Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

المرابطون کا نیا تحفہ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 636 - Mudassir Jamal Taunsavi - Almurabitoon ka naya tuhfa

المرابطون کا نیا تحفہ

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 636)

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سیرت و سوانح، ان کی خدمات اور ان کے عظیم الشان مقام سے روشناس کرانے کے لیے المرابطون نے اس سال کا خصوصی شمارہ شائع کردیا ہے ، جس پر بلاشبہ وہ حضرات مبارک باد کے مستحق ہیں۔

المرابطون نے اب تک وہ خصوصی شمارے شائع کیے ہیں وہ سب ہی تاریخ اور تعمیر افکار کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے چند شماروں کے نام آپ بھی دیکھ لیں:

حضرت صلاح ا لدین ایوبیؒ

حضرت شاہ محمد اسماعیل شہیدؒ

حضرت مولانا محمدقاسم نانوتویؒ

یہ تینوں شخصیات وہ ہیں جو اپنے وقت میں علم و تصوف سے بھی گہرا لگاؤ رکھتے تھے اور جہاد میں ان کا عملی کردار بھی تاریخ کا انمٹ حصہ بن کر ثبت ہوچکا ہے

بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اب بھی امت مسلمہ جب جہادی میدانوں اور اپنی عزت و عروج اور دفاع کے لیے روشنی کی تلاش میں نکلتی ہے تو اسے ان حضرات کے نقوش قدم سے بھی بے پناہ روشنی میسر آتی ہے ، منزل کا راستہ متعین ہوتا ہے اور منزل کے آثار واضح ہوتے ہیں 

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جس طرح اسلام کی ترویج اور دفاع کے لیے ایک عظیم الشان سپہ سالار ہونے کا حق اداء کیا، اُن کا وہ پورا کردار آج بھی امت مسلمہ کے لیے ایک روشن مثال ہے اور ان کے کردار کو اپنا کر آج بھی امت مسلمہ اپنی کامیابی کی طرف گامزن ہوسکتی ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب کہ بہت سے لوگ مسلمانوں کے سامنے یورپین لوگوں کو ایک مثال بنا کر پیش کرتے رہتے ہیں تو ضروری ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کو ان کے حقیقی رہنماوں اور حقیقی آئیڈیلز سے متعارف کرایاجائے اور اس میں بھلا کیا شک ہوسکتا ہے کہ نبی کریمﷺ کے تربیت یافتہ سپہ سالاروں سے بڑھ کر کون سا سپہ سالار مثالی رہنما ہوسکتا ہے؟

چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تاریخ فنون حرب اور جنگی کارناموں کی قابل رشک مثالوں سے بھری پڑی ہے لیکن مغربی مورخین اور ان سے متاثرکم نظر اور احساس کمتری کا شکار مسلمانوں کی نظر اس پر کبھی نہیں پڑتی اور کبھی بات کر بھی لیں تو سرسری انداز اختیار کرتے ہیں۔ مورخین کو نپولین بوناپارٹ، جولیس قیصر اور چنگیز خان کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ اگرچہ یہ جرنیل بھی اپنی جگہ فن حرب کے ماہر تھے اور انہوں نے بڑے بڑے دشمنوں کو شکست دی تھی لیکن تاریخ اسلام کا ایک ایسا جرنیل بھی ہے جس کا تذکرہ دنیا کی جنگی تاریخ میں لازمی ہونا چاہیے۔اس نڈر اور ناقابل شکست جرنیل کا نام خالد بن ولید ہے۔

خالدبن ولیدؓ کی بے مثال کامیابیوں کی وجہ سے رسول اللہﷺ نے سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار کے لقب سے نوازا تھا۔ خالد بن ولیدؓ 6ویں صدی کے آخر میں قریش کے قبیلے بنی مخزم میں پیدا ہوئے ۔اس قبیلے کے لوگ جنگجو تھے اورجنگی مقاصد کے لیے گھوڑے پالتے تھے۔ابتدائی عمر سے ہی خالدؓ نے فنون حرب، گھڑ سواری ، تلوار و نیزہ بازی میں مہارت حاصل کر لی تھی۔ انہوں نے بہت جلد سیکھ لیا تھا کہ کس طرح اونٹوں کے ذریعے ریگستان کو جلد عبور کیا جا سکتا ہے اور کس طرح گھوڑوں کے ذریعے دشمن پر حملہ آور ہوا جا سکتا ہے۔خالد بن ولیدؓ کے والدنے اپنے بیٹے کو حربی فنون میں ماہر بنانے کے لیے اس قدر محنت کہ نہ صرف ان کو تلوار اور نیزہ بازی سکھائی بلکہ انہیں زہر جیسے مہلک خطرے سے نمٹنے کیلئے بھی تیار کیا تاکہ وہ دشمن کی کسی بھی چال کا نشانہ نہ بن سکیں۔

