص کا ہجوم رہنے لگا۔

اس وقت وہاں حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت سید جلال الدین بخاریؒ بھی اس سے ملنے تشریف لے گئے، جب اس کے پہلو میں جا کر بیٹھے تو اس نے کہا اے سید! ابھی ابھی اللہ تعالیٰ میرے پاس سے گیا ہے۔

حضرت سید جلال الدینؒ یہ سن کر غضبناک ہوئے اور فرمایا: اے بدبخت، تو کافر ہوگیا پھر سے کلمۂ شہادت پڑھ ۔اورپھر اُسی وقت اٹھ کر شہرکے قاضی کے پاس آئے کہ اس بدبخت کو طلب کرو، اگر وہ توبہ کرے تو معاف کردو ورنہ اس کو قتل کرنے کا حکم دو، مقطع شہر اس شخص کا معتقد ہو چلا تھا اس لئے قاضی نے مقطع کے خوف سے سزادینے میں پس و پیش کیا۔ حضرت سید جلال الدین بخاری ؒنے مقطع کے پاس پیام بھیجا کہ ایک جھوٹا شخص کفر پھیلا رہا ہے، اگر تم نے اس کو سزا نہ دلائی تو پھر بادشاہ سے جاکر کہوں گا، با لآخر وہ شخص شہر بدر کر دیاگیا۔

اسی طرح نماز نہ پڑھنے والے کو بھی ’’ولی ‘‘تسلیم نہیں کرتے تھے۔

اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں کہ مکہ معظمہ سے بھکر واپس آیا تو لوگ مجھے سے ملنے آئے ، انہوں نے کہا کہ قصبہ الور کے پاس ایک پہاڑ کے غار میں ایک درویش رہتا ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے نماز معاف کردی ہے۔

 یہ سن کر میں اس کے پاس گیا، وہاں اُمراء اور دوسرے بڑے بڑے لوگوں کا ہجوم تھا، اس ہجوم سے گزرکرمیں کسی طرح اس کے پاس پہنچا۔

 میں نے اس کو سلام نہیں کیا، بلکہ جا کر بیٹھ گیا اور پوچھا کہ تم نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ حضور ﷺ کا قول ہے الفرق بین المومن والکافر الصلوۃ یعنی مومن اور کافر کے درمیان صرف نماز فرق کرتی ہے۔

اس درویش نے جواب دیا: سید! میرے پاس جبرئیل آتے ہیں، بہشت کا کھانا لاتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا سلام پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمہارے لئے نمازمعاف کردی گئی اور تم مقرب خاص ہوگئے۔

میں ( یعنی سید جلال الدین) نے کہا کہ بیہودہ مت بکو ۔محمد رسول اللہﷺ کے لئے تو نماز معاف نہیں ہوئی تجھ جیسے جاہل کے لئے کیسے معاف ہو سکتی ہے؟ وہ تو شیطان ہے جو تیرے پاس آکر کہتا ہے کہ میں جبرئیل ہوں۔ جبرئیل وحی کے فرشتے ہیں وہ پیغمبر کے سوا کسی اور کے پاس نہیں آتے اور وہ جو کھانا تمہارے پا س آتا ہے وہ غلیظ ہے۔

درویش نے کہا کہ وہ کھانا بہت ہی لذیز ہوتا ہے،میں اس میں لذت محسوس کرتا ہوں۔

 میں نے کہا کہ اب جب وہ فرشتہ آئے تو’’ لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم‘‘ پڑھنا۔

 چنانچہ پھر جب میں دوسرے دن اُس درویش کے پاس گیا تو وہ میرے پائو ں پر گرپڑااور کہنے لگا کہ میں نے تمہاری بات پر عمل کیا اور جب وہ فرشتہ نما آیا تو میں نے لاحول پڑھا ، وہ میرے سامنے سے غائب ہوگیا اور جو کھانا اس نے دیا وہ غلیظ ہو کر میرے ہاتھ سے گرپڑا، اور میرے سارے کپڑے نجس ہوگئے۔

