Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

برما…بیداریٔ امت کا پیغام (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 609 - Mudassir Jamal Taunsavi - Barma Bedair Ummat ak Paigham

برما…بیداریٔ امت کا پیغام

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 609)

ایک طرف برمی مسلمانوں کی دلدوز حالت دیکھ کر دِل زخموں سے چور چور ہے تو دوسری جانب امت مسلمہ میں بیداری کی ایک واضح لہر دیکھ کر امید کی خوشی بھی جاگ رہی ہے اور یہ کس قدر عجیب صورت حال ہے وہ بیان سے باہر ہے۔

یہ امت کب سے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کاٹی جارہی ہے اور اب تو دہشت گردی کے نام سے جو جن مسلط کیا گیا تھا وہ ہماری اخلاقی اور مزاحمتی قوت کو بھی معطل کرنے ہی والا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتخب کردہ برمی مسلمانوں کی قربانی نے پوری امت میں مشرق سے لے کر مغرب تک اور شمال سے لے کر جنوب تک ہمدردی اور غم گساری اور یکجہتی و اتحاد کی ایک ایسی لہر دوڑا دی جس سے امت مسلمہ کے دشمن ایک بار پھر حیرت زدہ ہوکر پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ رہے ہیں۔

غزوہ احد میں عارضی طور پر مسلمانوں جو شکست ہوئی تھی تو اس کے بارے میں قرآن کریم نے چند آیات نازل کیں اور اس میں ایک ایسا امید افزا پیغام دیا کہ قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے وہ مشعل راہ بھی ہے اور قوت امید بھی۔

فرمایاگیا کہ یہ جو شکست تم پر آئی ہے اس کے چار بڑے مقاصد ہیں:

(۱)یہ جاننا کہ کون سچا مسلمان ہے؟ جو جہاد پراور دین پر ثابت قدم رہتاہے اور کون نام کا منافق مسلمان ہے جو اس پر موقع پر جہادسے دور اور دین سے بدگمان ہوتا ہے۔

(۲)تمہارے لوگوں میںجن کے لیے شہادت مقدر ہوتی ہے ، انہیں شہادت کے مرتبے پر فائز کرنے کے لیے یہ حالت لائی گئی ہے۔

(۳)تمہارے بہت سے لوگوں کے گناہوں کو مٹانے اور انہیں پاک صاف بناناکہ مسلمانوں کی شکست اور کافروں کے تسلط کی وجہ سے مسلمانوں کے دل اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، وہ اپنے گناہوں پر نادم ہوتے ہیں، توبہ کرتے ہیں اور اس دین پر ثابت قدم رہنے اور جہاد کرنے کا عزم کرتے ہیں ، اس طرح اس توبہ اور نیکی کے عزم کی وجہ سے ان کے گناہوں کو معاف کیا جاتا ہے۔

(۴)کافروں کو مٹانے کے لیے یہ ایک تمہید ہوتی ہے کہ انہیں کچھ غلبہ دیدیا جاتا ہے، اس طرح وہ اپنی ضداور ہٹ دھرمی اور انسانیت دشمنی پر پڑے جھوٹے پردے چاک کر بیٹھتے ہیں، مسلمانوں کے بارے میں ان کے دلوں میں چھپی دشمنی ظاہر ہوجاتی ہے، وہ عارضی غلبے کو دیکھ کر دھوکے میں پڑ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کو مٹا دیں گے اور اسی امید پر وہ بے پناہ ظلم و ستم پر اتر آتے ہیں اور جب وہ کھلم کھلا ظلم و ستم پراتر آتے ہیںتو اللہ تعالی اپنے ایمان والے بندوں کے دلوں میں ان کے بارے میں ایک جوش انتقام بھر دیتے ہیں اور اپنی مدد بھی ان کے ساتھ کردیتے ہیں یوں یہ مسلمان جب پلٹ کر حملہ آور ہوتے ہیں تو یہ ان کافروں اور ظالموں کے لیے موت کا ایک ایسا حملہ ہوتا ہے جوان کی بڑی بڑی طاقتوں کو نیست و نابود کردیتا ہے۔

