Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

’’اہلِ جمعہ‘‘ کی شان (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 612 - Mudassir Jamal Taunsavi - Ahl e Juma ki Shaan

’’اہلِ جمعہ‘‘ کی شان

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 612)

امام ابن خزیمہ نے اپنی کتاب ’’الصحیح‘‘ میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

’’قیامت کے دن باقی تمام دن اپنی عام حالت پر ہی جمع کیئے جائیں گے مگر جمعہ کا دن نہایت چمکدار اور روشن شکل میں حاضر کیا جائے گا۔ پھر اہل جمعہ اس جمعہ کے دن کے اِردگرد اس طرح جمع ہو جائیں گے جس طرح دلہن کو اس کی ڈولی کی طرف لے جایاجاتا ہے، یہ جمعہ کا دن اس وقت اپنی روشنی بکھیر کر اپنے اہل اَفراد کو راستہ دکھارہا ہوگا اور وہ اس کی روشنی میں چل رہے ہوں گے۔ ان کی رنگت برف کی طرح سفید اور ان کی خوشبو مشک کی مانند ہوگی اور وہ کافور کے پہاڑوں میں رواں دواں ہوگے ، ان کی یہ شان جن و انس سب ملاحظہ کررہے ہوں گے اور نہایت تعجب سے کسی کی نظر بھی ان سے ہٹ نہیں رہی ہوگی اور پھر اسی حال میں وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے اور ان کے ساتھ صرف وہی موذن مل جل سکیں گے جو خالصتاً اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید پر اذان دیا کرتے تھے۔‘‘

اس حدیث سے پتہ چلا کہ جس طرح ہر شخص کے کچھ اہل وعیال ہوتے ہیں ، اسی طرح جمعہ کے دن کے بھی اہل ہیں اور اس سے مراد وہ ایمان والے ہیں جو جمعہ کے دن کو عبادات کے ساتھ آباد رکھتے ہیں اور اس طرح انہیں جمعہ کے دن ساتھ خاص نسبت حاصل ہوجاتی ہے۔

جس طرح ہمارے معاشرے میں جو لوگ روزانہ عام بازار میں جانے کے بجائے ہفتہ میں ایک دو بار سبزی منڈی جاکر اپنا سودا سلف لے آتے ہیں ، تو ان کے بارے میں یہی کہاجاتا ہے کہ یہ تو ’’سبزی منڈی‘‘والے ہیں ۔

بس کچھ اسی طرح سمجھ لیجئے کہ کل قیامت کے دن بھی کچھ لوگوں کے بارے میں یہی کہا جائے گاکہ یہ تو ’’جمعہ والے‘‘ ہیں۔ اور یہ نسبت بڑے ہی اعزاز و اکرام والی نسبت ہے، اور اللہ تعالیٰ کا بے پناہ شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس دن کی ہدایت اور اس دن کی قدر و قیمت سے آگاہی عطاء فرمائی۔

چنانچہ ایک حدیث میں اس نعمت کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ :

’’ہم میں سے پہلے جو امتیں تھیں انہیں جمعہ کے مبارک دن سے محروم کر دیا گیا ، یہود کے لئے ہفتہ اور نصاری کے اتوار کا دن تھا ، پھر اللہ تعالی ہمیں لایا اور جمعہ کا دن عنایت فرمایا ، پھر ترتیب میں جمعہ ، ہفتہ اور اتوار کردیا ، اور اس طرح وہ قیامت کے دن ہمارے پیچھے ہونگے ، حالانکہ ہم دنیا میں تمام امتوں میں سے سب سے آخر میں آئے ،لیکن قیامت کے روز تمام مخلوق میں سے سب سے پہلے ہمارا فیصلہ ہوگا ‘‘ (صحیح مسلم )

ایک اور حدیث میں جمعہ کے دن کی پانچ خاصیتیں بیان کی گئی ہیں:

(۱)تمہارے ایام میں سے افضل ترین یوم جمعہ ہے

(۲) اسی دن آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا

(۳) اور اسی میں انہیں موت آئی

(۴) اور اسی روز صور پھونکا جائے گا

(۵) اور اسی میں بے ہوشی طاری ہو گی

 لہٰذا اس روز کثرت سے مجھ پر درود پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا درور مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔(سنن ابی داؤد)

