Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

حماس اور الفتح کی مصالحت (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 614 - Mudassir Jamal Taunsavi - Hamaas aur Alfath

حماس اور الفتح کی مصالحت

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 614)

اس وقت فلسطین کے دفاع کے لیے مسلمانوں کی طرف سے جو اجتماعی کوششیں ہورہی ہیں یا جو لوگ ایک جماعت بن کر کسی نہ کسی شکل میں میدان میں موجود ہیں وہ یہ دو تنظیمیں ہیں: حماس اور الفتح

ان میں حماس کے پاس غزہ کی پوری پٹی ہے اور اس کے پاس مضبوط سیاسی نظام کے ساتھ مستحکم عسکری نظام بھی موجود ہے ۔ جب کہ الفتح کے پاس فلسطین کا مغربی علاقہ ہے اور اس میں عسکری نظام بھی حماس کی مانند نہیں ہے اور اسی لیے اسرائیل کی زیادہ تر جارحیت حماس کے خلاف ہوتی ہے ۔ اسرائیل بھی اسی لیے حماس تنظیم کو اپنے راستے کا سب سے بڑا روڑا سمجھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس نے حماس کے زیرِ اقتدارغزہ پٹی کاگزشتہ چھ سالوں سے بری،بحری اور فضائی محاصرہ کررکھاہے،وہ اسے جھکانے اور زیر کرنے کی ہر ممکن تدبیر کرچکاہے اور اب بھی کیے جارہاہے،مگر حماس بھی پوری دلیری و حوصلہ مندی کے ساتھ تمام تر مشکلات اور مصائب کو جھیل رہی اور اپنے شہریوں کی ہر ممکن امداد رسانی میں مصروف ہے،جب کہ دوسری تنظیم الفتح کی بنیاد مذہب سے زیادہ نیشنلزم پرہے اورجوقدرے لبرل سمجھی جاتی ہے، مگر پھر بھی وہ فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کی حامی نہیں ہے اور اسی لیے اسرائیل اس کے وجود کو بھی اپنے لیے ایک نسبتاً کم مگر خطرہ ضرور سمجھتا ہے ۔

اسی لیے اب اسرائیل کی طرف یہ کوششیں عروج پر ہیں کہ فلسطین سے مزاحمتی تحریک کو بالکلیہ مٹا دیا جائے اور امریکہ اور اس کے اتحادی بھی اسرائیل کے ساتھ اس بارے میں تعاون کررہے ہیں تو اہل فلسطین کے لیے یہ ایک نیا مشکل مرحلہ ہے اور اس مشکل مرحلے کو عبور کرنا اور اپنی قوت کو اپنے ہی پاس بچاکررکھنا تاکہ اسے بروقت اور برمحل استعمال میں لائے جانے کی ترتیب بنائی جاسکے بہت لازم ہوجاتا ہے۔ شاید اسی لیے اب حماس نے الفتح کے ساتھ مصالحت پر رضاء مندی ظاہرکردی ہے اور مصر میں اس مصالحت کا پہلا قدم بھی اٹھا لیا گیا ہے اور اس طرح الفتح اور حماس کے درمیان دس سال سے جاری کشمکش اور دوری کے خاتمے کا آغاز ہوگیا ہے۔

اسماعیل ہنیہ کی قیادت میں مصر کا دورہ کرنے والے حماس تنظیم کے وفد نے مصری ذمے داران کو بتایا ہے کہ تنظیم کچھ عرصہ قبل قائم کی جانے والی اُس انتظامی کمیٹی کو تحلیل کرنے پر آمادہ ہے جس نے غزہ پٹی کے انتظامی امور کو سنبھالا ہوا ہے۔ ذمے دار کے مطابق تنظیم نے صدر محمود عباس کے ساتھ مصالحت کی بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے قومی یک جہتی کی حکومت تشکیل دینے پر بھی اپنی رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

مذکورہ ذمے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ حماس چاہتی ہے کہ قومی یک جہتی کی حکومت فلسطینی داخلی بحرانات کو حل کرے اور صدارتی اور قانون ساز کونسل کے انتخابات کے لیے راہ ہموار کرے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ حماس تنظیم اتنے واضح طور پر اپنی انتظامی کمیٹی تحلیل کرنے پر آمادہ ہوئی ہے۔ تنظیم نے رواں برس مارچ میں غزہ پٹی کے امور کے لیے ایک سات رُکنی خصوصی "انتظامی کمیٹی" تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔

اس کے اثر کے طور پر فلسطینی اتھارٹی نے بعض تدابیر اختیار کیں۔ رامی الحمد اللہ کی سربراہی میں فلسطینی حکومت نے جولائی میں ایک فیصلے کے ذریعے غزہ پٹی میں اپنے 6 ہزار سے زیادہ ملازمین کو قبل از وقت ریٹائر کر دیا۔ ساتھ ہی اسرائیل کی جانب سے غزہ پٹی کو بجلی کی فراہمی کے سلسلے میں بل کی ادائیگی روک دی اور غزہ پٹی میں اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں کمی کر دی۔

