Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

دو مدارس…دو اجتماع (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 446 - Mudassir Jamal Taunsavi - Do Madaris Do Ijtema

دو مدارس…دو اجتماع

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 446)

گزشتہ ہفتے جماعت کے دو مدارس کے سالانہ اجتماع پر جانے کا موقع ملا جس کی مختصر روداد اپنے قارئین کے سامنے رکھنے کا ارادہ ہے۔ ان میں پہلا اجتماع 15مئی بروز جمعرات مدرسہ تعلیم القرآن بالاکوٹ میں جبکہ دوسرا اجتماع 16مئی بروز جمعہ مرکز الجمیل الاسلامی اسلام آبادمیں تھا۔

بالاکوٹ کی سرزمین پر سیداحمد شہید رحمہ اللہ تعالیٰ کی امارت میں جو قافلۂ جہاد اُترا تھا، اُس قافلے میں شریک سرکردہ اَفراد میں دو صفات امتیازی شان کے ساتھ جگمگاتی نظر آتی ہیں، اور درحقیقت یہی دو صفات اس قافلے کو اوراس قافلے کے جانشین علماء دیوبند کو دیگر علمی، فکری اور عملی طبقات سے جدا کرتی ہیں۔ ان دو صفات کا عنوان ہے: علم اور جہاد!

عصر حاضر میں علمِ دین کی حفاظت کرنا اور اسے مستشرقین اوران کے شاگردوں کے گمراہ کن اَفکار ونظریات سے بچانا علماء امت کاایک اہم فرض ہے اور الحمد للہ! علماء امت اس فرض کو مختلف شکلوں میں نبھا رہے ہیں اورایسا قیامت تک ہوتا رہے گا کہ دین کے محافظ اہل علم پیدا ہوتے رہیں گے۔ نبی کریمﷺ کی حدیث مبارک کا مفہوم ہے:

’’اس علم(علم دین) کو ہرآنے والی نسل کے عادل لوگ حاصل کریں گے، جو اس علمِ دین سے غلوپسند لوگوں کی تحریفات کو دور کریں گے، دین کے نام پر باطل پرستوں کے گھڑے ہوئے جھوٹ کا پردہ چاک کریں گے اورجاہلوں کی تاویلات کا قلع قمع کریں گے‘‘(مشکوٰۃ، کتاب العلم)

 اہل علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ جہاد کے معاون بن کر چلیں اور اہل جہاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ علم کی روشنی میں اپنے سفر کو جاری رکھیں، اسی صورت میں امت کی ترقی وکامیابی کا عظیم راز پنہاں ہے۔ نبی کریمﷺ نے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جو تربیت فرمائی، اس میں علمی نسبت بھی منتقل کی اورجذبہ جہاد بھی پیدا فرمایا، تب وہ حضرات علم اورجہاد کو ساتھ لے کر چلے تو ’’جہاد‘‘ کی بدولت کفریہ ممالک اسلامی سلطنت میں شامل ہوتے گئے اور ’’علم‘‘ کی بدولت کفرو جہالت کے اندھیرے ختم ہوتے گئے۔ فالحمدللہ رب العالمین

یہ تمہید اس لیے باندھی کے ایک بار پھر بالاکوٹ کی سرزمین پر بلند وبالا پہاڑوں کے دامن ایک ایسا ہی مرکز آباد ہوچلا ہے جہاں علومِ قرآن وسنت کی بہار بھی مشام جان ودل معطر کیے دیتی ہے اور جذبۂ جہاد کی شرارے بھی سوئے ہوئے جذبات کو سرگرم عمل کردیتے ہیں۔

یہ مرکزجو مدرسہ تعلیم القرآن کے نام سے آباد ہے، اس پودے کی بنیاد میں امیرالمجاہدین حضرت مولانا محمد مسعودازہرحفظہ اللہ تعالیٰ کی کاوشوں اور آہوں کا اثرہے اورپھر محترم جناب محمدیوسف اظہر غوری صاحب کی انتھک محنت اور بے پناہ دلی لگن کے ساتھ اس کی آبیاری میں ہمہ تن، شب وروز مصروف عمل ہیں، جس کی بدولت دوردراز اور پہاڑوں کے بلند دامنوں میں واقع یہ مدرسہ جو 2003میں فقط ایک درسگاہ سے شروع ہواتھا اب ایک عظیم ادارے کا روپ دھارتانظر آتاہے۔