اب دیکھنا یہ ہے کہ ایک مسلمان کس طرح اس دن کے خاص بندوں میں شامل ہوسکتا ہے؟

اس کا جواب نہایت ہی آسان ہے اور چند مخصوص اعمال ایسے ہیں جن کے بارے میں قرآن و سنت میں یہ بات ملتی ہے کہ ان اعمال کو جمعہ کے دن اَنجام دینے کا خاص اہتمام کیاجائے۔ چنانچہ جو بھی مسلمان ان اعمال کو جمعہ کے دن انجام دینے کا اہتمام کرے گا تو قوی امید ہے کہ وہ ’’جمعہ والوں‘‘ میں شامل ہوگا اور اس اعزاز و اکرام سے سرفراز ہوگا جس کا ذکر مضمون کے شروع میں ذکرکردہ حدیث میں ہوچکا ہے 

اب ملاحظہ فرمائیے کہ وہ چند اعمال یہ ہیں:

(۱)جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی تلاوت…نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا :جو شخص سورہ کہف کی تلاوت جمعہ کے دن کرے گا، آئندہ جمعہ تک اس کے لیے ایک خاص نور کی روشنی رہے گی۔ (نسائی، بیہقی، حاکم)

سورۂ کہف کے پڑھنے سے گھر میں سکینت وبرکت نازل ہوتی ہے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک صحابی نے سورہ کہف پڑھی، گھر میں ایک جانور تھا، وہ بدکنا شروع ہوگیا، انہوں نے غور سے دیکھا کہ کیا بات ہے؟ تو انہیں ایک بادل نظر آیا جس نے انہیں ڈھانپ رکھا تھا۔ صحابی نے اس واقعہ کا ذکر جب نبی اکرمﷺ سے کیا، تو آپﷺ نے فرمایا:سورہ کہف پڑھا کرو۔ قرآن کریم پڑھتے وقت سکینت نازل ہوتی ہے۔(صحیح البخاری ، فضل سورۃ الکہف… مسلم،کتاب الصلوٰۃ)

(۲)جمعہ کے دن درود و سلام کی کثرت

(۳)جمعہ کے دن نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے جلد از جلد مسجد جانا

(۴)جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لئے جانے سے پہلے غسل کرنا

(۵)جمعہ کے لیے مسجد جاتے ہوئے خوشبو استعمال کرنا بشرطیکہ وہ خوشبو لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث نہ ہو

(۶)مسواک کرنا، یا کسی بھی اور معروف طریقے سے دانتوں کی میل کچیل اور منہ کی بدبو ختم کرنا

(۷)کسی بھی ایسی چیز کے کھانے سے اجتناب کرنا جس کے بعد منہ میں بدبو باقی رہتی ہو مثلاً تھوم یا کچا پیاز

(۸)مسجد میں جاکر لوگوں کی گردنیں پھلانگنے سے اجتناب کرنا، خطبے کے دوران فضولیات اور لغویات سے بچنا

(۹)جمعہ کے دن فجر کی نماز باجماعت اداء کرنے کا خاص اہتمام کرنا

(۱۰)جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد سے سورج غروب ہونے تک کے پورے وقت میں یا کم از کم آخری وقت میں ذکر و دعاء میں مشغول ہونا

یہ دن اعمال کی بس فہرست پیش کی ہے۔ ان تمام باتوں کے فضائل احادیث نبویہ میں موجود ہیں۔ طوالت سے بچنے کے لیے فی الحال انہیں ذکر نہیں کیا گیا ۔ بس یہ ایک فہرست ہے اس کی روشنی میں ہم اپنے لیے جمعہ کے دن کو قیمتی بنا سکتے ہیں اور اگر ہم ایسا کرلیں تو اللہ تعالیٰ کی کریم ذات سے امید ہے کہ وہ ہمیں ’’اہل جمعہ‘‘ یعنی ’’جمعہ کے گھر والے‘‘ اور ’’جمعہ کے خاص لوگوں‘‘ میں شامل فرمادیں گے اور یہ کتنی ہی بڑی سعادت ہوگی کہ قیامت کے دن یہ افضل ترین دن ہماری سفارش کا سبب بن جائے!!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online