Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

مسلم ممالک میں پھیلتی گمراہی اور سلطان ایوبیؒ کی یاد (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 610 - Mudassir Jamal Taunsavi - Muslim mumalak mein Phailti Gumrahi

مسلم ممالک میں پھیلتی گمراہی اور سلطان ایوبیؒ کی یاد

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 610)

سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ تعالیٰ نہ صرف میدان جنگ کے اعلیٰ سپہ سالار تھے بلکہ ملت اسلامیہ کی علمی و فکری درسگاہ، مکتبِ اہل السنت و الجماعت کے بھی داعی ومحافظ تھے۔ اس لیے آپ نے جہاں صلیبیوں کی یلغاریں روکنے اور عالم کفر کی طاقت توڑنے کے لیے اسلامی لشکروں کی بھرپور قیادت کی، وہیں باطل و گمراہ فرقوں کا زور توڑنے کے لیے اہل السنت و الجماعت کے علماء و اکابر کی بھرپور سرپرستی کی، اور انہیں ہر ممکن وسائل فراہم کیے تاکہ وہ باطل و گمراہ فرقوں کی پُرزور تردید کریں تاکہ عوام الناس میں ان کا زہر جو پھیل چکا ہے وہ زائل ہو اور اس کا مزید پھیلاؤ بھی رُک جائے۔ سلطان کے زمانے میں مصر اور دیگر متعدد مسلم خطوں پر فرقہ باطنیہ کی حکومت وسلطنت ’’حکومت فاطمیہ‘‘ کے نام سے قائم ہو چکی تھی۔ جس کے فکری اثرات کو سلطان نے علمائے اہل السنت و الجماعت کی تائید کے ذریعے ختم کیا اور ان کی عسکری وحکومتی طاقت کو اپنے لشکروں کے ذریعے تہہ وبالا کیا۔

فرقہ باطنیہ بنیادی طور پررافضیوںکا ہی ایک عنصر ہے،اسے فرقہ باطنیہ کہنے کی تین بڑی وجوہات ہیں:

(۱)اس فرقے نے اپنی شرانگیزی اور فتنہ پروری کو اہل بیت کی محبت کی آڑ میں چھپا رکھا تھا۔

(۲)اس فرقے نے اپنی دعوت کو پھیلانے کے لیے خفیہ طریقوں کو ترجیح دی تھی کیوں کہ ان کی دعوت تھی ہی ایسی ناقابل قبول کہ اسے وہ عام مسلمانوں میں صراحت کے ساتھ بیان نہیں کر سکتے تھے۔

(۳)اس فرقے کے پاس اپنی دعوت اور اپنے مذہب کی حقانیت و سچائی کو ثابت کرنے کے لیے قرآن و سنت میں تھا تو کچھ نہیں، اور مسلمانوں میں مقبولیت پانے کے لیے قرآن وسنت کا نام لینا بھی ضروری تھا تو انہوں نے قرآن و سنت کے ظاہری اور واضح مفہومات کو چھوڑ کر اپنی طرف سے گھڑے گئے غلط اور باطل مفہومات کویہ کہہ کر بیان کر نا شروع کیا کہ قرآن و سنت کا اصل مفہوم یہ ہے جو ہم بتاتے ہیں اور یہ مفہوم قرآن و سنت کے الفاظ کے باطن میں چھپا ہو اہے۔

ان تین وجوہات کے پیش نظر اس فرقے کو ’’فرقہ باطنیہ‘‘ کہا جاتا ہے ۔

علامہ عبدالقاہر البغدادی الاشعری رحمہ اللہ تعالیٰ کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ:

ترجمہ: فرقہ باطنیہ کی بنیاد کئی لوگوں نے مل کر رکھی، جس میں خاص طور سے میمون بن دیصان معروف بہ القداح خاص طور سے شامل ہے جو حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ تعالیٰ کا غلام تھا، اور یہ اہواز میں رہتا تھا۔ اسی کے ساتھ دندان کا رہنے والا محمد بن حسن بھی تھا۔ یہ لوگ عراقی جیل میں اکٹھے ہوئے تو اسی جیل میں انہوں نے مل کر باطنی فرقے کی بنیاد رکھی ۔

