Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

مہاجرین برماکے خدمت گار (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 632 - Mudassir Jamal Taunsavi - Muhajirin Barma  k Khidmiatgar

مہاجرین برماکے خدمت گار

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 632)

ایک حقیقت یہ ہے کہ برماکے مسلمانوں پر ہونے والے ہولناک مظالم پر کچھ زیادہ وقت بالکل بھی نہیں گزرا اور شاید یہ بھی حقیقت ہوگی کہ اس وقت بہت سے مسلمانوں کے ذہنوں سے ان کے تمام مسائل اور مشکلات کا احساس نکل ہوچکا ہے اور اس دوران بہت سے ایسے واقعات نے ہماری قوم کے ذہنوں کو جکڑلیا ہے جن میں سے اکثر بہت ہی فضول نوعیت کے ہیں اوران کی کوئی حیثیت اور قدر و قیمت نہیں ہے، مگر پھر بھی شاید وہ قوتیں کامیاب ہوئیں جو اس کوشش میں ہیں کہ مسلمانوں کو ان کے حقیقی مسائل کا ادراک نہ ہونے دیاجائے اور اگر کبھی کسی جگہ مسلمانوں کے مسائل اس قدر ابھر کرسامنے آجائیں کہ انہیں چھپانا ممکن نہ رہے تو عارضی طور پر انہیں ہائی لائٹ کردیاجائے اور پھر کچھ ہی وقت گزرنے پر دیگر فضول نوعیت کے مسائل کو ہائی لائٹ کردیاجائے جس کے نتیجے میں مسلمانوں کے مسائل خود ہی دب جائیں گے اور پھر کسی کو یاد نہیں رہے گا کہ لاکھوں مہاجرین کہاں گئے؟

ان لاکھوں مہاجرین کو کوئی ٹھکانہ ملا یا نہیں؟

ان لاکھوں مہاجرین کے شب و روز کی ضروریات کا کوئی انتظام ہوا یا نہیں؟

ان لاکھوں مہاجرین کے دین و ایمان کی سلامتی کا کوئی بندو بست ہوا یا نہیں؟

ان لاکھوں مہاجرین کے بچوں کے لیے مکاتب قائم ہوپائے ہیںیا نہیں؟

ان لاکھوں مہاجرین کی تعلیم و تربیت کے لیے کوئی انتظام ہوسکا ہے یا نہیں؟

یہ اوراس قسم کے درجنوں مسائل ہیں جو کچھ وقت گزرتے ہی ہمارے ذہنوں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔

یاد رہے کہ برمی مہاجرین کی تعداد لاکھوں میں ہے اور یہ برمی مہاجرین اس وقت دنیا کے کن ممالک میں پناہ لیے ہوئے ہے؟ اس بارے میں ایک جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے نے اس حوالے سے یہ رپورٹ پیش کی ہے جو من و عن ملاحظہ کیجیے:

میانمار

اعداد وشمار کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کی بنگلہ دیش کی طرف حالیہ ہجرت سے قبل میانمار (برما) کے مغربی صوبے راھین میں روہنگیا مسلمانوں کی آبادی تقریباً دس لاکھ تھی۔ میانمار میں انہیں غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر مانا جاتا ہے۔

بنگلہ دیش

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے مطابق پانچ لاکھ سے زائد روہنگیا اپنی جان بچانے کے لیے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہیکہ مہاجرین کی تعداد اور ضروریات کے تناظر میں بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھاری امداد کی ضرورت ہے۔

پاکستان

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے انتہائی پسماندہ علاقوں اور بستیوں میں قریب تین لاکھ روہنگیا باشندے رہائش پذیر ہیں۔ یہ وہ باشندے ہیں جن میں سے بہت سے قریب نصف صدی قبل سابق برما اور موجودہ میانمار میں ہونے والی خونریزی سے بچتے بچاتے پاکستان پہنچے تھے۔

سعودی عرب

ساٹھ کی دہائی میں سعودی فرمانروا شاہ فیصل کے دورِ ِ اقتدار میں ہزاروں روہنگیا مسلمان برما (جو اب میانمار ہو چکا ہے) کے مغربی صوبے ارکان سے ہجرت کر کے سعودی شہر مکہ پہنچے تھے۔ حال ہی میں ریاض حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر پندرہ ملین ڈالر کی امداد روہنگیا مسلمانوں کو دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

ملائیشیا

ملائیشیا کی حکومت کے مطابق راکھین ریاست میں شورش کی وجہ سے ہزاروں روہنگیا افراد ہمسایہ ممالک میں فرار ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں جن میں سے ایک لاکھ سے زائد اس مسلم اکثریتی ملک میں بھی پہنچ چکے ہیں۔