 اس کے بعد حضرت سید جلال الدین فرماتے ہیں کہ میں نے اس بے نمازی درویش سے تو بہ کرائی اور اس کی جو نمازیں فوت ہوئی تھیں، ان کی قضا پڑھوائی۔

اسی لیے حضرت مخدوم جہاں سید جلال الدین بخاریؒ اپنے مریدوں کو نہ صرف نمازوں کی بلکہ نماز باجماعت کی بڑی تاکید فرماتے اور جماعت کے تارک کو ارشاد نبویﷺ کی بناء پر ملعون اور بدعتی قرار دیتے۔ اپنی ایک مجلس میں اس حدیث کی خاص طور پر تصریح کی کہ جو شخص محلے کی مسجد کی اذان سنے اور نماز کے لئے نہ جائے تو اس کی قبر میں کیڑے نہ مریں گے،اور اس کی قبر سے آگ نہ بجھے گی، وہ ہر وقت عذاب میں رہے گا۔(مفہوم مجالس صوفیہ)

٭…٭…٭

آج مکالمہ بین المذاہب کے نام پر جو طوفان بدتمیزی برپا ہے اس سے کیا حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ کیا ایک ایسا اسلام جس میں کسی مشرک یا کافر کو بھی کسی مسلمان کے ہی ہم پلہ قرار دیا جائے اور انہیں ان کے کاموں پرجنت کی بشارتیں دی جائیں یا ایسے انعامات کا ذکر ان کے ساتھ ملحق کیا جائے جو صرف مسلمانوں کے ساتھ خاص ہیں؟

سچی بات تو یہ ہے کہ مکالمہ بین المذاہب کی حقیقت ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں۔ مذاہب باطلہ کے سامنے خود کو ایک روشن خیال مسلمان پیش کرنے کی سعی لاحاصل ہے اور بس۔ اس کے لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ بطور عبرت کے لئے ذکر کرنامناسب رہے گا:

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ایک راہب کی خلوت گاہ سے گزرے تو وہاں کھڑے ہوگئے ۔ لوگوں نے اندر راہب کو آواز دی کہ :باہر امیر المومنین کھڑے ہیں

اس نے اندر سے جھانک کر ایک نظر دیکھا ۔ اس وقت اس کی کمزور اور خستہ حالی بالکل ناگفتہ بہ تھی ۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب اسے اس حال میں دیکھا تو رو پڑے ۔

لوگوں نے کہا : یہ تو نصرانی ہے !

حضرت عمر نے جواب دیا : یہ مجھے معلوم ہے لیکن مجھے اس پر ترس آ رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

عاملۃ ناصبۃ تصلی نارا حامیۃ (سورۃ الغاشیہ)

مجھے اس پر ترس آ رہا ہے کہ دُنیا میں تھکا دینے والی محنت کر رہا ہے اور اتنے مجاھدے برداشت کر رہا ہے لیکن مر کر پھر بھی دوزخ میں جائے گا ۔(حیاۃ الصحابہ … جلد اول ص82)

جو لوگ تصوف یا صوفی ازم کے نام پر جہاد یا کسی بھی شرعی حکم کا انکار کرتے ہیں اور اُن کی اہمیت کم کرنے کی مذموم کوششیں کرتے ہیں وہ صحیح اسلامی تصوف سے بالکل نابلد ہیں ۔ یہ گروہِ ملحدین جس طرح اسلام کے دیگر احکام کا مخالف ہے ، اسی طرح تصوف اور صوفیا ء کا بھی دشمن ہے ۔ صوفی ازم کے نام پر یہ مداری نت نئے تماشے دکھا کر جاہل عوام کو تو شاید بے وقوف بنا لیں لیکن اہلِ حق کے خوشہ چین اور اُن کے دامن سے وابستہ لوگ کبھی ان کی  شعبدہ بازیوں  میں آنے والے نہیں (ان شاء اللہ تعالیٰ)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر قسم کی گمراہی سے بچا کر صراط مستقیم پر گامزن رکھے۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor