Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

مبارک مناجات (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 623 - Mudassir Jamal Taunsavi - Qurani Wazeefa

مبارک مناجات

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 623)

اللہ تعالیٰ سے محبت رکھنے والوں کے لیے ایک اور تحفہ آیا ہے

اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کے باغیچے میں ایک اور پھول کھل اُٹھا ہے

اللہ تعالیٰ سے لَولگانے والوں کی دنیا میں ایک اور بہار آئی ہے

اللہ تعالیٰ کی یاد میں مگن رہنے والوں کے لیے، یاد آوری کا ایک اور نسخہ تیار ہوا ہے

اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنائ، تسبیح و تقدیس اور اس کی توحید وتفرید کے دیوانوں کے لیے ایک اور ایمانی وظیفہ مرتب ہوا ہے

’’مبارک مناجات‘‘

یہ نام ہے اس نئے وظیفے کا، جوامیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعودازہرحفظہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کو نصیب ہوا ہے

کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں ایسے قائد ملے ہیں جو انہیں اللہ رب العالمین سے جوڑ رہے ہیں

٭……٭……٭

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس سے لبریز ہے، اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء سے بھرپور ہے، اور اللہ تعالی کی توحیدو معبودیت کی دعوت اس کا مرکزی عنوان ہے

ہر نبی اور ہر رسول کی زبان جن پاکیزہ کلمات سے تر رہی اور جس کا وِرد انہیں سب سے زیادہ مرغوب رہا، جس کے وِرد سے ان کے شب و روز روشن رہے ، انہوں نے اپنے پیروکاروں کو بھی انہی کے وِرد پر لگایا، انہی کلمات سے ان کی سانسیں مہکتی اور ظاہر و باطن منور ومعطر رہتا، یہ کلمات کتنے پاکیزہ ہوں گے! اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے

پھر یہ کلمات مختلف الفاظ اور مختلف اسلوب وانداز سے قرآن کریم میں سینکڑوں بار ، تکراردرتکرار کے ساتھ استعمال کیے گئے ہیں تاکہ قرآن پڑھنے والوں کے دل و دماغ میں اللہ تعالیٰ کی تحمید وتقدیس اور توحیدوتفرید کے یہ عمدہ ترین مضامین رچ بس جائیں اورجب بھی ان کی زبان پر غیر اختیاری طور پر کچھ جاری ہو تووہ اللہ تعالیٰ کا ہی نام ہو اوراسی کی تحمید و تسبیح ہو۔

قرآن کریم اور سنت نبویہ میں اللہ تعالیٰ کی تحمید و تسبیح کا بار بار حکم دیا گیا ہے، ترغیب دی گئی ہے اور مختلف الفاظ بھی بتلادیئے گئے ہیں، سہولت کی غرض سے بعض کلمات کی نشاندھی بھی کردی گئی ہے اور بعض مقامات پر صرف تحمید و تسبیح کا حکم دیدیاگیا ہے تاکہ اہل علم خود ہی اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے جو اونچے سے اونچے الفاظ بیان کرسکتے ہوں، انہیں بیان کریں ۔ چنانچہ ذکر الہی اور اوراد ووظائف کی کتابوں میں ایسی بہت سی باتیں دیکھی جاسکتی ہیںمگر یہ

’’مبارک مناجات ‘‘

اپنی ترتیب اور انتخاب میں ایک انفرادی اور امتیازی شان لیے ہوئے ہے۔

اس کتاب میں قرآن کریم کی اُن آیات کو جمع کیا گیا ہے جن میں اللہ تعالیٰ کی حمد، اللہ تعالیٰ کی تسبیح، اللہ تعالیٰ کی توحید اور بندوں کا استغفار مذکور ہے ، اس طرح اس کتاب کو اپنا وِرد بنانے کے درج ذیل بڑے اور نقد فائدے ہیں:

قرآن کریم کی تلاوت کا ثواب

اللہ تعالیٰ کی حمد، تسبیح اور توحید بیان کرنے کا ثواب

اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنے کا ثواب

اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم تک رسائی اور اسے پڑھنے کی سعادت

اللہ تعالیٰ سے دعائیں قبول ہونے کی قوی امید

قرآن کریم کے مختلف مقامات کی روحانی وایمانی تاثیر کااحساس

قرآن کریم سے تعلق مضبوط ہونے اوراس کے فہم و تدبر کے راستے کا آسان ہونا اور نئے نئے ایمانی پہلووں سے واقف ہونا

