Bismillah

632

۶ تا۱۲جمادی الثانی ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۳تا۲۹فروری۲۰۱۸ء

مسجد اقصیٰ کے بارے میں 40اَہم معلومات(۴) (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 627 - Mudassir Jamal Taunsavi - Masjid e Aqsa k Bare mein

مسجد اقصیٰ کے بارے میں 40اَہم معلومات(۴)

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 627)

(۲۴)مسجد اقصیٰ کا ایک اہم حصہ وہ ہے جسے آج کل ’’دیوارِ گریہ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ مسجد اقصیٰ کی جنوب مغرب جانب کی دیوار ہے اور یہ بھی اسلامی مملوکات میں سے ہے۔ اس اسرائیلی جارحیت و غاصبیت سے پہلے کبھی بھی اس کے بارے میں یہودیوں کا کوئی دعویٰ سامنے نہیں آیاتھا۔ اور پھر جب اس زمانے کے یہودیوں نے ایسا دعویٰ کھڑا کیاتو امت مسلمہ نے ان کے اس جھوٹے دعوے کو ردکیا حتی کہ 1930ء میں اقوام متحدہ نے بھی یہ فیصلہ دیا کہ ’’یہ دیوار صرف اور صرف مسلمانوں کی ہی ملکیت ہے اور یہ مسجد اقصیٰ کا ہی ایک حصہ ہے جسے اس سے جدا نہیں کیا جاسکتا اور یہ اسلامی اوقاف کی ملکیت میں ہی ہے۔‘‘

(۲۵)مسجد اقصیٰ: اسلامی تاریخ کے اکثر اَدوار میں اسلامی حکومت کے ماتحت ہی رہی ہے۔ حتی کہ اس شہر میں موجود کنیسے، اور دیگر یہودی و عیسائی ایک اسلامی ریاست کے ماتحت کے ذمی بن کر رہے اور اسلامی حکومت ہی ان کے جان و مال کی محافظ و ضامن رہی ہے اور اس شہر میں جس قدر امن و امان اور عدل وانصاف اسلامی اَدوار حکومت میں رہا ہے، وہ پوری تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ اور یہ سب ایسے حقائق ہیں جس پر علمائے تاریخ کا سب کا اتفاق ہے۔

(۲۶)مسجد اقصیٰ پر اسلامی تاریخ میں پہلی بار سنہ ۴۹۲ھ ، ماہ شعبان کی تئیس تاریخ جمعہ کے دن صلیبیوں نے قبضہ کیا ، کم و بیش ستر ہزار مسلمانوں کو قتل کیا اور ان میںمسلمانوں میں سے اکثر ایسے تھے جو اپنے وطن کو چھوڑ کر علم و عبادت وغیرہ کے لیے اس مقدس مقام پر آباد ہوئے تھے۔ پھر تقریباً 91سال تک صلیبی اس مقدس مقام پر قابض رہے اور اس قبضے کے دوران انہوں نے اس مقدس مقام کی بارہا بے حرمتی کی اور مسجد اقصیٰ کے تاریخی آثار و نقوش کو مٹانے اور تبدیل کرنے میں لگے رہے۔ چنانچہ اس مسجد اقصیٰ کے ایک طرف انہوں نے ایک کنیسہ بنایا اور ایک جانب اپنے گھڑ سواروں کے لیے رہائش گاہ اور ذخیرہ اندوزی کے لیے ایک گودام بنایا ، اور نماز پڑھنے والی جگہ خنزیر اور دیگر جانور بسا دیئے گئے اور قبہ الصخرہ کے اوپر انہوں نے اپنی سب سے بڑی صلیب نصب کردی تھی۔

(۲۷)مسجد اقصیٰ کو جس وقت سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ تعالیٰ نے آزاد کرایا تو اس جامع مسجد کی اصلاح و تعمیر نو کا حکم دیا تاکہ یہ واپس اسی اصلی حالت پر آجائے جس حالت پر صلیبیوں کے قبضے سے پہلے تھی۔ پھر انہوں نے حلب سے ایک شاندار منبر منگوایا، جس کے بنانے کا حکم اس فتح سے بیس سال پہلے سلطان نورالدین زنگی رحمہ اللہ تعالیٰ نے دیا تھا۔ چنانچہ پھر وہ منبر مسجد اقصیٰ میں رکھ دیا گیا تاکہ خطیب اس پر کھڑے ہو کر جمعہ کے دن خطبہ دیا کرے ۔ پھر یہ منبر کئی صدیوں تک باقی رہا تاآناکہ سنہ 1969ء ، اگست کی اکیس تاریخ کو یہودیوں نے اس کو آگ لگائی اور اسی کے ساتھ انہوں نے نماز پڑھنے والی جگہ جسے المصلی الجامع کہتے ہیں، اسے بھی آگ لگائی۔