نامور مسلمان مؤرخ حافظ ابن عساکرنے لکھا ہے کہ خالدبن ولیدؓ نے ایک مرتبہ ایک جنگ کے دوران دشمن کو زیر کرنے کے لئے ان کے سامنے زہر پی لیا تھا، تا کہ دشمن لڑنے سے پہلے ہی ان کی د ہشت کے ہاتھوں شکست کھا جائے لیکن اللہ کے حکم سے خالد بن ولید کو کچھ بھی نہ ہوا۔ اسلام قبول کرنے سے قبل جنگ احد میں مسلمانوں کا شدید جانی و مالی نقصان بھی خالدؓ بن ولید کی جنگی حکمت عملی کا ثبوت تھا لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد وہ نہ صرف مسلمانوں کے کمانڈر تھے بلکہ انہوں نے حضورﷺکے حلقہ قرابت داروں میں بھی جگہ بنا لی تھی۔اصل میں قبول اسلام کے بعد ہی خالدؓ بن ولید کا جنگی کیریئر شروع ہوا تھا۔ جنگ موتہ میں جب رسول اللہﷺ کے مقرر کردہ تینوں کمانڈر یکے بعد دیگرے شہید ہو گئے تو ایسے کڑے وقت میں خالدبن ولیدؓ نے فوج کی کمان سنبھالی، 3000شکست خوردہ سپاہیوں کو ہمت دلائی اوراپنی بہترین جنگی حکمت عملی سے دشمن کے 20ہزار سے زائد سپاہیوں کے لشکر کو شکست فاش دی تھی۔خالد ؓ بن ولید کی کمان میں مسلمانوں نے اس قدر جنگوں میں فتح حاصل کی کہ مسلمانوں میں یہ تاثر پھیل گیا کہ ہماری فتوحات صرف خالدبن ولیدؓ کی وجہ سے ہیں، اگر یہ نہ ہوں تو ہم شاید جنگوں میں ہار جائیں، اس تأثر کو زائل کرنے کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ عرصے کے لیے خالدبن ولیدؓ کو کمانڈر کے عہدے سے معزول کر دیا تھا۔

خالدبن ولیدؓ زندگی بھر شہادت کی خواہش دل میں لیے جنگوں میں لڑتے رہے، ان کے بدن کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا جہاں تیر، تلوار، نیزے یا کسی دوسرے ہتھیار کا زخم موجود نہ ہو لیکن انہیں شہادت نہ ملی۔ علماء کرام اس کی وجہ سے بتاتے ہیں کہ انہیں چونکہ سیف اللہ کا لقب دیا گیا تھا اس لیے انہیں میدان جنگ میں شہادت نصیب نہیں ہو سکی کیونکہ کسی کو مجال نہیں کہ اللہ کی تلوار کوشکست دے سکے۔زندگی بھر خالد بن ولیدؓ کے ہاتھ میں تلوار کا دستہ رہا اور وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے۔

حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ قریش کے ایک معزز افراد اور بنو مخزوم قبیلہ کے چشم و چراغ تھے۔ رسول اللہﷺنے آپ کو سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوارکا خطاب عطاء فرمایا تھا۔ جب آنحضورﷺ نے اہل قریش کو بتوں کی پوجا سے منع کیاتو سب آپﷺکے خلاف ہوگئے۔ اس وقت آپ کی عمر 17 برس تھی، آپ بھی اپنے والد کے ساتھ حضورﷺ کے دشمن تھے۔ بعد میں آپﷺ نے اسلام قبول کیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے تلوار کے سائے میں پرورش پائی۔ وہ کشتی، گھڑ سواری اور نیزہ بازی کے ماہر تھے۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کئی جنگوں میں شریک رہے۔ اسلام لانے کے بعد حاکم شام کا مقابلہ کرنے کیلئے تین ہزار صحابہ کی فوج تیار ہوئی اس میں آپ بھی شامل تھے۔ خونریز معرکہ ہوا مخالفین ایک لاکھ کی تعداد میں تھے۔ مسلمانوں کا کافی جانی نقصان ہوا۔اگلے روز اس لشکر کی کمان حضرت خالد رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے ہاتھوں میں لی اور اعلیٰ جنگی اصولوں پر اپنی تھوڑی سی فوج مجتمع کیا اور حاکم شام کی ٹڈی دل فوج کو تہس ہنس کردیا اور فتح پائی۔نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صدیق اکبررضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں آپ اسلامی لشکروں کی سپہ سالاری کے فرائض انجام دیتے رہے۔ معرکہ یمامہ میں آپ نے صرف تیرہ ہزار فوجیوں کے ساتھ مسلیمہ بن کذاب کی لاکھوں کی فوج کو شکست دی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جب بستر علالت پر تھے تو آپﷺ نے قریب بیٹھے ہوئے لوگوں سے کہا۔ میں نے ان گنت جنگوں میں حصہ لیا۔ کئی بار اپنے آپ کو ایسے خطروں میں ڈالا کہ جان بچانا مشکل نظر آتا تھا لیکن شہادت کی تمنا پوری نہ ہوئی۔میرے جسم پر کوئی ایسی جگہ نہیں کہ جہاں تلوار تیر یا نیزے کے زخم کا نشان نہ ہو۔ لیکن افسوس ! موت نے مجھے بستر پر آدبوچا۔ میدان کار زار میں شہادت نصیب نہ ہوئی۔اس پر لوگوں نے ان کو یہ کہا کہ رسول اللہ نے آپ کو سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار کا خطاب عطاء فرمایا ہے۔ آپﷺ اگر کسی کافر کے ہاتھ سے مارے جاتے تو اس کا مطلب تھا کہ ایک دشمن خدا نے اللہ کی تلوار کو توڑ ڈالا، جو ناممکن تھا۔یہ سن کر آپﷺ کو کچھ اطمینان نصیب ہوا۔ آپ کا40سال سے کچھ زائد عمر میں 21ھ میں ملک شام کے مشہور شہر’’ حِمص‘‘ میں انتقال ہوا۔

حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سیرت و سوانح اور خدمات کی مزید ایمان افروز، ولولہ انگیز معلومات کے لیے المرابطون کا تازہ شمارہ ضرور حاصل کیجیے، اپنے لیے، اپنے دوستوں کے لیے، اپنے گھر کی لائبریری کے لیے، اپنے ادارے کی لائبریری کے لیے، یہ صدقہ جاریہ بھی ہوگا اور ایک ذکر خیر کا سبب بھی۔ ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online