Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

رحمۃ للعالمینﷺ کی اِنقلابی شان (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 620 - Mudassir Jamal Taunsavi - Rahmatulil Alameen ki Inqalabi Shaan

رحمۃ للعالمینﷺ کی اِنقلابی شان

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 620)

اللہ رب العالمین نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بگڑے ہوئے معاشرے میں مبعوث فرمایا۔ آپﷺ کی اولین ذمہ داری بھٹکی ہوئی انسانیت کو اللہ سے روشناس کرانا تھا۔ اس کام کی تکمیل غلبہ دین ہی سے ممکن تھی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا:اسی نے اپنے رسول کو حق اور ھدایت دے کر بھیجا ہے تاکہ وہ اسے تمام اَدیان پر غالب کردے (سورۃ الفتح)

پھر غلبہ دین کے بعد ضروری امر یہ تھا کہ لوگوں میں عدل و انصاف قائم کیاجائے کیوںکہ رب تعالی خود بھی عدل و انصاب والے ہیں اور اس نے جو کتاب نازل فرمائی وہ بھی کامل عدل وانصاف کے احکام کے مشتمل ہے اور جس نبی پر وہ کتاب نازل کی گئی ہے اسے بھی ’’عدل‘‘کامل عدل و انصاف کا پیکر قرار دیا ہے ۔ بلکہ مزید تاکید کے لیے آپ کو باقاعدہ طور پر عدل و انصاف کے قیام کو حکم دیا گیا چنانچہ اللہ نے آپﷺ کو مخاطب کرکے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: اے محمدﷺ اب تم اسی دین کی طرف دعوت دو اور جس طرح تمھیں حکم دیا گیا ہے، اسی پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوجاو اور ان لوگوں کی خواہشات کی اتباع نہ کرو اور ان سے کہہ دو کہ اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں ۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے اور تمہارا رب بھی۔ ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے۔ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ۔ اللہ ایک روز ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے۔ (الشوریٰ،15:42)

ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ محسن انسانیت ہیںاور یہ ایسی حقیقت ہے کہ خود رب تعالیٰ نے بھی اسے بطور احسان کے جتلایا ہے ۔اسی شان احسان کا اثر ہے کہ آپﷺ نے ہر چیز کے حقوق سے آگاہی بخشی اور دنیا میں وہ نظام قائم کیا جس کے نتیجے میں حاکم و محکوم اور امیر و فقیر، سب عدل و انصاف کے ترازو میں اپنی اپنی جگہ رکھے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا معمول یہ تھا کہ آپﷺ کے کسی عمل سے نادانستہ طور پر بھی کبھی کسی انسان کو کوئی اذیت پہنچتی تو آپﷺ بڑی خندہ پیشانی سے خود کو پیش فرما دیتے اور متاثرہ شخص سے کہتے کہ وہ اپنا بدلہ لے لے۔ ایک مرتبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مالِ غنیمت تقسیم کر رہے تھے کہ ایک شخص آپﷺ کے بہت قریب ہوگیا، جس کی وجہ سے آپﷺ کے نیزے کی انّی سے اس کے چہرے پر زخم آگیا۔ آپﷺ نے اس شخص سے کہا کہ وہ اپنا بدلہ لے لے مگر اس نے خوش دلی سے کہاکہ میں نے آپﷺ کو معاف کر دیا۔ (بحوالہ مجمع الزوائد، روایت حضرت ابو سعید خدریؓ) غزوہ بدر کے موقع پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو صف بند ہونے کا حکم دیا۔ آپﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی۔ آپﷺ نے دیکھا کہ سواد بن غزیہؓ صف سے باہر نکلے ہوئے ہیں ۔ آپﷺ نے انھیں صف میں سیدھے کھڑے ہونے کا حکم بھی دیا اور لکڑی سے ان کے پیٹ پر ٹھونکا بھی لگایا۔ حضرت سواد بن غزیہؓ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ نے آپﷺ کو حق و عدل کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ آپﷺ نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے، مجھے اس کا بدلہ (قصاص) دیں ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لکڑی سوادؓ کی طرف بڑھائی اور فرمایا : لو؛ بدلہ لے لو۔ انھوں نے عرض کیا : میرا پیٹ تو ننگا تھا، آپﷺ کے پیٹ پر کرتہ ہے۔ اس پر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے کرتہ مبارک بطن سے اٹھا دیا۔ حضرت سوادؓ آگے بڑھے ، لکڑی ایک جانب پھینکی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بطن مبارک کو بوسہ دیا، پھر آپﷺ سے لپٹ گئے اور اپنے جسم کو آپﷺ کے جسم مبارک سے خوب مس کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے سواد تم نے یہ کیا کیا ہے؟ انھوں نے جواب میں عرض کیا: یا رسول اللہ! جیسا کہ آپﷺ دیکھ رہے ہیں ، کوچ کا وقت آیا چاہتا ہے، میں نے چاہا کہ جانے سے پہلے آخری عمل آپﷺ کو بوسہ دینا اور آخری لمس جسدِ مطہر سے چھونا نصیب ہوجائے، سو میں نے یہ تمنا پوری کرلی۔ حضور اکرمﷺ نے ان کے اس جذبہ صادقہ اور خلوصِ عمل کو دیکھ کر ان کے حق میں دعائے خیر فرمائی۔ (سیرۃ بن ہشام مجموعہ ج 1-2 ص626۔ مغازی للواقدی : ج1 ص56-57)