کسی کوشک ہوتو دیکھ لے کس طرح جہاد کے سامنے آنے والی بڑی طاقتوں کے خاک میں ملتے غرور کو دیکھ لے۔

اس لیے ’’بدھ‘‘ کے چیلے یہ ہرگز مت سوچیں کہ وہ مسلمانوں کو لاکھوں کی تعداد میں ہجرت پر مجبور کرکے اپنے علاقوں کو پُرامن بنارہے ہیں، نہیں بلکہ وہ اپنے لیے جہنم کا ایندھن جمع کررہے ہیں اور آج وہ مسلمانوں کے جن گھروں، مسجدوں ، مدرسوں اور بازاروں کو آگ لگا رہے ہیں، یہ آگ عن قریب انہی کی طرف واپس پلٹے گی اور اس کا تماشا پوری دنیا دیکھے گی۔ ان شاء اللہ

٭…٭…٭

برمامیں بدھ کے چیلے دہشت گردوں کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف جو جارحیت جاری ہے، اب اس کا اعتراف عالمی پیمانے پر بھی شروع ہوچکا ہے اور یہ اس مسئلے کی بے انتہاء سنگینی کو ظاہر کرتا ہے کیوں کہ عالمی ادارے مسلمانوں کومکھی اور مچھر کی مانند سمجھتے ہیں، اور چھوٹے موٹے واقعے کو خاطر میں ہی نہیں لاتے اور جب پانی سر سے گزرتا ہوا محسوس ہوتا ہے تب ہی ان کی زبانیں حرکت میں آتی ہیں ۔ اس لیے جو لوگ اقوام متحدہ اوراس جیسے اداروں کی رپورٹ کو ہی قابل اعتماد سمجھتے ہیں تو وہ بھی جان لیں کہ اب ان کے من پسند اداروں نے بھی یہ سب کچھ تسلیم کرلیا ہے۔ اس کے لیے دو رپورٹوں کے کچھ چیدہ چیدہ اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں:

’’انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر زید بن رعد الحسین نے کہا ہے کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کو سکیورٹی آپریشن میں نشانہ بنایا جانا ان کی نسل کشی کی واضح مثال ہے۔پیر جنیوا میں حقوق انسانی کمیشن کونسل میں روہنگیا کے بحران پر خطاب کرتے ہوئے زید رعد الحسین نے میانمار کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ریاست رخائن میں جاری ظالمانہ ملٹری آپریشن کو ختم کرے۔خیال رہے کہ گذشتہ ماہ شروع ہونے والے تشدد کے نتیجے میں تین لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں نقل مکانی کر چکے ہیں۔

میانمار چھوڑنے والے روہنگیا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ فوج ان کے خلاف پر تشدد مہم چلا رہی ہے ان کے گاؤں کو آگ لگا رہی ہے اور شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے تاکہ انھیں وہاں سے نکالا جا سکے۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر  نے کہا کہ اس صورتحال کو پوری طرح دیکھا نہیں جا سکا کیونکہ میانمار نے انسانی حقوق کا جائزہ لینے والوں کو وہاں تک رسائی دینے سے انکار کیا ہے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے مختلف رپورٹس، سیٹلائیٹ سے لی گئی سکیورٹی فورسز اور لوکل ملیشیا کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ روہنگیا کے گاؤں کو آگ لگا رہے ہیں، ماورائے عدالت قتل کے مسلسل واقعات دیکھنے میں آئے اور ان میں بھاگتے ہوئے شہریوں کو گولی مارا جانا بھی شامل ہے۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ حالیہ ملٹری آپریشن کو ختم کرے اور سب کے لیے احتساب ہو۔

دوسری جانب برمی مسلمانوں کے لیے ایک آزمائش یہ آپڑی ہے کہ انڈیا میں روہنگیا کو ملک بدری کا سامناکرنے کی صورت حال درپیش ہے۔چنانچہ اس حوالے سے بھی اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر زید راض الحسین نے روہنگیا پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے انڈیا کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ایسے حالات میں جب انہیں اپنے ملک میں اس طرح کے سنگین تشدد کا سامنا ہے، انہیں انڈیا سے ملک بدر کرنے کے اقدامات کی میں مذمت کرتا ہوں۔انڈیا میں کئی برس سے ہزاروں روہنگیا باشندوں نے پناہ لے رکھی ہے۔

