Bismillah

640

۳تا۹شعبان المعظم ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۰تا۲۶اپریل۲۰۱۸ء

کشمیر کی انگڑائی (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 631 - Mudassir Jamal Taunsavi - Kashmir ki Angrai

کشمیر کی انگڑائی

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 631)

اس ہفتے کشمیر خطے سے دو ایمان افروز خبریں وصول ہوئی ہیں۔ایک میں برطانیہ کے پروردہ جھوٹے مدعی نبوت، دجال و کذاب مرزا قادیانی کے پیروکاروں کی ناکامی و رسوائی کا پیغام ہے تو دوسری خبر میں برطانیہ کے ساتھ ساز باز کرکے مسلمانوں کو تقسیم کرنے والے ہندو ؤں کی جگ ہنسائی اور ذلت و رسوائی کا سامان ہے۔

ایک خبر کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے اور دوسری خبر کا تعلق مقبوضہ جموں کشمیر سے ہے۔

ایک واقعے میں ختم نبوت کے محافظین نے تحفظ ختم نبوت کے عقیدے پر ڈاکہ ڈالنے والے قادیانیوں کو بے نقاب کیا ہے تو دوسرے واقعے میں عقیدہ ختم نبوت کے اہم پیغام جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے مشرکین کو ناکوں چنے چبوائے ہیں۔ ختم نبوت کے محافظین کو بھی خراج عقیدت اور مجاہدین کو بھی سلام محبت۔

پہلے ذکر کرتے ہیں آزاد کشمیر میں ہونے والے ایک تاریخی اقدام کا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیانی اس امت مسلمہ کے لیے ایک ناسور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ وہ بدبخت ٹولا ہے جس نے نبی کریمﷺ کی ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے کا جرم کیا ہے اور اپنے اس جرم پر ضد و عناد سے اڑے ہوئے بھی ہیں۔ یہ وہ دجال و کذاب ہیں جن کے آنے کی پیشین گوئی خود نبی کریمﷺ نے اپنی حیات مبارکہ میں فرمادی تھی اور پھر ہر دور کے مسلمانوں نے اس یاد رکھا اور جب بھی کوئی مدعی نبوت کھڑا ہو تو اسے اس کے پیروکاروں سمیت کیفرکردار تک پہنچا دیا گیا۔

اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے آزاد کشمیر کی حکومت نے بھی اہم وقت میں یہ قدم اٹھایا اور قادیانیوں مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دے کر ان کی شناخت بالکل عیاں کردی اور اب یہ کسی بھی طرح دھوکہ دھی نہیں کرسکتے اور نہ ہی کسی کو جبراڈرا دھمکاسکتے ہیں۔

قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیر نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے ، یہ بل قانون ساز اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں پاس کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق آزادجموں وکشمیرقانون ساز اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس میں آزاد جموں وکشمیر عبوری آئین 74(12 ویں ترمیمی)ایکٹ، 2018ء آج پیش کیا گیا جس کے تحت قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا بل پیش کیا گیا جوایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔مشترکہ اجلاس سپیکر شاہ غلام قادر کی زیر صدارت شروع ہوا تو وزیرقانون راجہ نثار احمد نے آزاد جموں وکشمیرعبوری آئین (12ویں ترمیم)ایکٹ 2018, پر کمیٹی آن بلز کی رپورٹ ایوان میں پیش کی اور ترمیم کا مسودہ ایوان میں شرکاء کو پڑھ کر سنایا جس کے بعد ایوان میں نئے بل پر عام بحث کا آغاز ہو ا۔نئے بل پر سب سے پہلے ممبراسمبلی پیر سید علی رضاء بخاری نے بحث کا آغاز کیااور پورے ایوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک ایسا مبارک موقع ہے کہ ایوان میں تاریخی بل منظوری کیلئے پیش کیا گیا۔انہوں نے بل پیش کرنے میں تعاون کرنے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان ،ارکان کابینہ ،ممبران اسمبلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے علماء و مشائخ و ریاست بھر کے عاشقان رسول کو مبارکباد دی۔انہوںنے کہا کہ امتناع قادیانیت کے قوانین کی منظوری سے معاشرے سے بہت بڑی برائی کے خاتمے کا موقع پیدا ہوگا اور مسلمانوں کے عقائد کو بھی تحفظ حاصل ہوگا۔پیر سید علی رضا بخاری کا مزید کہنا تھا کہ کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کے مقدر میں لکھ چکا تھا کہ تحفظ ختم نبوت کے بل کی موجودہ ایوان سے منظوری ہو اور یہ ایوان گنبد خضریٰ کے مکین سے مکمل وفاداری کا ثبوت فراہم کرے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ قانون ساز ی کے اثرات پورے خطہ پر پڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ مسلمان کو ناموس رسالت اپنی جان ،مال اور اولاد سے بڑ ھ کر عزیز ہے دفاع ختم نبوت کیلئے جس نے بھی جب جب قربانی پیش کی اللہ تعالیٰ نے اسے امر بنا دیا اور موجودہ ایوان کے ممبران بھی تاریخ کے اوراق میں امر ہو جائیں گے انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ کا خصوصی شکر ،کرم نوازی اور فضل ہے کہ قرارداد ختم نبوت حتمی قانون بنانے میں ہمیں اپنا حصہ ڈالنے کا موقع دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس موقع پر حکومت آزاد کشمیر کو اس کام کے لئے جتنا بھی سراہا جائے وہ کم ہے کیونکہ اس اقدام کے بعد سے پوری ریاست کی عوام خوشی محسوس کررہی ہے اور اس سے اس خطے کے مستقبل پر بھی اچھی تبدیلی کے امکانات قوی تر ہوگئے ہیں۔