بھارت

میانمار کی روہنگیا اقلیت کئی برسوں سے ہجرت کر کے بھارت کا رخ کرتی رہی ہے۔ بھارت میں اقوام متحدہ کی جانب سے قائم کردہ مہاجر کیمپوں میں سولہ ہزار سے زائد روہنگیا رہ رہ رہے ہیں تاہم ایک اندازے کے مطابق بھارت میں کم و بیش چالیس ہزار روہنگیا مہاجرین مقیم ہیں۔

تھائی لینڈ

تھائی لینڈ میں بھی روہنگیا مسلمان اچھی خاصی تعداد میں مہاجر کیمپوں میں مقیم ہیں۔ یہ روہنگیا افراد بھی میانمار سے ہجرت کر کے تھائی لینڈ پہنچے تھے۔

اتنے ممالک میں پھیلے، یہ پناہ گزین جو اکثر خیموں اور مہاجر کیمپوں کی تنگ زندگی تک محدود کردیئے جاتے ہیں، آخر سوچیے کہ انہیں وہاں اپنی زندگی آگے بڑھانے کے لیے کیا کچھ ضرورت نہ ہوتی ہوگی!!

جب کہ لکھنے والوں نے یہاں تک لکھا ہے کہ عہد حاضر میں روہنگیا مسلمانوں کو دنیا کی مظلوم ترین اقلیت قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ میانمار حکومت انہیں بنگلہ دیشی قرار دیتی ہے اور بنگلہ دیش حکومت یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ماضی میں بھی روہنگیا پر مظالم کا سلسلہ جاری رہا، انہیں بے دردی سے قتل کیا گیا، ان کے گھر اور مساجد نذر آتش کردی گئیں۔ تاہم روہنگیا کے لئے آلام کا بدترین سلسلہ 1962ء سے 2010ء تک کے مارشل لا کے دوران شروع ہوا۔ اسی دوران ان کیخلاف درجنوں کریک ڈائون کئے گئے۔ مارشل لا میں ہی ایک قانون کے تحت انہیں میانمار کا شہری تسلیم کرنے سے انکار کردیا گیا، جس کے تحت نہ وہ تعلیم حاصل کرسکتے ہیں نہ سرکاری ملازمت۔ 2012ء میں دنیا ان مظالم سے باخبر ہوئی جب بدھ بھکشوئوں اور میانمار آرمی نے سینکڑوں مردوں، عورتوں اور بچوں تک کو گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈالا یا زندہ جلا دیا۔ مسلم دنیا میں تو ہلچل ہوئی لیکن مغرب خاموش رہا۔ 2017ء میںاپنے فوجیوں پر حملے کا الزام لگا کر میانمار حکومت نے روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کردی۔ لندن کی کوئین میری یونیورسٹی کے کچھ محققوں نے رپورٹ پیش کی کہ میانمار حکومت کی زیر سرپرستی روہنگیا مسلمانوں کی باضابطہ نسل کشی آخری مراحل میں ہے۔ میانمار حکومت نے اسے داخلی معاملہ قرار دے کر میڈیا کو بھی رسائی نہ دی۔ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی طرف ہجرت پر مجبور ہوئے جہاں وہ کیمپوں میں جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

بس اسی سلسلے میں کچھ عرصہ قبل جب برمی مہاجرین کا یہ المیہ عروج پر تھا، الرحمت نے امیر المجاہدین حضرت مولانا محمدمسعودازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کے زیر امارت و زیر توجہات ان مہاجرین کی بحالی کے لیے ایک مہم شروع کی تھی اور اب اس رفاہی کام کی کارگزاری دیکھ کر دل سے یہ دعاء نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء فرمائے اپنے ان مقبول و محبوب بندوں کو جو شب وروز بدلتے حالات اور بے وقعت واقعات سے متاثر ہونے کے بجائے امت مسلمہ کے اصل مسائل پر اپنی سوچ ، اپنی فکر اور اپنی کوششیں مرکوز کرتے ہیں اور پھر نہایت ہی یکسوئی ، دل جمعی اور خاموشی سے ان مسائل کے حل پر متوجہ ہوجاتے ہیں اور دیگر اہل خیر مسلمانوں کو بھی فضول اور بے فائدہ اور ضرورت سے زیادہ تشہیر سے اجتناب کرتے ہوئے اس مہم کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔

ایسا ہی کچھ یہاں ہوا کہ اللہ کے بعض نیک بندے برمی مہاجرین کی خدمت کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے مشکل اور پیچیدہ حالات میں اپنے کام کے لیے راستے تلاش کیے، اور ان کی خدمت کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔

اس سلسلے میں بنگلہ دیش میں موجود برمی مہاجرین کو فوری طور پر موسمی ضروریات کے ماتحت درج ذیل اشیاء فراہم کی گئیں:

