Bismillah

651

۲۷شوال المکرم تا۳ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۳تا۱۹جولائی۲۰۱۸ء

بیٹیوں کے حقوق (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 634 - Mudassir Jamal Taunsavi - Baition k huqooq

بیٹیوں کے حقوق

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 634)

اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ تمام مسلمانوں والدین کی بیٹیاں اور بیٹے اُن کے لیے نیک نامی کاسبب اور صدقہ جاریہ بنیں۔

یہ بات درست ہے کہ اس وقت ٹی وی اور انٹرنیٹ وغیرہ کی وجہ سے دنیا بھر کے کفریہ ، دھریہ اور شرکیہ رسومات اور معاشرتی و گھریلوتہذیب و ثقافت کے رنگ ڈھنگ اور پہچان وتعارف ہمارے مسلم معاشروں میں بہت عام ہوچکا ہے اوراس کے کئی مضر اثرات ہمارے معاشرے میں رونما ہورہے ہیںاور اس پورے کھیل میں ہماری نوجوان مسلمان بہنوں کو خاص کر ٹارگٹ کیا جارہا ہے اور انہیں اسلامی تعلیمات سے کاٹ کر غیراسلامی تعلیمات پر چلانے کے لیے ہر تباہ کن اور گمراہ کن راستے کو نہایت ہی خوش نما انداز سے پیش کیا جارہا ہے تاکہ گھروں میں عزت وسکون ،والدین کی خدمت اور اللہ تعالی کی عبادات میں وقت گزارنے والی بیٹیوں کو گمراہ کن راستوں کی چمک دمک دکھلا کر ان کے دل ورغلائے جائیں اور انہیں بھی انہی غلط راستوں کا شوق دیاجائے اور اب اس شوق کی رو میں نہ معلوم ہماری کتنی مسلمان بچیاں اپنے شب و روز کے بیشتر اوقات کو فضولیات اور بسا اوقات نہایت صریح حرام کاموں میں خرچ کرتی رہتی ہیں اور انہیں اس ضیاں کاری کا احساس تک نہیں ہوتا۔

ان حالات میں اولین ذمہ داری بہر حال والدین کی ہے کہ اول سے ہی اپنی اولاد اور خاص کر بیٹیوں کی اچھی تربیت اور نگہداشت پرتوجہ دیں۔ کیوں کہ دیکھایہ جارہا ہے کہ گھروں میں اولاد کی تعلیم و تربیت کا ماحوال عموما ختم ہوچکا ہے۔ جونہی بچہ کسی قابل ہوتا ہے تو اسے فورا اسکول یا ٹیوشن یا نرسریوں وغیرہ میں داخل کردیا جاتا ہے اور پھر اس بچے اور بچی کی نہ صرف تعلیم بلکہ تربیت کا بوجھ بھی انہی ادارے کے سر ڈال کر والدین بے فکر ہوجاتے ہیں۔

اسلام نے انسان کو عزت عطاء کی ہے جس میں مرد بھی شامل ہیں اور عورتیں بھی۔ اسی عزت کے پیش نظر مرد کو حکم دیاگیا کہ وہ بلاضرورت کسی نامحرم عورت کے چہرے پر نظر نہ ڈالے اور اسی طرح مسلمان عورت کو حکم دیا گیا کہ وہ بھی اپنی نظریں جھکا کر رکھے۔

ایک بات اور بھی یہاں عرض کردوں کہ بہت سے مسلمان عام زندگی میں اور لوگوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تو اس بارے میں اپنی نظروں کی کچھ حفاظت کرتے ہیں مگر اب موبائل اور لیپ ٹاپ کے ہوتے ہوئے اور انٹر نیٹ استعمال کرتے ہوئے اس اسلامی حکم کو خوب پامال کیاجاتا ہے اور افسوس کہ اس حکم عدولی کا احساس بھی نہیں ہوتا۔