 اس مہینے کے اوائل میں وزیر اعظم نریندر مودی کے میانمار کے دورے سے قبل انڈیا نے اعلان کیا تھا کہ وہ ان پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے جا رہا ہے۔

انڈیا میں اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پناہ گزین نے تقریباً سولہ ہزار پناہ گزینوں کو شناختی کارڈ جاری کر رکھا ہے تاکہ انہیں ہراساں کیے جانے، غیر قانونی گرفتاری اور ان کی ملک بدری سے روکا جا سکے۔ حکومت ان کی تعداد چالیس ہزار بتاتی ہے۔

گذشتہ ہفتے داخلی امور کے جونئیر وزیر کرن ریجی جو نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پناہ گزینوں کا اقوام متحدہ کے ذریعے رجسٹریشن بے معنی ہے۔وہ ان کا اندراج کر رہے ہیں۔ ہم انہیں اس سے روک نہیں سکتے۔ لیکن ہم نے پناہ گزینوں کے عالمی معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔انھوں نے مزید کہا تھا ہمارے لیے سبھی روہنگیا غیر قانونی تارکین وطن ہیں۔ ان کے یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ہمارے یہاں جو بھی غیر قانونی تارکین وطن ہیں وہ سبھی ملک بدر کیے جائیں گے۔

انڈیا کی ہندو قوم پرست حکمراں جماعت بی جے پی کے بعض نظریہ ساز روہنگیا کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ بعض ہندو نواز مبصرین کا خیال ہے ان پناہ گزینوں کا تعلق جہادی اور عالمی دہشت گرد تنظیموں سے ہے۔بعض چینلوں پر بھی انہیں انتہا پسند عناصر کے طور پر دکھایا جا رہا ہے۔

روہنگیا پناہ گزین دہلی، جموں، جے پور اور بعض دوسرے شہروں میں چھوٹے چھوٹے کیمپوں میں مقیم ہیں۔ حکومتی اعلان کے بعد ان پناہ گزینوں میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ یہاں رہنے نہیں آئے ہیں وہ جان بچا کر یہاں تک پہنچے ہیں اور واپسی کے لیے اپنے ملک میں حالات سازگار ہونے اور اپنے حقوق کی بحالی کا انتظار کر رہے ہیں۔

تازہ رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش فرار ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد تین لاکھ تیرہ ہزار ہو گئی ہے اور انہیں خوراک، ادویات اور خیموں کی ضرورت ہے اور میسر سہولیات ناکافی ہیں۔

میانمار کی آبادی کی اکثریت بدھ مت سے تعلق رکھتی ہے۔ میانمار میں ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ روہنگیا مسلمان ہیں. ان مسلمانوں کے بارے میں برمی حکومت کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ بنیادی طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر ہیں۔ حکومت نے انھیں شہریت دینے سے انکار کر دیا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ مسلمان میانمار میں کئی دہائیوں بلکہ صدیوں سے رہ رہے ہیں. بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمان آج بھی خستہ کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ انہیں وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک اور زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں روہنگیا بغیر دستاویزات کے بنگلہ دیش میں رہ رہے ہیں جو دہائیوں پہلے میانمار چھوڑ کر وہاں آئے تھے۔‘‘

٭…٭…٭

اس وقت عالم اسلام کی طرف سے مختلف سطح پر برمی مہاجرین کے لیے اِمدادی کوششیں ہو رہی ہیں، اس میں بعض ملکی سطح کی کوششیں بھی شامل ہیں اور بعض انفرادی سطح کی کاوشیں بھی، ہمارے لیے یہ بہت ہی خوشی اور امید کی بات ہے، ہمیں ان سب کے دعاء گو رہنا چاہئے، اپنے مقدور بھر ان کے ساتھ اپنا تعاون ملاکر اپنا حصہ شامل کرنا چاہئے اور امت کی اس بیداری کے سفر کو رُکنے بجائے آگے بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس راہ کی رکاوٹوں کو دور کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا اور خاص کر برما کے مظلوم اہل ایمان کا حامی وناصر ہو۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online