منگل کو حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے سیاسی دفتر کے سبربراہ اسماعیل ہنیہ نے گزشتہ روز مصر میں جنرل انٹیلی جنس کے سربراہ خالد فوزی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر حماس کے وفد نے باور کرایا کہ تنظیم فوری طور پر قاہرہ میں فتح موومنٹ کے ساتھ بات چیت کے دور کے لیے تیار ہے تا کہ معاہدہ طے پایا جائے اور اس پر عمل درامد کا طریقہ کار متعین کیا جائے۔

بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ قومی یک جہتی کی حکومت تشکیل دینے کے مقصد سے ضروری اقدامات کیے جائیں تا کہ پھر یہ حکومت مغربی کنارے، غزہ پٹی اور بیت المقدس میں فلسطینی عوام کے حوالے سے اپنی ذمے درایاں سنبھالیں۔

غزہ پٹی کی بیس لاکھ کے قریب آبادی انسانی اور اقتصادی بحرانات سے دوچار ہے جن کے نتیجے میں اقوام متحدہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ غزہ پٹی آئندہ تین برسوں کے دوران رہنے کے قابل جگہ نہیں رہے گی۔ حماس تنظیم نے 2007 میں غزہ پٹی پر کنٹرول حاصل کر کے اس کے انتظامی امور کو خود سنبھال لیا تھا۔رواں سال 7 مئی کو حماس کے سیاسی دفتر کا سربراہ منتخب ہونے کے بعد اسماعیل ہنیہ کا قاہرہ کا یہ پہلا دورہ ہے جس میں اندرون و بیرون حماس تنظیم کے اہم رہ نما ان کے ہمراہ ہیں۔

یہاں یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ حماس کے اس معاہدے کا مطلب اپنی تحریک اور سرگرمیوں سے بالکلیہ دستبرداری نہیں ہے ، چنانچہ اس معاہدے سے کچھ عرصہ قبل اس کے اس اقدام کو دیکھنا ضروری ہے جو اس نے بیرونی دراندازی کو روکنے کے لیے کیا ہے۔ وہ اقدام یہ ہے کہ چند ماہ قبل حماس نے مصر اور غزہ کے درمیان سرحد پر سرحد پار دراندازی روکنے کے لیے 12 کلو میٹر کے علاقے پر سیکیورٹی بفر زون کے قیام کے قیام پر کام شروع کردیا تھا۔غزہ میں حماس کے زیرانتظام وزارت داخلہ و نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے حکام نے 12 کلو میٹر طویل اور 100 میٹر چوڑا بفر زون قائم کرنے کے لیے کام کا آغاز کیا ۔ بفر زون کے قیام کا مقصد سرحد پار ہونے والی دراندازی کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کرنا ہے۔ اس ضمن میں جگہ جگہ کنٹرول ٹاور قائم کرنے کے ساتھ ساتھ خفیہ کیمرے بھی لگائے جائیں گے تاکہ سرحد پار منشیات کی اسمگلنگ روکنے اور اشتہاریوں کے فرار کو روکا جاسکے۔

حماس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بفرو زون کے قیام کا فیصلہ حال ہی میں حماس کی قیادت کے دورہ مصر کے دوران سیکیورٹی سے متعلق طے پائے دو طرفہ معاہدے معاہدے کا حصہ ہے۔غزہ میں فلسطینی سیکرٹری داخلہ توفیق ابو نعیم نے اے ایف پی کو بتایا کہ بفر زون جلد ہی ممنوعہ فوجی علاقہ قرار دیا جائے گا۔ بفر زون کے قیام کا مقصد سرحد پر مانیٹرنگ کی سہولت، منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام اور اشتہاریوں کے مصر فرار کو روکنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بفر زون کا قیام مصر کے لیے پیغام ہے کہ حماس مصر کی قومی سلامتی اور فلسطینی قومی سلامتی میں کوئی فرق نہیں رکھتی۔ حماس مصر کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کسی کو اجازت نہیں دے گی اور غزہ کی سرزمین کو مصر کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

یہ حماس کی کتنی بڑی وسعت ظرفی ہے کہ جس ملک کی سرحدبندی کی وجہ سے اسے بے شمار مصیبتوں اور تنہائیوں کا سامنا ہے مگر پھر بھی اسلامی رشتے کے ناطے وہ اس ملک کے ساتھ ہمہ قسم خیرخواہی کے جذبات ہی رکھتی ہے ۔ 

اس وقت اسرائیل اور امریکہ کے لیے یہ مصالحتی معاہدہ برداشت کرنا مشکل ہورہا ہے، کیوں کہ ان کی کوشش یہ ہے کہ فلسطینیوں کو یکجا نہ ہونے دیا جائے اور اب بھی ممکن ہے کہ وہ اس مصالحتی کوشش کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرے تاکہ اسرائیل کے مفادات کے خلاف کوئی بھی قوت آڑے نہ آنے پائے مگر ہم امید رکھتے ہیں کہ یہ مصالحت اہل فلسطین کو باہم مضبوط ہونے کا موقع فراہم کرے گی اور اس طرح اسرائیل اور امریکہ کے مفادات کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوگی۔ ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online