اس لیے ان حالات میں والدین اپنی ذمہ داری محسوس کریں، اپنی دنیاوی مشغولیات کم کریں، گھروں اپنی بیٹیوں کی تعلیم اور تربیت پر براہ راست خود توجہ دیں، انہیں وقت دیں، ان کی بات سنیں، انہیں ضروری باتیں سمجھائیں۔ ان سے ان کے تعلیمی ماحول کی رپورٹ لیتے رہیں، ان کے تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں کا پتہ رکھیں اور پھر جو خرابیاں آپ وہاں دیکھتے ہیں مگر انہی گھر سے باہر دور نہیں کرسکتے توکم ازکم اپنی اولاد کو گھر میں تو ان خرابیوں اوران کے نقصانات سمجھا سکتے ہیں!!

آپ ذہن میں رکھیں کہ جو والدین اپنی بیٹیوں کے حقوق تعلیم و تربیت اداء کرتے ہیں تو نبی کریمﷺ نے ان کے لیے تین بڑے انعامات بیان فرمائے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ ایسے بندے جو جہنم کی آگ سے محفوظ فرمائیں گے۔ (۲)اللہ تعالیٰ ایسے بندے کو حشر میں نبی کریمﷺ کی معیت و رفاقت نصیب فرمائیں گے۔ (۳)اللہ تعالیٰ ایسے بندے کو جنت میں داخل فرمائیں گے اور وہاں بھی اسے نبی کریمﷺ کی رفاقت حاصل ہوگی۔

اب بیٹیوں کے چند اہم حقوق ملاحظہ کیجیے:

(۱)پہلی بات تو یہ ہے کہ جب بھی کوئی مرد شادی کرنے کا فیصلہ کرے تو اپنے لیے ایک ایسی بیوی لائے جو اس کی اولاد کی اچھی تربیت کرنے والی ہو، کیوں کہ اگر مرد اپنی بیوی اچھی اورنیک منتخب نہیں کرے گا تو پھر وہ اولاد کے نیک نہ ہونے کا شکوہ کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ اسی لیے نبی کریمﷺ نے سب سے پہلی بات یہ فرمائی ہے کہ اچھی اور دین دار خاتون اپنی بیوی بننے کے لیے منتخب کرو۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: عورتوں سے چار باتیں سامنے رکھ کر شادی کی جاتی ہے: مال کے لیے، اس کے اونچے خاندان کو دیکھ کر، اس کی خوبصورت کی بنیاد پر، اور اس کی دین داری کی وجہ سے۔ پس تم دین دار عورت کو حاصل کرو(بخاری و مسلم)یہ ترغیب اس لیے دی گئی ہے عام ضابطہ اور عام عادت یہی ہے کہ جو خاتون خود نیک ہوگی وہ یقینا اپنی اولاد اور خاص کر اپنی بیٹیوں کی تربیت بھی اچھائی او ر دین داری کی بنیاد پر کرے گی۔

(۲)باپ پر بیٹی کا دوسرا حق یہ ہے کہ اپنی بیٹی کی پیدائش سے پہلے اس کا بیج ڈالتے وقت اسے شیطان سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دیدے۔ شریعت نے اس کی صورت یہ بتائی ہے کہ جب مرد ، اپنی بیوی کے پاس صحبت کے لیے جائے تو یہ دعاء پڑھے:

اللہ کا نام لیتا ہوں۔ اے اللہ! ہمیں شیطان سے بچا لیجیے اور جو اولاد آپ نے ہمارے لیے مقدر فرمائی ہے اسے بھی شیطان سے بچالیجیے۔ چنانچہ جو شخص یہ دعاء کرکے اپنی بیوی کے پاس صحبت کرنے جائے گا تو پھر اگر ان کے لیے کوئی بچا یا بچی مقدر ہوگی تو اسے شیطان نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔ (متفق علیہ)

(۳)باپ پر بیٹی کا تیسرا حق یہ ہے کہ اس کے پیدا ہوتے ہی اس کی دیکھ بھال رکھنا شروع کردے۔ چنانچہ ولادت کے اس کی دیکھ بھال اور حقوق کی ادائیگی کے لیے درج ذیل باتوں کا اہتمام کرے:

اس کے دائیں کان میں اذان کہے اور بائیں کان میں اقامت کہے۔ اگرصرف دائیں کان میں اذان دی گئی اور بائیں کان میں اقامت نہ کہی گئی تو بھی کافی ہے۔

اس بچی کی تحنیک کی جائے یعنی گھٹی کھلائی جائے۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس وقت عبداللہ بن ابوطلحہ انصاری کی پیدائش ہوئی تو میں انہیں نبی کریمﷺ کی خدمت میں لے کر گیا ، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کھجور ہے؟ میں نے کہاجی ہے اور پھر میں نے کچھ کھجوریں نبی کریمﷺ کو دیدیں، آپ نے انہیںمنہ میں ڈال کر کچھ چباکر نرم کیا بچے کا منہ کھول کر اس بچے کے منہ میں دیدیں جسے وہ بچا تھوڑا تھوڑا چوسنے لگا۔ (مسلم)

اپنی بچی کا اچھا نام رکھاجائے۔ چنانچہ رسول کریمﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ اگر کسی بچی کا نام غلط ہوتا تو آپ اس کا صحیح نام رکھ دیتے۔ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت عمرکی ایک بیٹی کا نام عاصیہ تھا، جب رسول کریمﷺ کو اس نام کا پتہ چلا تو آپ نے وہ نام ختم کرکے اس کی جگہ ان کا نام ’’جمیلہ‘‘ رکھ دیا۔ (سنن ابن ماجہ)

اب یہ ذہن میں رہے کہ اچھے نام وہ ہیں جو حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کی ازواج مطہرات کے تھے، جو نام حضرات صحابیات اور امت میں گزری ہوئی نیک خواتین کے تھے اور وہ تمام نام بھی جن کا معنی اچھا ہو۔

بچی کی پیدائش کے بعد اس کے شکرانے میں ایک بکری بطور عقیقہ کے ذبح کی جائے اور پھر چاہے تو اس کا گوشت تقسیم کردے اور بہتر یہ ہے کہ اسے پکاکر دیگر عام دعوتوں کی طرف اس گوشت سے اعزہ و اقارب کی دعوت کرے۔

(۴)چوتھا حق یہ ہے کہ بچی کی اچھی تربیت کرے ، اسے اچھے آداب سکھائے، اسے عبادات کا طریقہ سکھائے، اسے اسلامی عقائد کی تعلیم دے، اسے پاکی ناپاکی کے احکام، نماز کے احکام، اور روزے کے احکام سکھائے۔ ان عبادات کے اہتمام پر اس کی پرورش کرے۔

نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے: جب تمہاری اولاد سات سال کی ہوجائے تو اسے نماز کا حکم دے، اور دس سال کی عمر میں انہیں اس پر مار بھی سکتے ہواور اس عمر میں ان کے بستر بھی جداجدا کردو۔ (سنن ابوداؤد)

یاد رہے کہ اس حکم میں بیٹے بھی شامل ہیں اور بیٹیاں بھی۔

امام محی الدین نووی رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں: ماں باپ پر لازم ہے کہ وہ اپنی اولاد کو بچپن وہ باتیں سکھائیں جن کی ضرورت انہیں بلوغت کے فورا بعد پڑ جاتی ہے۔ چنانچہ انہیں چاہئے کہ اپنی اولاد کو پاکی کے احکام، نماز کے احکام، اور روزے وغیرہ اسلامی عبادات کے احکام کی تعلیم دیں، اور انہیں یہ بھی اچھی طرح سمجھائیں کہ زناوبدکاری حرام ہے، چوری، جھوٹ، شراب نوشی، غیبت اور اس قسم کے دیگر حرام کام بھی بتلائیں کہ یہ سب باتیں حرام ہیں۔ اور یہ یاد رہے کہ ان باتوں کی تعلیم دینا واجب ہے۔

یعنی جس طرح اپنی اولاد کے کھانے پینے اور پہننے پر نظر رکھی جاتی اور اس میں انہیں اچھے اور برے کی تمیز سکھائی جاتی ہے، انہیں بازار لے جایاجاتا ہے اور بازار سے لاکر انہیں گھر میں وہ چیزیں فراہم کی جاتی ہیں ، اسی طرح درج بالا دینی احکامات سکھانے کے لیے بھی اپنی بیٹیوں کو وقت دیاجائے، انہیں ادب و احترام کے ساتھ اپنے پاس بٹھایاجائے، اور یہ باتیں ان کے ذہن نشین کی جائیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنی اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔ (سورۃ التحریم)

(۵)پانچواں حق یہ ہے کہ جب تک اس کی شادی نہیں ہوجاتی تب تک اسے کھانے پینے اور پہننے کا سامان اور رہائش فراہم کرے اور یہ شادی کی بات اس لیے کہی کیوں کہ اسلام نے شادی کے بعد عورت کا خرچ اس کے شوہر کی ذمہ داری بنایا ہے۔ ہاں والدین حسن معاشرت کے طور پر اس کے بعد بھی اس کے ساتھ یہ تعاون کرتے رہیں تو یہ الگ اور اچھی بات ہے۔

(۶)چھٹا حق یہ ہے کہ اپنی بچی کے لیے اچھی سے اچھی تعلیم کا اچھا انتظام کرے۔ تاکہ وہ بچی بڑی ہوکر ایک معلمہ اور مربیہ بن سکے اور صرف خود اچھی نہ ہوبلکہ دوسروں کو بھی اچھی بنانے والی ہو۔ البتہ یہ دھیان رہے کہ تعلیم کے دوران بچی اپنے دین، اپنے اچھے اسلامی اخلاق اور گھر سے باہر نکلتے وقت اسلامی تعلیمات کو پوراکرنے والی ہو، اور اس ہدایت کو سامنے رکھنے والی ہو:

(اے عورتوتم)! (غیر مردوں کو)بناؤ سنگھار دِکھاتی نہ پھرو، جیسا کہ پہلی جاہلیت میں دِکھایاجاتا تھا۔ (سورۃ الاحزاب:۳۳)

(۷)ساتواں حق یہ ہے کہ بیٹی اگر اپنی دست کاری وغیرہ کے ذریعے کچھ کمائی کرے تو اسے اسی کی ملک سمجھاجائے اور اس میں اس کی اجازت اور رضاء مندی کے بغیر تصرف نہ کیاجائے۔ سورۃ النساء میں ارشاد ہے: اور عورتوں کے لیے بھی حصہ ہے جو وہ کمائیں(سورۃ النسائ:۳۲)

(۸)آٹھواںحق یہ ہے کہ والد کو چاہیے وہ اپنی بیٹی کے لیے اچھا اور برابری کا رشتہ تلاش کرکے اس کی رضامندی سے اس کا نکاح کرائے۔ کیوںکہ اس میں بھی بڑااجر ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جس شخص نے تین بیٹیوں کی پرورش کی، انہیں ادب سکھایا، پھر ان کا نکاح کرایا، اور ان سے اچھابرتاؤ کرتا رہا تو اس کے لیے جنت ہے۔ (سنن ابوداؤد)۔ اور نکاح میں مرد کی دیندار اور برابری کو ترجیح دی جائے۔ چنانچہ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے: جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص نکاح کا پیغام لائے جس کے دین اور اور اخلاق تمہارے نزدیک پسندیدہ ہوں تو اس سے نکاح کرادو۔ اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں بڑا فتنہ و فساد پھیلے گا(سنن ترمذی)

خلاصہ یہ کہ بیٹیوں کی فکر موت تک کی فکر ہوتی ہے مگر والدین کو چاہیے کے اس پر صبر سے کام لیں اور اپنے حقوق اداء کرنے کے لیے کوشاں رہیں اور اللہ تعالیٰ سے اس پر اجر کی امید رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کو سب سے بڑھ کر پورا کرنے والے ہیں۔

٭……٭……٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online