Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

ایک اِلتجاء (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 616 - Mudassir Jamal Taunsavi - Aik Iltija

ایک اِلتجاء

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 616)

ملک شام میں جس طرح سنیوں کا صفایا کیا گیا ہے وہ بہت ہی افسوس ناک ہے اور اس سے زیادہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ عالم اسلام اس سب سے خطرناک انسانی المیے سے تقریبا لاتعلق بناہوا ہے۔

اس وقت بھی شام کے مشرقی شہر المیادین کی کیا صورت حال ہے؟ اس کے لیے ملک شام کے ایک عالم دین کی اس التجاء کو دیکھئے:

’’میں تمہیں اسلامی تعلق کا واسطہ دے کر یہ التجاء کرتا ہوں کہ اپنے میادین کے بھائیوں کے لیے دعاء کیجئے،کہ اللہ تعالی ان سے تنگی اور قتل وغارت گری دور فرمادے، کیوں کہ اسوقت  تمہارے بھائیوں کے لاشے روڈوں پر بکھرے پڑے ہیں، اور کافروں نے وہاں کے تقریبا ایک لاکھ افراد کو قتل کرنے اور نیست ونابود کرنے کافیصلہ کر لیا ہے، جن میں زیادہ تر تعداد اب یا تو بڑے بوڑھے باقی ہیں یا پھر دودھ پیتے بچے اور ان کی مائیں۔ پس جو چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی مدد کریں تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے بھائیوں کی مدد کرے اگرچہ صرف دعاء کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو!‘‘

میادین میں جو انسانی المیہ سامنے آیا ہے اس کی پشت پر شامی فوج اور اس کی معاونت میں روسی افواج شامل ہیں۔ چنانچہ ایک خبر کے مطابق ’’شامی صدر بشار الاسد کی فوج روسی عسکری مدد کے ساتھ مشرقی شہر میادین میں داخل ہو ئی ہیں۔ اس شہر پر قابض تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے جنگجووں کو پسپائی کا سامنا ہے۔شام کے حالات پر نگاہ رکھنے والے مبصر گروپ سیریئن آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے میادین میں شکست کو داعش یا اسلامک اسٹیٹ کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔میادین کو شام میں داعش کے زیر قبضہ اہم اور مرکزی مقامات میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔ یہ شہر شام کے تیل پیدا کرنے والے صوبے دیرالزور کے انتظامی علاقے میں شامل ہے۔اسی صوبے کو اسلامک اسٹیٹ کا سکیورٹی اور فوجی مرکز خیال کیا جاتا ہے۔تنظیم کے بنائے گئے دارالخلافہ الرقہ سے فرار ہونے والے جہادیوں کا بڑا ٹھکانہ میادین اور البُو کمال کے شہر سمجھے جاتے ہیں۔‘‘

اس خبر کے سیاق و سباق سے اندازہ لگائیں کہ کس طرح سنی مسلمانوں کا قتل عام کرنے کا جوازپیدا کیا گیا ہے۔ ایک شہر میں جہاں یقینا زیادہ تر آبادی عامۃ المسلمین کی ہے ، مگر اسے داعش کے نام پر پوری طرح اجاڑنے اور بشاری فوج کے لیے خالی کرانے کا منصوبہ بنا کر وہاں چڑھائی کی گئی ہے ۔

یہ حقیقت ہے کہ اس قسم کی کارروائیوں میں شامی فوج اور اس کے معاون روسی فوجی بھی عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور ان کا مقصد ان علاقوں کو پوری طرح خالی کرانا ہے۔ اسی وجہ سے تمام تر ممانعتوں کے باوجود کچھ نہ کچھ خبروں میں ایسی اموات کا ذکر آ ہی جاتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ عام شہریوں کی شہادتیں ہیں۔ چنانچہ ایک دوسری خبر میں یہ بتایا گیا ہے کہ :’’شام کے مختلف علاقوں میں بم باری سے مزید 35 شہری شہید ہوگئے ہیں۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں مشرقی صوبے دیرالزور میں ہوئی ہیں، جہاں داعش کے زیرقبضہ میادین شہر کے قریب جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب دریائے فرات کی گزرگاہ پر روسی بم باری سے 7عورتوں اور بچوں سمیت 14شہری شہید ہوئے۔ حملے میں کئی گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں۔ صوبے کے صدرمقام دیرالزور شہر میں نامعلوم سمت سے آنے والے میزائلوں کی زد میں آکر 3عورتوں اور 3بچوں سمیت 13شہری مارے گئے۔ یہ حملہ دیرالزور کے علاقے قصور کالونی پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں کئی عمارتیں بھی تباہ ہوگئیں۔ صوبہ ادلب کے قصبے خان شیخون پر 4 روسی میزائل لگنے سے 3 بچوں سمیت 5شہری جاں بحق اور 10زخمی ہوئے۔ جب کہ مشرقی غوطہ میں بم باری سے 5شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔دوسری جانب اسدی فوج نے جمعہ کے روز داعش کے اہم ترین گڑھ میادین شہر پر حملہ کیا ہے۔ اسدی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ شہر میں داخل ہوگئی ہے۔شامی مبصر کے مطابق اس کارروائی میں اسدی فوج کو روسی فضائیہ کی مدد حاصل ہے۔ اسدی فوج نے میادین میں داخل ہونے کے بعد شہر کے مغربی حصے میں کئی عمارتوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس دوران روسی فضائی طیاروں کی معاونت سے اسدی فوج نے نواحی دیہی علاقوں کی جانب بھی پیش قدمی کی۔ شامی مبصر نے میادین میں شکست کو داعش کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔ ادھر روسی حکام نے بتایا ہے کہ شام میں داعش کیخلاف کارروائی کے دوران ایک ایم آئی۔28 طرز کے ہیلی کاپٹر کو ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی ہے۔‘‘

