Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

ناکام کون؟ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 618 - Mudassir Jamal Taunsavi - Nakam Kon

ناکام کون؟

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 618)

موجودہ امریکی صدر ٹرمپ کی مسلمانوں کے بارے میں جو جارحانہ پالیسی ہے ، اسے وہ مختلف شکلوں میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ حالات پر غور کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انہوں نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے ایک شکل یہ اپنائی ہے کہ مسلمانوں کے جن خطوں پر امریکی آشیر باد سے حکومتیں قائم ہیں، ان کی سرپرستی جاری رکھنے کا عندیہ دیاجائے اور پھر بس ان کا اعتماد لیاجائے اور اصلا انہی کو استعمال کرکے ان ممالک میں اپنے قبضے یا اپنے مفادات کو محفوظ سے محفوظ تر بنانے کی کوشش کی جائے۔ چنانچہ اسی سلسلے میں ریکس ٹیلرسن امریکی نمائندہ گزشتہ دنوں افغانستان آیا اور اس نے اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ سے خفیہ میٹنگ کی، مگروہ زیادہ دیر تک خفیہ نہ رہ سکی اور عالمی میڈیا تک اس کی خبریں جاپہنچیں۔

اس بارے میں خود افغانستان کے مبصر اور وہاں کے حالات کو قریب سے دیکھنے والوں سے زیادہ کون بہتر سمجھ سکتا ہے اور کون اس بارے میں زیادہ بہتر رائے دے سکتا ہے؟ امارت اسلامیہ افغانستان نے اس بارے میں جو موقف پیش کیا ہے، وہ قابل غور ہے۔ لکھا گیا ہے کہ:’’امریکی جارحیت پسندوں کا نمائندہ ریکس ٹیلرسن خفیہ طور پر کابل آیا اور بگرام ایئر بیس پر اپنے دو مشہور کٹھ پتلی پٹھوؤں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ (جن کو اراکینِ پارلیمنٹ عذابِ الہی قرار دیتے ہیں) کو طلب کیا اور ایک بار پھر ان کے ساتھ پرانی باتوں کا اعادہ کیا۔ بگرام کے خفیہ غاروں میں منعقد اس اجلاس کو تب رسوائی کا سامنا کرنا پڑا، جب امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اس اجلاس کی دو تصویریں شائع کیں، جو عوام کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ امریکی حکومت نے اجلاس کی درست، جب کہ افغان حکومت نے فوٹو شاپ کے کمال سے اجلاس کی نقلی تصاویر شایع کیں۔

اس جعل سازی پر اگرچہ اشرف غنی اور عبداللہ نے کوئی عار محسوس نہیں کی، تاہم ان کا بدنام اور شرم ناک چہرہ دنیا کے سامنے خوب بے نقاب ہوا ہے۔ اس اجلاس کے آخر میں ایوان صدر کے ترجمان نے اعلامیہ جاری کیا، جس کے مطابق کٹھ پتلی حکام نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ٹرمپ کی حکمتِ عملی پر عمل درآمد کیا جائے گا اور ہم یقینی طور پر امریکی امداد سے خوش ہیں۔ٹیلرسن کا دورہ افغانستان اور کٹھ پتلی حکمرانوں کی جانب سے امریکا کے غیرقانونی قبضے کی حمایت اور وفاداری کا اعلان اس وقت کیا گیا، جب ٹرمپ کی پالیسی کی وجہ سے افغانستان بھر میں امریکی بمباری سے سیکڑوں نہتے شہری شہید اور زخمی رہے ہیں۔ جب کہ کابل کٹھ پتلی فوجوں کی بڑی تعداد مجاہدین کے حملوں میں ہلاک ہو رہی ہے، جو قوم کے دفاع کرنے کے لیے ایک قدرتی ردعمل ہے۔ جس کا اعتراف دشمن نے بھی کیا ہے۔ پارلیمنٹ اور سینیٹ کے ممبران ببانگ دہل کہتے ہیں کہ سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیج۔ہ ہے جس نے افغانستان کی سلامتی داؤ پر دی ہے۔ امریکا کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ کیا کم تکلیف دِہ تھا کہ اب ٹرمپ کی نئی جنگی حکمت عملی کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس لیے سکیورٹی فورسز کو سزا بھگتنا پڑ رہی ہے۔ جب کہ ہر روز تقریبا سو سے زائد اہل کار جنگ میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔

ہونا تو یہ چاہے تھا کہ اشرف غنی اور عبداللہ افغانستان کے مستقبل اور قوم کی فکر کرتے ہوئے مسئلے کے حل کے لیے اپنا ضمیر جھنجھوڑتے اور اپنے گریبان میں دیکھتے، لیکن بدقسمتی سے انہوں نے ایک بار پھر امریکا کے حکم پر یس سر! کہ کر افغان عوام کے قتل عام کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ کیا یہ مسئلے کا حل ہے کہ امریکی حکمت عملی کو زبردستی لاگو کیا جائے، جسے افغان عوام کو قبول کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کی نئی پالیسی کی حمایت کا صاف مطلب یہ ہے کہ عوام امریکی بمباری جاری رہے گی۔ ان کے پرخچے اڑائے جاتے رہیں گے۔ اشرف غنی ٹرمپ کے وفادار ہیں۔ وہ اپنے آقا کی جنگی حکمت عملی پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اپنا ضمیر مار چکے ہیں۔