 ایک اور بہت ایمان افروز واقعہ بھی مورخین نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے۔ آپﷺ نے دو موٹے جوتے پہن رکھے تھے۔ حضرت ابو رُہم غفاریؓ کی اونٹنی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے قریب ہوئی۔ وہ اونٹنی بڑی تیز طرار تھی، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی سے ٹکرا گئی اور صحابیِ رسولﷺکی جوتی کا کنارہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلی پر لگا۔ وہ کہتے ہیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:اپنا پاؤں پیچھے کر۔ پھر آپﷺ نے میرے پاؤں پر کوڑا مارا۔

 میں بہت ڈرا کہ اس گناہِ عظیم کی پاداش میں اللہ تعالیٰ میرے بارے میں نہ جانے کیا حکم نازل فرمائے گا۔ خوف سے میرا برا حال تھا۔ جعرانہ پہنچ کر میں صحابہؓ کے اونٹ کو چرانے کیلئے جنگل لے گیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو میری تلاش میں بھیجا۔ جب مجھے تلاش کرتا کرتا وہ شخص وہاں پہنچا تو مجھے خیال ہوا کہ وہی بات ہوئی کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اللہ کی طرف سے آنے والے عتاب کے بارے میں خبر دینا چاہتے ہیں ۔ میں ڈرتا ڈرتا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور عرض کیا کہ آپﷺ نے مجھے طلب فرمایا ہے تو آپﷺ نے فرمایا: ہاں ، تو نے مجھے پاؤں سے تکلیف پہنچائی تھی اور میں نے تجھے کوڑا مارا تھا۔ لو یہ بکریوں کا ریوڑ لے لو اور مجھ سے راضی ہوجاؤ۔ کہتے ہیں کہ میں عرض کیا:یا رسول اللہ! آپﷺ مجھ سے راضی ہیں تو آپﷺ کی رضا مجھے دنیا وما فیہا کی ہر چیز اور مال سے زیادہ عزیز ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو بکریاں دی تھیں ، ان کی تعداد اَسی تھی اور وہ اون والی بکریاں تھیں ۔ حضرت ابورُہمؓ کا نام کلثوم بن الحصین تھا۔ وہ سابقون میں سے تھے اور تمام غزوات کے علاوہ بیعت رضوان میں بھی شرکت کا اعزاز ان کو حاصل تھا۔ (مغازی للواقدی: ج 3 ص1001-1002)