(۲۸)مسجد اقصیٰ ، بیت المقدس اور ہمارے نبیﷺ کے معراج و اسراء کی سرزمین تاریخ کے اکثر زمانوں میں اسلامی سرزمین کے طور پر جانی جاتی رہی سوائے اُن چند زمانوں کے جب اس پر کچھ قاتل اور ظالم لوگ مسلط ہوگئے۔ چنانچہ دورِ محمدی سے ایسی ہی ایک قوم تھی جس کا بادشاہ جالوت تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داود علیہ السلام کے ہاتھوں اس جابر بادشاہ کو قتل کرایا ۔ اسی طرح بعد کے متعدد زمانوں میں رومی اور یورپ کے صلیبی اور اس دور میں یہودی ایسے ہی ظالم و قاتل لوگ ہیں جس عارضی طور پر اس مقدس مقام پر قابض و مسلط ہیں۔ اور ایک وقت آئے گا کہ ان کے ناپاک ہاتھوں سے اس مقدس مقام کو آزادی  ملے گی۔ ان شاء اللہ

(۲۹)مسجداقصیٰ کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ یہی مقدر فرمایا کہ اسے مسلمان، ظالموں سے آزاد کرائیں۔ ایک وقت وہ تھا کہ حضرت موسی علیہ السلام کی وفات کے بعد اُن کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی قیادت میں اُس وقت کے اہل ایمان نے اس مبارک مسجد اور مبارک علاقے کو فتح کیا۔ چنانچہ سورۃ البقرۃ آیت نمبر۵۸ میں بیان ہوا ہے کہ:

’’اور جب کہا ہم نے : تم لوگ اس بستی میں داخل ہوجاؤ اور پھر وہاں جو چاہو مزے سے کھاؤ، اور اس کے دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا‘‘

امام قرطبی مفسر فرماتے ہیں کہ: اس بستی سے مراد بیت المقدس ہے اور اس کی آزادی میں جو اہل ایمان مجاہدین شریک تھے، اُن میں ایک حضرت داؤد علیہ السلام بھی تھے جنہوں نے جالوت نامی ظالم بادشاہ کو قتل کیا تھا اوراسی عمل کی بدولت جالوت اوراس کے لشکر کو شکست ہوئی تھی۔ پھر حضرت داؤد علیہ السلام کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام آئے اور اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

سلیمان، داؤد کا وارث بنا(سورۃ النمل:۱۶)

اس زمانے میں بھی یہ بیت المقدس اُس وقت کے اہل ایمان کا ہی دارالحکومت تھا۔ یہودیوں کا دارالحکومت نہیں تھا۔

پھر جب اللہ تعالیٰ کے آخری رسول حضرت سیدنا محمدﷺ تشریف لائے اورآپ نے اپنے صحابہ کے ساتھ مل کر جہاد شروع فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی زمین کو اللہ تعالیٰ کے دین سے آباد کرنا شروع فرمایا، تو یہ سلسلہ چلتے چلتے مسجد اقصیٰ تک بھی پہنچا اور حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانۂ خلافت میں وہ وقت آیا کہ مسلمانوں نے اس مبارک سرزمین کو فتح فرمایا اور یوں یہ مبارک مسجد اور پورا بیت المقدس اور یہ پورا علاقہ اہل اسلام نے آزاد کرالیا۔ جب کہ اس سے پہلے تقریبا سات صدیوں سے رومی لوگ اس پر قابض چلے آرہے تھے۔ پھر یہ مبارک سرزمین پانچویں صدی ہجری تک اسلامی خلافت کے زیرنگین امن و امان اور علم و ایمان کی آماجگاہ بنی رہی، یہاں تک کہ ایک بار پھر صلیبی لشکروں نے اس جگہ قبضہ کرلیا

