Bismillah

660

۱۰تا۱۶محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۲۱تا۲۷ستمبر۲۰۱۸ء

مسجد اقصیٰ کے بارے میں 40اَہم معلومات (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 624 - Mudassir Jamal Taunsavi - Masjid e Aqsa k Bare mein

مسجد اقصیٰ کے بارے میں 40اَہم معلومات

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 624)

اگر کسی مومن کو بیت المقدس کی سرزمین پر گھوڑے کی ایک رسی جتنی جگہ بھی مل جائے کہ جس کی بدولت وہ مسجد اقصیٰ کی زیارت سے مستفید ہوتا رہے تو یہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ یہ مضمون ایک حدیث پاک میں بیان ہوا ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک سچے مومن کے دل میں بیت المقدس کی کتنی عظمت ہونی چاہئے اور مسلمانوں کو اس بارے میں کس قدر بیدار مغز اورحساس ہونا چاہئے۔

’’چھوٹا منہ، بڑی بات‘‘، مگر ایک بات کہنا چاہتا ہوں، اور پھر اگر یہ بات بعض معتبر لوگوں سے منقول نہ ہوتی تو شاید ذکر نہ کرتا۔

اس مسجد کے ساتھ مسلمانوں کا کس قدر جذباتی تعلق ہے؟ اس سے اندازہ لگائیے کہ بعض اولیائے کرام اللہ تعالیٰ سے یہ دعاء معمول کے طور پر مانگا کرتے تھے:’’ اے اللہ! اگر آپ نے ہمارے جسموں کے لیے بیت المقدس کی فتح میں شرکت مقدر نہیں کی، تو ہماری روحوں کے لیے بیت المقدس کی فتح میں شرکت مقدر فرمادیجئے‘‘!

اس موضوع پرکہنے کو بہت کچھ ہے، مگر فی الحال اس مضمون کے ذریعے مسجد اقصیٰ کے بارے میں چالیس اہم معلومات پیش کرنا مقصد ہے جن میں سے بہت سی باتیں ایسی ہیں کہ بہت سے مسلمان بھی ان سے واقف نہیں ہوتے۔ اس موضوع پر ایک عرب صاحب علم دکتور عیسی القدومی کی تحریر جو سنہ ۲۰۱۵ء میں شائع ہوئی تھی،جس نے خود عرب دنیا میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی اور بیت المقدس کی آزادی کی تحریک سے روشناس کرانے اور مسلمانوں میں موجود غفلت اور ناواقفیت ختم کرنے میں اس نے کافی کردار اداء کیا۔ اللہ کرے یہ معلومات مسجد اقصیٰ سے ہمارے قلبی تعلق اور ظاہری کاوشوں کو مزید قریب تر کردیں۔

(۱)مسجد اقصیٰ ایک مکمل احاطے کا نام ہے ،چنانچہ عام طور سے تصویر میں جو ایک لمبی چوڑی چار دیواری دِکھائی دیتی ہے ، تو اس کے اندر جو کچھ بھی ہے ، یعنی اس میں موجود دروازے، مختلف چھوٹے بڑے صحن،برآمدے، جامع مسجد، قبۃ الصخرہ، مصلیٰ مروانی، قبے، پانی کی سبیلیں اور دیگر جو بھی تاریخ آثار اس چار دیواری میں موجود ہیں ، حتی کہ اس پر موجود اذان دینے کے منارے سب ’’مسجد اقصیٰ‘‘ میں شامل ہے۔ یہ پوری جگہ سوائے قبۃ الصخرہ اور جامع مسجد (عوام کے ہاں عام طور سے اسی جگہ کو مسجد اقصیٰ کہا جاتا ہے)کے بغیر چھت کے ہے۔ چنانچہ علمائے کرام اور مورخین کا اس پر اتفاق ہے اوراسی پر یہ مسئلہ متفرع ہوتا ہے کہ جو شخص اس پورے احاطے میں کہیں بھی نماز پڑھ لیے تو وہ اس فضیلت کا مستحق بنتا ہے جو مسجد اقصی میں نماز پڑھنے کے بارے میں بیان کی گئی ہے۔

(۲)مسجد اقصی کے کئی نام ہیں جو سب کے سب اس کی فضیلت اور بلندی شان کی اظہار ہیں۔ بعض علماء نے اس کے بیس نام جمع کیے ہیں۔ البتہ مشہور نام تین ہیں: مسجد اقصیٰ، بیت المقدس اور ایلیائ۔

