Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

مسجد اقصیٰ کے بارے میں 40اَہم معلومات(۳) (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 626 - Mudassir Jamal Taunsavi - Masjid e Aqsa k Bare mein

مسجد اقصیٰ کے بارے میں 40اَہم معلومات(۳)

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 626)

(۱۷)مسجد اقصیٰ، القدس اور فلسطین کو اللہ تعالی نے پہلے دن سے ہی مقدس بنایا ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:

اے میری قوم! تم مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ (سورۃ المائدۃ:۲۱)

یہ خطاب ایک ایسے وقت میں ہواکہ جب ابھی تک بنی اسرائیل فلسطین میں داخل نہیںہوئے تھے اور بنی اسرائیل کے وہ انبیاء بھی ابھی اس میں نہیں آئے تھے کہ جن کی بنیاد پر یہودی لوگ اس زمین کی وراثت کا دعویٰ کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور حضرت لوط علیہما السلام کے تذکرے میں بتایا ہے کہ:

اور ہم نے اسے (یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام)اور لوط (علیہ السلام) کو نجات دے کر اس زمین میں پہنچا دیا جس میں ہم نے جہان والوں کے لیے برکت رکھی ہے(سورۃ الانبیائ:۷۱)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اس زمین میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آنے سے قبل بھی اللہ تعالیٰ نے برکت رکھی تھی ۔ اسی لیے یبوسی لوگ اس مقام کے آس پاس آباد ہوئے ، خود اس جگہ پر آباد نہیں ہوئے کیوں کہ یہ عبادت کی جگہ تھی۔

(۱۸)پوری تاریخ میں مسجد اقصیٰ ہمیشہ ایک اسلامی مسجد کے طور پر موجود رہی ہے اور مسلمانوں کی ملک میں رہی ہے۔ حتی کہ یہود کے آنے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ فلسطین انبیائے کرام مثلا حضرت ابراہیم ، حضرت یعقوب ، حضرت موسی ، حضرت عیسی ، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور دیگر انبیاء علیٰ نبینا و علیہم السلام کی زمین ہے اور یہ سب کے سب مسلمان تھے اور ہم ان میں کوئی تفریق نہیں کرتے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اور ملتِ ابراہیم سے تو وہی شخص اعراض کرتا ہے جو بے وقوف ہے اور بلاشبہ ہم نے تو انہیں دنیا میں چن لیا تھا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں سے ہوں گے۔ جب ان کے رب نے ان سے کہا کہ تم فرماں بردار بن جاؤ تو انہوں نے کہا: میں رب العالمین کا فرماں بردار بنتا ہوں۔ اور اسی کی وصیت کی تھی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے بھی کہ اے میرے بیٹو! بے شک اللہ تعالی نے تمہارے لیے دین چنا ہے، پس تم مسلمان ہونے کی حالت میں ہی مرنا۔(سورۃ البقرۃ:۱۳۲)

(۱۹)اس مسجد میں بہت سے صحابہ کرام داخل ہوئے، انہوں نے اس کی طرف باقاعدہ سفر کیے، اس جگہ کو آباد کیا، یہاں عبادات اور وعظ و ارشاد کے ساتھ اس جگہ کو آباد کیا۔ ان کبار صحابہ میں حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالی عنہ جو ملک شام کی فتوحات میں اسلامی افواج کے قائد تھے، حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ، جو بیت المقدس کی فتح کے وقت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضرہوئے، اور مسجد اقصی میں اذان دی، اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جنہیں حضرت ابوعبیدہ نے اپنی وفات کے وقت یہاں کا نائب بنایااور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جو بیت المقدس کی فتح کے وقت حاضر ہوئے، اور حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ انہوں نے تو باقاعدہ اس جگہ رہائش اختیار کر لی اور مسلمانوں میں سے یہ پہلے شخص ہیں جو بیت المقدس کے قاضی بنائے گئے اور وہیں دفن ہوئے۔ اسی طرح حضرت تمیم داری اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔ اور ان کے علاوہ بھی ایسے بے شمار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں۔

(۲۰) مسجد اقصی اور بیت المقدس وہ واحد شہر ہے کہ اس کی فتح کے وقت اس کی کنجیاں لینے کے لیے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ سے خاص اسی مقصد کے لیے سفر فرمایا اور سنہ۱۵ھ میں جبکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے مسجد اقصی کی فتح آسان فرمادی تو مسجد اقصی کے صحن میں ایک مصلّٰی بنایااور جمہور مورخین کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد اقصیٰ کی چار دیوار کے مقابل قبلے کی جانب میں ایک مسجد قائم کرائی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خود اس کی جگہ متعین کی تاکہ وہ مسجد اقصیٰ کے اگلے اور ابتدائی حصے میں شامل ہو جائے ۔

(۲۱) مسجد اقصیٰ : اُن مساجد میں سے ہے جو تاریخ کے اکثر اَدوار میں علمی اور تدریسی حلقوں سے آباد رہی ہیں۔ چنانچہ یہاں متعدد ایسی نشست گاہیں بنائی گئیں جہاں طلبہ علم بیٹھ کر اپنے اساتذہ سے حصول علم میں مشغول رہ سکیں۔ خاص کر گرمیوں کے موسم میں آب و ہوا کہ معتدل ہونے کی وجہ سے اس کے صحن میں علم کی بہاریں ہوتیں۔ چنانچہ ایک اندازے کے مطابق تیس کے قریب ایسی نشست گاہیں اس مسجد کے صحن میں شمار کی گئی ہیں ۔ ان میں سے بعض نشست گاہیں ایسی ہیں جو عصر مملوکی میں بنائی گئیں اور زیادہ تر ایسی ہیں جو خلافت عثمانیہ کے دور میں بنائی گئیں اور اس طرح یہ مسجد تاریخ کے ایک طویل ترین دور تک علمی و تعلیمی حلقوں سے پُربہار بنی رہی۔

(۲۲) مسجد اقصیٰ کو بعض لوگ ’’حرم‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ تعبیر درست نہیں ہے۔ کیوں کہ یہ تعبیر اسلامی شریعت میں ایک خاص مفہوم رکھتی ہے یعنی ایسی جگہ جہاں شکار کرنا اور درخت وغیرہ کاٹنا ممنوع ہو جیسا کہ حرم مکی کا حکم ہے۔ مگر چونکہ یہ احکامات بیت المقدس کے لیے نہیں ہیں اس لیے اسے ’’حرم‘‘ سے تعبیر کرنا درست نہیں ہے۔ البتہ اس نام کے علاوہ کتاب و سنت میں اس کے جو نام آئے ہیں ان میں یہ تین نام سب سے زیادہ مشہور ہیں: مسجد اقصی، بیت المقدس، مسجد ایلیائ۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ انہی ناموں سے اس مسجد کو یاد کیا جائے۔

(۲۳)مسجد اقصیٰ کے بارے میں جو بعض غلط فہمیاں مشہور ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں موجود ’’قبۃ الصخرۃ‘‘ جو زرد رنگ لیے ہوئے ہے، اس کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسے شاید مستقل کوئی تقدیس حاصل ہے۔ لیکن درست بات یہ ہے کہ اس کے لیے کوئی مستقل فضیلت اور تقدیس نہیں ہے ۔ بلکہ یہ مسجد اقصیٰ کے گنبدوں میں سے ایک گنبد ہے اور اس کا ایک حصہ ہے اور اس حصہ ہونے کے ناطے جو عمومی فضائل ہیں وہ اسے بے شک حاصل ہیں۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online