اور یہاں سے ایمان و علم کی کفر و شرک اور جہالت و ضلالت پھیلانے لگے۔ تب سلطان نور الدین زنگی اور سلطان صلاح ا لدین ایوبی رحمہما اللہ تعالیٰ جیسے مسلمان مجاہدین اُٹھے اورانہوں نے 91سالہ محنت کے بعد اس مبارک سرزمین کو آزاد کرایا ۔ پھر تقریبا چھ صدیوں تک اسلام کے زیر سایہ رہنے کے بعد جب مسلمانوں کی خلافت کمزور ہوئی تو دوبارہ یہ مبارک سرزمین صلیبیوں کے قبضے میں چلی گئی اور انہوں نے وہاں اسرائیل کے نام سے ایک ملک بھی بنالیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ بہت جلد دوبارہ اہل اسلام کے ہاتھوں اس جگہ کو آزاد کرائے۔ آمین

(۳۰)مسجد اقصیٰ کو جب سنہ ۱۳۸۷ھ مطابق۱۹۶۷ء میں یہودیوں نے ہتھیایا تو انہوں نے سب سے پہلے دیوارِ براق پر قبضہ جمایا اور وہاں کا نقشہ و نگار تبدیل کردیا اور وہاں کے رہنے والے سب مسلمانوں کو وہاں سے بھگا دیاگیا۔ دیواربراق اوراس کے آس پاس مسلمانوں کی جو یادگار چیزیں انہوں نے ختم کیں اس میں چار جا معات، ایک مدرسہ افضلیہ تھا اور بھی متعدد اسلامی اوقاف تھے اور اس سب کا مقصد یہ تھا کہ یہاں موجود تمام اسلامی اوقاف اور یادگاروں کا نام و نشان مٹا دیاجائے اور پھر اس پر اپنے حق کا جھوٹا دعویٰ کھڑا کیاجائے۔ 

(۳۱) مسجد اقصیٰ کے بارے میں ایک اہم اور دلدوز بات یہ ہے کہ یہودیوں نے اِسے گرانے اور اس کی جگہ اپنا مزعومہ ہیکل بنانے کے لیے کئی منصوبے بنا رکھے ہیں۔ یہ وہ بات ہے کہ جس پر اس وقت کے تقریبا سب ہی یہودی اوران کی سب ہی سیاسی جماعتیں اوران کے سب ہی سرپرست متفق ہیں۔

(۳۲)مسجد اقصیٰ کو گرانے کے لیے یہودی قابضین وقتا فوقتا مختلف چھوٹے بڑے حربے اختیا ر کرتے رہتے ہیں۔ حتی کہ اسی کی پیش بندی کے لیے اب تک وہ فلسطین اور خاص کر بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے آس پاس میں کئی سڑکوںاور گراؤنڈز وغیرہ کے اسلامی شناخت والے نام بھی تبدیل کرچکے ہیں۔ چنانچہ جس جگہ مسجد اقصیٰ قائم ہے اس جگہ کا نام انہوں نے ’’جبل ہیکل‘‘ یعنی ہیکل کا پہاڑ رکھ دیا ہے جب کہ اس سے پہلے یہ پہاڑی جگہ ’’جبل بیت المقد س یا جبل مسجد اقصی‘‘ کے نام سے جانی پہچانی جاتی رہی ہے۔ یہ سب اس لیے ہے تاکہ اس مبارک مسجد سے ہر قسم کی اسلامی شناخت ختم کی جائے۔ لیکن ان کی یہ مذموم کاوشیں بالآخرناکام ہوں گی۔ ان شاء اللہ

(۳۳)مسجداقصیٰ کے بارے میں یہودیوں کا گمان یہ ہے کہ یہ مسجد ، اُن کے مزعومہ عبادت گاہ ہیکل کی جگہ پر بنائی گئی ہے۔ اسی بنیاد پر اپنے حق کی واپسی کے لیے دنیا میں ڈھنڈورا پیٹتے اوراپنی مدد کے لیے پکارتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ نہ تو تاریخی حقائق کو جھٹلانے سے گریز کرتے ہیں اور نہ ہی تورات جیسی مقدس کتاب میں تحریک کرنے سے کتراتے ہیں اور جو قوم اپنے مذموم مقاصد کے لیے آسمانی کتاب کو بدلنے اورا س میں تحریف کرنے سے نہ کتراتی ہو، اس سے بھلا دیگر حقائق میں سچ کی کیا توقع رکھنا؟؟

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online