 آنحضورﷺ کئی مرتبہ مجمع عام میں اعلان فرمایا کرتے کہ کسی شخص کو آپﷺ کی وجہ سے تکلیف پہنچی ہو یا کسی کا قرض آپﷺ کے ذمے ہو، جو یاد نہ رہنے کی وجہ سے آپﷺ ادا نہ کرپائے ہوں تو وہ آپﷺ سے وصول کرلے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی عمل کا اثر تھا کہ خلفائے راشدین خود کو اپنی رعایا کے سامنے ہمیشہ احتساب کیلئے پیش فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ کے بارے میں کئی واقعات مورخین نے مستند حوالوں سے نقل کئے ہیں کہ آپؓ جب اپنے آپ کو عوام کے سامنے احتساب کیلئے پیش فرماتے تو لوگ بغیر کسی جھجک کے اپنا مافی الضمیر بیان کرتے۔ ایک دفعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تقریر کیلئے کھڑے ہوئے اور لوگوں سے دریافت کیا کہ میں جو حکم تمھیں دوں گا کیا تم اس کی اطاعت کروگے؟ تو لوگوں میں سے ایک اعرابی کھڑا ہوگیا اور اس نے کہا: اے عمرؓ!ہم ہرگز تمہاری اطاعت نہیں کریں گے۔ جب وجہ دریافت کی گئی تو اس نے بتایا کہ مالِ غنیمت میں جو چادریں آئی تھیں ، سب لوگوں کو ایک چادر ملی تھی۔ آپ کے حصے میں بھی ایک ہی چادر آئی تھی لیکن لگتا ہے کہ آپ نے اپنے حق سے زائد وصول کیا ہے، کیونکہ ایک چادر سے آپ جتنے لمبے آدمی کا لباس نہیں بن سکتا تھا جبکہ آپ نے اسی چادر کا لباس پہنا ہوا ہے۔ حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے کو کہا کہ وہ جواب دیں ۔ انھوں نے کہاکہ ایک چادر سے اباجان کا لباس نہ بن سکا تو میں نے اپنے حصے والی چادر بھی انھیں دے دی تاکہ ان کا لباس بن سکے۔ اعرابی نے یہ سن کہاکہ ہاں ! اب آپؓ جو بھی حکم دیں گے، ہم اس کی اطاعت کریں گے۔ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ سے مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاصؓ نے عرض کیا کہ امیر المومنین! آپؓ کے اس طرز عمل کی وجہ سے لوگ بہت جری ہوجائیں گے اور ذمہ دارانِ حکومت کے کاموں میں رکاوٹ ڈالیں گے۔ آپؓ نے فرمایا کہ اے عمرو!میں نے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے بڑے کھلے دل کے ساتھ احتساب کیلئے پیش فرمایا کرتے تھے۔ میں اور تم کس باغ کی مولی ہیں ۔ حضرت عمرؓ حج کے موسم میں ایک عوامی عدالت لگایا کرتے تھے۔ پوری اسلامی ریاست سے آئے ہوئے حجاج کیلئے یہ موقع ہوتا تھا کہ ان کو مرکزی یا اپنے صوبے کی حکومت سے کوئی شکایت ہے تو وہ پیش کرسکیں ۔ ایک موقع پر اس عدالت میں جب حضرت عمرؓ نے خود کو پیش کیا تو کسی نے احتساب نہ کیا۔ پھر آپؓ نے اپنے ماتحت جرنیلوں اور گورنروں کے بارے میں پوچھا تو مصر کے ایک نوجوان نے کھڑے ہوکر کہا کہ حاکم مصر عمرو بن العاصؓ کے بیٹے کے خلاف میری شکایت ہے۔ دریافت کیا کہ کیا شکایت ہے تو ا س نے عرض کیا:میں نے بھی گھوڑا دوڑایا تھا اور اس نے بھی۔میرا گھوڑا جیت گیا اور اس کا گھوڑا پیچھے رہ گیا تو گورنر کے بیٹے نے مجھے چابک مارے۔ جب کیس ثابت ہوگیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حاکم مصر کے بیٹے کو قصاص کیلئے پیش ہونے کا حکم دیا۔ پھر اس شکایت کنندہ کو حکم دیا کہ جتنے چابک اس نے مارے تھے، اتنے ہی چابک وہ بھی اس کو مار لے اور اتنے ہی زور سے مارے جتنے زور سے گورنر کے بیٹے نے اسے مارے تھے۔ اگر زیادتی کرے گا تو اللہ کے ہاں جواب دہ ہوگا کیونکہ یہ تو ہی جانتا ہے کہ تیرے ساتھ کتنی زیادتی ہوئی تھی، میں تو وہاں موجود نہ تھا۔ جب یہ فیصلہ نافذ ہوگیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجمع عام کے سامنے وہ تاریخی الفاظ کہے جو سنہری حروف میں ہماری تاریخ میں لکھے ہوئے ہیں : ولدتھم امہاتھم احرار لمہ استعبدتموہم یعنی ان کی ماوں نے انھیں آزاد جنا ہے، تم نے ان کو کیوں غلام بنالیا ہے۔ (کتاب الخراج، ص66، بحوالہ الفاروق از شبلی نعمانی، ص:270-271، طبع معارف اعظم گڑھ) ایک موقع پر ایک شخص نے کئی بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرکے کہا: اے عمر؛ خدا سے ڈر۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے اس کو روکا اور کہاکہ بس بہت ہوا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: کہنے دو۔ اگر یہ لوگ نہ کہیں گے تو یہ بے مصرف ہیں اور ہم لوگ نہ مانیں تو ہم۔ ان باتوں کا یہ اثر تھا کہ خلافت اور حکومت کے اختیارات اور حدود تمام لوگوں پر ظاہر ہوگئے تھے اور شخصی شوکت اور اقتدار کا تصور دلوں سے جاتا رہا۔ (کتاب الخراج، ص:66بحوالہ ایضاً) ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے پسند کی شرط پر ایک گھوڑا خریدا اور امتحان کیلئے ایک سوار کو دیا۔ گھوڑا سواری میں چوٹ کھاکر داغی ہوگیا۔ حضرت عمرؓ نے اس کو واپس کرنا چاہا، گھوڑے کے مالک نے انکار کیا۔ اس پر نزاع ہوئی اور شُرَیح ثالث مقرر کئے گئے۔ انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر گھوڑے کے مالک سے اجازت لے کر سواری کی گئی تھی تو گھوڑا واپس کیا جاسکتا ہے، ورنہ نہیں ۔ حضرت عمرؓ نے کہا: حق یہی ہے اور اسی وقت شریح کو کوفہ کا قاضی مقرر کر دیا۔ (کتاب الاوائل الباب السابع ذکر القضاۃ، 12 بحوالہ ایضاً) آج عالم اسلام کی عجیب کیفیت ہے۔ عدالتیں لوگوں کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہیں ۔ حکمران اور با اثر طبقات قانون سے بالا تر ہیں ۔ غریب آدمی اپنا حق حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔جب حکمران خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگیں تو پھر جس کی لاٹھی، اس کی بھینس کا چلن عام ہوجاتا ہے۔ یہ صورت حال مسلمانوں کیلئے مصیبت کا باعث بھی ہے اور پوری امت مسلمہ کے نام پر ایک سیاہ دھبہ بھی۔ اس دگرگوں صورت حال نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ المیہ یہ ہے کہ دنیا کی نظروں میں ہمارا شان دار ماضی بھی ہماری موجودہ صورت حال کی وجہ سے گہنا گیا ہے۔ اس ذلت سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ صحیح روح کے ساتھ اسلامی شریعت کے نفاذ میں پنہاں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت آج بھی امت کے لیے راہ نما ہے اور اب بھی وہیں سے کامیابی کی راہیں تلاش کی جاسکتی ہیں اور اس پر چل کر کامرانی حاصل کی جاسکتی ہے اور ہاں اگر کوئی اس سرچشمہ ہدایت سے محروم رہتا ہے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور جو اس پُرفتن دور میں اس چشمہ ہدایت سے فیض یاب ہوناچاہے اس کے لیے دروازے کھلے ہیں اور رب تعالی کسی کے نیک عمل کو جو اخلاص اور احسان کے ساتھ ہو ، اُسے ہرگز ضائع نہیں فرماتے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online