اس وقت میں مدرسہ میں درجہ حفظ کی 6درسگاہیں اور درجہ کتب میں درجہ خامسہ تک کے درجات کی تعلیم جاری ہے اورخاص بات یہ ہے کہ اس جنگل میں قائم تعلیمی ادارے میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طرزپر’’عربی طریقہ تعلیم‘‘ بھی جاری ہے جسے ہمارے مدارس کی اصطلاح میں معہداللغۃ العربیۃ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ البتہ فی الوقت صرف درجہ اولیٰ اوردرجہ ثانیہ میں ہی یہ طرز جاری ہے کہ ان دودرجات میں مکمل تعلیم عربی زبان میں دی جاتی ہے اور اللہ تعالی سے امید ہے کہ اس میں مزید ترقی ہوگی اور یہاں کا علمی وعملی معیار مزید اونچا اور بہتر ہوگا۔ ان شاء اللہ

ہرسال اس ادارے میں ایک سالانہ اجتماع ہوتا ہے جس میں حفاظ طلبہ کی دستاربندی اورپوزیشن ہولڈرطلبہ میں انعامات تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اس سال بھی 15مئی بروز جمعرات یہ اجتماع منعقد ہوا اورالحمدللہ! اس ناچیز کو بھی اس میں شرکت کا موقع ملا۔ سچی بات یہ ہے کہ ہربار یہاں آکر ایک نئی خوشی اورعجیب راحت وحوصلہ محسوس ہوتا ہے اور اس ادارے میں زیرتعلیم وزیرتربیت نونہالانِ ملت کے مقدر اور ہمت پر رشک آتا ہے۔ اللہم زد فرز

 اس سال کا اجتماع بھی حسب سابق نہایت آب وتاب کے ساتھ منعقد ہوا، اجتماع کے لیے مانسہرہ شہر سے لے کر مدرسہ کی حدود تک درجنوں خوبصورت اورطویل وعریض دعوتی پینا فلیکسز اور وال چاکنگ کی گئی تھی جبکہ مدرسہ کے داخلی گیٹ پر بھی خیرمقدمی بورڈ آویزاں تھا اور مسجد کے اندرونی اوربیرونی دیواروں پر کئی چھوٹے بڑے خیرمقدمی، ترغیبی اور تربیتی بینر آویزاں تھے ، جب کہ بعض بینرز پربعض عظیم شہداء کے نام درج تھے اورانہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا۔ یہ اجتماع مقررہ تاریخ کو صبح دس بجے شروع ہوا اور شام مغرب تک جاری رہا۔ اجتماع کو تین نشستوں میں تقسیم کیاگیا تھا۔

پہلی نشست صبح دس بجے شروع ہوئی، اس مجلس کے نقیب مولانا محمد خادم قاسمی صاحب تھے، انہوں نے تلاوت کلام پاک کے لیے مدرسہ کے درجہ اولیٰ کے طالب علم سعیدالرحمن کو دعوت دی، ان کے بعدنعت اورجہادی نظم کے لیے مدرسہ کے طالب علم محمدفرہاد اورمحمد عمار کو بلایا گیاجنہوں نے اپنی خوبصورت اورپرسوز آواز میں عمدہ نعتیہ وجہادی کلام پیش کرکے سامعین سے داد وصول کی۔ بعدا زاں مدرسہ کے دوطالب علم عبدالروف اورمحمد زاہد نے مختصر وقت میں اپنی تقریری صلاحیتوں کا مظاہرہ پیش کیا جسے تمام سامعین نے سراہا اورمدرسہ کی طرف سے طلبہ کی اچھی تعلیم وتربیت کو مستحسن نظروں سے دیکھا۔ طلبہ کے مراحل سے گزرکر جماعت کے دیگر ذمہ داران تک نوبت جاپہنچی تو پہلے پہل شعبہ المرابطون صوبہ خیبرپختون خوا کے منتظم مولانا کلیم اللہ سیف صاحب اور شعبہ ہدایت صوبہ خیبرپختون خوا کے منتظم بھائی علی محمد صاحب نے علم و جہاد کی نسبت ، دینی مدارس کے کردار اور جماعت کے تعارف کے حوالے پشتو زبان میں پُرجوش خطاب فرمائے اورانہی کے ساتھ شعبہ المرابطون عصری کے ذمہ دار بھائی سیف اللہ خالد صاحب نے بھی مختصر وقت کے لیے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پہلی نشست کے آخر میں مولانا محمد عمار صاحب اور مفتی اصغرخان کشمیری صاحب کے پُرمغزعلمی وتحریضی جہادی بیانات ہوئے اور مسجد کے درودیوار نعرہ ہائے تکبیر سے گونجتے رہے۔ مفتی اصغرخان کشمیری صاحب کے بیان کا خلاصہ یہ تھا کہ اس وقت امت کو علم اورجہاد کے امتزاج کی ضرورت ہے۔ بدر میں علم وجہاد کا مشترکہ سرمایہ موجود تھا تو اہل اسلام فاتح رہے اورکفروشرک کے پجاریوں نے خاک چاٹی جبکہ عالَمِ اسلام اور بغداد پر تاتاریوں کے حملے کے موقع پر علم وجہاد کا مشترکہ سرمایہ بکھر چکا تھا جس کی وجہ سے یہ دونوں قوتیں تاتاریوں کے مقابلے پر نہ آسکیں تب دنیا نے دیکھا کہ کس طرح دارالخلافہ میں مسلمانوں کے سروں اورکھوپڑیوں سے بلند وبالا مینار کھڑے کیے گئے اور مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ اس لیے آج بھی علماء کرام اورطلبہ کو جہاد کی طرف پوری تندہی اور دل جمعی کے ساتھ متوجہ ہونا ہوگا کہ یہی کامیابی کی راہ ہے۔ مولانا محمد عمار صاحب نے اپنے بیان میں جہاد کے خلاف پھیلائے جانے والے بعض مشہور خاص وعام وساوس سے پردہ ہٹایا اور بتایا کہ کس طرح آج کل جہاد سے دور کرنے کے لیے باطل پرست اورجاہل لوگ غلط تاویلات اور تحریفات کا سہارا لے کر مسلمانوں کے اندر گھسنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، اس لیے ضرورت ہے کہ مسلمانوں تک جہاد کی صحیح تعلیم پہنچائی جائے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسے افراد میدان میں اتریں جو صحیح علم کے ساتھ ساتھ جذبہ جہاد سے بھی سرشار ہوں اور یہ بھی واضح فرمایا کہ مدرسہ تعلیم القرآن درحقیقت اسی راستے پر چلتا ہوا،اُمت کو ایسے ہی جامع الصفات علماء دینے کے لیے محنت کررہا ہے۔  

پہلی نشست کا دورانیہ 1بجے ختم ہوا، اس کے بعد کھانے اورنماز کا وقفہ کیا گیا جس کا دورانیہ ایک گھنٹے پر مشتمل تھا۔ 2بجے ظہر کی نماز پڑھی گئی اور نماز کے متصل بعد دوسری نشست کا آغاز ہوگیا۔ اس مجلس کی نقابت راقم الحروف کے ذمہ تھی۔ اس مجلس کا آغاز بھی حسب روایت تلاوت کلام پاک سے ہوا اور جہادی نظم طالب علم محمد عمار نے پیش کی اوربیان کے لیے شعبہ ہدایت کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد اشفاق صاحب کو دعوت دی گئی، انہوں نے اپنے بیان میں جماعت کی تین نکاتی دعوت یعنی: کلمہ ، نماز اورجہاد فی سبیل اللہ کو تفصیل سے بیان کیا اور تمام شرکاء سے یومیہ بارہ سوبار کلمہ طیبہ کے ورد، نماز باجماعت کے اہتمام اور جہاد میں شرکت کا عزم لیااوراس دعوت کو دوسرے مسلمانوں تک پہنچانے کی ترغیب دی۔ ان کے بعد طالب علم مجیب الرحمن نے عظمتِ قرآن کے موضوع پر عربی نظم پیش کی اوراس کے متصل بعد مولانا مفتی منصوراحمد صاحب بیان کے لیے تشریف لائے، انہوں نے اولاً قرآن کریم کی عظمت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا اور پھر فرمایا کہ قرآن کے ہم پر تین بڑے حقوق ہیں اوروہ یہ کہ قرآن کریم کے الفاظ کو درست پڑھا جائے، اس کے معانی کو سیکھا جائے اوراس پر عمل کیا جائے، جو شخص قرآن کریم کے یہ حقوق اداء کرتا ہے تو قرآن کریم اس کو عظمت عطاء کردیتا ہے۔ ان کے بعد راقم الحروف نے مختصر طور پر مدرسہ کے بارہ سالہ تعلیمی دورانیہ کی مختصر کارگزاری پیش کی اور مدرسہ کے استاذ مولانا نصراللہ صاحب نے آنے والے مہمانان خصوصی کی خدمت میں سپاس نامہ پیش کیا۔ اس کے بعد حضرت مفتی عبدالروف اصغرصاحب کے دست اقدس سے مدرسہ کے بائیس حفاظ طلبہ کی دستاربندی ہوئی اور مفتی منصوراحمد صاحب کے دست اقدس سے درجہ کتب کے پوزیشن ہولڈرطلبہ نے انعام وصول کیا۔

آخر میں حضرت مفتی عبدالروف اصغرصاحب نے نہایت ہی پُرسوز، ولولہ انگیز، جذبات خیر اور پُراثر خطاب فرمایا، جس میں اولاً حفاظ طلبہ اوران کے والدین کو اس سعادت پر مبارک باد پیش کی اور پھرقرآن کی عظمت کو بیان کیا، قرآن کی عظمت پر ڈاکہ ڈالنے کے کردار سے بھی پردہ اٹھایا،اورواضح کیا کہ اس وقت حاملینِ قرآن پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ؟ اورانہیں ان ذمہ داریوں سے کس طرح عہدہ برآ ہونا ہوگا؟انہوں نے بتایا کہ حاملین قرآن طلبہ کے لیے اس دور میں مکروفریب کی دنیا ٹی وی وغیرہ پر آنا کوئی کمال نہیں بلکہ مولانا عطاء اللہ فقیر شہید کی طرح میدان عمل میں اتر کر جان کی بازی لگانا کمال ہے اور فرمایا کہ یہ مدرسہ بہت عظیم نسبتوں کا حامل ہے یہاں سے جیسے آج حفاظ کے دستے تیار ہورہے ہیں اسی طرح یہاں سے اسلام کے جانثاروں کے قافلے بھی رواں دواں رہتے ہیں اوران شاء اللہ ہمارے جانثاروں کے یہ قافلے ہر اسلام دشمن طاقت کو سبق سکھاتے رہیں گے چاہے وہ ہندوستانی مسلمانوں کا قاتل نریندر مودی ہویا بہن عافیہ صدیقی پر ظلم ڈھانے والا امریکہ ہو، ہم اللہ تعالی سے دعاء مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں ان ظالموں سے اپنے مظلوم مسلمانوں کا بدلہ لینے کی توفیق عطاء فرمائے اور جب اللہ تعالی کی مدد شامل ہوگئی تو کسی کا کوئی بھی دفاعی نظام رکاوٹ نہیں بن سکے گا ۔ ان شاء اللہ

حضرت مفتی صاحب نے بیان کے آخر میں کچھ دیر کے لیے ذکر کی مجلس بھی کرائی اورپھر ان کی دعاء کے ساتھ یہ دوسری نشست بھی خیروخوبی کے ساتھ اختتام کو پہنچ گئی۔ نماز عصر کے بعد تیسری نشست کا آغاز ہوا جس میں مدرسہ کے طلبہ نے مختلف ہم نصابی تعلیمی وتربیتی سرگرمیوں پر مشتمل ایمان افروز مظاہرے پیش کیے جس پر تمام شرکاء اجتماع نعرہ ہائے تکبیر بلند کرتے رہے اوریوں مغرب کے وقت تک یہ پرنورایمان افروز اجتماع اختتام پذیر ہوگیا۔

بالاکوٹ کے اجتماع سے فراغت پاکر مولانا محمد خادم قاسمی صاحب کی معیت میں اسی شام اسلام آباد واپسی ہوئی کیوں کہ اگلے دن جمعہ کی صبح کو مرکز الجمیل الاسلامی کے حفاظ طلبہ اور متخصصین علماء کی دستاربندی کی تقریب میں شرکت کرنا تھی۔ مرکز الجمیل الاسلامی بھی جماعت کے زیرانتظام اورامیرالمجاہدین مولانا محمد مسعود ازہرحفظہ اللہ تعالی کی توجہات اوردعاوں سے چلنے والے اہم مدارس میں سے ایک ہے، اس مدرسہ کے مہتمم حضرت مفتی منصوراحمدصاحب ہیں جو اپنے علمی ذوق اور انتظامی لگن کے ساتھ اسلام آباد کی چکاچوند آبادی سے دور ایک ویرانے میں نہایت ہی حسن وخوبی کے ساتھ چلارہے ہیں۔ اس وقت مدرسہ میں ایک سالہ تخصص فی الافتاء نصاب کے علاوہ درجہ حفظ اور درجہ کتب کے درجات خامسہ تک تعلیمی نصاب پڑھائے جارہے ہیں۔ اس سال دس متخصصین علماء کے علاوہ اٹھارہ حفاظ طلبہ کی دستاربندی ہوئی۔ اس مجلس کے مہمان خصوصی حضرت مفتی عبدالروف اصغرصاحب اور مولانا ابوجندل حسان صاحب تھے جبکہ ان کے علاوہ دیگر جماعتی ذمہ داران میں سے مولانا طلحہ السیف صاحب ، مولانا محمد خادم قاسمی صاحب، مولانا محمد اشفاق صاحب، اوربھائی ابوہریرہ صاحب بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اکابرحضرات کے بیانات سے قبل مدرسہ کے طلبہ کے مختلف تعلیمی سرگرمیوں اور علمی صلاحیتوں کا مظاہرہ پیش کیا جس میں ایک طالب علم نے مدارس کی خدمات کے حوالے سے عربی میں تقریرپیش کی ، ایک طالب علم نے نبی کریمﷺ کی چالیس احادیث مبارکہ مع اردو ترجمہ سنائیں، قاری محمد آصف ترابی صاحب نے جماعت کا ترانہ خوبصورت انداز میں پیش کیا۔بعدازاں مہمان حضرات کے بیانات ہوئے۔یاد رہے کہ اس موقع پر مدرسہ میں خوبصورت علمی اورترغیبی بینرز بھی آویزاں تھے اور جامعہ کے باہر دوردورتک خوبصورت دعوتی وال چاکنگ بھی کی گئی تھی جس سے ہر آنے والے کو خوش آمدید کے ساتھ دعوت شرکت بھی مل رہی تھی۔

آخر میں حضرت مفتی عبدالروف اصغر صاحب، مولانا طلحہ السیف صاحب اور مولانا محمداشفاق صاحب ہاتھوں سے متخصصین اورحفاظ طلبہ کی دستار بندی ہوئی ، مدیرجامعہ مفتی منصوراحمد صاحب نے کلمات تشکر کہے اور نماز جمعہ کے اعلان پر یہ اجتماع اختتام پذیر ہوگیا ۔

فالحمد للہ رب العالمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online