Bismillah

627

۱تا۷جمادی الاولیٰ۱۴۳۹ھ   بمطابق ۱۹تا۲۵جنوری۲۰۱۸ء

مسجد اقصیٰ کے بارے میں 40اَہم معلومات(۲) (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 625 - Mudassir Jamal Taunsavi - Masjid e Aqsa k Bare mein

مسجد اقصیٰ کے بارے میں 40اَہم معلومات(۲)

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 625)

(۱۲)اِسی مسجد اقصیٰ کی جانب نبی کریمﷺ کو معراج کی شب سیر کرائی گئی اور اس میں عجیب حکمت یہ ہے کہ اس سیر کی ابتداء مسجد حرام سے ہوئی جوزمین پر بننے والی پہلی مسجد ہے اور اس زمینی سیر کی آخری منزل مسجد اقصیٰ بنائی گئی جو زمین پر بننے والے دوسری مسجد ہے ، اس طرح نبی کریمﷺ کے لیے دو قبلے اوران کی فضیلت جمع کردی گئیں اور اسی کے ساتھ آپﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا بلیغ اِشارہ بھی دے دیا گیا ۔

نبی کریمﷺ فرماتے ہیں: میرے پاس براق کو لایا گیا، یہ ایک سفید رنگ کا قدرے لمبا جانور تھا، جو گدھے سے کچھ بڑا اور خچر سے کچھ چھوٹا تھا۔ اس کا قدم وہاں تک پڑتا تھا جہاں تک آدمی کی نظر پڑتی ہے۔ میں اس پر سوار ہو کر بیت المقدس پہنچا ۔ پھر اسے اس حلقے کے ساتھ باندھ دیا جہاں دیگر انبیائے کرام اپنی سواریوں کو باندھتے ہیں۔ پھر میں مسجد میں داخل ہوااور وہاں دو رکعت نماز پڑھی اور پھر باہر آیا تو جبریل علیہ السلام میرے پاس دو برتن لائے ایک میں شراب تھی اور دوسرے میں دودھ۔ میں نے دودھ والا برتن لے لیا تو جبریل علیہ السلام نے فرمایا: آپ نے فطری چیز کو پسند فرمایا ہے اور پھر ہمیں وہاں سے آسمان کی طرف لے جایا گیا…(مسلم شریف)

(۱۳)یہ مسجد اقصیٰ وہ واحد مبارک جگہ ہے جہاں انسانی تاریخ کا سب سے عظیم الشان اجتماع ہوا ۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر ہمارے نبی حضرت محمدﷺ تک جتنے بھی نبی گزرے ہیں وہ سب کے سب اس مبارک جگہ پر معراج نبوی کے موقع پر جمع ہوئے اور نبی کریمﷺ کی امامت میں نماز اداء کی۔ جس میں یہ پیغام بھی تھا کہ یہ نبی تما م نبیوں کے امام ہیں اور یہ بھی پیغام تھا کہ اب اس مبارک جگہ کی خلافت و وراثت امت محمدیہ کے سپرد کی جارہی ہے۔ اب دین وہی قبول ہوگا جو سیدنا محمدﷺ لے کر آئے ہیں اور جو ان کی امت میں داخل ہوگا وہی کامیاب ہوگا ۔

(۱۴)اس مسجد کی طرف کجاوے کَس کر سفر کیا جاتا ہے اور اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر کوئی باقاعدہ محنت و مشقت اٹھا کر اور کجاوے کس کر اس مسجد کی طرف سفر کرے تو یہ مستحب اور بڑی فضیلت والا عمل ہے۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:’’ تین مساجد: یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے سوا کسی اور کی طرف کجاوے نہ کَسے جائیں۔‘‘ (بخاری و مسلم)

اسی لیے متعدد صحابہ کرام نے دوردراز سے سفر کیے تاکہ مسجد اقصی کی زیارت کرسکیں اور وہاں نماز پڑھ سکیں، بلکہ بہت سے سلف صالحین تو اپنے اپنے زمانے میں تعلیم وتعلیم کے حلقوں کے ذریعے اس مسجد کو آباد کرتے رہے ہیں۔

(۱۵)اس مسجد میں نماز پڑھنے کااجر وثواب کئی گنابڑھا دیا جاتا ہے۔ ’’حضرت ابوذررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھ کر اس بات کا مذاکرہ کر رہے تھے کہ کون سی مسجد افضل ہے ؟آیا رسول اللہﷺ کی مسجد یا بیت المقدس ؟تو رسول اللہﷺ نے فرمایا:میری مسجد میں نماز پڑھنا ، بیت المقدس کی چار نمازوں سے افضل ہے۔ البتہ وہ بھی نماز پڑھنے کے لیے بہت ہی اچھی جگہ ہے اور عنقریب ایسا بھی ہوگا کہ کسی شخص کو یہ بات دنیا و مافیہا سے بہتر معلوم ہوگی کہ اسے بیت المقدس میں صرف گھوڑے باندھنے جتنی جگہ مل جائے تاکہ وہ وہاں رہ کر بیت المقدس کو دیکھ سکے ۔‘‘ (اخرجہ الحاکم وصححہ و وافقہ الذہبی)

(۱۶)حضرت عمرو رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ: جس وقت حضرت سلیمان بن داؤد علیہما السلام بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوچکے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کیں:

ایک یہ کہ انہیںفیصلہ کرنے کی ایسی صلاحیت دی جائے کہ وہ جو بھی فیصلہ کریں وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق ہو

دوسری یہ کہ انہیں ایسی بادشاہت ملے کہ ان کے بعد ویسی بادشاہت کسی کو بھی نہ ملے

اور تیسری دعاء یہ کی کہ جو شخص بھی اس مسجد کی طرف کسی بھی اور مقصد کے بجائے، صرف اس میں نماز پڑھنے کے لیے آئے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے پاک صاف کردیاجائے جیسا کہ وہ اس دن تھا جب اسے ماں نے جنا تھا۔

یہ فرما کر نبی کریمﷺ نے فرمایا: پہلی دو باتیں تو ان کی پوری کردی گئی ہیں اور مجھے امید ہے کہ تیسری بات بھی قبول کر لی گئی ہوگی۔(سنن النسائی۔ سنن ابن ماجہ)

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online