Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

اور اَب طلحہ شہیدؒ… (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 617 - Mudassir Jamal Taunsavi - Aur Ab Tallha Shaheed

اور اَب طلحہ شہیدؒ…

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 617)

کچھ عرصہ پہلے ایک دوست مولانا مامون اقبال صاحب کی اچانک وفات پر ایسا محسوس ہورہا تھا کہ میرا بڑا بھائی مجھ سے جدا ہوگیا ہے اور اب تو مولانا طلحہ رشید کی شہادت پر دل ایسا محسوس کررہا ہے کہ میرا چھوٹا بھائی جدا ہوگیا ہے۔

ہاں وہ بس عمر میں ہی چھوٹا تھا مگر کردار میں بہت اونچا تھا اور اب تو جوانی کی اُٹھان اور عنفوان شباب میں اس شان کے ساتھ جام شہادت نوش کیا ہے کہ حور وملائک بھی عش عش کراُٹھے ہوں گے، وہ جس محاذ پر پہنچے وہاں اگرچہ بہت ہی مختصر سا وقت گزار پائے مگر شہید تو زندہ ہوتے ہیں اور وہ اس شان سے یہ زندگی پاگیا ہے کہ اب بزبان حال یہ کہا جاسکتا ہے:

وقارِ انجمن ہم سے، فروغِ انجمن ہم ہیں

سکوتِ شب سے پوچھو، صبح کی پہلی کرن ہم ہیں

ہمیں سے گلستاں کی بجلیوں کو خاص نسبت ہے

بہاریں جانتی ہیں، رونقِ چمن ہم ہیں

قریب و دور کی باتیں، نظر کا وہم ہیں پیارے

یقینِ رہنما ہم سے، فنونِ راہزن ہم ہیں

طلوعِ آفتابِ نو ہمارے نام پر ہوگا

وہ جن کی خاک کے ذرّے ہیں، خورشیدِ وطن ہم ہیں

بہر صورت ہماری ذات سے ہیں سلسلے سارے

جنوں کی سادگی ہم ہیں، خرد کا بانکپن ہم ہیں

میری سعادت ہے کہ طلحہ کی ابتدائی تعلیمی و خطیبانہ اُٹھان میں کچھ نہ کچھ میرا حصہ شامل رہا ۔ میں جس وقت دورہ حدیث سے فراغت کے بعد القلم کی تشکیل میں آیا، تو ابتدائی تین سال راولپنڈی دفتر میں رہا، اسی دوران اپنے بزرگ محسن مولانا طلحہ السیف صاحب کے کہنے پر دو ایک تقریریں لکھ کر دیں جو بعض طلبہ کو المرابطون کے تقریری مقابلے میں حصہ لینے کے لیے درکار تھیں۔ بندہ نے اپنے تئیں جو بن پڑا لکھ دیا اور پھر جب نتائج سامنے آئے تو پتہ چلا کہ ان میں ایک طلحہ رشید بھی تھا اور اس میں یقینا کمال طلحہ کے اپنے خطیبانہ انداز کا تھا، میری لکھی تقریر تو بس ایک بہانہ تھی۔

پھر جب حالات میں تبدیلی کی وجہ سے روالپنڈی سے تشکیل تبدیل ہو کر بہاولپور مرکز شریف میں پہنچ گیا تو القلم کے ساتھ جامعۃ الصابر میں ایک سبق بھی سپرد کردیا گیا۔

اس دوران طلحہ کا خامسہ والا سال تھا کہ مولانا مامون اقبال صاحب کے پاس ان کا مختصر المعانی کا سبق تھا۔ سال کے آخر میں بعض وجوہات کی وجہ سے کتاب کا کافی حصہ باقی رہتا تھا،تو مولانا کے کہنے پر وہ حصہ میں نے اپنے ذمہ لیا اور تقریباً دو ہفتوں کے اندر اندر اسے مکمل کرادیا اور میرے لیے حیرانی کی بات یہ تھی کہ کتاب کے دو دوچار صفحات کا سبق بھی طلحہ پوری طرح نہ صرف یہ کہ سمجھ لیتا تھا بلکہ بسا اوقات کوئی ایسا سوال بھی کردیتا تھا جو کم از کم اس وقت میری توقع سے بالکل زائد ہوتا تھا۔

