Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جامعۃ الصابر کی سالانہ تقریب (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 445 - Mudassir Jamal Taunsavi - Jamia Sabir mein Salana Taqreeb

جامعۃ الصابر کی سالانہ تقریب

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 445)

۸ مئی بروز جمعرات جامعۃ الصابر، بہاولپور میں عظیم الشان، پُروقار تقریب ختم بخاری و دستار بندی منعقدہوئی۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی جرنیل جیش محمدﷺ مفتی عبدالرؤوف اصغرحفظہ اللہ تعالی تھے ، تقریب کی صدرات جامعہ کے مہتمم حضرت مولانا طلحہ السیف حفظہ اللہ تعالی نے فرمائی، بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس جامعہ کے شیخ الحدیث مولانا سید محمد عبدالرحمن شاہ صاحب حفظہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا، علاوہ ازیں اس موقع پر دارالافتاء جامعۃ الصابر کے رئیس الافتاء مفتی محفوظ احمد صاحب مدظلہ اور مرکز الجمیل الاسلامی اسلام آباد کے مہتمم اور رئیس الافتاء مفتی منصوراحمدصاحب مدظلہ بھی خاص طور سے شریک تھے۔

جامعہ میں منعقدہونے والی اس تقریب میں بہت سی ممتاز شخصیات اور علماء کرام شامل تھے ، مہمانوں میںمفتی ارشاد احمد صاحب مہتمم جامعہ اسلامیہ امدادیہ بہاولپور، مولانا محمد اسحاق ساقی مبلغ ختم نبوت بہاولپور، اور دیگر متعدد علماء کرام نے خاص طور سے شرکت فرمائی۔

یاد رہے کہ ’’جامعۃ الصابر‘‘ وہ عظیم دینی درس گاہ ہے جوامیرالمجاہدین حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ کی خاص قلبی توجہات، نظرعنایت اورنگرانی سے جس کی بنیاد رکھی گئی، جسے امیرالمجاہدین کے والد گرامی قدر محبوب المجاہدین حضرت اباجی نور اللہ مرقدہ کی آہِ نیم شبی، دعائے سحرگاہی اور ان کے مبارک بڑھاپے کی محبت بھری انتظامی ترتیبات وتوجہات نے سینچا اور اب اس کی آبیاری وترقی کے لیے حضرت مولانا طلحہ السیف حفظہ اللہ تعالی اپنی تمام صلاحیتوںکو بروئے کارلاتے ہوئے باحسن انداز اسے بام عروج تک پہنچا رہے ہیں۔اس جامعہ کویہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ اس کے دامن میں مجاہدین عظام اور شہداء کرام کے مبارک قافلے پڑاؤ کرتے ہیں، راہ حق کے بہت سے فداکاروں اور جانثاروں کے شب وروز اسی جامعہ کی چاردیواری میں گزرتے ہیں اور خود جامعہ کے اساتذہ وطلبہ بھی الحمد للہ علمی لگن کے ساتھ ساتھ جذبہ جہاد سے سرشار ہیں۔

ان تمام نسبتوں کی بدولت یہ جامعہ جس کاآغاز آج سے چند سال قبل ہی ہوا تھا اس وقت الحمدللہ ایک تناوردرخت بن چکاہے جس کااحاطہ ہمارے ہاں رائج تمام تعلیمی نصابات پر حاوی ہوچکا ہے اور اس سے فیض پانے والوں میں ناظرہ قرآن مجید سے لیکر حفظ قرآن وتجوید قراآت تک اوردرس نظامی کے ابتدائی درجات سے لے کر دورہ حدیث تک اور قلیل الوقت مصروف افراد کے لیے تین سالہ دراسات دینیہ کورس سے لے کر تخصص فی الفقہ کے عظیم نصاب سے فراغت پانے والے علماء تک سب شامل ہیں۔

جامعۃ الصابر ،مرکزعثمان وعلی بہاولپور کے پہلو میں واقع ہے اور یہ مرکز خیر وبرکات کا بہت انوکھا اور عظیم سرچشمہ ہے، جہاں خیر وبرکت کے بہت سے مثالی دریا رواں ہیں اور ظاہر ہے کہ جہاں علم وعمل، زہد وتقوی، تعلیم وتربیت اور تصوف وجہاد جیسے اونچے بحرذخّار جاری ہوں تووہاں نورومعرفت اورعلم ویقین کا کیساپُرفضاء سماں ہوگا ؟اس ماحول کو دیکھ کر زکی کیفی مرحوم کے یہ اشعار یاد آتے ہیں:

