Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

معطر محبت (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 611 - Mudassir Jamal Taunsavi - Muatar Muhabbat

معطر محبت

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 611)

ریحان عترت ، اہل بیت کے گل سرسبد، نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول ، حضرت سیدنا حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے محبت وعقیدت اور ان سے قلبی تعلق و وابستگی ایمان کی نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمارے سینوں کو اہل بیت کی محبت سے آباد کیا ۔ جس طرح حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاں اہل بیت کا احترام اور مقام مسلم تھا اسی طرح ہمارے دلوں میں بھی ان کی محبت وعقیدت راسخ ہونی چاہئے ۔ یہ وہ اونچی ہستیاں ہیں جنہیں رب تعالیٰ اپنے محبوب کے قرب اور نسبت کے لیے چنا اور ان کی محبت کو اپنے محبوب کی محبت قرار دیا اور حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ محبت ہے جو پاکیزہ بھی ہے اور معطر بھی، جو دنیا میں بھی دل کی راحت کا سبب ہے اور آخرت میں بھی کامیابی کا سبب ہوگی۔ ان شاء اللہ

دوسری طرف یہ افسوس ناک حقیقت بھی ہے کہ وہ لوگ بہت ہی بدبخت ہیں جو اہل بیت کی طرف غلط اور جھوٹی باتوں کو منسوب کرکے انہیں تکلیف پہنچاتے ہیں ، اور وہ تو بہت ہی شقی ہیں جو اپنی من گھڑت کہانیوں اور عقیدوں کو اہل بیت کی طرف منسوب کرکے حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے نانا سیدنا محمد رسول اللہﷺ کے لائے ہوئے دین کو بگاڑتے ہیں۔

آگے بڑھنے سے پہلے ایک تحفہ لیجئے۔

جس وقت سیدنا علی المرتضیٰ نے کوفہ کودار الحکومت بنایا تو ایک دن فجر کی نماز کے بعد سب مسلمانوں کے سامنے تشریف فرما ہوئے۔ پانی کا برتن منگوایا۔ پھر وضو شروع فرمایا۔ برتن کو دائیں ہاتھ میں پکڑ کر پہلے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر وہ برتن اپنے دائیں ہاتھ میں تھاما اور بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی ہتھیلیوں کو دھویا، اس طرح تین مرتبہ اپنی ہتھیلیوں کو دھویا، اور ہرمرتبہ پانی ہاتھوں پر ہی انڈیلا، ہاتھ پانی میں داخل نہیں کیے۔ پھر جب تین مرتبہ ہاتھ دھوچکے تو اپنا ہاتھ برتن کے اندر ڈالا، اور پانی نکال کر تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک صاف کیا اور ناک صاف کرتے وقت بائیں ہاتھ سے ناک کو صاف کیا، پھر ہاتھ پانی میں ڈال کر پانی باہر نکالا اور تین مرتبہ چہرہ دھویا، پھر اپنا دائیاں ہاتھ پانی میں ڈال کر تین مرتبہ اپنا دائیاں ہاتھ کہنی سمیت دھویا، پھر بائیاں ہاتھ پانی میں ڈال کر تین مرتبہ اپنا بائیاں ہاتھ کہنی سمیت دھویا، پھر ہاتھ بایاںہاتھ پانی میں ڈال کر اسے پانی سے تر کیا اور کچھ پانی اپنے بائیں ہاتھ پر انڈیلا اور پھر دونوں ہاتھوں پر لگے پانی سے ایک مرتبہ سر کا مسح کیا، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے برتن کے ساتھ اپنے پاؤں پر پانی انڈیلااور اپنے بائیں ہاتھ سے دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے ، پھر اسی برتن میں اپنا دائیں ہاتھ اندر ڈالا اور پانی اسی ہاتھ کے چلو میں لے کر اسے پی لیااور پھر فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کے نبیﷺ کے وضو کا طریقہ ہے۔ پس جو بھی اللہ کے نبیﷺ کے طریقہ وضو کو دیکھنا چاہتا ہو تو وہ سمجھ لے ان کے وضو کا طریقہ یہی ہے۔ (مسند احمد)

یہ روایت جہاںہمارے سامنے وضو کے افضل اور مسنون طریقے کو بیان کررہی ہے وہاں اس کی روشنی میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ اس وقت اہل بیت کے علوم و معارف کا وارث کون ہے؟ اور کون نہیں؟

حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی قدس سرہ کے مکتوبات سے چند اقتباسات دیکھئے جس میں اہل بیت رسول علیہ و علیہم الصلوٰۃ و السلام کے متعلق اہل سنت والجماعت کے عقیدے اور نظریے کو بہت وضاحت کے ساتھ بیان کردیاگیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ روافض کی گمراہی اور ہٹ دھرمی کو بھی عیاں کردیاگیا ہے۔

آپ تحریر فرماتے ہیں:

’’اہل بیت کی محبت ، اہل سنت و الجماعت کا سرمایہ ہے ۔

مخالف لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں اور ان کی صراط مستقیم کی مانند محبت سے جاہل ہیں ۔

مخالفوں نے اپنی افراط کی جانب کو اختیار کیا ہے اور افراط کے علاوہ ہر پہلو کو تفریط خیال کر کے خروج کا حکم لگایا ہے اور خوارج کا مذہب سمجھا ہے ۔۔

وہ نہیں جانتے کہ افراط و تفریط کے درمیان حد وسط ہے جو حق کا مرکز اور صدق کا ٹھکانہ ہے جو اہل سنت و جماعت (اللہ تعالی کی ان کی کاوشوں کو قبول فرمائے) کو نصیب ہوا ہے ۔ ‘‘

مزید تحریر فرماتے ہیں کہ:

’’اہل سنت کا گناہ یہی تو ہے کہ وہ اہل بیت کی محبت کے ساتھ ساتھ آں سرور علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات کے تمام صحابہ کی تعظیم و توقیر بھی بجا لاتے ہیں اور ان میں سے کسی کو بھی ان کے تنازعات و مخالفتوں کے باوجود بُرائی سے یاد نہیں کرتے اور صحبتِ پیغمبر علیہ و علیہم الصلوۃ و السلام کی تعظیم کی وجہ سے اور آپ علیہ و علی آلہ الصلوۃ و السلام کے مصاحبین کی عزت و تکریم کی بِنا پر اُن سب کو خواہش پرستی اور تعصب سے دُور جانتے ہیں ۔ ‘‘

پھر یہ بھی بتاتے ہیں کہ روافض کا مقصد کیا ہے؟ اور وہ مسلمانوں سے کیا چاہتے ہیں؟ ان کے اصل عزائم کیا ہیں؟

’’روافض ، اہل سنت و جماعت سے اُس وقت خوش ہوں گے جب اہل سنت بھی اُن کی طرح دوسرے اصحاب کرام سے بیزاری کا اظہار کریں اور اُن اکابرِ دین کے ساتھ بدگمانی اختیار کریں ۔

اسی طرح خوارج کی خوشنودی بھی اہل بیت کی عداوت اور آل محمد علیہ و علیہم الصلوٰت و البرکات کے بغض پر وابستہ ہے ۔

ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا و ھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب

اے ہمارے رب !ہم کو ہدایت عطا فرمانے کے بعد ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلا نہ کی جیو اور ہم کو اپنے پاس سے رحمت عطا فرما ۔ بے شک تو بے حد عطا کرنے والا ہے‘‘(آل عمران:۸)

الغرض جس طرح قرآن کریم نے یہود و نصاری کے بارے میں یہ بات کہی ہے کہ اے مسلمانو! تم سے یہود و نصاریٰ اس وقت تک خوش نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم بھی انہی کے دین و ملت کی پیروی نہ کرلو۔ بس کچھ ایسا ہی معاملہ کا روافض کا اہل سنت کے ساتھ ہے۔

اہل سنت کی دو معروف کتب حدیث جامع ترمذی اور مسند امام احمدبن حنبل سے تین روایتیں پیش خدمت ہیں جن میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اوران کے بڑے بھائی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور مقام کو بیان کیا گیا ہے اور اسی لیے ان حضرات سے محبت اوران کی اس فضیلت کااقرار اہل سنت کا سرمایہ ہے۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : الحسن و الحسین سید اشباب اہل الجنۃ(جامع الترمذی)

یعنی : حسن و حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲعنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے حسن اور حسین دونوں سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔(مسند احمد بن حنبل)

 حضرت عطاء سے روایت ہے کہ کسی شخص نے انہیں بتایا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرات حسنین کریمین کو اپنے سینے سے چمٹایا اور فرمایا: اے اللہ! میں حسن اور حسین سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر(مسند امام احمد)۔

حضرت امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ کے ایک شعر کا مفہوم بہت ہی عمدہ ہے کہ:

اے اہل بیت! تمہارا مقام کتنا ہی اونچا ہے کہ جب تک کوئی شخص پر تم پر درود نہ بھیج لے اس کی نماز قبولیت سے رُکی رہتی ہے۔

اللھم صل علی سیدنا محمد وعلی آل سیدنا محمد و سلم تسلیما

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online