Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

نماز سے دین کا قیام (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 613 - Mudassir Jamal Taunsavi - Namaz se Deen  ka  Qiyam

نماز سے دین کا قیام

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 613)

اللہ تعالیٰ ہمیں نمازی بنائے اور اُمت مسلمہ کو نمازی حکمران نصیب فرمائے۔ آمین

نماز کے بارے میں قرآن و حدیث کی ترغیبات بھی بے شمار ہیں اور اکابر امت بلکہ وہ حضرات جنہیں صوفیہ کرام کہا جاتا ہے وہ بھی سب کے سب نماز کے سچے عاشق اور نماز کا بہت اہتمام کرنے والے رہے ہیں۔ حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی قدس سرہ کے مکتوبات میں نماز کی اہمیت پر بہت زیادہ ترغیب ملتی ہے اور یہ بات دووجہ سے اہم ہے کہ اس سے ایک تو ان لوگوں کا وہم دور ہوتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ نماز کو پوری طرح قائم کرنا تو بس صحابہ و تابعین کا کام تھا بعد کے لوگوں کے لیے ناممکن ہے مگر ان بعد کے اللہ والوں کا نماز سے تعلق ہمارے لیے رہنما ہے اور اس وسوسے کا توڑ بھی …دوسری بات یہ کہ کچھ لوگ جو صوفیت کے نام پر نماز اور دیگر ارکان اسلام کا وزن کم کرتے ہیں ان کی گمراہی کا بھی اس سے پورا علاج ہوجاتا ہے۔ اس مضمون میں ہم حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کے مکتوبات سے نماز کی اہمیت وترغیب پر کچھ منتخب اقتباسات پیش کرتے ہیں۔

’’سب سے بہتر عمل اور سب سے فاضل ترعبادت ’’نماز‘‘ کا قائم کرناہے جو دین کا ستون اور مومن کی معراج ہے۔ چنانچہ اس کے ادا کرنے میں بڑی کوشش کرنی چاہئے اور کامل احتیاط برتنی چاہئے کہ نماز کے ارکان و شرائط وسنن وآداب کما حقہ ادا ہوں۔ تعدیل اور طمانیت کے بارے میں بار بار مبالغہ کیاجاتا ہے ،اس کی اچھی طرح محافظت کریں، اکثر لوگ نماز کو ضائع کردیتے ہیں اور طمانیت اور تعدیلِ ارکان کو درہم برہم کردیتے ہیں ان لوگوں کے حق میںبہت سی وعیدیں اور تہدیدیں آئی ہیں جب نماز درست ہوجائے تونجات کی بڑی امید ہے ، کیوں کہ نماز کے قائم ہونے سے دین قائم ہوجاتا ہے اور مراتب کی بلندی کی معراج کامل ہوجاتی ہے…‘‘

’’اول وضو کامل اور پورے طور پر کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے، ہر عضو کو تین بار تمام و کمال طور پر دھونا چاہئے تاکہ وضو سنت طریقے پر ادا ہو، اور سرکا مسح بالا ستیعاب یعنی سارے سر کا مسح کرنا پائوں کی انگلیوں کے نیچے کی طرف سے خلال کرنا لکھا ہے اس کی رعایت رکھیں اور مستحب کے بجا لانے کو معمولی امر نہ سمجھیں، مستحب اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ اور محبوب عمل ہے، اگر تمام دنیا کے عوض اللہ تعالیٰ کا یک پسندیدہ فعل معلوم ہوجائے اور اس کے مطابق عمل میسر ہوجائے تو بھی غنیمت ہے، اس کا بعینہِ یہی حکم ہے کہ کوئی چند خزف ریزوں یعنی ٹھیکریوں سے قیمتی موتی خرید لے اور بے ہودہ بے فائدہ جماد یعنی پتھر سے روح کو حاصل کرلے۔