یہ تو ایک عارضی تعلق تھا، پھر اگلے سال ان کا درجہ سادسہ تھا اور اتفاق سے میرے پاس درجہ سادسہ کی مشکل ترین کتاب توضیح مع التلویح تھی، اس سال بھی میرے لیے یہ مشکل کتاب پڑھانا اگر آسان ہوا تو وہ  طلحہ کے سبب ہی تھا کہ پوری کلاس میں اس کی بیدار مغزی اور سمجھداری کی وجہ سے مجھے اس کتاب کی بھرپور تیاری کرنا پڑتی اور جب اپنا پڑھایا ہوا سبق طلحہ کو سمجھتے ہوئے اور اس پر سوالات کرتے ہوئے دیکھتا تو دل خوش ہوجاتا کہ الحمد للہ محنت ٹھکانے لگ رہی ہے ۔

پھر مشکوٰۃ کے سال وہ زیادہ تر جہادی میدانوں میں رہا۔ سال کے آخر میں فقط امتحان میں شرکت کے لیے واپس آیاتو مجھ سے بھی ملا اور کہنے لگا کہ استاذجی آپ اگر بیضاوی شریف کا کچھ حصہ پڑھا دیں تو امید ہے کہ امتحانات میں اچھے انداز سے کامیاب ہو جاؤں گا۔ مجھے بھی اس کی استعداد پر بھروسا تھا، چنانچہ شاید فقط دو ڈھائی ہفتوں کے اندار اندر اسے تفسیر کی مشکل ترین کتاب بیضاوی شریف کے وفاقی نصاب کا کافی حصہ پڑھادیااور اس نے بالکل اس طرح کہ جیسے دیگر طالب علم سال بھر کی محنت کے بعد جاکر سمجھتے ہیں اور پھر جب امتحانات کے نتائج آئے تو الحمد للہ کہ طلحہ سب ساتھیوں میں ممتاز پوزیشن سے کامیاب تھا۔

پھر طلحہ کے دورہ حدیث کے سال میرے پاس ترمذی شریف جلد اول کا سبق تھا اور تقریباً یہ پورا سال بھرپور رفاقت میں گزرا، سال بھر میں اکثر و بیشتر جن طلبہ نے احادیث مبارکہ کی قراء ت کی ، ان میں طلحہ نمایاں تھا اور اس کا عبارت پڑھنے کا انداز اور رفتار ایسی تھی کہ بلاشبہ دل خوش ہوتا تھا اور اسی سبب سے سبق پڑھانے میں بھی بڑا لطف آتا تھا۔

ترمذی شریف جلد اول پڑھنے اور پڑھانے والے اہل علم جانتے ہیںکہ اس میں زیادہ ترفقہی اختلافی مباحث چلتی ہیں اور ہمارے سبق میں بھی ظاہر ہے کہ کتاب کی مناسبت سے ایسا ہی ہوتا تھا اور طلحہ بھی علم اور استاذ سے پوری طرح مخلص ہونے کی وجہ سے کبھی بے اعتنائی کا اظہار نہیں کرتا تھا مگر مجھے اس کے چہرے میں چھپے وہ تاثرات ضرور محسوس ہوتے کہ وہ ان مباحث کوبس احترام کی وجہ سے سن رہا ہے ورنہ اس کے دل میں جو عظیم مقصد پیوست ہوگیا تھا وہ ان لفظی مباحث سے بہت اونچا تھا اور جس دل میں وہ مقصد پیوست ہوجائے پھر اس کی نظر میں یہ سب کچھ احترام کے باوجود اُوجھل ہوجاتا ہے اور ایسے لوگ زندگی کا راز پانے کے لیے آسائش کے متلاشی نہیں ہوتے بلکہ جہاں طوفان پلتے ہوں وہاں جاکر اپنی زندگی تلاش کرتے ہیں ۔ بقول ساغر:

صرف طوفاں میں یہی بچنے کی اِک تدبیر ہے

جس طرف موجیں اُمڈتی ہوں ، اُدھر ہو جائیے

چنانچہ طلحہ نے بھی اس زندگی کے فتنوں کے طوفان سے بچنے کے لیے جہادکشمیر کے میدان کا رُخ کیا اور پھر کچھ دیر ہی نہیںکی، بس پلک جھپکنے میں طوفان کی موجوں سے ٹکرایا اور ان لوگوں میں شامل ہوگیا جن کے بارے میں رب کریم کا ارشاد ہے:

’’اور وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے، اللہ تعالیٰ ان کے اعمال ہرگز ضائع نہیں کرے گا، وہ انہیں سیدھی راہ دے ، ان کی حالت سُدھار دے اورا نہیں اُس جنت میں داخل کردے گا جس کی انہیں اس نے پہچان کرادی تھی‘‘ (سورۃ محمد)

شہادت کا شوق اور رب کریم کے عکسِ جمال کا جو عاشق بنتا ہے تو پھر وہ اس دنیا سے یقینا دل اچاٹ ہوجاتا ہے اور ایسے پھول اپنے لہو کی سرخی میں نہا کر اپنے رب کے پاس پہنچتے ہیں۔ بقول کسے:

عطا جسے تیرا عکسِ جمال ہوتا ہے

وہ پھول سارے گلستاں کا لال ہوتا ہے

دنیا دوسروں کے ہونٹوں کی سرخی پر فدا ہوتی ہے اور رب کے جانباز اپنے خون کی سرخی پر عاشق ہوتے ہیں اور جب تک اس میں نہانہ لیں بے چین رہتے ہیں۔ پھر یہ خون رب کو اتنا محبوب ہوتا ہے کہ قیامت کے دن ایسے کئی جانبازوں کو اپنے خون کی سرخی سمیت دنیا کے سامنے حاضر کریں گے ، جو دیکھنے میں تو خون ہوگا مگر مشک جیسی خوشبو بکھیرتا ہوا تمام انسانوں کو اپنی جانب متوجہ کررہا ہوگا اور یہ وہ وقت ہوگا کہ جب باقی لوگ رو رہے ہوں گے مگر یہ مسکراتے ہوئے رب کی جنتوں کی طرف رواں دواں ہوں گے۔

رب کعبہ کی قسم! شہادت سے لذیذ چیز کیا ہوگی؟ کہ خود آقائے دوجہاںﷺ بار بار قتل ہونے کی تمنا کررہے ہیں ، خود ہی سوچو کہ اس قتل ہونے میں وہ کیا لذت ہوگی کہ جو جنت میں بھی نہیں ہوگی اور اسی لیے شہید کہے گا اے ہمارے رب! دوبارہ دنیا میں بھیج تاکہ تیری راہ میں قتل ہوں کیونکہ اس قتل ہونے کے وقت تو نے جو لذت اور اکرام دیاتھا وہ تو بس وہی تھا ، وہ تو جنت میں بھی محسوس نہیں ہوتا۔

اے اللہ! ہمارے شہداء مولانا طلحہ رشید اور ان کے دوسرے دو رفقاء کی شہادت قبول فرما اور ہمیں ان کی شہیدانہ زندگی کا فیض نصیب فرما۔ آمین

لکھنا کہاں سے شروع کیا تھا اور کیا لکھ رہاہوں، کچھ پتہ نہیں،ذہن میں کئی باتوں کی گونج ہے اور جو بات بڑھ بڑھ کر قلم کے نیچے اپنی جگہ بنا رہی ہے وہ لکھا گیا اور جو بات کسی وجہ سے پیچھے رہ گئی، وہ لکھنے سے رہ گئی۔ شہداء کرام کی یادیں ہوں اور شہداء بھی ایسے کہ جن کا بچپن اور ابھرتی جوانی کے ایام اور تعلیمی ماحول اپنی آنکھوں کے سامنے کا ہوتو لکھنا بہت مشکل ہوجاتا ہے اور دل کی کیفیت یہ ہوتی ہے :

نظر نظر بے قرار سی ہے، نَفَس نَفَس پُراَسرار سا ہے

میں جانتاہوں کہ تم نہ آؤ گے، پھر بھی کچھ اِنتظار سا ہے

کبھی تو آؤ، کبھی تو بیٹھو، کبھی تو دیکھو، کبھی تو پوچھو

تمہاری بستی میں ہم فقیروں کا حال کیوں سوگوار سا ہے

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online