Bismillah

627

۱تا۷جمادی الاولیٰ۱۴۳۹ھ   بمطابق ۱۹تا۲۵جنوری۲۰۱۸ء

بیت المقدس کے جانباز (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 622 - Mudassir Jamal Taunsavi - Bait ul Maqdas k Janbaaz

بیت المقدس کے جانباز

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 622)

آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ عرصہ قبل اسرائیل نے ایک فیصلہ کیا تھا کہ بیت المقدس کے داخلی دروازوں پر سکینر مشینیں نصیب کی جائیں گی تاکہ بیت المقدس میں داخل ہونے والے فلسطینی تلاشی کے مراحل سے گزرنے کے بعد اندر جاسکیں۔ اس فیصلے پر تمام فلسطینیوں میں خصوصاً اور دنیا کے دیگر خطوں کے مسلمانوں کی طرف سے بھی عموماً پُرزور مخالفت ہوئی تھی۔

وجہ کیا تھی؟

بہت سے لوگوں نے، بلکہ بہت سے مسلمانوں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ آخر اس میں حرج ہی کیا ہے؟

مسلمان اگر سکینر سے تلاشی دیتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوں گے تو کون سی قیامت آجائے گی؟

اسرائیل پہلے ہی فلسطینی مسلمانوںپر بے پناہ سختی کررہا ہے اور اب اس غیرمضر فیصلے پر فلسطینی مسلمانوں کا اسرائیل کے مقابلے پر اترنا اپنے اوپر مزید سختی کرانے کے مترادف ہے اورایسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ محض جذباتی ہیں اور حکمت و بصیرت زیادہ نہیں رکھتے

الغرض اس طرح کی کئی باتیں کی گئیں

مگر یہ سب تبصرے کرنے والے وہ تھے اور ہیں، جن کا القدس کی حفاظت کے لیے کوئی بال بھی بیکا نہیں ہوا

لیکن کوس انہیں رہے تھے جن کاجان ومال اور اولاد و متاع سب کچھ القدس کی حفاظت کے لیے نچھاور ہورہا ہے

بات اتنی ہے کہ فلسطینی مسلمان غیرت مند ہیں، اور صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ اس کے تمام پشتی بانوں کی سازشوں سے بخوبی آگاہ ہیں، وہ جانتے ہیں کہ جو اقدام بظاہر معمولی اورغیر مضر دِکھتا ہے وہ حقیقت میں کس قدر دوررس اور نقصان دِہ نتائج رکھتا ہے

وہ جانتے تھے کہ اگر بیت المقدس پر اسرائیل کو تلاشی مشینیں نصب کرنے اور پھر فلسطینیوں کو ان کے ماتحت وہاں سے تلاشی دیتے ہوئے گزرنے کا موقع دیدیا جائے تو یہ بات بیت المقدس کی آزادی اور اسلامیت کو دفنانے کے مترادف ہے

کیونکہ اس کے بعد گویا وہ خود عملاً یہ اعتراف کررہے ہوتے کہ بیت المقدس پر اسرائیل کاحق ہے اورخود اسرائیل بھی پھر دنیا کی آنکھوں میں مزید دھول جھونکنے بلکہ اسے قانونی بنانے میں دیر نہ لگاتا کہ دیکھو فلسطین بھی ہمارا ہے اور بیت المقدس بھی، اسی لیے تو ہم یہاں کے متولی ہیں اور یہ فلسطینی مسلمان ہمارے ماتحت اور بیت المقدس میں داخلے کے لیے ہماری اجازت کے محتاج!

آپ خود بتائیے کہ کیا اس کے بعد مسلمانوں کی بیت المقدس پر کوئی حیثیت باقی رہتی؟؟

مگر آفریں ہو فلسطینی مسلمانوں پر کہ وہ سب کے سب اسرائیل کے اس فیصلے کے خلاف ڈٹ گئے اور فلسطینی مسلمان مائیں اپنے اس حق کے لیے اسرائیلی درندوں سے نبرد آزما ہوگئیںاور آخر کار اسرائیل اپنے اس فیصلے سے پسپا ہوا

اس مرحلے کی ناکامی کے بعد پھر ٹرمپ کے ذریعے ایک اور عالمی وارکرنے کی کوششیں جاری ہیں اور بظاہر اب یہ کوششیں اپنے نتائج کے بہت قریب نظر آرہی ہیں مگر اہل حق مایوس نہیں ہیں۔

ان کے سامنے نبی کریمﷺ کاارشاد موجود ہے کہ:

’’میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق کے لیے قتال کرتی رہے گی …اور پھر جب پوچھاگیا وہ کہاں ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: بیت المقدس اوراس کے اَطراف میں‘‘

ہاں! یہ جماعت موجود رہی ہے اور موجود رہے گی۔

اسے کوئی مٹا نہیں سکے گا

وہ کبھی کمزور بھی ہوں گے اور کبھی طاقتور بھی

کبھی وہ بظاہر منظر عام سے ہٹے ہوئے محسوس ہوں گے اور کبھی کسی صلاح الدین ایوبی کی زیر کمان فتح کے جھنڈے لہراتے نظر آئیں گے

مگر وہ باقی ضرور رہیں گے

اور وہی بیت المقدس کے محافظ ہوں گے

وہ مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ دونوں کے باہمی تعلق کو خوب سمجھتے ہوں گے

وہ قرآن کریم پر پورا پورا ایمان رکھنے والے ہوں گے

وہ قرآن کریم اور سنت نبویہ کو چھوڑتورات یا بائبل پر اعتماد کرنے والے نہیں ہوں گے۔

اور ہاں!

وہ پاک دل اور پاک عقیدے والے ہوں گے

رب تعالیٰ نے جس گھر کو ’’بیت المقدس‘‘ کہلوایا ہے ، اس کی حفاظت اور آزادی بھی انہی کے ہاتھوں ہوگی جو اپنے ظاہر و باطن کو مقدس ومطہریعنی پاک و صاف بنائے ہوئے ہوں گے۔

اہل شام ایک بار اگرچہ دبا دیئے گئے ہیں مگر وہ بھی دوبارہ اُبھریں گے

پہلے بھی بیت المقدس کی فتح والا لشکر صلاح الدین ایوبی کی زیر قیادت انہی شامی علاقوں سے روانہ ہوا تھااور بظاہر آئندہ بھی ایسے ہی ہوگا

اس لشکر میں دنیا بھر میں پھیلے مسلمانوں میں سے وہ تمام خوش نصیب اہل ایمان شامل ہوں گے جن کے بارے میں بیت المقدس کی فتح اور اس کی حفاظت والے لشکر کا حصہ بننا مقدر ہوچکا ہے اور وہ اس کے لیے دعاوں اور تیاری سے خود کو قبول کرواچکے ہیں

ہم اس وقت اپنی بے بسی یا سستی پر شرمندہ ضرور ہیں

مگر مایوس نہیں ہیں اور مایوس ہونا بھی نہیں چاہئے کہ :

رب تعالیٰ کی رحمت سے مایوس فقط کافر لوگ ہی ہواکرتے ہیں

ہم اپنی سستی اور غفلت پر معذرت خواہ ہیں

اور رب تعالیٰ کے حضور دعاء گو ہیں کہ وہ ہمیں بیت المقدس کے محافظین اور فاتحین میں شامل فرمادے

اگر ہمت کرے انسان تو پھر کیا نہیں بس میں

یہ ہے کم ہمتی جو بے بسی معلوم ہوتی ہے

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online