کمالِ طہارت اور کامل وضو کے بعد نماز کا قصد کرنا چائے جو مومن کی معراج ہے اور کوشش کرنی چاہئے کہ فرض نماز جماعت کے بغیر نہ ادا ہو، بلکہ امام کے ساتھ تکبیرِ اولیٰ بھی ترک نہیں ہونی چاہئے اور نماز کو مستحب وقت میں ادا کرنا چائے، قرات میں قدرِ مسنون کو مد نظر رکھنا چاہئے، رکوع وسجود میں طمانیت ضروری ہے کیوں کہ بہ قول مختار یا فرض ہے یا واجب ، قومے میں اس طرح سیدھا کھڑا ہونا چاہئے کہ تمام بدن کی ہڈیاں اپنی اپنی جگہ پر آجائیں اورکھڑے ہونے کے بعد طمانیت درکار ہے ،کیوں کہ طمانیت فرض یا واجب یا سنت علی اختلاف الاقوال ہے، ایسے ہی جلسے میں جو دوسجدوں کے درمیان ہے اچھی طرح بیٹھنے کے بعداطمینان ضروری ہے جیسا کہ قومے میں، اور رکوع و سجود کی کم سے کم تسبحییں تین بار ہیں، اور زیادہ سے زیادہ سات بار بار گیارہ بار ہیںعلی اختلاف الااقول، اور امام کی تسبیح مقتدیوں کے حال کے اندازہ  سے ہونی چاہئے۔ شرم کی بات ہے کہ انسان اکیلا نماز پڑھنے کی حالت میں طاقت ہوتے ہوئے اقل تسبیحات پر کفایت کرے، اگر زیادہ نہ ہو سکے تو پانچ یا سات بار تو کہے، اور سجدہ کرتے وقت اول وہ اعضا زمین پر رکھے، جو زمین کے نزدیک ہیں، پس اول دونوں زانو زمین پر رکھے پھر دونوں ہاتھ پھر ناک پھر پیشانی، زانو اور ہاتھ رکھتے وقت دائیں طرف سے شروع کرنا چاہئے اور سراٹھاتے وقت اول ان اعضا کو اٹھانا چاہئے جو آسمان سے نزدیک ہیںپ س پہلے پیشانی اٹھانی چاہئے، اور قیام کے وقت اپنی نظر کو سجدے کی جگہ پر اور رکوع کے وقت اپنے پائوں پر اور سجدہ کے وقت نوکِ بنیی پر اور جلوس کے وقت اپنے دونوں ہاتھوں پر یا اپنی گود کی طرف رکھنا چاہئے، جب نظر کو پراگندہ ہونے سے روک رکھیں اور مذکورہ بالا جگہوں پر لگائے رکھیں تو سمجھ لینا چائے کہ نماز جمعیت کے ساتھ میسر ہوگئی اور خشوع والی نماز حاصل ہوگئی، جیساکہ نبی کریمﷺ سے منقول ہے، اور ایسے ہی رکوع کے وقت دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کا کھلا رکھنا یا ملانا بے تقریب و بے فائدہ نہیں ہے، صاحب ِ شرع نے اس میں کئی قسم کے فائدے ملاحظہ کر کے اس پر عمل کیا ہے، صاحب الشریعت علیہ الصلوٰۃ والسلام کی متابعت کے برابر کوئی فائدہ نہیں ہے، یہ سب احکام مفصل اور واضح طور پر کتب فقہ میں مذکور ہیں یہاں بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ علمِ فقہ کے مطابق عمل بجالانے میں ترغیب ہو۔‘‘

’’چوں کہ اس زمانے میں اکثر لوگ نماز کے ادا کرنے میں سستی کرتے ہیں اور طمانیت اور تعدیل ارکان میں کوشش نہیں کرتے اس لئے اس بارے میں بڑی تاکید اور مبالغے سے کہاجاتا ہے غور سے سنیں منجر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ چوروں میں سے بڑا چوروہ ہے جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہے، حاضرین نے عرض کیا یارسول اللہﷺ اپنی نماز سے کوئی کس طرح چراتا ہے؟

رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ نماز میں چوری یہ ہے کہ وہ رکوع وسجود کو اچھی طرح ادا نہیں کرتا۔

 آں حضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی نماز کی طرف نہیں دیکھتا جو رکوع وسجود میں اپنی پیٹھ کو ثابت نہیں رکھتا۔رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو نماز ادا کرتے دیکھا کہ رکوع وسجود پوری طرح نہیں کرتا تو فرمایا کہ کیا تو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا اگر تو اسی عادت پر مر گیا تو( دین محمدﷺ پر تیری موت نہ ہوگی بلکہ) تو دینِ محمد ﷺ کے خلاف مرے گا۔