یہاں بھی واضح ہے کہ نام داعش کا ہے مگر ہلاکتوں میں تذکرہ عام شہریوں کا ہی مل رہا ہے اور یہ ایک ایسی صورت حال ہے کہ جس پر عالم اسلام بھی خاموش ہے اور ہمارے بس میں بھی سوائے دعاء کے کچھ نہیں رہا، اور اسی لیے شاید اس شامی عالم دین نے عالم اسلام کے مسلمانوں سے کچھ زیادہ نہیں مانگا، بس اپنے لیے دعاؤں کی ہی درخواست کی ہے۔

٭…٭…٭

اللہ تعالیٰ کا ایک اور فضل یہ ہے کہ بعض صورتیں ایسی بھی ہیں کہ وہاں ہم اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کے لیے دعاء کے علاوہ بھی مدد کرسکتے ہیں۔ ان صورتوں میں سے ایک صورت یہ ہے کہ برما کے مظلوم ومہاجر مسلمانوں کے ساتھ مالی تعاون کی شکل میں ان کی مشکلات کو آسان بنایاجائے، دکھی حالات میں ان کو سہارا دیاجائے، ان کے بے آسراپن کو دورکرکے انہیں آسرا دیاجائے، انہیں رہنے کی جگہوں میں معاونت فراہم کی جائے، انہیں موسم کے اتارچڑھاؤ اور بدلتے حالات میں اپنی جان و مال اور صحت وعزت کی حفاظت کے اسباب مہیا کیے جائیں۔ یہ وہ تمام صورتیں ہیں جو ہمارے لیے قابل عمل ہیں۔

’’الرحمت‘‘ کی طرف سے برما کے ان مظلوم ومہاجرین کے لیے تعاون مہم شروع ہے، اور اس کا انتظام بھی مستند ہے اور طریقہ کار بھی درست ہے۔ الرحمت کی خدمات سے اہل پاکستان ناواقف بھی نہیںہیں۔ اس سے پہلے کتنے ہی نازک حالات اور خطرناک حادثات و آفات میں متاثرین کی مدد ونصرت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیاگیا ہے اور اپنوں کے علاوہ غیروںنے بھی ان خدمات کا اعتراف کیا ہے اوراسی موقع پر کہاجاتا ہے:

الفضل ماشہدت بہ الاعداء

اعزاز تو وہ ہے کہ دشمن بھی اس کا اعتراف کرنے لگے

الرحمت کی یہ مہم دس نومبر تک جاری رہے گی۔ گویا اب دن کم بچے ہیں اور کام بہت زیادہ ہے، ضروریات بھی کافی ہیں، مسائل کا انبار الگ ہے، رکاوٹیں اور پریشانیاں اس سے سوا ہیں، مہلت کم ہے اور ذمہ داری زیادہ۔

آگے بڑھیے، ہمت کیجئے، ایسے وقت میں جبکہ قوم اور ہمارے حکمران قوم کا پیسہ کھیل تماشوں میں ، کروڑوں اور اربوں میں لٹا رہے ہوں

 اور وہ فکر آخرت اور آخرت میںہونے والے حساب سے بالکل ہی بے خبر نظر آ رہے ہوں تو ضروری ہوجاتا ہے کہ فکر آخرت رکھنے والے اور اپنی آخرت کو بنانے والے اس موقع کو غنیمت جانیں کہ ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیے جانے والے تھوڑے سے صدقے پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑے بڑے انعامات ملتے ہیں۔

القلم کے انہی صفحات پر آپ کو الرحمت کا اشتہار بھی مل جائے گااور رابطہ نمبرز بھی۔ آپ سے التجاء ہے کہ اس مہم میں ضرور حصہ لیں، بھرپور حصہ لیں ، جب لوگ دنیا سمیٹ رہے ہوں تو ہمیں چاہیئے کہ ہم آخرت کاخزانہ بنانے والے بنیں!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online