Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

گلے کی ہڈی (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 629 - Mudassir Jamal Taunsavi - Gale ki Haddi

گلے کی ہڈی

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 629)

ہر خطے کی اپنی سیاست اور اپنی ترجیحات ہوتی ہیں مگر یہاں حیرت انگیزبات یہ ہے کہ وہ دور دراز بیٹھا امریکہ ہو، برطانیہ ہو، اسرائیل ہو یا روس وغیرہ سب اِس خطے کی صورت حال میں دخل اندازی کیے ہوئے ہیں اور مسلسل کیے جارہے ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ ماضی میں ان کے کئی مفادات پاکستان سے وابستہ رہے اور اب بھی کچھ نہ کچھ باقی ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی اصل ہمدردی کبھی بھی پاکستان کے ساتھ نہیں رہی، بلکہ اس کے برعکس بھارت سے مفاداتی تعلق بظاہررکھا گیا مگر ان کے ساتھ ہمدردی کا تعلق کل بھی زیادہ تھا اور آج بھی زیادہ ہے۔

اب ایک ایسے موڑ پر جب کہ اس خطے میں امریکہ سے زیادہ بھارت کے مفادات اہم ہوچکے ہیں ، امریکہ اور بھارت کے بہی خواہ اس کوشش میں ہیں کہ پاکستان کو جس قدر ہوسکے دبایا جائے اور اس کے گرد اس کے مخالف دشمنوں کا گھیراؤ اس قدر قریب اور تنگ کر دیاجائے کہ پاکستان آج ایک بے بس اور مفلوج ملک بن جائے اور پھر اگلے قدم میں انڈیا اپنے دیرینہ مذموم آئیڈیل اکھنڈ بھارت کے خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے سرگرم ہونے کا راستہ ہموار ہو۔ یہ وہ صورت حال ہے جو خصوصا بھارت کی پاکستان کے خلاف کی جانے والی سازشوں سے بخوبی عیاں ہے اور کوئی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے خود کو دھوکے میں رکھنا چاہتا ہے تو الگ بات ہے۔

بھارتی منصوبے اور عالمی طاقتوں کے بہت سے مفادات کی راہ میں کوئی بڑی چیز رکاوٹ ہے تو وہ مسئلہ کشمیر اور اس کے بارے میں پاکستان کا دیرینہ موقف ہے۔ دشمن کی خواہش یہ ہے کہ اولا ً پاکستان کو اس کے موقف سے دستبردار کرایا جائے اور کشمیر سے پاکستان کا تعلق اور ناطہ باکل توڑ دیاجائے۔ اس طرح ایک طرف کشمیر کی تحریک کو بھارت پوری طرح اپنے حصار میں لے لے گا اور دوسری جانب پاکستان کو بیرونی دنیا سے خطرہ نہ ہونے کا عندیہ دے کر اسے خالی ہاتھ کرانا آسان ہوگا۔

مگر اس وقت جو چیز انڈیا اور عالمی مفادات کی راہ میں بڑی رکاوٹ اور پاکستان کے لیے مضبوطی کا سبب ہے وہ تحریک کشمیر ہے جو ان سب دشمنوں کے لیے گلے میں پھنسنے والی ہڈی بن چکی ہے اور اب یہ تحریک ایسا عروج کی طرف گامزن ہے کہ بھارت کے پاوں پھول ہوچکے ہیں اور اس کی آنکھیں باہر نکل پڑی ہیں۔

کشمیر میں مسلح جدو وجہد کے علاوہ بھی بھارت مخالف ماحول اتنا مضبوط ہے کہ گزشتہ دنوں بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر کشمیر میں حکومتی سطح پر بھارتی پرچم لہرانا بھی اس قدر مشکل امر بنا کہ صاف محسوس ہونے لگا کہ وہاں کی حکومت کے لوگ بالکل بھی حکمران نہیں بلکہ محض ایک غلاموں کا ٹولہ ہے جب کہ وہاں کے اصل حکمران وہاں کے عوام ہیں جو تحریک کشمیر کو پروان چڑھا رہے ہیں۔

نشریاتی ادارے کی ایک رپوٹ کے یہ مندرجات اس حقیقت سے پردہ اٹھانے کے لیے کافی ہیں:

’’انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی انتظامیہ نے کئی دہائیوں کے بعد یومِ جمہوریہ کی سب سے بڑی تقریب پہلی مرتبہ روایتی مقام بخشی سٹیڈیم کی بجائے سخت سکیورٹی حصار والے امر سنگھ کلب گراؤنڈ میں منعقد کی ۔ وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے تو جموں کے مولانا آزاد سٹیڈیم میں ترنگا لہرایا۔ ‘‘

یہ ترنگا لہرانا کس قدر مشکل تھا؟ اس کا جواب خود اُنہی کی زبانی سنیے:

’’کشمیر میں پولیس کے سربراہ منیر خان کے مطابق اِن تقریبات کا انعقاد ایک چیلنج تھا۔‘‘

سنا اور سمجھا کچھ آپ نے؟ یہ کسی کالعدم جماعت کا جھنڈا لہرانے کی بات نہیں ہورہی بلکہ اس مقبوضہ کشمیر کی بات ہورہی ہے جس میں انڈیا کی سات لاکھ سے زائد آرمی موجود ہے اور وہاں وہ اپنے قبضہ کے مضبوط ہونے کی دعویدار بھی ہے!!

رپورٹ کا مزید حصہ بھی دیکھئے:

’’کشمیر میں یوم جمہوریہ کی تقریبات سے ایک ہفتہ قبل سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے۔ کشمیر میں جمعرات سے فون رابطے، انٹرنیٹ اور شاہراہوں سے گزرنے پر پابندی تھی۔‘‘

اس موقع پر تحریک حریت کی کال پر جمعے کو یوم سیاہ منایا گیا اور ہڑتال کی گئی۔ تحریک حریت کے رہنماؤں، سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک کو پہلے ہی گھروں یا جیلوں میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قدر سخت سکیورٹی انتظامات اور یوم جمہوریہ کی تقریبات میں عوام کی عدم شمولیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ 70 سال بعد بھی انڈیا کے لیے کشمیر میں ترنگا لہرانا مشکل ہے۔

اس تحریک میں صرف وہاں کا پڑھا لکھا طبقہ کس قدر موثر کردار اداء کررہا ہے ؟ اس کے لیے اس رپورٹ کے یہ جملے دیکھیے:

’’حکومت نے سکول اور کالج حکام کو ہدایت دی تھی کہ وہ طلبا کی ان تقریبات میں شرکت کو یقینی بنائیں۔ تاہم اس موقع پر ایک ویڈیو وائرل ہو گئی جس میں بعض نقاب پوش نوجوانوں کے سامنے پلواما کے ایک سکول کے پرنسپل طلبا سے اپیل کر رہے تھے کہ وہ ان تقریبات میں شرکت نہ کریں۔‘‘

اور پھر یہ چشم کشاجملہ بھی دیکھیے:

’’کشمیر میں مسلح شورش سے قبل بھی انڈیا کے یوم آزادی یا یوم جمہوریہ کے موقع پر کشیدگی ہوتی تھی۔ ‘‘

اس سے واضح ہے کہ کشمیری عوام مسلح جدوجہد سے پہلے بھی بھارت سے آزادی چاہتے تھے اور مسلح تحریک بھی انہوں نے اسی مشن کے لیے شروع کی ہے ،کسی بیرونی ایجنڈے کے لیے نہیں۔ اور جو چیز اپنے مشن کے لیے شروع کی جائے اسے بھارت جارحیت کرنے والے ظالم کس طرح مٹا سکتے ہیں؟

اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ:

’’پولیس کے ایک ریٹائرڈ افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا سنہ 1990 سے قبل جب بخشی سٹیڈیم میں یومِ جمہوریہ کی تقریب منعقد ہوتی تھیں تو سکول طلبا کے علاوہ عام لوگ بھی وہاں موجود ہوتے تھے

بقیہ صفحہ ۵ پر

 لیکن تقریب ختم ہوتے ہی لوگ احتجاج کرتے اور ہند مخالف مظاہرے کرتے تھے، جس کی وجہ سے ہمارے لیے امن و امان کو قابو کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔‘‘

ایک کالم نویس ریاض ملک کا کہنا ہے کہ فوج اور طاقت کے زور پر ترنگا لہرانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

کشمیر میں انڈیا کی فتح تب ہو گی جب لوگ خود ایسی تقریبات میں دل سے شرکت کریں گے اور حکام کو اس طرح کی پابندیاں، جن کی مثال نہیں ملتی، عائد نہیں کرنا پڑیں گی۔‘‘

یہ وہ اعتراف ہے جو اپنے اور پرائے سب کو کرنا ہوگا کہ بھارت نے کشمیر پر محض قبضہ کیا ہے اور فتح کا دعویٰ کرنا تو دور کی بات ، وہ تو خود فتح سے کوسوں دور ہے اور جہاں اس کے لیے سرکاری سطح پر اپنا جھنڈا لہرنا اتنا مشکل ہو، وہاں وہ فتح کا دعویٰ کر بھی کیسے سکتاہے؟

کاش کہ یہ حقائق دنیا بھی تسلیم کر لے اور پاکستان بھی اس صورت حال کا ادراک کرے اور بھارت کی خوشنودی کی خاطر اب تک مسئلہ کشمیر پرجتنے بھی قدم پسپائی کی طرف اٹھائے گئے ہیں ان سب کی تلافی کا فیصلہ کریں۔ یہ صرف کشمیر کا مسئلہ نہیں، بلکہ خود پاکستان کی بھی بقاء و سلامتی اور تحفظ بھی اس سے جڑا ہوا ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online