Bismillah

660

۱۰تا۱۶محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۲۱تا۲۷ستمبر۲۰۱۸ء

مسجد اقصیٰ کے بارے میں 40اَہم معلومات(آخری قسط) (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 628 - Mudassir Jamal Taunsavi - Masjid e Aqsa k Bare mein

مسجد اقصیٰ کے بارے میں 40اَہم معلومات(آخری قسط)

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 628)

اور یہاں سے ایمان و علم کی کفر و شرک اور جہالت و ضلالت پھیلانے لگے۔ تب سلطان نور الدین زنگی اور سلطان صلاح ا لدین ایوبی رحمہما اللہ تعالیٰ جیسے مسلمان مجاہدین اُٹھے اورانہوں نے 91سالہ محنت کے بعد اس مبارک سرزمین کو آزاد کرایا ۔ پھر تقریبا چھ صدیوں تک اسلام کے زیر سایہ رہنے کے بعد جب مسلمانوں کی خلافت کمزور ہوئی تو دوبارہ یہ مبارک سرزمین صلیبیوں کے قبضے میں چلی گئی اور انہوں نے وہاں اسرائیل کے نام سے ایک ملک بھی بنالیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ بہت جلد دوبارہ اہل اسلام کے ہاتھوں اس جگہ کو آزاد کرائے۔ آمین

(۳۰)مسجد اقصیٰ کو جب سنہ ۱۳۸۷ھ مطابق۱۹۶۷ء میں یہودیوں نے ہتھیایا تو انہوں نے سب سے پہلے دیوارِ براق پر قبضہ جمایا اور وہاں کا نقشہ و نگار تبدیل کردیا اور وہاں کے رہنے والے سب مسلمانوں کو وہاں سے بھگا دیاگیا۔ دیواربراق اوراس کے آس پاس مسلمانوں کی جو یادگار چیزیں انہوں نے ختم کیں اس میں چار جا معات، ایک مدرسہ افضلیہ تھا اور بھی متعدد اسلامی اوقاف تھے اور اس سب کا مقصد یہ تھا کہ یہاں موجود تمام اسلامی اوقاف اور یادگاروں کا نام و نشان مٹا دیاجائے اور پھر اس پر اپنے حق کا جھوٹا دعویٰ کھڑا کیاجائے۔ 

(۳۱) مسجد اقصیٰ کے بارے میں ایک اہم اور دلدوز بات یہ ہے کہ یہودیوں نے اِسے گرانے اور اس کی جگہ اپنا مزعومہ ہیکل بنانے کے لیے کئی منصوبے بنا رکھے ہیں۔ یہ وہ بات ہے کہ جس پر اس وقت کے تقریبا سب ہی یہودی اوران کی سب ہی سیاسی جماعتیں اوران کے سب ہی سرپرست متفق ہیں۔

(۳۲)مسجد اقصیٰ کو گرانے کے لیے یہودی قابضین وقتا فوقتا مختلف چھوٹے بڑے حربے اختیا ر کرتے رہتے ہیں۔ حتی کہ اسی کی پیش بندی کے لیے اب تک وہ فلسطین اور خاص کر بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے آس پاس میں کئی سڑکوںاور گراؤنڈز وغیرہ کے اسلامی شناخت والے نام بھی تبدیل کرچکے ہیں۔ چنانچہ جس جگہ مسجد اقصیٰ قائم ہے اس جگہ کا نام انہوں نے ’’جبل ہیکل‘‘ یعنی ہیکل کا پہاڑ رکھ دیا ہے جب کہ اس سے پہلے یہ پہاڑی جگہ ’’جبل بیت المقد س یا جبل مسجد اقصی‘‘ کے نام سے جانی پہچانی جاتی رہی ہے۔ یہ سب اس لیے ہے تاکہ اس مبارک مسجد سے ہر قسم کی اسلامی شناخت ختم کی جائے۔ لیکن ان کی یہ مذموم کاوشیں بالآخرناکام ہوں گی۔ ان شاء اللہ

(۳۳)مسجداقصیٰ کے بارے میں یہودیوں کا گمان یہ ہے کہ یہ مسجد ، اُن کے مزعومہ عبادت گاہ ہیکل کی جگہ پر بنائی گئی ہے۔ اسی بنیاد پر اپنے حق کی واپسی کے لیے دنیا میں ڈھنڈورا پیٹتے اوراپنی مدد کے لیے پکارتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ نہ تو تاریخی حقائق کو جھٹلانے سے گریز کرتے ہیں اور نہ ہی تورات جیسی مقدس کتاب میں تحریک کرنے سے کتراتے ہیں اور جو قوم اپنے مذموم مقاصد کے لیے آسمانی کتاب کو بدلنے اورا س میں تحریف کرنے سے نہ کتراتی ہو، اس سے بھلا دیگر حقائق میں سچ کی کیا توقع رکھنا؟؟

(۳۴)مسجد اقصیٰ یہودیوں کا عبادت خانہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ شروع سے ہی امت مسلمہ کی مسجد رہی ہے۔ حضرت سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اس مسجد کی جو تعمیر کرائی تھی، وہ یہود کے مزعومہ ہیکل کی تعمیر نہیں تھی، بلکہ یہ خود حضرت سلیمان علیہ السلام سے بھی پہلے سے موجود مسجد کی تجدیداور تعمیر نو تھی، کیوں کہ یہ مسجد زمین پر بننے والے دوسری مسجد ہے۔

 چنانچہ حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت سلیمان علیہم السلام نے اس مسجد کی جو بھی تعمیر کی وہ درحقیقت نئی تعمیر نہیں تھی بلکہ تجدید تھی جس طرح کہ اُمت مسلمہ محمدیہ نے حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اس کو فتح کرنے کے بعد اس کی تجدیداور تعمیر نو کی۔

(۳۵)مسجد اقصیٰ ان شاء اللہ ضرور بالضرور امت مسلمہ محمدیہ کے پاس دوبارہ لوٹ کر آئے گی، اور اس پر قابض یہودیوں سے قتال بھی ہوگا اور مسلمان مجاہدین، یہودیوں کے سردار دَجّال اور خود یہودیوں کا کام تمام کریں گے،اور پھر یہ وہ وقت ہوگا کہ پوری انسانیت یہودیوں کے شر وفسادسے نجات پائے گی۔

صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

قیامت تب تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ مسلمان یہودیوں سے قتال نہ کرلیں، چنانچہ مسلمان، یہودیوں سے قتال کریں گے، یہاں تک کہ یہودی درخت اورپتھر کے پیچھے جاچھپیں گے(مگر انہیں وہاں بھی پناہ نہیں ملے گی)، بلکہ درخت یا پتھر بول اُٹھیں گے کہ: اے مسلم! اے اللہ کے بندے! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہے، آؤ اور اسے مار ڈالو، سوائے غرقد درخت کے کہ وہ نہیں بولے گا کیوں کہ وہ یہودیوں کا درخت ہے۔

(۳۶)مسجد اقصیٰ کی شان اور عزت کی تکمیل اور عروج کسی اور طرح ممکن ہی نہیں۔ بلکہ اُسے یہ سب کچھ اسی دین اسلام اور اس اسلام کے ماننے والوں کے ذریعے ہی ملے گا جو اللہ تعالیٰ کی توحید کا صحیح اقرار کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فرائض کا بجا لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بچتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے اس مبارک سرزمین کو اسلام کے ساتھ جوڑا ہے اور یہی اس کی اصل اور پہچان ہے، اور اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت کا وعدہ جڑا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اِرشادِ گرامی ہے:

اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جواس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے ۔ (سورۃ النور:۵۵)

(۳۷)مسجدِ اقصیٰ اور مسئلۂ فلسطین، فقط اہل فلسطین کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اسلامی مسئلہ اور اسلامی قضیہ ہے اور جب سے اس کی چابیاں حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سپرد کی گئیں تب سے دُنیا کے تمام مسلمانوں کا حق اِس سے جڑا ہوا ہے، اور یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے صلیبی یلغار کے وقت اپنے جان و مال کی قربانی دے کر اس کی حفاظت بھی کی اور اس کو آزاد بھی کرایا، چنانچہ ایک اسلامی اوقاف کا حصہ ہے اور مسلمانوں کے سپرد کی گئی امانت ہے۔

(۳۸)مسجد اقصیٰ مسلمانوں کی ہی ہے، چاہے اس پر اَغیار کا قبضہ تھوڑے وقت کے لیے رہے یا زیادہ وقت کے لیے۔ انجام کار یہ حق متقین و مسلمین کا ہی ہے، اور اگرچہ آج اس پریہودی قابض ہے مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے بہر حال یہ اہل اسلام اور اہل ایمان کے پاس ہی لوٹ کر آئے گی۔ اللہ تعالیٰ یہ سرزمین اس امت کا حق بنائی ہے جس کے سب سے مقدس دین اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے مقبول دین ہے، اور یہ امت محمدیہ ہی ہے جسے نبی آخر الزمان خاتم النبیینﷺ کی بدولت یہ نعمت نصیب ہوئی ہے۔ رومیوں اور صلیبیوں کی یلغار اور مسجد اقصی کی بے حرمتیوں کے وقت یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے اس کے لیے اپنے جان و مال کو فدا کیا، اگر یہ یہودیوں کا حق ہے توپھر تاریخ کے ہر مشکل دور میں یہ یہودی کہاں غائب ہوجاتے ہیں؟ اور کیوں کر ایسا ہوا کہ ہر مشکل وقت میں امت مسلمہ نے ہی اس مقدس مقام کی پہرے داری کی اوراس کے آداب و حرمات کو ملحوظ رکھا!!

(۳۹)مسجد اقصیٰ اہل اسلام کی ہے، اس پر تاریخ بھی گواہ ہے اور زمینی و آسمانی حقائق بھی۔ یہ سرزمین اسلامی امانت ہے اور کسی بھی صورت یہ جائز نہیں ہے کہ یہ مقدس سرزمین اس بدبخت قوم کے حوالے کردی جائے جو انبیاء کرام علیہم السلام کی قاتل ہے ۔ اس لیے مسلمانوں کا یہ عہد ہے کہ اس کا ایک چپے سے بھی اپنے سے دستبرداری نہیں کی جائے گی اور نہ ہی کوئی ایسا عہد و پیمان قبول کیاجائے گا کہ یہودی اس مقدس سرزمین کے رئیس اور اہل اسلام کے سردار قرار پائیں!!

(۴۰)مسجد اقصیٰ مسلمانوں کو دینی و مذہبی میراث ہے، اس لیے اس کی امامت بھی مسلمانوں کے ہاتھ میں ہونی چاہیے، نبی کریمﷺ کی ترغیبات بھی اس پر موجودہیں اور آپﷺ نے صحابہ کرام کے دلوں میں اس کی محبت پیوست کی اور انہیں بیت المقدس فتح ہونے کی بشارت بھی عنایت فرمائی ۔یہ سب کچھ اسی حقیقت کا اظہار ہے کہ یہ مسجد اور یہ مبارک سرزمین مسلمانوں کی دینی و مذہبی میراث ہے۔ اس لیے مسجد اقصی اور بیت المقدس کی محبت کے چراغ ہمیشہ اہل اسلام کے دلوں میں روشن رہیں گے۔ یہی ہمارا عقیدہ ہے۔ اور دشمن کبھی مسلمانوں کے دلوں سے اس کی محبت ختم نہیں کرسکتے اور ان شاء اللہ ، قیامت تک یہ محبت باقی رہے گی کیوں کہ یہ سرزمین مسلمانوں کا ایک اہم ٹھکانہ اور طائفہ منصورہ کا مرکز ہے اور دنیا ماضی میں بھی اس کے مناظر دیکھ چکی ہے اور مستقبل میں بھی یہ حقیقت پوری ہو کررہے گی اور دنیا اس کا مشاہدہ کرکے رہی گی۔ ان شاء اللہ

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online