٭……٭……٭

مناجات کسے کہتے ہیں؟

سرگوشی کو ، رازو نیاز کے انداز میں بات کرنے کو

آج دنیا میں لوگ کسی بھی بڑے آدمی سے چند منٹ کی بات کرنے کے لیے بھی کئی کئی دن خوار ہونا پڑتا ہے، اور پھر بھی کبھی موقع مل جاتا ہے اور کبھی نہیں ملتا اور اگر مل بھی جائے تو کبھی وہ خوشی سے پیش آتے ہیں اور کبھی دھتکار دیتے ہیں، اور اگر خوش سے پیش بھی آئیں تو کبھی وہ آپ کا کام کرنے کی حامی بھرتے ہیں اور کبھی نہیں اور اگر حامی بھر بھی لیں تو کبھی وہ کام ہو جاتا ہے اور کبھی وہ نہیں کراپاتے

مگر اللہ رب العالمین کا احسان اور بندوں پر کرم دیکھئے کہ ہر شخص کے لیے ، اور ہر وقت میں مناجات، سرگوشی اور بات کرنے کا دروازہ کھلا ہوا ہے، ہر زبان والے کے لیے اجازت ہے،ہر نیک و بد کے لئے راہیں کھلی ہیں، کسی کالے او ر کسی گورے میں وہاں کوئی تفریق نہیں برتی جاتی، بلند وبالا محلات میں رہنے والوں کو جھونپڑی میں دربدری کی زندگی گزارنے والوں پر کوئی فوقیت نہیں دی جاتی، وہ سب کی سنتا ہے، سب باتیں سنتا ہے، اور ہر وقت سنتاہے اور ہر جگہ سنتا ہے

تو پھر کیوں نہ ہم اسی کو اپنا دوست بنائیں! اسی سے سرگوشیاں کریں! اسی سے دل کی باتیں کریں! اور اسی کو اپنا ہم دم و ہم نفس بنائیں!ہم خلوتوں میں بھی اُسی سے اُنس حاصل کریں اور ہماری جلوتوں میں بھی اُسی کے تذکرے ہوں!

سچ تو یہ ہے کہ بہت ہی خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اللہ رب العالمین سے سرگوشیاںکرتے ہیں، اور پھر کمال یہ ہے کہ یہ سرگوشیاں خوداسی کے کلام قرآن کریم کے وظائف کے ذریعے ہوں!

بلاشبہ وہ سعادت مند ہیں کہ انہیں وہ سب سے بڑی ذات خود اس کا موقع فراہم کرتی ہے اور وہ اس سے سرگوشیاں کرتے ہیں

ذرا سوچئے کہ کبھی آپ نے کسی عاشق کو معشوق کے ساتھ سرگوشی کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ اس میں عاشق بس معشوق کی تعریف ہی کرتا رہتا ہے ، کیوں کہ اسے پتہ ہے کہ یہ اس سے خوش ہوگا

اب سوچئے کہ ایمان والے تو سب سے زیادہ محبت اللہ تعالیٰ سے رکھتے ہیں، اس لیے وہ بھی اپنے رب کے ساتھ مناجات میں اس کی حمدکرتے ہیں، اس کی خوبیاں بیان کرتے ہیں، اور چونکہ وہ اللہ تعالیٰ ہے ہی اتنی خوبیوں والا کہ ہمارا بیان ختم ہوسکتا ہے مگر اس کی خوبیاں ختم نہیں ہوسکتیں، اس لیے انسان اپنے رب کی جتنی ہی تعریف کیوں نہ کر لے پھر بھی ان مبارک سرگوشیوں اور مبارک مناجات کا یہ گوشہ اسے تشنہ ہی محسوس ہوتا ہے اور اسی لیے جب حمد وتعریف کے نئے کلمات ختم ہو جاتے ہیں، تو وہ انہی کو دوبارہ دھرانے لگتا ہے۔ بعض اللہ والے تو ایسے ہیں کہ ان کی زبان پر بس اکثر الحمد للہ رب العالمین ہی جاری رہتا ہے ، بعض ایسے ہیں کہ جب بھی کوئی نئی بات پیش آتی ہے تو اگر وہ خوشی ہو تو بھی حمد اور اگر غم کی بات ہو تو بھی حمد۔خوشی پر اس لیے حمد کہ وہ خوشی اسی کی طرف سے نصیب ہوئی اور غمی پر اس لیے حمد کہ اس نے اس غمی پر صبر کرنے میں اجر رکھا ہے، اس غمی سے وہ بندے کی توجہ ا پنی طرف مزید کھینچ لیتا ہے، گویا وہ غم بھی اس لیے دیتا ہے تاکہ بندہ وصال یار کی راہ پر چلے۔ اس لیے خوشی پر کہتے ہیں: الحمد للہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات :سب تعریفیں تو اسی اللہ کی ہیں جس کی نعمتوں سے اچھائیاں مکمل ہوتی ہیں، اور غم پر کہتے ہیں: الحمد للہ علی کل حال:ہر حال میں سب تعریفیں بس اللہ کی ہی ہیں۔