یہ کون سا جہاں ہے؟یہ کیسا مقام ہے

ہرذرہ جس کاہم سرِ ماہِ تمام ہے

دنیا کے شور وشرکا یہاں نام بھی نہیں

لب پرحدیثِ گردشِ ایام بھی نہیں

مستی فضاپہ ، دل پہ عجب بے خودی سی ہے

محسوس ہورہا ہے ،یہ دنیا نئی سی ہے

دل میں یہاں ہوا وہوس کاگزر نہیں

جنت نما ضرور ہے،جنت اَگر نہیں

امسال (۱۴۳۵ھ) کی تقریب ختم بخاری کے موقع پر تکمیل بخاری شریف کے علاوہ دستاربندی اور انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ:

 جامعہ سے سندفراغت حاصل کر نیوالے’’17‘‘ طلبہ کے علاوہ ، تین سالہ دراسات دینیہ نصاب کی تکمیل کرنے والے 4طلبہ کو کتابوں اور تلوار کے ہدیے کے علاوہ دستاربندی بھی کی گئی ۔

جامعہ ہذا سے تخصص فی ا لفقہ کرنے والے 9علماء کرام جبکہ مرکز الجمیل الاسلامی اسلام آباد سے تخصص فی الفقہ کر نیوالے 12علماء کرام کی رومال پوشی کی گئی اورانہیں بھی قیمتی کتابوں کا ہدیہ دیا گیا۔

اس سال جامعہ ہذاسے حفظ کی تکمیل کرنے والے 46 حفاظ طلبہ جن میں جامعہ کی شاخ جامع مسجد اقصی،بہاولپور کے 7طلبہ شامل ہیں،ان کی رومال پوشی کی گئی اورانہیں قرآن کریم کا ہدیہ دیا گیا۔

عشاء کی نماز کے فوراًبعد حضرت مفتی منصوراحمد صاحب نے درس قرآن دیا، ان کے بعددورہ حدیث کے طالب علم مولوی راشدمسعود نے تلاوت کلام پاک فرمائی جس سے اس تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا، بعدازاں معروف نظم خواںقاری غلام عباس صاحب نے نعتیہ کلام پیش کیا ۔بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس خود جامعہ کے شیخ الحدیث مولانا سیدعبدالرحمن شاہ صاحب نے ارشاد فرمایا۔ انہوں نے اپنے بیان میں دوباتوں کی طرف خاص طور سے توجہ دلائی: ایک تو یہ واضح کیا کہ ہمارے مدارس میں ختم بخاری کی یہ سالانہ تقریبات کیوں منعقدہوتی ہیں اوران سے خود دینی مدارس اورعوام الناس کو کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں؟ اورظاہرہے کہ اس طرح ایک تو دینی مدارس کی سالانہ کارکردگی عوام الناس کے سامنے آجاتی ہے اور پھر ان میں اپنے بچوں کو دینی تعلیم دلوانے کا شوق بھی پیدا ہوتا ہے تو اس طرح ان تقریبات کے یہ دوبڑے فائدے ہیں۔

دوسری بات جس کی طرف تمام شرکاء کو عموماً اور فضلاء کرام کو خصوصاً توجہ دلائی وہ ’’اخلاص‘‘ پیدا کرنے کی محنت ہے، آپ نے واضح فرمایا کہ اخلاص ہرنیک عمل کی جان ہے اوراسی سے نیک اعمال میں وزن پیدا ہوتا ہے چنانچہ جس میں جس قدراخلاص زیادہ ہوگا اس کے عمل کا وزن اسی قدر زیادہ ہوگا اورجس کے عمل میں جس قدر اخلاص کم ہوتا چلا جائے گا تو اس کا اجر بھی اسی قدر بے وزن ہوجائے گا، اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس علم پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اخلاص بھی پیدا کریں ورنہ خطرہ ہے کہ کہیں یہ ساری محنت رائیگاں نہ چلی جائے۔ معاذ اللہ

بعد ازاں حضرت مفتی عبدالروف اصغرحفظہ اللہ تعالی نے مفصل بیان فرمایا اوراس میں دینی مدارس کی خدمات کو باحسن انداز اجاگر کیا، طلبہ کرام کو باکرداربننے کی بھرپورموثر ترغیب دی، معاشرے میں پھیلی ہوئی بددینی کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے پر زوردیا اور خاص طورسے عالم اسلام کے دردناک حالات میں ہماری اورخاص کر علماء کرام کی جو ذمہ داری بنتی ہے اس کی طرف نہایت ہی جگرسوزی سے توجہ دلائی اور یہ یاددلایا کہ آج امت مسلمہ کو جہاد کے میدانوں میں علماء کرام کی ضرورت ہے اورجب علماء کرام جہاد کے میدانوں کی طرف نکلتے ہیں تو وہ مولانا فقیرعطاء اللہ شہید کی طرح کفار کے پرخچے اڑاتے ہوئے جام شہادت نوش کرتے ہیں، اس لیے ضرورت ہے کہ تم یہ عزم کرو کہ ہم اپنا آئیڈیل مولانا فقیر عطاء اللہ شہید جیسے جانبازوں کو بنائیں گے جنہوں نے اپنے علم پرایسا عمل کیا اور ایسا دل میں اتارا کہ اسی پر اپنی جان بھی قربان کردی۔