 کمبل سردی سے بچاؤ کے لیے

یہ کمبل 282گھرانوں کے افراد میں تقسیم کیے گئے ہیں۔

گیس کے چولہے، کھانے پکانے کے لیے گیس کے سلنڈر

کھانے پکانے کا انسان ہر دن محتاج ہے، اور ایک مہاجر جس کا سب کچھ چھین اور لوٹ کر انہیں اپنے علاقے سے دربدر کر دیاگیاہو، وہ اس آزمائش کا کتنا شکار ہوں گے، اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ پھر خاص کر سردیوں کا موسم سر پر تھا تو اس صورت میںان چیزوں کی ضرورت بہت زیادہ بڑھ گئی تھی کیوں کہ کھاناپینا تو ایسی ضرورت ہے جو گھر کے ہرفرد کو پیش آتی ہے۔ بڑے افراد تو پھر دو تین وقت کا فاقہ برداشت کر سکتے ہیں مگر چھوٹے بچے اور بچیاں!! ان کا درد وہی سمجھ سکتے ہیں جو ان حالات میں گھرے ہوں۔ اس ضرورت کے پیش نظر 1000کی تعداد میں گیس کے سلنڈر اور چولہے بھی فراہم کیے گئے۔

خیمہ مساجد کا قیام

مسجد اللہ کا گھر ہے، مسلمانوں کی دینی و روحانی اور ایمان کی حفاظت گاہ بھی ہے اور ایمانی تربیت گاہ بھی۔ ایک مسلمان جب بھی کسی نئی جگہ آباد ہوتا ہے تو اپنی آبادی کے ساتھ اسے اللہ کے گھر کی آبادی کی بھی فکر ہوتی ہے۔ نبی کریمﷺ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرما ہوئے تو اپنے قیام سے پہلے آپ نے مسجد کی بنیاد رکھی۔ آپﷺ نے مسلمانوں کو بھی یہ حکم دیا کہ اپنے محلوں میں چاہے وہ کتنے ہی چھوٹے کیوں نہ ہوں وہاں مسجد بنایا کرو۔ اسی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان برمی مہاجرین کے لیے خیمہ اور جھگی نما مساجد کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ۔

خیمہ دینی مکاتب کا قیام

ایک مسلمان پر سب سے پہلا فرض یہ بنتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے، اس کی معرفت حاصل کرے، اس کے فرائض کا علم حاصل کرے۔ تاکہ ان فرائض کی صحیح ادائیگی کرسکے۔ اس لیے مسلمانوں کی ہر آبادی میں دینی مکاتب موجود رہے ہیں جو مسلمانوں کے بچوں اور بچیوں کو بنیادی دینی تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں۔ برمی مہاجرین کو بھی یقینا اس کی ضرورت درپیش تھی اورحالت یہ تھی کہ اپنی رہائش اور ضروریات کے لیے ہی وسائل نہ تھے تو یہ بندوبست کہاں سے کرتے؟ اس لیے الرحمت کی کاوشوں سے ان برمی مہاجرین کے لیے ان دینی مکاتب کا بھی قیام عمل میں لایاگیا۔فی الحال یہ مکاتب اور مساجد کا نظام ایک ساتھ بنایا گیا ہے۔ اس وقت ایسے 5مکاتب و مساجد کا کام ہوچکاہے اور مزید کے لیے کوشش جاری ہے۔

خیمہ لگے حمام اور استنجاخانے

جہاں لاکھوں کی آبادی کھلے میدانوں میں جمع کردی گئی ہو تو وہاں قضائے حاجات انسانی کے لیے باپردہ جگہ تلاش کرنا اور مہیا کرنا کافی مشکل ہوجاتا ہے۔ الگ الگ بنے ہوئے گھر میں تومعاملہ کافی آسان ہوتا ہے لیکن جہاں لاکھوں لوگ ایک کھلے میدان میں ایک آسمان کی چھت تلے اکٹھے موجود ہوں ، وہ یہ معاملہ کافی پیچیدہ اور مشکل ہوجاتا ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بھی الرحمت کی امدادی مہم نے وہاں چھوٹے چھوٹے خیمہ طرز پر غسل خانے اور استنجاخانے تعمیر کروائے۔

گھریلوچٹائیاں اور مچھردانیاں:

خیموں میں اور جھگیوں میں ننگی زمین پر بچھانے کے لیے چٹائی بھی فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے اور اسی کے ساتھ ماحول کی آلودگی کی وجہ سے مچھروں کی کثرت ہونے کے سبب یہ چیز بہت سے بیماریوں کاسبب بن رہی ہیں تو اس سلسلے میں سینکڑوں مکینوں کو مچھردانیاں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق مچھردانیوں کی تعداد2000ہے جب کہ گھرمیں بچھانے کے قابل تقسیم کی گئی چٹائیوں کی تعداد 1000ہے۔

ان تمام اخراجات پر اس وقت تک تقریباً پچھتر لاکھ کی لاگت آچکی ہے۔

جن حضرات نے اس مہم میں تعاون کیا، اور اس مہم کو آگے بڑھایا ، اللہ تعالی سب کو جزائے خیرعطاء فرمائے اور ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے صاحب خیر قارئین آئندہ بھی ایسی مہمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online