٭…٭…٭

دوسری جانب مقبوضہ جموں وکشمیر کے علاقہ سنجوان میں بھارتی فوج کے ٹھکانے پر مجاہدین کے منظم اور حیران کن حملے نے پورے بھارت کو رسوا کردیا ہے جس پر بھارتی فوج، اور بھارتی سرکار خاص کر تلملا اُٹھے ہیں اور انہیں اب کچھ بھی سجھائی نہیں دے رہا۔ مجاہدین کو ختم کرنے کا دعویٰ لے کر آنے والا مودی ، اب ہر طرف سے گھیراؤ میں آرہا ہے اور ہر طرف سے اس پر ناکامی ناکامی کے نعروں کی بوچھاڑ کی جارہی ہے ۔ کشمیر میں اس وقت مجاہدین کی پئے درپئے چھوٹی بڑی کئی کارروائیاں جاری ہیں اور بھارتی فوج ان حملوں سے کس قدر بوکھلا چکی ہے! اس کا اندازہ اس خبر سے لگائیے کہ سنجوان کارروائی کے بعد اکھنور ہائی پر بھارتی فوج کے دھومنا کیمپ پر مجاہدین نے حملہ کرکے بھارتی فوج کی بیرونی پوسٹوں کو نشانہ بنادیا اور پھر وہاں سے بحفاظت نکلنے میں بھی کامیاب ہوگئے۔

بھارتی فوج کے مطابق 2 موٹر سائیکلوں پر مسلح جنگجو 4:30 پر بھارتی فوج کے کیمپ کے مین گیٹ پر آئے اور پوسٹوں پر اندھا دھند فائرنگ کی اس سے پہلے کہ بھارتی فوج سنبھل پائے حریت پسند وہاں سے نکل گئے جس کے بعد بھارتی فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا اور اس حملے کی تحقیقات جاری ہیں ۔ دوسری جانب سنجواں کیمپ میں بھارتی فوج کا سرچ اینڈ کلیرنس اپریشن جاری ہے ۔

بھارتی فوج اتنی حواس باختہ ہوگئی ہے کہ جس علاقے میں سرچ آپریشن کرنا ہوتا ہے اس علاقے پرپہلے مارٹر شلنگ اور گولیاں فائر کرتی ہے پھر آگے بڑھتی ہے۔

انہی دنوں میں مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر کے علاقے کرنا نگر میں بھی دو روز سے بھارتی فوج اور مجاہدین کے درمیان معرکہ جاری رہا،جس میں بھارتی فورسز کے دو اہلکار مارے جانے کی خبر موصول ہوئی تھیں۔

بھارت سرکار کو اب سمجھ لینا چاہیے کہ کشمیر پر اس کا ناجائز قبضہ زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکتا اور اب کشمیری خود اس تحریک کو اس رُخ پر لے جانے کی پوزیشن میں آنے کا فیصلہ کرچکے ہیں

 کہ اس کے بعد بھارت کے لیے وہاں رہنا ناممکن ہوجائے گا۔چنانچہ ایک رپورٹ کے یہ اعداد وشمار دیکھئے:

’’مقبوضہ کشمیر میں پچھلے تین سالوں میں 280مقامی نوجوان مجاہدین کی صفوں میں شامل ہوئے ۔کشمیری میڈیا کے مطابق مجاہد بننے والے نوجوانوں میں اکثریت پڑھے لکھے نوجوانوں کی ہے۔ 2015میں 66، 2016میں 88اور 2017میں 126نوجوان گن اُٹھا کر مجاہدین کی صفوں کا حصہ بنے ۔ ‘‘

یہ صورت حال کا بہت ہی کم اظہار ہے۔ ورنہ افضل گوروشہید اور برہان وانی شہید کی شہادت کے بعد کشمیری قوم نے اپنا نصب العین بڑی وضاحت سے سامنے رکھ کر اس منزل کی طرف سفر شروع کردیا ہے اور اس میں کشمیر کا پڑھا لکھا طبقہ پوری دانائی اور بصیرت سے شریک ہے جس نے تحریک کو بام عروج پر پہنچا دیا ہے جس کی وجہ سے بھارت سرکار سکتے میں آچکی ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online