آخر میں جامعہ کے مہتمم مولانا طلحہ السیف صاحب حفظہ اللہ تعالی نے مختصر بیان کیا، انہوں نے اپنے بیان میں تمام فضلاء وحفاظ کو اوران کے والدین کو خاص طور سے مبارک باد پیش کی، اجتماع میں شرکت کیلئے آنے والے تمام مہمانوں بشمول عوام الناس و علماء کرام سب کا شکریہ اداء کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح آپ حضرات نے اب تک ہمارے اس جامعہ پر اعتماد کااظہار کیا آئندہ بھی اسی طرح ہمارے ساتھ اعتماد اورتعاون کا معاملہ فرماتے رہیں گے، علاوہ ازیں انہوں نے اس موقع پر خاص طور سے جامعہ کے سابق مہتمم حضرت اباجی اللہ بخش صابرصاحب رحمہ اللہ تعالی اور جامعہ کے مربی ومحسن امیرالمجاہدین حضرت مولانا محمد مسعودازہرحفظہ اللہ تعالی کی شفقتوں اور مہربانیوں کا تذکرہ کیا اوران کے لیے ڈھیروں دعائیں کی کہ اللہ تعالی حضرت اباجی رحمہ اللہ کی محنتوں کو دنیا وآخرت میں بارآورفرمائے اورجامعہ کے مربی ومحسن کی عمر میں برکت عطاء فرمائے اورانہیں ہرقسم کے شروفتنے سے محفوظ فرمائے۔ مہتمم جامعہ کے بیان کے بعد جامعہ کے رئیس الافتاء حضرت مفتی محفوظ احمد صاحب مدظلہ نے اختتامی دعاء کرائی اور اس طرح رات ایک بارہ بجے یہ عظیم الشان اور پروقار روحانی تقریب اختتام کو پہنچ گئی ۔ الحمد للہ رب العالمین

اس تقریب میں ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ اس موقع پر جامعہ کے طلبہ دورہ حدیث کی محنتوں اور کاوشوں سے ’’تحفہ صابریہ‘‘ کے نام سے ایک ڈائری کی رونمائی بھی کی گئی جس میں جامعہ الصابر کے مکمل کارگزاری، جامعہ کے اساتذہ کرام کے حالات و خدمات اور جماعت کے اکابر سے حاصل کردہ نصیحت آموز مضامین شامل ہونے کے علاوہ جامعہ الصابر، مرکز عثمان وعلی رضی اللہ عنہما اور جامع مسجد سبحان اللہ کی عمدہ تصاویر بھی دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں۔ جوحضرات اس ڈائر ی کو حاصل کرنے کے خواہش مند ہوں وہ المرابطون بہاولپور کے ذمہ داران سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

آخر میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پرخاص جامعہ الصابر کے فضلاء کے لیے مولانا خالد اسلام شاہین صاحب کی لکھی ہوئی الوداعی نظم جو قاری غلام عباس نے اپنے خوبصورت اورپُراثر اسلوب میں پیش کی ، اس کے چند اشعار آپ کی خدمت میں بھی پیش کردوں ۔ ملاحظہ فرمائیے الوداعی نظم کے چند اشعار:

الوداع  اے دین حق کے پاسبانو !الوداع

جامعہ صابر کے فاضل نوجوانو،الوداع

کس قدر ہوخوش نصیب اے وارثانِ دینِ حق

دیکھ کرعظمت تمہاری جھوم اٹھے ہیں مَلَک

جامعہ کی علمی عظمت کے نشانو ،الوداع

علمی،عملی اورجہادی نور کاہے امتزاج

ملتا ہے یاں نوجوانوں کو اکابر کامزاج

عالی شان اسلاف کے اے قدردانو،الوداع

حضرت صابر کی آہ سحرگاہی کے اثر

اْن کی محنت،ان کی کاوش اوردعاوں کے ثمر

گلشن صابر کے انتھک باغبانو،الوداع

علم کی میراث سے تم رخ جہاں کا موڑ دو

کفر کے ہر چیلے کی کلائی توڑ دو

حضرت مسعودازہر کے دیوانو،الوداع

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor