سرزمین شام اور فرامینِ نبوی (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 633 - Mudassir Jamal Taunsavi - Sar Zameen e Shaam

سرزمین شام اور فرامینِ نبوی

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 633)

اس مبارک سرزمین میں کچھ تو خاص بات ہے کہ وہاں سب کفریہ طاقتیں وقتا فوقتا اپنی زور آزمائی کرتی ہیں اور اسے ہمیشہ کمزور رکھنے کے لیے کوشاں رہتی ہیں اور دوسری جانب اس سے بھی بہت پہلے کی حقیقت یہ ہے کہ اس سرزمین کے بارے میں نبی کریمﷺ نے ایک سے زائد احادیث مبارکہ میں اس کا ذکر فرمایا ہے اور اس کے بارے میں کئی اہم معلومات ارشاد فرمائی ہیں۔

ٓآج کے کالم میں اس سرزمین کے بارے میں تاریخی یا جغرافیائی یا کسی اور کی بتلائی ہوئی باتوں اور معلومات کو چھوڑ کر ،اُن معلومات کا کچھ حصہ پڑھتے ہیں جو نبی کریمﷺ کی زبان مبارک سے اور آپ ﷺ روایت کردہ احادیث میں بیان ہوئی ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ شَامِنَا، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ یَمَنِنَا اے اللہ! ہمیں برکت عطا فرما ہمارے شام میں، ہمیں برکت دے ہمارے یمن میں۔ آپ نے یہی کلمات تین یا چار مرتبہ دوہرائے۔ (بخاری، ترمذی، مسند احمد، طبرانی)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب میں سویا ہوا تھا تو میں نے دیکھا کہ عمود الکتاب (ایمان) میرے سر کے نیچے سے کھینچا جارہا ہے۔ میں نے گمان کیا کہ اس کو اٹھا لے لیا جائے گا تو میری آنکھ نے اس کا تعاقب کیا ،اس کا قصد (ملک) شام کا تھا۔ جب جب بھی شام میں فتنے پھیلیں گے وہاں ایمان میں اضافہ ہوگا۔(مسند احمد، طبرانی حدیث صحیح ۔ مجمع الزوائد)

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے دیکھا کہ عمود الکتاب (ایمان) میرے تکیہ کے نیچے سے ہٹایا جارہا ہے، میری آنکھوں نے اس کا پیچھا کیا تو پایا کہ وہ بلند نو ر کی مانند ہے، یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ اس کو پسند کرتا ہے اور اس کو شام لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے ، تو میں نے سمجھا کہ جب جب بھی فتنے واقع ہوں گے تو شام میں ایمان مضبوط ہوگا۔ (طبرانی)

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے شب معراج میں دیکھا کہ فرشتے موتی کی طرح ایک سفید عمود اٹھائے ہوئے ہیں۔ میں نے پوچھا : تم کیا اٹھائے ہوئے ہو؟ انہوں نے کہا : یہ اسلام کا ستون ہے، ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اس کو شام میں رکھ دیں۔۔ ایک مرتبہ میں سویا ہوا تھا تو میں نے دیکھا کہ عمود الکتاب (ایمان) میرے تکیہ کے نیچے سے نکالا جارہا ہے۔ میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو زمین سے لے لیا۔ جب میری آنکھ نے اس کا تعاقب کیا تو دیکھا کہ وہ ایک بلندنور کے مانند میرے سامنے ہے، یہاں تک کہ اس کو شام میں رکھ دیا گیا۔ (طبرانی)

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر اہل شام میں فساد برپا ہوجائے تو پھر تم میں کوئی خیر نہیں ہے۔ میری امت میں ہمیشہ ایک ایسی جماعت رہے گی جس کو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوگی اور اس کو نیچا دکھانے والے کل قیامت تک اس جماعت کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں۔ (ترمذی، ابن ماجہ، طبرانی، صحیح ابن حبان)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے احکام کی پابندی کرے گی، جس کو نیچا دکھانے والے اور مخالفت کرنے والے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آنے تک وہ اللہ کے دین پر قائم رہیں گے مالک بن یخامر رضی اللہ عنہ نے کہا اے امیر الموئمنین! میں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ یہ جماعت ملک شام میں ہوگی۔ (بخاری، مسلم، طبرانی)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں ایک جماعت حق کے لیے لڑتی رہے گی اور قیامت تک حق انہیں کے ساتھ رہے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ملک شام کی طرف اشارہ کیا۔ (ابو داوئد، مسند احمد، طبرانی)

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں ایک جماعت دمشق اور بیت المقدس کے اطراف میں جہاد کرتی رہے گی۔ لیکن اس جماعت کو نیچا دکھانے والے اور اس جماعت کی مخالفت کرنے والے اس جماعت کو نقصان نہیں پہنچا پائیں گے اور قیامت تک حق انہیں کے ساتھ رہے گا۔ (رواہ ابو یعلی ورجالہ ثقات)

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قتل کرنے کے دن (یعنی جنگ میں) مسلمانوں کا خیمہ الغوطہ میں ہوگا، جو دمشق کے قریب واقع ہے۔ (مسند احمد ، ابو داوئد)

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کا خیمہ الغوطہ میں ہو گا۔ اِس جگہ دمشق نامی ایک شہر ہے، جو شام کے بہترین شہروں میں سے ایک ہے۔ (صحیح ابن حبان)

 حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھوٹے خیمہ میں موجود تھے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت مجھے قیامت کی چھ نشانیاں بتائیں:

(۱)میری موت۔

(۲)بیت المقدس کی فتح۔

(۳)میری امت میں اچانک موتوں کی کثرت۔

(۴)میری امت میں فتنہ ،جو اُن میں بہت زیادہ جگہ کرجائے گا۔

(۵)میری امت میں مال ودولت کی فراوانی کہ اگر تم کسی کو 100دینار بھی دوگے تو وہ اس پر (کم سمجھنے کی وجہ سے) ناراض ہوگا۔

(۶)تمہارے اور بنی اصفر (صیہونی طاقتوں) میں جنگ ہوگی، ان کی فوج میں 80 ٹکڑیاں ہوں گی اور ہر ٹکڑی میں 12000 فوجی ہوں گے اس دن مسلمانوں کا خیمہ الغوطہ نامی جگہ میں ہوگا، جو دمشق شہر کے قریب میں واقع ہے۔ (رواہ الطبرانی باسناد جید، بیہقی)

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شام والو! تمہارے لیے خیر اور بہتری ہو۔ شام والو! تمہارے لیے خیر اور بہتری ہو۔ شام والو! تمہارے لیے خیر اور بہتری ہو۔ صحابہء کرام نے سوال کیا : کس لیے یا رسول اللہ؟

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحمت کے فرشتوں نے خیر وبھلائی کے اپنے بازو اس ملک شام پر پھیلا رکھے ہیں (جن سے خصوصی برکتیں اس مقدس خطہ میں نازل ہوتی ہیں)۔ (ترمذی 3954، مسند احمد)

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : الشام أرض المحشر شام کی سرزمین سے ہی حشر قائم ہوگا۔ (مسند احمد، ابن ماجہ)

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دمشق کے مشرق میں سفید مینار پر ہوگا ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی)

شام کے مسلمانوں پر اس وقت جو حالات ہیں، یہ اہل ایمان کے لیے کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ آزمائش اہل ایمان پر ہی آتی ہے، اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے اس آزمائش سے سرخروہوکر اس دنیا سے جاتے ہیں۔

ہاں! ہمیں چاہئے کہ ہم ان کے لیے دعاء گور ہیں، ان کے درد کو محسوس کریں، اوراپنی دینی ذمہ داریوں کو نبھانے کی زیادہ سے زیادہ فکر کریں۔ کامیابی دین سے جڑے رہنے میں ہیں۔

٭…٭…٭