یہ مسئلے کا حل ہرگز نہیں ہے۔ کٹھ پتلی حکمران ہوش کے ناخن لیں اور یہ سمجھ لیں کہ افغان عوام کے قتل عام کے لیے امریکی قابض فوج کی جارحیت اور سربریت کی جتنی بھی حمایت کر لیں، لیکن وہ مجاہدین کے جارحانہ حملوں سے بچ نہیں سکیں گے۔ آخر کار ان کا حشر نجیب سے بھی بدتر ہوگا۔ ان شاء اللہ‘‘

امارت اسلامیہ کے یہ عزائم اور حوصلہ مندی صرف ایک قیاس یا ایک خوش فہمی اور خیالی خوشی نہیں ہے بلکہ زمینی حقائق بھی اس کی تائید کرتے ہیں اور اس سے بڑی حقیقت کیا ہوگی کہ ابھی بھی امریکی اور اس کے کٹھ پتلی اپنے تمام تر وسائل و سازشوں کے باوجود مزاحمت و جہاد کو نہ ختم کرسکے ہیں اور نہ ہی اپنے نقصانات پر قابو پاسکے ہیں۔ چنانچہ امارت اسلامیہ کے نمائندگان کی بتائی گئی تفصیل سے ان کے ہونے والے نقصانات کا ایک اندازہ لگایا جا سکتا ہے: ’’حال ہی میں افغانستان کے مختلف علاقوں میں جارحیت پسندوں اور کٹھ پتلی فوجیوں کے فضائی حملوں اور وحشیانہ چھاپوں نے زور پکڑا ہے، جس کے باعث شہریوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان کا سامنا ہے۔ امارت اسلامیہ کے مجاہدین دشمن کی جارحیت اور سربریت کے خلاف اپنے اصولی مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ وہ اسلامی شعائر، ملی اقدار اور عوام کے دفاع و تحفظ کے لیے جہد مسلسل میں مصروف ہیں۔ انہوں نے دشمن کے مذموم مقاصد، منفی عزائم اور شہریوں کے قتل عام کے منصوبوں کا راستہ روکا ہے۔ وہ دشمن پر ایسے شدید حملے کر رہے ہیں، جن کے باعث وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔

دشمن اپنی فوجی ہلاکتوں کو چھپانے اور مجاہدین کے بھاری جانی نقصان کا پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ وہ اس طریقے سے اپنے فوجیوں کے حوصلے بلند رکھ پائے۔گزشتہ دنوں میں سے صرف ایک دن کی رپورٹ ہی دیکھ لیجئے کہ: امریکی اور افغان فوجیوں نے اپنی مشترکہ کارروائی کے دوران صوبہ لوگر کے ضلع خروار میں مجاہدین کے ٹھکانوں پر چھاپہ مارنے کی کوشش کی تھی۔ اس دوران مجاہدین نے ایک ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنا کر مار گرایا۔ ہیلی کاپٹر میں آگ بھڑک اٹھنے سے اس میں سوار 43 امریکی اور افغان کمانذوز ہلاک ہوگئے۔ اس کے علاوہ مجاہدین نے ان پر حملہ بھی کیا، جس میں بھی دشمن کو بھاری جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

علاوہ ازیں امریکی اور افغان فوجیوں نے صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ کے قریب بشران کے علاقے میں مجاہدین کی فرنٹ لائن پر چھاپہ مارا۔ مجاہدین کو چھاپے کا پہلے ہی سے علم ہو گیا تھا، اس لیے انہوں نے ایک منصوبے کے تحت پورے علاقے میں بارودی سرنگیں اور دھماکہ خیز مواد بچھا دیا۔ جب دشمن کے اہل کار چار بڑے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے زمین پر اترے تو وہ بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کے دھماکوں کی زد میں آ گئے۔ جس کے نتیجے میں مواصلات اور رابطہ کے انچارج سمیت 20 اہل کار ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے۔غزنی کے صوبائی دارالحکومت کے مضافات شہباز اور قلعہ قاضی میں دشمن کی چوکیوں پر مجاہدین کے حملوں میں دو کمانڈروں کمانڈر خلیل اور کمانڈر اختر قندھاری سمیت 14 پولیس اہل کار ہلاک ہو گئے، جب کہ دو چوکیاں بھی فتح ہوئیں۔

صوبہ اروزگان کے ضلع چورہ کے علاقے تورہ چینہ میں مجاہدین نے دشمن کی تین چوکویں پر حملہ کیا، جس میں بھاری اور ہلکے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ اس حملے میں تینوں چوکیاں فتح کر کے متعدد ہتھیار اور گولہ بارود بھی مجاہدین نے ضبط کر لیا۔

صوبہ قندھار کے ضلع نیش کے پولیس ہیڈکوارٹر اور 2 اہم چوکیوں پر گزشتہ رات مجاہدین نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دو چوکیاں فتح، 24 اہل کار ہلاک ہو گئے۔ جب کہ بڑی مقدار میں ہتھیار بھی مجاہدین کو غنیمت میں ملے۔

اگر دشمن کے سفاکانہ فضائی حملوں اور چھاپوں میں مجاہد عوام کو جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے تو مجاہدین کی کارروائیوں میں قابض اور کٹھ پتلی فورسز کو بھی جانی و مالی نقصان کا سامنا ہے۔ امارت اسلامیہ کے مجاہدین بلند حوصلے کے ساتھ دشمن کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ وہ مستقبل میں بھی اللہ کی مدد اور عوام کی حمایت سے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ‘‘

یہ ہے افغانستان کی وہ تازہ صورت حال جس کے بارے میں بہت سے سوالات کیے جاتے ہیں اور اس صورت حال سے بخوبی معلوم ہوسکتا ہے کہ اس جنگ میں کون کامیاب جارہا ہے اور کون ناکام؟

٭……٭……٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online