پھر یہ میمون القداح مغرب کی طرف چلا گیا اور وہاں جا کر خود کو حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی نسل سے بتاکر لوگوں کو اپنے گمراہ افکار و عقائد کی طرف بلانے لگا اور رفتہ رفتہ غالی رافضی اور حلولی اس کے معتقد ہوتے گئے تب اس نے حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کے بیٹھے اسماعیل کی طرف اپنی نسبت کرنا شروع کردی ۔ اس دعوت میں اسے ایک ہوشیار بندہ ہاتھ لگا جس کا نام حمدان بن قرمط تھا، کہ آگے چل کر ایک مستقل فرقہ اس کی طرف منسوب ہوگیا جسے فرقہ قرامطیہ کہا جاتا ہے۔ ‘‘(الفرق بین الفرق:۲۹۶)

علامہ بغدادی نے اس فرقے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:

نیز یہ بھی تحریر کیا ہے کہ:

اعلموا أسعدکم اللّٰہ أن ضررالباطنیۃ علی فرق المسلمین أعظم من ضررالیہود والنصاری والمجوس بل أعظم من مضرۃ الدہریۃ(الفرق بین الفرق:۸۲)

اللہ تعالیٰ تمہیں سعادت مند بنائے، یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلو! کہ مسلمانوں کے لیے ،باطنی فرقے یہود ونصاریٰ اور مجوسیوں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں بلکہ دہریوں سے بھی زیادہ نقصان دِہ ہیں 

باطنی فرقے کی جو شاخیں زیادہ پھیلیں اور کسی نہ کسی شکل میں مسلمانوں کے بیچ موجود رہ کر اہل ایمان کا ایمان بگاڑتی رہیں، وہ یہ چار ہیں:

(۱)اسماعیلی:ہمارے ملک پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں اس فرقے کی کافی تعداد موجود ہے۔

(۲)قرامطی:بعض عرب خطوں میں اس کی باقیات بھی موجود ہیں۔

(۳)نصیری:اس وقت ملک شام میں خصوصا یہ فرقہ موجود ہے اور بشار الاسد اسی فرقے کا نمائندہ ہے

(۴)دروزی: یہ فرقہ بھی مختلف اسلامی ممالک میں تھوڑی تھوڑی تعداد میں موجود ہے۔ خصوصا عراق وایران اور افغانستان کے بعض علاقوں میں۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے ان فرقوں کے خاتمے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اہل سنت و الجماعت کے بہادر سپہ سالار سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کو منتخب فرمایا۔

بعض اہل علم کے مطابق سلطان نے اس سلسلے میں دو تین بڑے اقدامات یہ کیے تھے:

ملک شام میں اہل السنت و الجماعت کے چاروں فقہی مسالک کے علمائے کرام کو الگ الگ مدارس بنا کر دیئے

رافضیوں کے لیے اپنی اذانوں میں حی علی خیر العمل اور علی ولی اللّٰہ وخلیفتہ بلا فصل کہنے پر مکمل پابندی عائد کردی

علمائے اہل سنت و الجماعت سے اس وقت کے نمائندہ مکتب فکر اشاعرہ سے عقائداہل سنت کے موضوع پر مختصر متن لکھوائے اوربعض متون کو فجر سے پہلے مسجد کے مینار سے بآواز بلند پڑھنے کا حکم جاری کیا تاکہ ہر روز سب محلے کے لوگ اہل ا لسنت و الجماعت کے عقیدے کی یاددہانی کرتے رہیں۔ چنانچہ’’ العقیدۃ الصلاحیہ‘‘ اسی سلسلے کی یادگار ہے۔

اس کے علاوہ فرقہ باطنیہ کی حکومتی طاقت توڑنے کے لیے سلطان نے جو خدمت سرانجام دی، وہ سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ کے الفاظ میں پیش خدمت ہے جس میں حسب ضرورت معمولی تغیر وتبدل کیا گیا ہے۔

سلطان صلاح الدین نے مصر میں برسراقتدار، عبید ی سلطنت ( جو عام طور پر فاطمی مشہور ہے) کا خاتمہ کیا، جو ۲۹۹؁ھ سے ۵۶۷؁ تک پورت دوسو اڑسٹھ سال بڑی شان وشوکت سے قائم رہی تھی اور اس نے اسلامی دنیا کے ایک بڑے حصہ کے عقائد، اعمال واخلاق اورتمدن پر بڑا گہرا اثر ڈالا تھا،یہ دورِ حکومت اعتقادی عجائبات، عجیب وغریب احکام اور مضحکہ خیز قوانین سے پُر تھا جس کے بعض نمونے مشہور مورخ مقریزی کی کتاب الخطط والآثار سے پیش کئے جاتے ہیں:

 ۳۲۶؁ھ میں پورے ملک مصر میں ترایح کی سرکاری ممانعت کردی گئی، مؤطاامام مالک کے ایک نسخہ کے پائے جانے پر ایک شخص کی تشہیر کی گئی۔(یعنی برسرعام اسے سزادی گئی)

۳۹۳؁ھ میں ۱۳ آدمیوں کو اس جرم میں زدوکوب کیا گیا اور ان کی تشہیر کی گئی کہ انہوں نے صلوٰۃ الضحیٰ( نماز چاشت) پڑھی تھی۔ ۳۹۵؁ھ میں ملوخیا ( ایک ترکاری) کو جو اہل مصر کو بہت مرغوب ہے، اس لئے ممنوع قرار دیا گیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو بہت پسند تھی۔ جرجیر کی اس لئے ممانعت ہوئی کہ کہا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کو مرغوب تھی، اسی سنہ میں تمام مساجد، دیواروں، مقابر، اور صحرا میں سلف کوسب وشتم اور لعنت لکھی گئی اور اس کو منقش کیا گیا، ۴۱۱؁ ھ میں الظاہر لاعزاز دین اللہ‘‘ نے شراب کی عام اجازت دی، عیش وعشرت اور لہو ولعب کی گرم بازاری ہوئی اسی زمانہ میں ملک میں سخت گرانی اور بیماریوں کا زور تھا، لوگ محل شاہی کے گرد جمع ہوجاتے تھے اور ’’الجوع الجوع‘‘(بھوک بھوک) کے نعرے لگاتے تھے، لوٹ مار کی کثر ت ہوئی ۔

سلطان صلاح الدین کی حکومت سے اس دورکا خاتمہ اور دوسرے کا آغاز ہوا مصر سے رافضیت کے آثار مٹنے لگے، سنت کا فروغ ہوا، جابجامدارس قائم ہوئے جن میں علمائے سنت علوم دینیہ کی تعلیم دیتے، رفتہ رفتہ عبیدی حکومت کے اثرات بالکل زائل ہوگئے،اس کے ساتھ اسماعیلیت جو تقریباً تین صدیوں تک مصر کا سرکاری مذہب رہا تھا، مصر میں غریب الوطن ہوگیا ، مؤرخ مصر مقریزی لکھتا ہے:

رافضیت، اسماعیلیہ اور امامیہ کا مذہب روپوش ہوگیا، یہاں تک کہ پورے ملک مصر میں اس کا کہیں وجود نہیں تھا۔عبیدی حکومت کا یہ صدسالہ عہد اسلام کے لئے ایک دورِ ابتلا تھا، جس میں مسلسل شریعت و سنت اور عقائد واخلاق کے ساتھ تمسخر و تلاعب جاری رہا، اہل سنت اور اہل علم مقہور ومغلوب رہے، سفلہ طبیعت، اوباش مزاج اور بددین غالب و حاوی رہے، علامہ مقدسی اپنی کتاب’’کتاب الروضتین فی اخبار الدولتین ‘‘ میں اس دور کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

اس طرح صلاح الدین نے ایک طرف صلیبیوں کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روک کر عالم اسلام کو سیاسی غلامی اور اخلاقی وتہذیبی بدنظمی اور مغربی ترکتازوں کی ہوس کا شکار بننے سے صدیوں تک کے لئے محفوظ کردیا، دوسری طرف عبیدی( مشہور بفاطمی) حکومت کا خاتمہ کرکے اس نے ایک چشمۂ فساد کو بند کردیا، جو مصر سے نکل کر عالم اسلام میں باطنیت و اسماعیلیت کے اثرات کو پھیلا رہا تھا، اور دوتین صدیوں سے امت میں ذہنی انتشار اوراعتقادی و اخلاقی فساد کا ذمہ دار تھا، تاریخ اسلام صلاح الدین کے ان دونوں کارناموں کو کسی طرح فراموش نہیں نہیں کر سکتی اور کسی ملک کا مسلمان اس کر دی مجاہد (سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ تعالیٰ)کے بارِ احسان سے سبکدوش نہیں ہو سکتا۔

آج بھی جبکہ مسلم ممالک میں سے کئی ممالک میں بے دینی اور مغرب پروری کے روپ میں اسلام مخالف قوانین رواج پارہے ہیں تو ضرورت ہے کہ کوئی مرد جری اٹھے جو اہل سنت و الجماعت کے مسلک حق کا علم بلند کرے اور تمام گمراہوں کا ناطقہ بند کردے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online