(۳)یہ مسجد بیت المقدس شہر کے ایک ٹیلے پر واقع ہے اور یہ مسجد اس اعتبار سے دنیا کی واحد ترین مسجد ہے کہ اس کے احاطے میں جس قدر تاریخی آثار موجود ہیں وہ کسی اورجگہ موجود نہیں ہیں۔ اس مسجد کا کل احاطہ چالیس ہزار ، ایک سو چار مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔

(۴)زمین پر مسجد حرام کے بعد دوسرے نمبر پر بننے والی مسجد یہی ’’مسجد اقصیٰ‘‘ ہے۔ چنانچہ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا: زمین پر سب سے پہلی کون سی مسجد تعمیر کی گئی؟ تو آپ نے فرمایا: مسجد حرام!۔ میں نے پوچھا: پھر اس کے بعد کون سی؟ تو آپ نے فرمایا: مسجد اقصی۔ میں نے پوچھا: ان دونوں کی تعمیر میں کتنی مدت کا فرق ہے؟ تو آپ نے فرمایا: چالیس سال۔‘‘ (بخاری)

(۵)یہ ایسی مسجد ہے کہ خود اس کا اپنا احاطہ بھی اور اس کا اردگرد بھی مبارک علاقہ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندے کو ، رات کے ایک حصے میں اپنے مسجد حرام سے اُس مسجد اقصیٰ تک کی سیر کرائی، جس کے اردگرد ہم نے برکت رکھی ہے، تاکہ اُسے اپنی نشانیوں میں سے کچھ دِکھائیں، بے شک وہی کامل سننے والا اور کامل دیکھنے والا ہے۔ (سورۃ الاسرائ:۱)

اسی لیے بعض علماء نے کہا ہے کہ اگراس ایک آیت کے علاوہ، اس مسجد کی فضیلت کے بارے میں اور کوئی بات بھی نہیں ہوتی، تب بھی یہی ایک آیت بہت کافی تھی، پھر جب اس کا اردگرد مبارک ہے تو خود اس مسجد کی برکت کتنی ہوگی؟ شاید یہی وجہ ہے کہ مسجد حرام اور مسجد نبوی کے علاوہ باقی تمام مساجد سے اس کا مقام و مرتبہ بڑھ کرہے۔

(۶)مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا پہلا قبلہ ہے۔

اس کی تفصیل حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنئے۔ فرماتے ہیں:

ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل کر ، سولہ یا سترہ مہینوں تک بیت المقدس کی طرف رُخ کرکے نمازیں پڑھیں، پھر ہمارا رُخ قبلہ بیت اللہ کی طرف پھیر دیاگیا(بخاری و مسلم)

یاد رہے کہ قبلے کی تبدیلی کے بعد بھی اس مسجد اقصیٰ کی اہمیت ختم نہیں ہوئی، بلکہ مسلمانوں کے دلوں میں اور اسلامی شریعت میں پہلے کی طرح ہمیشہ کے لیے اس کی عظمت برقرار رہی ہے اور برقرار چلی آرہی ہے۔ الحمد للہ

(۷)نبی کریمﷺ نے اس مسجد کی فضیلت اور عظیم شان کو بیان فرمایا ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ ہر سچے مسلمان کا دل اس کے ساتھ جُڑا رہتا ہے اور اسے براہ راست دیکھ لینا بھی اپنے لیے بڑی سعادت سمجھتا ہے۔

حضرت ابو ذرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہﷺ کی موجودگی میں اس بات کا مذاکرہ کیا کہ آیا مسجد اقصی افضل ہے یا مسجد نبوی؟ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: میری اس مسجد میں ایک نماز ، مسجد اقصی میں چار نمازوں سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے، اور سچ تو یہ ہے کہ وہ بھی بہت ہی اچھی نماز کی جگہ ہے۔ اوریہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بندے کو اگر وہاں زمین کا فقط گھوڑے کی رسی کی جگہ جتنا ٹکڑا مل جائے کہ جس کی بدولت وہ وہاں رہ کر بیت المقدس کی زیارت سے مشرف ہوسکے تو یہ بات اس کے لیے پوری دنیا سے بہترہوگی‘‘۔ (مستدرکِ حاکم۔ وافقہ الذھبی)