پھر یہ دیکھئے کہ جس کسی نے ہم پر احسان کیا ہو اور کبھی ہمیں اسے تنہائی میں بات کرنے کا موقع میسر آجائے تو ہم اسے کتنا غنیمت سمجھتے ہیں بلکہ یہ بھی کوشش کرتے ہیں کہ ایسی باتیں اس سے کریں جس سے گزشتہ احسان کا شکریہ بھی اداء ہوجائے اور آئندہ بھی وہ ہم پر احسان کرتا رہے۔اب خود سوچئے کہ اللہ تعالیٰ کے ہم پر کتنے احسانات ہیں؟ سچ تو یہ ہے کہ اتنے ہیں کہ ہمیں انہیں شمار ہی نہیں کر سکتے اور پھر اس کے یہ سب احسانات بلاغرض ہیں، یعنی ان سے اس کی اپنی کوئی بھی غرض وابستہ نہیں ہے، تو اس کے احسانات کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس کاشکر اداء کرتے رہیں۔

پھرہم نے دیکھا کہ وہ تمام تر خوبیوں کا مالک ہے اور ہرقسم کے عیب سے پاک سے تو دل مچل اٹھا کہ اس کی خوبیاں کابیان کیاجائے اور اس کی پاکیزگی کا اعلان کیاجائے، تب زبان سے بے اختیار نکلتا ہے:الحمد للہ، سبحان اللہ۔ وہ سب تعریفوں والا بھی ہے اور ہر عیب سے پاک بھی ہے۔

اور جب وہ ایسا ہے تو عبادت کے لائق بھی وہی ہوا، اس کے سواکسی اور سجدہ عبادت بجالانا کبھی بھی درست نہیں ہوسکتا، اس لیے زبان پر جاری ہوا:لا الہ الا اللہ، کوئی معبودبرحق نہیں مگر ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

پھر اپنی عبادات میں غور کیا تو اس میں کوتاہیوں کے انبار نظر آئے، نافرمانیوں کے ڈھیر نظر آئے، تب دل متوجہ ہواکہ اس کی معافی تلافی کی کوشش کی جائے، اسی معافی کی کوشش کو استغفار کہتے ہیں۔ استغفر اللہ، استغفر اللہ، میں اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے مغفرت مانگتاہوں، میں اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے مغفرت مانگتا ہوں، اور پھر جب اپنے دوسرے ایمان والے بھائی اور بہنوں پر نظر پڑتی ہے تو دل چاہتا ہے کہ ان کے لیے معافی مانگ لی جائے تب استغفار کا دائرہ وسیع ہوجاتا ہے ۔ رب اغفرلی ولوالدی و للمومنین والمومنات

الغرض یہ ’’مبارک مناجات‘‘ ایک جیبی سائز کا تحفہ ہے، اسے آج ہی حاصل کیجئے، اپنے گھر کے سب افراد کو الگ الگ دِلائیے، اپنے دوستوں کو بھی ہدیہ کیجئے ، ہر وقت جیب میں رکھئے اور جب بھی، جہاں بھی مخلوق سے تنہائی میسر آئے تو اپنے رب تعالیٰ شانہ کے ساتھ سرگوشیوں اور مناجات میں مگن ہوجائیے۔

آخر میں خود حضرت مولف حفظہ اللہ تعالیٰ کے یہ چند الفاظ بھی حصول برکت کے لیے پڑھ لیجئے:

’’الحمد للہ! چار ’’موتیوں‘‘ پر مشتمل یہ مبارک مجموعہ تیار ہوچکا ہے۔ اس کی تلاوت میں عجیب کیف ہے اورعجیب سرور ہے…اگر معانی پر غور کیاجائے تو مزید بہت کچھ ہاتھ آجاتا… مثلا ’’تسبیح‘‘ کہاں کہاں پڑھی جاتی ہے اور ’’حمد‘‘ کہاں کہاں… ان مبارک آیات کی تلاوت کے بعد ’’دعائ‘‘ مانگی جائے تو اس میں قبولیت کی عجیب شان نظر آتی ہے… الحمد للہ کئی بار توفیق ملی اور ہر بار خوشی ملی… شک کی کیاگنجائش ہے؟ قرآن مجید سے بڑھ کر کس کلام میں تاثیر ہوسکتی ہے…اور پھر قرآن مجید کے الفاظ میں کلمہ طیبہ، تسبیح، حمد اور استغفار کا کیا مقام ہوگا؟ قرآن مجید کی تلاوت کے بعد دعاء کا قبول ہونا وارد ہے اور بعض آیات پڑھ کر ان کے بعد دعاء مانگنا بھی ثابت ہے… اس مختصر مگر بھاری کتابچہ کی اشاعت پر دل خوش ہے اور اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہے…‘‘

٭……٭……٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online