Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

سازش بے نقاب ہوئی (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 615 - Mudassir Jamal Taunsavi - Sazish be naqam hui

سازش بے نقاب ہوئی

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 615)

لیجئے اب وہ ویڈیو پیغام بھی سامنے آگیا اور پوری سازش اور اس کے تانے بانے بھی نکھر کر سامنے آگئے۔

اس ملک پر دہشت گردی کی جو جنگ مسلط کی گئی تھی اور اس کے لیے جو شوربرپا گیا تھا اس کا پورا نقشہ واضح ہوا۔

کون لوگ ہمارے ملک پاکستان کی سلامتی کے بخیے اُدھیڑنا چاہتے ہیں اور کن راستوں سے وہ اپنا مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ بھی عیاں ہوگیا۔

ملک کے دشمن کون ہیں؟ اور اس ملک کی اساس کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمدرسول اللہ کے دشمن کون ہیں؟ یہ دونوں باتیں بھی اب چھپی نہیں رہیں۔

ایسے لوگوں کو چھتری کہاں مہیا ہے اور کون مہیا کررہا ہے اس سے بھی پردے اٹھ رہے ہیں۔

وہ جس نے کہا تھا کہ قادیانیوں کے بارے میں مسلمانوں کا اختلاف ہے اور وہ خود کو مسلم کہتے ہیں تو ہم انہیں غیر مسلم کیوں کہہ سکتے ہیں؟

اب یہ بھی عیاں ہوگیا کہ وہی موصوف اس سے بہت پہلے قادیانیوں سے کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردوں سے نمٹنے کے بعد تمہارے خلاف کی گئی قانونی کارروائی جس کے تحت قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا، اسے ختم کرادیاجائے گا۔

یہ وہ بات ہے جو ہم پہلے بھی کہتے آئے ہیں کہ دہشت گردی کے نام پر مسلط کی گئی جنگ میں یک طرفہ طور پر دین دوست مسلمانوں اور اِداروں کو نشانہ بنانے کی مکمل کوشش کی جارہی ہے اور اس کے پس پردہ یقینا وہی قوتیں ہیں جو اس ملک کی دشمن ہیں اور وہ سمجھتی ہیں کہ اس ملک کا دین دار طبقہ اس ملک کا بھی محافظ ہے اور اس ملک کی اساس کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ کا بھی محافظ ہے۔ اس لیے پہلے ضروری تھا کہ اس دین دار طبقے کو دہشت گردی کے نام پر خوب کچلا جائے اور اس کے لیے اندرونی و بیرونی سطح پر کئی جال پھیلائے گئے۔

خصوصا مرزاقادیانی کے مشن کی تکمیل کے لیے اس ملک میں جہاد فی سبیل اللہ جیسے اسلام کے محکم اور قطعی فرض کو دہشت گردی کے مترادف بنا دیا گیا اور کسی بھی عوامی یا علمی پلیٹ فارم پر جہاد فی سبیل اللہ کی بات کرنا خوف و دہشت کی علامت بنا دیا گیا،اور اس جہادی جذبے اور جہادی نظریے کے خاتمے کے لیے نصاب تعلیم میں قرآن کریم کی جہاد سے متعلقہ آیات تک سے بے زاری اور لاتعلقی اور کالعدمی جیسا برتاؤ پیش کیا گیا۔

اس ملک میں فحاشی و بے حیائی کے مناظر اور ان کے سپورٹرز کو کھلی چھوٹ دی گئی بلکہ حکومتی سطح پر ان کے لیے حوصلہ افزائی کا ماحول بنایا گیا، مگر دین داری اور اس ملک کے آئین و قانون کو دین داری کی عملداری میں لانے کی بات کرنے والے ہر شخص کو ہراساں کرنافرض منصبی سمجھ لیا گیا۔

جب قریباً دوھائیوں تک دہشت گردی کے نام سے دین دار طبقے کو دبانے کی کوششیں کر لی گئیں تو یہ سمجھ لیا گیا کہ اب قادیانیوں کے لیے راستہ کسی قدر ہموار ہوچکا ہے، اور یہ بھی سمجھ لیا گیا کہ اس ملک کا دین دار طبقہ بالکل مُردہ یا کم از کم نیم مُردہ تو بہر حال ہوچکا ہے، اس لیے ابتدائی قدم کے طور آئینی معاملات میں کچھ ایسا رد و بدل کیا گیا جس سے قادیانیوں کے لیے سہل انگاری کا پہلو بھی نکل آئے اور اسی کے بل بوتے پر آگے چل کر مزید بڑے بڑے اِقدامات بھی کیے جاسکیں، اس موقع پر نہ معلوم ہماری قومی اسمبلی کے نمائندگان جن میں یقینا ایک بڑی تعداد بہر حال ایسی ہے جو اسلام کی اساسیات پر کوئی سمجھتے نہیں کرسکتی خصوصا اس ملک کے ہزاروں عوام نے جس طرح اپنے خود کانذرانہ دے کر اس ملک کے آئین و قانون میں جو باتیں طئے کرائی ہیں، ان پر تو کوئی بھی آسانی سے پس پائی اختیار نہیں کر سکتا کیوں کہ سب کو پتہ ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو جس عوام سے ووٹ لینے ہیں اسنے جوتے مارنے ہیں ، مگر بہر حال عالمی گماشتوں کو جن لوگوں نے اپنی چھتریاں فراہم کررکھی ہیںانہوں نے بڑی ہی چابکدستی اور عیاری سے یہ قدم اٹھا لیا اور وہ بظاہر بہت خوش بھی تھے اور مطمئن مگر پھر ایسا ہوا کہ سب کا بھانڈہ پھوٹ کیا گیا اور ملک بھر کے عوام(جن کی بڑی تعداد اس وقت سوشل میڈیا پر ہی ایکٹیو ہے)نے قادیانیوں کے بارے میں کی جانے والی اس سہل انگاری کا بروقت اور بھرپور نوٹس لیا اور اس پر ایک ایسا سخت رد عمل دیا کہ حکومت کی بھی تانگیں کانپ گئیں اور کئی نقاب پہنے چہروں سے نقاب بھی اُتر گئے اور اسی لمحے یہ سازش بھی عیاں ہوگئی کہ اس ملک کی اساس پر حملے کے لیے دو اساسی مرحلے طئے کیے گئے تھے:

(۱)جہادی اور دین دار طبقے کو انتہاء درجے کا خوف زدہ کرکے بالکل پس منظر میں لے جانا جس سے ان کاکردار کچھ بھی موثر نہ رہے

(۲)قادیانیوں کے بارے میں غیر مسلم ہونے کا آئینی فیصلہ معطل کرنا، جس کے بعد اس ملک میں کی اساسی حیثیت بالکل نیست و نابود ہوجاتی اور پھر جو ہونا تھا اس کے منظر بہت ہی خوفناک دکھائی دیتا ہے۔

قارئین کرام! اگر آپ بھی ملک میں جاری صورت حال کے پورے منظر نامے پر نظر دوڑائیں گے تو آپ کو یقینا اس سے پورا اتفاق ہوگا کیوں کہ ہر منصوبے پر ایک قابل ذکر وقت گزرنے کے بعد اس کے خدو خال نہایت واضح ہوجایا کرتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ اپنے کئی مراحل طئے کرتا ہوا اب بالکل واضح ہوچکا ہے اور اب ہمیں اس سے نمٹنے کا جوابی رد عمل شروع کرنا ہوگا۔

یہ رد عمل کیا ہونا چاہئے؟

اس سوال کا جواب نہایت سادہ اور آسان ہے ، ہاں عمل میں لانا عزیمت مانگتا ہے، قربانی مانگتا ہے، یکسوئی اور بے لوث وابستگی کا تقاضا کرتا ہے۔

جواب یہ ہے کہ: کلمہ طیبہ سے اپنا تعلق مضبوط بنایاجائے، کلمہ طیبہ کے تقاضوں کو سب سے مقدم رکھا جائے، کلمہ طیبہ سے باغی ہر گروہ سے اعلان براء ت کیا جائے، وہ نماز جو بے حیائی اور فحاشی سے روکتی ہے اس کا اہتمام کیاجائے اور اس اہتمام کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ان لوگوں اور اداروں سے دور رہا جائے تو فحاشی اور بے حیائی کے علم بردار ہیں۔ اور تیسرا کام یہ ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ کا نظریہ مضبو ط بنایاجائے، جہاد کے خلاف پھیلائے جانے والے شکوک و شبھات سے اپنے ذہنوں کو پاک کیاجائے۔ جھوٹا دعوی نبوت کرکے جہاد کو منسوخ کرنے والے اور دین کے صحیح فہم کا نام لے کر جہاد فی سبیل اللہ کو صرف نبی کریمﷺ کے ساتھ خاص کرنے والے غامدیوں سے اپنا میل ملاپ الگ کر لیا جائے۔

یہ وہ باتیں ہیں جو ان کے لیے موت سے کم نہیں۔

قرآن کریم کا صاف صاف پیغام ہے:

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اس کا قرب تلاش کرو، اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔(سورۃ المائدہ)

اللہ تعالی سے ڈرو: یعنی اس کی ہمہ قسم کی نافرمانی سے بچو، اس کو ناراض کرنے والے کاموں سے اجتناب کرو،

اللہ تعالیٰ کا قرب تلاش کرو: یعنی اس کی رضامندی والے کام شوق سے کرو، جن کاموں پر اس کی رضاملتی ہے ، انہیں باقی ہر کام پر ترجیح دو

اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو: جہاد کرتے وقت انسان بہت سے گناہوں سے خود بخود بچ جاتا ہے کیوں کہ اس ماحول میں گناہوں کا عام چلن نہیںہوتا اور خود انسان کا ذہن بھی جنگ میں مشغول ہونے کی وجہ سے گناہوں کی طرف منتقل نہیںہوتا اور جہاد کی بدولت اللہ تعالیٰ کا قرب بھی ملتا ہے، اس کا رضا نصیب ہوتی ہے، اس کی یاد اور اس کی محبت دل میں اترتی چلی جاتی ہے، ایمان بالغیب ترقی پاتا ہے اور اسی لیے گناہوں سے بچنے اور نیکیاں کرنے کا حکم دینے کے بعد الگ سے جہاد کا حکم دیا کہ یہ دونوں حکم کی شان لیے ہوئے ہے اور اسی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کامیابی کی یقین دھانی کرائی گئی ہے۔

دہشت گردی کے نام پر دین داروں اور جہادی نظریے کو شکست دینے والوں اور پھر ملعون قادیانیوں کو مسلمانوں کی صفوں میں گھسیڑنے کی کوشش کرنے والوں کو خبر ہو کہ ناکامی اور ذلت تمہارا مقدر ہے۔ ایمان والوں کے لیے ان کا رب بہت پہلے فرماچکاہے:

اگر تم ایمان پر قائم ہو تو غالب تم ہی ہو !

ارے جس سے ایمان چھن گیا ، اس کے پاس باقی کیا رہا، جس پر وہ فخر کر سکے یاجس پر وہ بھروسہ کرسکے؟؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online