(۸)نبی کریمﷺ نے اس کے فتح ہونے سے پہلے ہی اس کے فتح ہونے کی بشارت عطاء فرمائی جو ایک طرف ہمارے نبیﷺ کا معجزہ ہے اور دوسری جانب اس مسجد کی عظمت کا نشان بھی ہے۔

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضرہوا، اُس وقت آپ چمڑے کے بنے ہوئے ایک خیمے میں موجود تھے، اس وقت آپ نے فرمایا:

یہ بات شمار کرکے رکھ لو کہ قیامت سے پہلے یہ چھ باتیں ضرور ہوں گی: (۱) میری وفات (۲) پھر بیت المقدس کی فتح (۳) پھر دو ایسے عام موتیں جو تم بکریوں کی وباء کی طرح پھیل جائیں گی(۴)پھر مال میں اس قدر اضافہ کہ اگر کسی کو ایک سو دینار بھی دیئے جائیں گے تو وہ اس پر بھی(کمی محسوس کرکے) ناراضی ظاہر کرے گا (۵)پھر ایک ایسا فتنہ آئے گا عرب کے کسی بھی گھر میں داخل ہوئے بغیر نہیں رہے گا (۶)پھر تمہارے اور بنو اصفر(رومیوں) کے درمیان ایک صلح کا زمانہ آئے گا، مگر وہ تم سے بدعہدی کریں گے اور تم سے لڑنے کے لیے اسی جھنڈوں تلے جمع ہوکر آئیں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار سپاہی ہوں گی(بخاری:۳۱۷۶)

(۹)مسجد اقصیٰ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ طائفہ منصورہ کی قیام گاہ اور اہل ایمان کا مضبوط گڑھ ہے۔ یعنی اس جگہ ہمیشہ ایک جماعت ایسی رہے گی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مددیافتہ اور پختہ ایمان والوں کی ہوگی۔

رسول کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق کی حمایت کے لیے قتال کرتی رہے گی، جو اپنے مخالفین پر غالب رہے یہاں تک کہ ان کی آخری طبقہ مسیح دجّال سے قتال کرے گا۔ (مسند احمد۔ سنن ابی داؤد۔ مستدرک حاکم۔ طبرانی)

اگرچہ یہ جماعت دنیا میں بکھری ہوئی بھی وقتا فوقتا موجود رہے گی مگر بیت المقدس میں یہ جماعت بہرحال رہے گی کیوں کہ دوسری حقیقت یہ ہے کہ دجال نامی فتنے کو قتل کرنے کے لیے جب حضرت عیسی علیہ السلام تشریف لائیں گے تو وہ فلسطین کے باب لُد کے مقام پر ہی اسے قتل کریں گے، تو یقینا اس وقت خود حضرت عیسی علیہ السلام اوران کے ساتھ موجود مجاہدین جس سرزمین پر موجود ہوں گے وہ یہی بیت المقدس اور فلسطین کا علاقہ ہے۔

(۱۰) مسجد اقصیٰ، بیت المقدس اور بلادِ شام : یہ ارضِ محشر(جمع ہونے کی جگہ) بھی ہے اور ارضِ منشر(دوبارہ زندہ کرکے اُٹھائے جانے کی جگہ) بھی۔

نبی کریمﷺ کی باندی حضرت میمونہ بنت سعد فرماتی ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! آپ ہمیں بیت المقدس کے بارے میں کچھ بتائیے! تو آپ نے فرمایا: وہ جمع ہونے اور دوبارہ جی اُٹھنے کی جگہ ہے۔ (سنن اِبنِ ماجہ)

(۱۱)مسجد اقصیٰ کا یہ بھی امتیاز ہے کہ اس سرزمین کے اہل ایمان دجال سے حفاظت کے لیے اس میں پناہ لیں گے اور دجال اس میں داخل نہیںہوسکے گا۔

رسول کریمﷺ کا ارشادہے:

(دجال کی) ’’علامت یہ ہے کہ وہ چالیس دن زمین پر رہے گا، ہر پانی کے گھاٹ تک اس کی حکومت پھیل جائے گی، البتہ چار مسجدوں تک وہ نہیں آسکے گا: کعبہ، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ اور طور‘‘۔ (مسند احمد، مجمع الزوائد، رجالہ رجال الصحیح)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online