نیز رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کی نماز پوری نہیں ہوگی جب تک کہ رکوع کے بعد سیدھا نہ کھڑا ہو اور اپنی بیٹھ کو ثابت نہ رکھے اور اس کا ہر ایک عضواپنی اپنی جگہ پرقرار نہ پکڑے۔ اسی طرح رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو شخص دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کے وقت اپنی پشت کو درست نہیں کرتا اور ثابت نہیں رکھتا اس کی نماز تمام نہیں ہوتی ۔ حضرت رسالت مآبﷺ ایک نمازی کے پاس سے گزرے دیکھا کہ احکام و ارکان وقومہ و جلسہ بہ خوب ادانہیں کرتا، فرمایا کہ اگر تو اسی عادت پر مرگیا تو قیامت کے دن تجھ کو میری امت میں نہ کہیں گے اور دوسری روایت میں فرمایا کہ اگر تو اسی حالت پر مرگیا تو دینِ محمدﷺ پر نہیں مرے گا۔

 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک شخص ساٹھ سال تک نماز پڑھتا رہتا ہے اور اس کی ایک نماز بھی قبول نہیں ہوتی، ایسا شخص وہ ہے جو رکوع و سجود کو بہ خوبی ادا نہیں کرتا۔

 روایت ہے کہ زید بن وہب نے ایک شخص کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہا ہے اور رکوع و سجود پوری طرح ادا نہیں کرتا۔ اس شخص کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ تو کب سے اس طرح نماز پڑھ رہا ہے؟

اس نے کہا چالیس سال سے۔ فرمایاکہ اس چالیس سال کی عرصے میں تیری کوئی نماز نہ ہوئی اگرتو مرگیا تو آں حضرتﷺ کی سنت پر نہ مرے گا۔

 منقول ہے کہ جب مومن بندہ نماز کو اچھی طرح ادا کرتا ہے اور اس کے رکوع و سجود کو بہ خوبی بجالاتا ہے تو اس کی نماز بشاشت والی و نورانی ہوتی ہے ، فرشتے اس نماز کو آسمان پر لے جاتے ہیں، وہ نماز اپنی نمازی کے لئے دعا کرتی ہے اور کہتی ہے:

حفظک اللہ سبحانہ کم حفظتنی

اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کرے جس طرح تو نے میری حفاظت کی۔

 اور اگر نماز کو اچھی طرح ادا نہیں کرتا تو وہ نماز ظلمت والی رہتی ہے، فرشیوں کو اس نماز سے کراہت آتی ہے اور اس کو آسمان پر نہیں لے جاتے، وہ نماز نمازی پر بددعا کرتی ہے اور کہتی ہے:

ضیعک اللہ تعالیٰ کما ضیعتنی

خدائے تعالیٰ تجھے ضائع کرے جس طرح تونے مجھے ضائع کیا۔

 پس نماز کوپوری طرح ادا کرنا چاہئے ،تعدیل ارکان یعنی رکوع و سجود و قومہ و جلسہ اچھی طرح طمانیت و تعدیلِ ارکان میں کوشش کریں، کیوں کہ اکثر لوگ اس دولت سے محروم ہیں اور یہ عمل متروک ہو رہا ہے

 اس عمل کو زندہ کرنا دین کی اہم ضروریات میں سے ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو شخص میری کسی مردہ سنت کو زندہ کرتا ہے اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملتا ہے اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی وقت صفوں کو برابر کرنا چاہئے، نمازیوں میں سے کوئی شخص آگے پیچھے کھڑا نہ ہو، کوشش کرنی چاہئے کہ سب ایک دوسرے کے برابر ہوں۔ رسول اللہﷺ اول صفوں کو درست فرمالیا کرتے تھے پھر تکبیرِ تحریمہ کہاکرتے تھے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ صفوں کو درست کرنا نماز کی اقامت ہے۔

 ربنا اتنا من لدنک رحمۃ وھیٔ لنا من امرنارشداً

اے ہمارے رب! ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطاء فرما اور ہمارے کاموں کو ہمارے لیے درست بنا۔‘‘ (تعلیمات مجدد الف ثانی)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online